Loading...

Loading...
کتب
۱۳۸ احادیث
حییٰ بن سعید قاسم بن محمد اور سلیمان بن یسار سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ان دونوں کو ذکر کرتے ہوئے سنا کہ یحییٰ بن سعید بن عاص نے عبدالرحمٰن بن حکم کی بیٹی کو تین طلاق دے دی تو عبدالرحمٰن نے انہیں اس گھر سے منتقل کر لیا تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس وقت مدینہ کے امیر مروان بن حکم کو کہلا بھیجا کہ اللہ کا خوف کھاؤ اور عورت کو اس کے گھر واپس بھیج دو، بروایت سلیمان: مروان نے کہا: عبدالرحمٰن مجھ پر غالب آ گئے یعنی انہوں نے میری بات نہیں مانی، اور بروایت قاسم: کیا آپ کو فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا قصہ معلوم نہیں؟ تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: فاطمہ والی حدیث نہ بیان کرو تو تمہارا کوئی نقصان نہیں ہے، تو مروان نے کہا: اگر آپ نزدیک وہاں برائی کا اندیشہ تھا تو سمجھ لو یہاں ان دونوں ( عمرہ اور ان کے شوہر یحییٰ ) کے درمیان بھی اسی برائی کا اندیشہ ہے۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن يحيى بن سعيد، عن القاسم بن محمد، وسليمان بن يسار، انه سمعهما يذكران، ان يحيى بن سعيد بن العاص، طلق بنت عبد الرحمن بن الحكم البتة فانتقلها عبد الرحمن فارسلت عايشة - رضى الله عنها - الى مروان بن الحكم وهو امير المدينة فقالت له اتق الله واردد المراة الى بيتها . فقال مروان في حديث سليمان ان عبد الرحمن غلبني . وقال مروان في حديث القاسم اوما بلغك شان فاطمة بنت قيس فقالت عايشة لا يضرك ان لا تذكر حديث فاطمة . فقال مروان ان كان بك الشر فحسبك ما كان بين هذين من الشر
میمون بن مہران کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو سعید بن مسیب کے پاس گیا اور میں نے کہا کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو طلاق دی گئی تو وہ اپنے گھر سے چلی گئی ( ایسا کیوں ہوا؟ ) تو سعید نے جواب دیا: اس عورت نے لوگوں کو فتنے میں مبتلا کر دیا تھا کیونکہ وہ زبان دراز تھی لہٰذا اسے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے پاس رکھا گیا جو نابینا تھے۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا جعفر بن برقان، حدثنا ميمون بن مهران، قال قدمت المدينة فدفعت الى سعيد بن المسيب فقلت فاطمة بنت قيس طلقت فخرجت من بيتها فقال سعيد تلك امراة فتنت الناس انها كانت لسنة فوضعت على يدى ابن ام مكتوم الاعمى
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری خالہ کو تین طلاقیں دی گئیں، وہ اپنی کھجوریں توڑنے نکلیں، راستے میں ایک شخص ملا تو اس نے انہیں نکلنے سے منع کیا چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اور آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور اپنی کھجوریں توڑو، ہو سکتا ہے تم اس میں سے صدقہ کرو یا اور کوئی بھلائی کا کام کرو ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا يحيى بن سعيد، عن ابن جريج، قال اخبرني ابو الزبير، عن جابر، قال طلقت خالتي ثلاثا فخرجت تجد نخلا لها فلقيها رجل فنهاها فاتت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له فقال لها " اخرجي فجدي نخلك لعلك ان تصدقي منه او تفعلي خيرا
حدثنا احمد بن محمد المروزي، حدثني علي بن الحسين بن واقد، عن ابيه، عن يزيد النحوي، عن عكرمة، عن ابن عباس، { والذين يتوفون منكم ويذرون ازواجا وصية لازواجهم متاعا الى الحول غير اخراج } فنسخ ذلك باية الميراث بما فرض لهن من الربع والثمن ونسخ اجل الحول بان جعل اجلها اربعة اشهر وعشرا
حدثنا احمد بن محمد المروزي، حدثني علي بن الحسين بن واقد، عن ابيه، عن يزيد النحوي، عن عكرمة، عن ابن عباس، { والذين يتوفون منكم ويذرون ازواجا وصية لازواجهم متاعا الى الحول غير اخراج } فنسخ ذلك باية الميراث بما فرض لهن من الربع والثمن ونسخ اجل الحول بان جعل اجلها اربعة اشهر وعشرا
