Loading...

Loading...
کتب
۱۳۸ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت دونوں کو لعان کا حکم فرمایا تو ایک شخص کو حکم دیا کہ پانچویں بار میں اپنا ہاتھ مرد کے منہ پر رکھ دے اور کہے: یہ ( عذاب کو ) واجب کرنے والا ہے۔
حدثنا مخلد بن خالد الشعيري، حدثنا سفيان، عن عاصم بن كليب، عن ابيه، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم امر رجلا حين امر المتلاعنين ان يتلاعنا ان يضع يده على فيه عند الخامسة يقول انها موجبة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ ( جو کہ ان تین اشخاص میں سے ایک تھے جن کی اللہ تعالیٰ نے ( ایک غزوہ میں پچھڑ جانے کی وجہ سے سرزنش کے بعد ) توبہ قبول فرمائی تھی، وہ ) اپنی زمین سے رات کو آئے تو اپنی بیوی کے پاس ایک آدمی کو پایا، اپنی آنکھوں سے سارا منظر دیکھا، اور کانوں سے پوری گفتگو سنی، لیکن صبح تک اس معاملہ کو دبا کر رکھا، صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! رات کو میں گھر آیا تو اپنی بیوی کے پاس ایک مرد کو پایا، اپنی آنکھوں سے ( سب کچھ ) دیکھا، اور کانوں سے ( سب ) سنا، ان کی ان باتوں کو آپ نے ناپسند کیا اور ان پر ناگواری کا اظہار فرمایا، تو یہ دونوں آیتیں نازل ہوئیں «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم فشهادة أحدهم» اور جو لوگ اپنی بیویوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں اور ان کے پاس کوئی گواہ بجز ان کی ذات کے نہ ہو تو ایسے لوگوں میں سے ہر ایک کا ثبوت یہ ہے کہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ وہ سچوں میں سے ہیں اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹوں میں سے ہو ( سورۃ النور: ۷، ۶ ) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب وحی کی کیفیت دور ہوئی تو آپ نے فرمایا: ہلال! خوش ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کشادگی کا راستہ نکال دیا ہے ، ہلال رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اپنے پروردگار سے اسی کی امید تھی۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے بلواؤ ، تو وہ آئی تو آپ نے دونوں پر یہ آیتیں تلاوت فرمائیں، اور نصیحت کی نیز بتایا کہ: آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے بہت سخت ہے ۔ ہلال رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی میں نے اس کے متعلق جو کہا ہے سچ کہا ہے، وہ کہنے لگی: یہ جھوٹے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے درمیان لعان کراؤ ، چنانچہ ہلال رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ وہ گواہی دیں تو انہوں نے چار بار اللہ کا نام لے کر گواہی دی کہ وہ سچے ہیں، پانچویں کے وقت کہا گیا: ہلال! اللہ سے ڈرو کیونکہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب کے مقابلے میں بہت آسان ہے، اور اس بار کی گواہی تمہارے لیے عذاب کو واجب کر دے گی، وہ بولے: اللہ کی قسم! جس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھے کوڑوں سے بچایا ہے اسی طرح عذاب سے بھی بچائے گا، چنانچہ پانچویں گواہی بھی دے دی کہ اگر وہ جھوٹے ہوں تو ان پر اللہ کی لعنت ہو۔ پھر عورت سے گواہی دینے کے لیے کہا گیا، تو اس نے بھی چار بار گواہی دی کہ وہ جھوٹے ہیں، پانچویں بار اس سے بھی کہا گیا کہ اللہ سے ڈر جا کیونکہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب کے مقابلے میں بہت آسان ہے، اور اس دفعہ کی گواہی عذاب کو واجب کر دے گی، یہ سن کر وہ ایک لمحہ کے لیے ہچکچائی پھر بولی: اللہ کی قسم میں اپنی قوم کو رسوا نہ کروں گی، چنانچہ پانچویں بار بھی گواہی دے دی کہ اگر وہ سچے ہوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان تفریق کرا دی، اور فیصلہ فرمایا کہ اس کا لڑکا باپ کی طرف نہ منسوب کیا جائے، اور لڑکے اور عورت کو تہمت نہ لگائی جائے جو اس پر یا اس