حمید بن نافع کہتے ہیں کہ زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہما نے انہیں ان تینوں حدیثوں کی خبر دی کہ جب ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے والد ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو میں ان کے پاس گئی، انہوں نے زرد رنگ کی خوشبو منگا کر ایک لڑکی کو لگائی پھر اپنے دونوں رخساروں پر بھی مل لی اس کے بعد کہنے لگیں: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو لگانے کی قطعاً حاجت نہ تھی، میں نے تو ایسا صرف اس بنا پر کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا: کسی عورت کے لیے جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو یہ حلال نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے، ہاں خاوند پر چار مہینے دس دن تک سوگ منانا ہے ۔ زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس گئی جس وقت کہ ان کے بھائی کا انتقال ہو گیا تھا، انہوں نے ( بھی ) خوشبو منگا کر لگائی اس کے بعد کہنے لگیں: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو لگانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، میں نے ایسا صرف اس بنا پر کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے سنا: کسی بھی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو یہ حلال نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے ہاں شوہر کی وفات پر سوگ چار مہینے دس دن ہے ۔ زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے اپنی والدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا: ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میری بیٹی کے شوہر کی وفات ہو گئی ہے اور اس کی آنکھیں دکھ رہی ہیں، کیا ہم اسے سرمہ لگا دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ، اس نے دو بار یا تین بار پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر بار فرمایا: نہیں ، پھر فرمایا: تم چار مہینے دس دن صبر نہیں کر سکتی، حالانکہ زمانہ جاہلیت میں جب تم میں سے کسی عورت کا شوہر مر جاتا تھا تو ایک سال پورے ہونے پر اسے مینگنی پھینکنی پڑتی تھی ۔ حمید راوی کہتے ہیں میں نے زینب رضی اللہ عنہا سے پوچھا: مینگنی پھینکنے سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ جاہلیت کے زمانہ میں جب کسی عورت کا شوہر مر جاتا تو وہ ایک معمولی سی جھونپڑی میں رہائش اختیار کرتی، پھٹے پرانے اور میلے کچیلے کپڑے پہنتی، نہ خوشبو استعمال کر سکتی اور نہ ہی کوئی زینت و آرائش کر سکتی تھی، جب سال پورا ہو جاتا تو اسے گدھا یا کوئی پرندہ یا بکری دی جاتی جسے وہ اپنے بدن سے رگڑتی، وہ جانور کم ہی زندہ رہ پاتا، پھر اس کو مینگنی دی جاتی جسے وہ سر پر گھما کر اپنے پیچھے پھینک دیتی، اس کے بعد وہ عدت سے باہر آتی اور زیب و زینت کرتی اور خوشبو استعمال کرتی۔ ابوداؤد کہتے ہیں:«حفش» چھوٹے گھر ( تنگ کوٹھری ) کو کہتے ہیں۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن عبد الله بن ابي بكر، عن حميد بن نافع، عن زينب بنت ابي سلمة، انها اخبرته بهذه الاحاديث الثلاثة، قالت زينب دخلت على ام حبيبة حين توفي ابوها ابو سفيان فدعت بطيب فيه صفرة خلوق او غيره فدهنت منه جارية ثم مست بعارضيها ثم قالت والله ما لي بالطيب من حاجة غير اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا يحل لامراة تومن بالله واليوم الاخر ان تحد على ميت فوق ثلاث ليال الا على زوج اربعة اشهر وعشرا " . قالت زينب ودخلت على زينب بنت جحش حين توفي اخوها فدعت بطيب فمست منه ثم قالت والله ما لي بالطيب من حاجة غير اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول وهو على المنبر " لا يحل لامراة تومن بالله واليوم الاخر ان تحد على ميت فوق ثلاث ليال الا على زوج اربعة اشهر وعشرا " . قالت زينب وسمعت امي ام سلمة تقول جاءت امراة الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله ان ابنتي توفي عنها زوجها وقد اشتكت عينها افنكحلها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا " . مرتين او ثلاثا كل ذلك يقول " لا " . ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما هي اربعة اشهر وعشر وقد كانت احداكن في الجاهلية ترمي بالبعرة على راس الحول " . قال حميد فقلت لزينب وما ترمي بالبعرة على راس الحول فقالت زينب كانت المراة اذا توفي عنها زوجها دخلت حفشا ولبست شر ثيابها ولم تمس طيبا ولا شييا حتى تمر بها سنة ثم توتى بدابة حمار او شاة او طاير فتفتض به فقلما تفتض بشىء الا مات ثم تخرج فتعطى بعرة فترمي بها ثم تراجع بعد ما شاءت من طيب او غيره . قال ابو داود الحفش بيت صغير
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، عن مالك، عن سعد بن اسحاق بن كعب بن عجرة، عن عمته، زينب بنت كعب بن عجرة ان الفريعة بنت مالك بن سنان، - وهي اخت ابي سعيد الخدري - اخبرتها انها، جاءت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم تساله ان ترجع الى اهلها في بني خدرة فان زوجها خرج في طلب اعبد له ابقوا حتى اذا كانوا بطرف القدوم لحقهم فقتلوه فسالت رسول الله صلى الله عليه وسلم ان ارجع الى اهلي فاني لم يتركني في مسكن يملكه ولا نفقة . قالت فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نعم " . قالت فخرجت حتى اذا كنت في الحجرة او في المسجد دعاني او امر بي فدعيت له فقال " كيف قلت " . فرددت عليه القصة التي ذكرت من شان زوجي قالت فقال " امكثي في بيتك حتى يبلغ الكتاب اجله " . قالت فاعتددت فيه اربعة اشهر وعشرا . قالت فلما كان عثمان بن عفان ارسل الى فسالني عن ذلك فاخبرته فاتبعه وقضى به
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، عن مالك، عن سعد بن اسحاق بن كعب بن عجرة، عن عمته، زينب بنت كعب بن عجرة ان الفريعة بنت مالك بن سنان، - وهي اخت ابي سعيد الخدري - اخبرتها انها، جاءت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم تساله ان ترجع الى اهلها في بني خدرة فان زوجها خرج في طلب اعبد له ابقوا حتى اذا كانوا بطرف القدوم لحقهم فقتلوه فسالت رسول الله صلى الله عليه وسلم ان ارجع الى اهلي فاني لم يتركني في مسكن يملكه ولا نفقة . قالت فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نعم " . قالت فخرجت حتى اذا كنت في الحجرة او في المسجد دعاني او امر بي فدعيت له فقال " كيف قلت " . فرددت عليه القصة التي ذكرت من شان زوجي قالت فقال " امكثي في بيتك حتى يبلغ الكتاب اجله " . قالت فاعتددت فيه اربعة اشهر وعشرا . قالت فلما كان عثمان بن عفان ارسل الى فسالني عن ذلك فاخبرته فاتبعه وقضى به
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں «غير إخراج» ( سورة البقرہ: ۲۴۰ ) والی آیت جس میں عورت کو شوہر کے گھر والوں کے پاس عدت گزارنے کا حکم ہے منسوخ کر دی گئی ہے، اب وہ جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے، عطاء کہتے ہیں: اگر چاہے تو شوہر کے گھر والوں کے پاس عدت گزارے اور شوہر کی وصیت سے فائدہ اٹھا کر وہیں سکونت اختیار کرے، اور اگر چاہے تو اللہ کے فرمان «فإن خرجن فلا جناح عليكم فيما فعلن» اگر وہ خود نکل جائیں تو ان کے کئے ہوئے کا تم پر کوئی گناہ نہیں کے مطابق نکل جائے، عطاء کہتے ہیں کہ پھر جب میراث کا حکم آ گیا، تو شوہر کے مکان میں رہائش کا حکم منسوخ ہو گیا اب وہ جہاں چاہے عدت گزارے۔
حدثنا احمد بن محمد المروزي، حدثنا موسى بن مسعود، حدثنا شبل، عن ابن ابي نجيح، قال قال عطاء قال ابن عباس نسخت هذه الاية عدتها عند اهله فتعتد حيث شاءت وهو قول الله تعالى { غير اخراج } قال عطاء ان شاءت اعتدت عند اهله وسكنت في وصيتها وان شاءت خرجت لقول الله تعالى { فان خرجن فلا جناح عليكم فيما فعلن } قال عطاء ثم جاء الميراث فنسخ السكنى تعتد حيث شاءت
ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت کسی پر بھی تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے سوائے شوہر کے، وہ اس پر چار مہینے دس دن سوگ منائے گی ( اس عرصہ میں ) وہ سفید سیاہ دھاری دار کپڑے کے علاوہ کوئی رنگین کپڑا نہ پہنے، نہ سرمہ لگائے، اور نہ خوشبو استعمال کرے، ہاں حیض سے فارغ ہونے کے بعد تھوڑی سی قسط یا اظفار کی خوشبو ( حیض کے مقام پر ) استعمال کرے ۔ راوی یعقوب نے: سفید سیاہ دھاری دار کپڑے کے بجائے: دھلے ہوئے کپڑے کا ذکر کیا، انہوں نے یہ بھی اضافہ کیا کہ اور نہ خضاب لگائے۔