کے لڑکے پر اب تہمت لگائے گا تو اس پر تہمت کی حد جاری کی جائے گی، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ اسے نان نفقہ اور رہائش نہیں ملے گی، کیونکہ ان کی جدائی نہ تو طلاق کی بنا پر ہوئی ہے اور نہ شوہر کے انتقال کی وجہ سے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ بھورے بالوں والا، پتلی سرین والا، چوڑی پیٹھ والا اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنے تو وہ ہلال کا ( نطفہ ) ہے، اور اگر مٹیالے رنگ والا، گھنگرالے بالوں والا، موٹی پنڈلیوں والا، اور بھاری سرین والا جنے تو اس کا جس کے نام کی تہمت لگائی گئی ہے ، چنانچہ اس عورت کا بچہ مٹیالے رنگ کا گھنگرالے بالوں والا، موٹی پنڈلیوں والا اور بھاری سرین والا پیدا ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر قسمیں نہ ہوتیں تو میرا اور اس کا معاملہ کچھ اور ہوتا ۔ عکرمہ کہتے ہیں: یہی بچہ آگے چل کر مضر کا امیر بنا، اسے باپ کی جانب منسوب نہیں کیا جاتا تھا۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا عباد بن منصور، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال جاء هلال بن امية وهو احد الثلاثة الذين تاب الله عليهم فجاء من ارضه عشيا فوجد عند اهله رجلا فراى بعينيه وسمع باذنيه فلم يهجه حتى اصبح ثم غدا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله اني جيت اهلي عشاء فوجدت عندهم رجلا فرايت بعيني وسمعت باذني فكره رسول الله صلى الله عليه وسلم ما جاء به واشتد عليه فنزلت { والذين يرمون ازواجهم ولم يكن لهم شهداء الا انفسهم فشهادة احدهم } الايتين كلتيهما فسري عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ابشر يا هلال قد جعل الله عز وجل لك فرجا ومخرجا " . قال هلال قد كنت ارجو ذلك من ربي . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ارسلوا اليها " . فجاءت فتلا عليهما رسول الله صلى الله عليه وسلم وذكرهما واخبرهما ان عذاب الاخرة اشد من عذاب الدنيا فقال هلال والله لقد صدقت عليها فقالت قد كذب . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لاعنوا بينهما " . فقيل لهلال اشهد . فشهد اربع شهادات بالله انه لمن الصادقين فلما كانت الخامسة قيل له يا هلال اتق الله فان عذاب الدنيا اهون من عذاب الاخرة وان هذه الموجبة التي توجب عليك العذاب . فقال والله لا يعذبني الله عليها كما لم يجلدني عليها . فشهد الخامسة ان لعنة الله عليه ان كان من الكاذبين ثم قيل لها اشهدي . فشهدت اربع شهادات بالله انه لمن الكاذبين فلما كانت الخامسة قيل لها اتقي الله فان عذاب الدنيا اهون من عذاب الاخرة وان هذه الموجبة التي توجب عليك العذاب . فتلكات ساعة ثم قالت والله لا افضح قومي فشهدت الخامسة ان غضب الله عليها ان كان من الصادقين ففرق رسول الله صلى الله عليه وسلم بينهما وقضى ان لا يدعى ولدها لاب ولا ترمى ولا يرمى ولدها ومن رماها او رمى ولدها فعليه الحد وقضى ان لا بيت لها عليه ولا قوت من اجل انهما يتفرقان من غير طلاق ولا متوفى عنها وقال " ان جاءت به اصيهب اريصح اثيبج حمش الساقين فهو لهلال وان جاءت به اورق جعدا جماليا خدلج الساقين سابغ الاليتين فهو للذي رميت به فجاءت به اورق جعدا جماليا خدلج الساقين سابغ الاليتين فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لولا الايمان لكان لي ولها شان " . قال عكرمة فكان بعد ذلك اميرا على مضر وما يدعى لاب
سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں لعان کرنے والوں سے فرمایا: تم دونوں کا حساب اللہ پر ہے، تم میں سے ایک تو جھوٹا ہے ہی ( مرد سے فرمایا ) اب تجھے اس پر کچھ اختیار نہیں ، اس پر اس نے کہا: اللہ کے رسول! میرے مال کا کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کوئی مال نہیں، اگر تم اس پر تہمت لگانے میں سچے ہو تو مال کے بدلے اس کی شرمگاہ حلال کر چکے ہو اور اگر تم نے اس پر جھوٹ بولا ہے تب تو کسی طرح بھی تم مال کے مستحق نہیں ۔