حدثنا يعقوب بن ابراهيم الدورقي، حدثنا يحيى بن ابي بكير، حدثنا ابراهيم بن طهمان، حدثني هشام بن حسان، ح وحدثنا عبد الله بن الجراح القهستاني، عن عبد الله، - يعني ابن بكر - السهمي عن هشام، - وهذا لفظ ابن الجراح - عن حفصة، عن ام عطية، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تحد المراة فوق ثلاث الا على زوج فانها تحد عليه اربعة اشهر وعشرا لا تلبس ثوبا مصبوغا الا ثوب عصب ولا تكتحل ولا تمس طيبا الا ادنى طهرتها اذا طهرت من محيضها بنبذة من قسط او اظفار " . قال يعقوب مكان عصب " الا مغسولا " . وزاد يعقوب " ولا تختضب
ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے یہی حدیث مرفوعاً مروی ہے لیکن ان دونوں راویوں کی حدیثوں میں پوری مشابہت نہیں ہے، مسمعی کا بیان ہے کہ یزید کہتے ہیں میں تو صرف یہی جانتا ہوں کہ اس میں ہے کہ خضاب نہ لگائے اور ہارون نے اس میں اتنا اور اضافہ کیا ہے کہ: رنگا ہوا کپڑا نہ پہنے سوائے سفید سیاہ دھاری دار کپڑے کے ۔
حدثنا هارون بن عبد الله، ومالك بن عبد الواحد المسمعي، قالا حدثنا يزيد بن هارون، عن هشام، عن حفصة، عن ام عطية، عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا الحديث وليس في تمام حديثهما . قال المسمعي قال يزيد ولا اعلمه الا قال فيه " ولا تختضب " . وزاد فيه هارون " ولا تلبس ثوبا مصبوغا الا ثوب عصب
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت کا شوہر انتقال کر جائے وہ نہ زرد اور گیروے رنگ کا کپڑا پہنے نہ زیور پہنے، نہ خضاب ( مہندی وغیرہ ) لگائے، اور نہ سرمہ لگائے ۱؎ ۔
حدثنا زهير بن حرب، حدثنا يحيى بن ابي بكير، حدثنا ابراهيم بن طهمان، حدثني بديل، عن الحسن بن مسلم، عن صفية بنت شيبة، عن ام سلمة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال المتوفى عنها زوجها لا تلبس المعصفر من الثياب ولا الممشقة ولا الحلي ولا تختضب ولا تكتحل
ام حکیم بنت اسید اپنی والدہ سے روایت کرتی ہیں کہ ان کے شوہر کا انتقال ہو گیا، ان کی آنکھوں میں تکلیف رہتی تھی تو وہ «جلاء» ( سرمہ ) لگا لیتیں تو اپنی ایک لونڈی کو انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا تاکہ وہ «جلاء» کے سرمہ کے متعلق ان سے پوچھے، انہوں نے کہا: اس کا سرمہ نہ لگاؤ جب تک ایسی سخت ضرورت پیش نہ آ جائے جس کے بغیر چارہ نہ ہو اس صورت میں تم اسے رات میں لگاؤ، اور دن میں پونچھ لیا کرو، پھر ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اسی وقت یہ بھی بتایا کہ ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا جب انتقال ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اور میں نے اپنی آنکھ میں ایلوا لگا رکھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ام سلمہ یہ کیا ہے؟ میں نے جواب دیا: اللہ کے رسول! یہ ایلوا ہے اور اس میں خوشبو نہیں ہے، فرمایا: یہ چہرے میں حسن پیدا کرتا ہے لہٰذا اسے رات ہی میں لگاؤ، اور دن میں ہٹا دو، اور خوشبو لگا کر کنگھی نہ کرو، اور نہ مہندی لگا کر، کیونکہ وہ خضاب ہے میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! پھر کنگھی کس چیز سے کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیری کے پتوں کو اپنے سر پر لپیٹ کر ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، اخبرني مخرمة، عن ابيه، قال سمعت المغيرة بن الضحاك، يقول اخبرتني ام حكيم بنت اسيد، عن امها، ان زوجها، توفي وكانت تشتكي عينيها فتكتحل بالجلاء - قال احمد الصواب بكحل الجلاء - فارسلت مولاة لها الى ام سلمة فسالتها عن كحل الجلاء فقالت لا تكتحلي به الا من امر لا بد منه يشتد عليك فتكتحلين بالليل وتمسحينه بالنهار . ثم قالت عند ذلك ام سلمة دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم حين توفي ابو سلمة وقد جعلت على عيني صبرا فقال " ما هذا يا ام سلمة " . فقلت انما هو صبر يا رسول الله ليس فيه طيب . قال " انه يشب الوجه فلا تجعليه الا بالليل وتنزعينه بالنهار ولا تمتشطي بالطيب ولا بالحناء فانه خضاب " . قالت قلت باى شىء امتشط يا رسول الله قال " بالسدر تغلفين به راسك
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بیان کیا کہ ان کے والد نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کو لکھا کہ وہ سبیعہ بنت حارث اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر ان کی حدیث معلوم کریں، نیز معلوم کریں کہ جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا تو آپ نے کیا ارشاد فرمایا؟ چنانچہ عمر بن عبداللہ نے عبداللہ بن عتبہ کو لکھا، وہ انہیں بتا رہے تھے کہ انہیں سبیعہ نے بتایا ہے کہ وہ سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں ( وہ بنی عامر بن لوی کے ایک فرد، اور بدری صحابی ہیں ) حجۃ الوداع کے موقعہ پر جب وہ حاملہ تھیں تو ان کا انتقال ہو گیا، انتقال کے بعد انہوں نے بچہ جنا، جب نفاس سے پاک ہو گئیں تو نکاح کا پیغام دینے والوں کے لیے بناؤ سنگار کیا تو بنی عبدالدار کا ایک شخص ابوسنابل بن بعکک رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور کہنے لگے: میں تمہیں بنی سنوری ہوئی دیکھ رہا ہوں، شاید نکاح کرنا چاہتی ہو، اللہ کی قسم! تم چار مہینے دس دن ( کی عدت ) گزارے بغیر نکاح نہیں کر سکتی۔ سبیعہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے: جب انہوں نے مجھ سے اس طرح کی گفتگو کی تو میں شام کے وقت پہن اوڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ سے اس کے متعلق دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مسئلہ بتایا اور فرمایا کہ بچہ جننے کے بعد ہی میں حلال ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ اگر میں چاہوں تو شادی کر سکتی ہوں۔ ابن شہاب کہتے ہیں: میرے خیال میں بچہ جننے کے بعد عورت کے نکاح کرنے میں کوئی حرج نہیں گرچہ وہ حالت نفاس ہی میں ہو البتہ پاک ہونے تک شوہر صحبت نہیں کرے گا ۱؎۔
حدثنا سليمان بن داود المهري، اخبرنا ابن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، حدثني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، ان اباه، كتب الى عمر بن عبد الله بن الارقم الزهري يامره ان يدخل، على سبيعة بنت الحارث الاسلمية فيسالها عن حديثها وعما قال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم حين استفتته فكتب عمر بن عبد الله الى عبد الله بن عتبة يخبره ان سبيعة اخبرته انها كانت تحت سعد ابن خولة - وهو من بني عامر بن لوى وهو ممن شهد بدرا - فتوفي عنها في حجة الوداع وهي حامل فلم تنشب ان وضعت حملها بعد وفاته فلما تعلت من نفاسها تجملت للخطاب فدخل عليها ابو السنابل بن بعكك - رجل من بني عبد الدار - فقال لها ما لي اراك متجملة لعلك ترتجين النكاح انك والله ما انت بناكح حتى تمر عليك اربعة اشهر وعشر . قالت سبيعة فلما قال لي ذلك جمعت على ثيابي حين امسيت فاتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فسالته عن ذلك فافتاني باني قد حللت حين وضعت حملي وامرني بالتزويج ان بدا لي . قال ابن شهاب ولا ارى باسا ان تتزوج حين وضعت وان كانت في دمها غير انه لا يقربها زوجها حتى تطهر
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جو بھی چاہے مجھ سے اس بات پر لعان ۱؎ کر لے کہ چھوٹی سورۃ نساء ( سورۃ الطلاق ) چار مہینے دس دن والے حکم کے بعد نازل ہوئی ۲؎۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، ومحمد بن العلاء، - قال عثمان حدثنا وقال ابن العلاء، اخبرنا - ابو معاوية، حدثنا الاعمش، عن مسلم، عن مسروق، عن عبد الله، قال من شاء لاعنته لانزلت سورة النساء القصرى بعد الاربعة الاشهر وعشرا