حدثنا احمد بن حنبل، حدثنا سفيان بن عيينة، قال سمع عمرو، سعيد بن جبير يقول سمعت ابن عمر، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم للمتلاعنين " حسابكما على الله احدكما كاذب لا سبيل لك عليها " . قال يا رسول الله مالي . قال " لا مال لك ان كنت صدقت عليها فهو بما استحللت من فرجها وان كنت كذبت عليها فذلك ابعد لك
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے جو کہا کہ ایک شخص اپنی عورت کو تہمت لگائے تو اس کا کیا حکم ہے؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عجلان کے دونوں بھائی بہنوں ۱؎ کو ( اس صورت میں ) جدا کرا دیا تھا اور فرمایا تھا: اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم میں ایک ضرور جھوٹا ہے، تو کیا تم دونوں میں کوئی توبہ کرنے والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ کو تین بار دہرایا لیکن ان دونوں نے انکار کیا تو آپ نے ان کے درمیان علیحدگی کرا دی۔
حدثنا احمد بن محمد بن حنبل، حدثنا اسماعيل، حدثنا ايوب، عن سعيد بن جبير، قال قلت لابن عمر رجل قذف امراته . قال فرق رسول الله صلى الله عليه وسلم بين اخوى بني العجلان وقال " الله يعلم ان احدكما كاذب . فهل منكما تايب " . يرددها ثلاث مرات فابيا ففرق بينهما
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص نے اپنی عورت سے لعان کیا اور اس کے بچے کا باپ ہونے سے انکار کر دیا چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان علیحدگی کرا دی، اور بچے کو عورت سے ملا دیا۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جس کی روایت میں مالک منفرد ہیں وہ «وألحق الولد بالمرأة» کا جملہ ہے، اور یونس نے زہری سے انہوں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے لعان کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے: اس نے اس کے حمل کا انکار کیا تو اس ( عورت ) کا بیٹا اسی ( عورت ) کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن نافع، عن ابن عمر، ان رجلا، لاعن امراته في زمان رسول الله صلى الله عليه وسلم وانتفى من ولدها ففرق رسول الله صلى الله عليه وسلم بينهما والحق الولد بالمراة . قال ابو داود الذي تفرد به مالك قوله " والحق الولد بالمراة " . وقال يونس عن الزهري عن سهل بن سعد في حديث اللعان وانكر حملها فكان ابنها يدعى اليها
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنی فزارہ کا ایک شخص آیا اور کہنے لگا: میری عورت نے ایک کالا بچہ جنا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے جواب دیا: ہاں، پوچھا: کون سے رنگ کے ہیں؟ جواب دیا: سرخ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا کوئی خاکستری بھی ہے؟ جواب دیا: ہاں، خاکی رنگ کا بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: پھر یہ کہاں سے آ گیا؟ ، بولا: شاید کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہاں بھی ہو سکتا ہے ( تمہارے لڑکے میں بھی ) کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو ۱؎ ۔
حدثنا ابن ابي خلف، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سعيد، عن ابي هريرة، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم من بني فزارة فقال ان امراتي جاءت بولد اسود فقال " هل لك من ابل " . قال نعم . قال " ما الوانها " . قال حمر قال " فهل فيها من اورق " . قال ان فيها لورقا . قال " فانى تراه " . قال عسى ان يكون نزعه عرق . قال " وهذا عسى ان يكون نزعه عرق
اس سند سے بھی زہری سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے لیکن اس میں یہ ہے کہ یہ کہہ کر اس کا مقصد اپنے سے بچہ کی نفی کرنی تھی۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، باسناده ومعناه قال وهو حينيذ يعرض بان ينفيه