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ( ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ) سنت کو ہم پر گڈمڈ نہ کرو، ( سنت یہ ہے کہ ) جس کا شوہر فوت ہو جائے اس کی یعنی ام ولد ۱؎ کی عدت چار مہینے دس دن ہے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، ان محمد بن جعفر، حدثهم ح، وحدثنا ابن المثنى، حدثنا عبد الاعلى، عن سعيد، عن مطر، عن رجاء بن حيوة، عن قبيصة بن ذويب، عن عمرو بن العاص، قال لا تلبسوا علينا سنته - قال ابن المثنى سنة نبينا - صلى الله عليه وسلم عدة المتوفى عنها اربعة اشهر وعشر . يعني ام الولد
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں مسئلہ دریافت کیا گیا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی، پھر اس عورت نے دوسرے شخص سے نکاح کر لیا اور وہ شخص اس کے پاس گیا لیکن جماع سے پہلے ہی اس نے اسے طلاق دے دی تو کیا وہ عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے گی؟ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ پہلے شوہر کے لیے حلال نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ عورت دوسرے شوہر کی مٹھاس نہ چکھ لے اور وہ شوہر اس عورت کی مٹھاس نہ چکھ لے۱؎ ۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن رجل طلق امراته - يعني ثلاثا - فتزوجت زوجا غيره فدخل بها ثم طلقها قبل ان يواقعها اتحل لزوجها الاول قالت قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا تحل للاول حتى تذوق عسيلة الاخر ويذوق عسيلتها
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ ) تم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراؤ حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے ، میں نے پوچھا اس کے بعد کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے بچے کو اس ڈر سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا ، میں نے کہا پھر اس کے بعد؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو ، نیز کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کی تصدیق کے طور پر یہ آیت نازل ہوئی «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق ولا يزنون الخ ( سورۃ الفرقان: ۶۸ ) جو لوگ اللہ کے علاوہ کسی کو نہیں پکارتے اور ناحق اس نفس کو قتل نہیں کرتے جس کے قتل کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اور نہ زنا کرتے ہیں ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن منصور، عن ابي وايل، عن عمرو بن شرحبيل، عن عبد الله، قال قلت يا رسول الله اى الذنب اعظم قال " ان تجعل لله ندا وهو خلقك " . قال فقلت ثم اى قال " ان تقتل ولدك مخافة ان ياكل معك " . قال قلت ثم اى قال " ان تزاني حليلة جارك " . قال وانزل الله تعالى تصديق قول النبي صلى الله عليه وسلم { والذين لا يدعون مع الله الها اخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله الا بالحق ولا يزنون } الاية
ابوالزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ ایک انصاری شخص کی مسکینہ لونڈی آ کر کہنے لگی کہ میرا مالک مجھے بدکاری کے لیے مجبور کرتا ہے، تو یہ آیت نازل ہوئی «ولا تكرهوا فتياتكم على البغاء» ( سورۃ النور: ۳۳ ) تمہاری جو لونڈیاں پاک دامن رہنا چاہتی ہیں انہیں دنیا کی زندگی کے فائدے کی غرض سے بدکاری پر مجبور نہ کرو ۔
حدثنا احمد بن ابراهيم، عن حجاج، عن ابن جريج، قال اخبرني ابو الزبير، انه سمع جابر بن عبد الله، يقول جاءت مسيكة لبعض الانصار فقالت ان سيدي يكرهني على البغاء فنزل في ذلك { ولا تكرهوا فتياتكم على البغاء}
سیلمان تیمی سے روایت ہے کہ آیت کریمہ: «ومن يكرههن فإن الله من بعد إكراههن غفور رحيم» ( النور: ۳۳ ) اور جو انہیں مجبور کرے تو اللہ تعالیٰ مجبور کرنے کی صورت میں بخشنے ولا رحم کرنے والا ہے کے متعلق سعید بن ابوالحسن نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ جنہیں زنا کے لیے مجبور کیا گیا، اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا۔
حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا معتمر، عن ابيه، { ومن يكرههن فان الله من بعد اكراههن غفور رحيم } قال قال سعيد بن ابي الحسن غفور لهن المكرهات