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: میری عورت نے ایک کالا لڑکا جنا ہے اور میں اس کا انکار کرتا ہوں، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان اعرابيا، اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال ان امراتي ولدت غلاما اسود واني انكره . فذكر معناه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس وقت آیت لعان نازل ہوئی انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس عورت نے کسی قوم میں ایسے فرد کو شامل کر دیا جو حقیقت میں اس قوم کا فرد نہیں ہے، تو وہ اللہ کی رحمت سے دور رہے گی، اسے اللہ تعالیٰ جنت میں ہرگز داخل نہ کرے گا، اسی طرح جس شخص نے اپنے بچے کا انکار کیا حالانکہ اسے معلوم ہے کہ وہ اس کا بچہ ہے، اسے اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب نہ ہو گا، اور وہ اگلی پچھلی ساری مخلوق کے سامنے اسے رسوا کرے گا ۱؎ ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، اخبرني عمرو، - يعني ابن الحارث - عن ابن الهاد، عن عبد الله بن يونس، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول حين نزلت اية المتلاعنين " ايما امراة ادخلت على قوم من ليس منهم فليست من الله في شىء ولن يدخلها الله جنته وايما رجل جحد ولده وهو ينظر اليه احتجب الله منه وفضحه على رءوس الاولين والاخرين
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں اجرت پر بدکاری اور زنا نہیں ہے، جس نے زمانہ جاہلیت میں بدکاری اور زنا سے کمائی کی، تو زنا سے پیدا ہونے والا بچہ اپنے عصبہ ( مالک ) سے مل جائے گا اور جس نے بغیر نکاح یا ملک کے کسی بچے کا دعویٰ کیا تو نہ تو ( بچہ ) اس کا وارث ہو گا اور نہ وہ بچے کا ۔
حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا معتمر، عن سلم، - يعني ابن ابي الذيال - حدثني بعض، اصحابنا عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، انه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا مساعاة في الاسلام من ساعى في الجاهلية فقد لحق بعصبته ومن ادعى ولدا من غير رشدة فلا يرث ولا يورث
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ جس لڑکے کو اس کے باپ کے مرنے کے بعد اس باپ سے ملایا جائے جس کے نام سے اسے پکارا جاتا ہے اور باپ کے وارث اسے اپنے سے ملانے کا دعویٰ کریں تو اگر اس کی پیدائش ایسی لونڈی سے ہوئی ہے جو صحبت کے دن اس کے ملکیت میں رہی ہو تو ملانے والے سے اس کا نسب مل جائے گا اور جو ترکہ اس کے ملائے جانے سے پہلے تقسیم ہو گیا ہے اس میں اس کو حصہ نہ ملے گا، البتہ جو ترکہ تقسیم نہیں ہوا ہے اس میں اسے حصہ دیا جائے گا، لیکن جس باپ سے اس کا نسب ملایا جاتا ہے اس نے ( اپنی زندگی میں اس کے بیٹا ہونے سے ) انکار کیا ہو تو وارثوں کے ملانے سے وہ نہیں ملے گا، اگر وہ لڑکا ایسی لونڈی سے ہو جس کا مالک اس کا باپ نہ تھا یا آزاد عورت سے ہو جس سے اس کے باپ نے زنا کیا تو اس کا نسب نہ ملے گا اور نہ اس کا وارث ہو گا گرچہ جس کے نام سے اسے پکارا جاتا ہے اسی نے ( اپنی زندگی میں ) اس کے بیٹا ہونے کا دعویٰ کیا ہو کیونکہ وہ زنا کی اولاد ہے آزاد عورت سے ہو یا لونڈی سے۔
حدثنا شيبان بن فروخ، حدثنا محمد بن راشد، ح وحدثنا الحسن بن علي، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا محمد بن راشد، - وهو اشبع - عن سليمان بن موسى، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال ان النبي صلى الله عليه وسلم قضى ان كل مستلحق استلحق بعد ابيه الذي يدعى له ادعاه ورثته فقضى ان كل من كان من امة يملكها يوم اصابها فقد لحق بمن استلحقه وليس له مما قسم قبله من الميراث شىء وما ادرك من ميراث لم يقسم فله نصيبه ولا يلحق اذا كان ابوه الذي يدعى له انكره وان كان من امة لم يملكها او من حرة عاهر بها فانه لا يلحق به ولا يرث وان كان الذي يدعى له هو ادعاه فهو ولد زنية من حرة كان او امة
اس سند سے بھی محمد بن راشد سے اسی مفہوم کی روایت منقول ہے لیکن اس میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ وہ ولد الزنا ہے اور اپنی ماں کے خاندان سے ملے گا چاہے وہ آزاد ہوں یا غلام، یہ شروع اسلام میں پیش آمدہ معاملہ کا حکم ہے، رہا جو مال قبل از اسلام تقسیم ہو چکا اس سے کچھ سروکار نہیں۔
حدثنا محمود بن خالد، حدثنا ابي، عن محمد بن راشد، باسناده ومعناه زاد وهو ولد زنا لاهل امه من كانوا حرة او امة وذلك فيما استلحق في اول الاسلام فما اقتسم من مال قبل الاسلام فقد مضى
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ( مسدد اور ابن سرح کی روایت میں ہے ) ایک دن خوش و خرم تشریف لائے ( اور عثمان کی روایت میں ہے آپ کے چہرے پر خوشی کی لکیریں ۱؎ محسوس کی جا رہی تھیں ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! کیا تو نے دیکھا نہیں کہ مجزز مدلجی نے زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید کو اس حال میں دیکھا کہ وہ دونوں اپنے سر چادر سے ڈھانکے ہوئے تھے اور پیر کھلے ہوئے تھے تو کہا کہ یہ پاؤں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسامہ کالے تھے اور زید گورے تھے۔
حدثنا مسدد، وعثمان بن ابي شيبة، - المعنى - وابن السرح قالوا حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم قال مسدد وابن السرح يوما مسرورا وقال عثمان يعرف اسارير وجهه فقال " اى عايشة الم ترى ان مجززا المدلجي راى زيدا واسامة قد غطيا رءوسهما بقطيفة وبدت اقدامهما فقال ان هذه الاقدام بعضها من بعض " . قال ابو داود كان اسامة اسود وكان زيد ابيض
اس سند سے بھی زہری نے اسی طریق سے اسی مفہوم کی روایت بیان کی ہے اس میں ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس خوش و خرم تشریف لائے آپ کے چہرے کی لکیریں چمک رہی تھیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «أسارير وجهه» کے الفاظ کو ابن عیینہ یاد نہیں رکھ سکے، ابوداؤد کہتے ہیں: «أسارير وجهه» ابن عیینہ کی جانب سے تدلیس ہے انہوں نے اسے زہری سے نہیں سنا ہے انہوں نے «أسارير وجهه» کے بجائے «لأسارير من غير» کے الفاظ سنے ہیں اور «أسارير» کا ذکر لیث وغیرہ کی حدیث میں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن صالح کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اسامہ رضی اللہ عنہ تارکول کی طرح بہت زیادہ کالے تھے ۱؎ اور زید رضی اللہ عنہ روئی کی طرح سفید۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، باسناده ومعناه قال قالت دخل على مسرورا تبرق اسارير وجهه . قال ابو داود واسارير وجهه . لم يحفظه ابن عيينة . قال ابو داود اسارير وجهه هو تدليس من ابن عيينة لم يسمعه من الزهري انما سمع الاسارير من غير الزهري . قال والاسارير من حديث الليث وغيره . قال ابو داود وسمعت احمد بن صالح يقول كان اسامة اسود شديد السواد مثل القار وكان زيد ابيض مثل القطن
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں یمن کا ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: اہل یمن میں سے تین آدمی علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک لڑکے کے لیے جھگڑتے ہوئے آئے، ان تینوں نے ایک عورت سے ایک ہی طہر ( پاکی ) میں جماع کیا تھا، تو علی رضی اللہ عنہ نے ان میں سے دو سے کہا کہ تم دونوں خوشی سے یہ لڑکا اسے ( تیسرے کو ) دے دو، یہ سن کر وہ دونوں بھڑک گئے، پھر دو سے یہی بات کہی، وہ بھی بھڑک اٹھے، پھر دو سے اسی طرح گفتگو کی لیکن وہ بھی بھڑک اٹھے، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ: تم تو باہم ضد کرنے والے ساجھی دار ہو لہٰذا میں تمہارے درمیان قرعہ اندازی کرتا ہوں، جس کے نام کا قرعہ نکلے گا، لڑکا اسی کو ملے گا اور وہ اپنے ساتھیوں کو ایک ایک تہائی دیت ادا کرے گا ، آپ نے قرعہ ڈالا اور جس کا نام نکلا اس کو لڑکا دے دیا، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے یہاں تک کہ آپ کی ڈاڑھیں یا کچلیاں نظر آنے لگیں۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن الاجلح، عن الشعبي، عن عبد الله بن الخليل، عن زيد بن ارقم، قال كنت جالسا عند النبي صلى الله عليه وسلم فجاء رجل من اليمن فقال ان ثلاثة نفر من اهل اليمن اتوا عليا يختصمون اليه في ولد وقد وقعوا على امراة في طهر واحد فقال لاثنين منهما طيبا بالولد لهذا . فغليا ثم قال لاثنين طيبا بالولد لهذا . فغلبا ثم قال لاثنين طيبا بالولد لهذا . فغلبا فقال انتم شركاء متشاكسون اني مقرع بينكم فمن قرع فله الولد وعليه لصاحبيه ثلثا الدية . فاقرع بينهم فجعله لمن قرع فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى بدت اضراسه او نواجذه
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ کے پاس یمن میں تین آدمی ( ایک لڑکے کے لیے جھگڑا لے کر ) آئے جنہوں نے ایک عورت سے ایک ہی طہر میں صحبت کی تھی، تو آپ نے ان میں سے دو سے پوچھا: کیا تم دونوں یہ لڑکا اسے ( تیسرے کو ) دے سکتے ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں، اس طرح آپ نے سب سے دریافت کیا، اور سب نے نفی میں جواب دیا، چنانچہ ان کے درمیان قرعہ اندازی کی، اور جس کا نام نکلا اسی کو لڑکا دے دیا، نیز اس کے ذمہ ( دونوں ساتھیوں کے لیے ) دو تہائی دیت مقرر فرمائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب اس کا تذکرہ آیا تو آپ ہنسے یہاں تک کہ آپ کی کچلیاں ظاہر ہو گئیں۔
حدثنا خشيش بن اصرم، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا الثوري، عن صالح الهمداني، عن الشعبي، عن عبد خير، عن زيد بن ارقم، قال اتي علي - رضى الله عنه - بثلاثة وهو باليمن وقعوا على امراة في طهر واحد فسال اثنين اتقران لهذا بالولد قالا لا . حتى سالهم جميعا فجعل كلما سال اثنين قالا لا . فاقرع بينهم فالحق الولد بالذي صارت عليه القرعة وجعل عليه ثلثى الدية قال فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فضحك حتى بدت نواجذه
خلیل یا ابن خلیل کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت کا مقدمہ لایا گیا جس نے تین آدمیوں سے صحبت کے بعد ایک لڑکا جنا تھا، آگے اسی طرح کی روایت ہے اس میں نہ تو انہوں نے یمن کا ذکر کیا ہے، نہ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا، اور نہ ( علی رضی اللہ عنہ کے ) اس قول کا کہ خوشی سے تم دونوں لڑکے کو اسے ( تیسرے کو ) دے دو۔
حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا ابي، حدثنا شعبة، عن سلمة، سمع الشعبي، عن الخليل، او ابن الخليل قال اتي علي بن ابي طالب - رضى الله عنه - في امراة ولدت من ثلاث نحوه لم يذكر اليمن ولا النبي صلى الله عليه وسلم ولا قوله طيبا بالولد
محمد بن مسلم بن شہاب کہتے ہیں کہ عروہ بن زبیر نے مجھے خبر دی ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ زمانہ جاہلیت میں چار قسم کے نکاح ہوتے تھے: ایک تو ایسے ہی جیسے اس زمانے میں ہوتا ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص کے پاس اس کی بہن یا بیٹی وغیرہ کے لیے نکاح کا پیغام دیتا ہے وہ مہر ادا کرتا ہے اور نکاح کر لیتا ہے۔ نکاح کی دوسری قسم یہ تھی کہ آدمی اپنی بیوی سے حیض سے پاک ہونے کے بعد کہہ دیتا کہ فلاں شخص کو بلوا لے، اور اس کا نطفہ حاصل کر لے پھر وہ شخص تب تک اپنی بیوی سے صحبت نہ کرتا جب تک کہ مطلوبہ شخص سے حمل نہ قرار پا جاتا، حمل ظاہر ہونے کے بعد ہی وہ چاہتا تو اس سے جماع کرتا، ایسا اس لیے کیا جاتا تھا تاکہ لڑکا نجیب ( عمدہ نسب کا ) ہو، اس نکاح کو نکاح استبضاع ( نطفہ حاصل کرنے کا نکاح ) کہا جاتا تھا۔ نکاح کی تیسری قسم یہ تھی کہ نو افراد تک کا ایک گروہ بن جاتا پھر وہ سب اس سے صحبت کرتے رہتے، جب وہ حاملہ ہو جاتی اور بچے کی ولادت ہوتی تو ولادت کے کچھ دن بعد وہ عورت ان سب لوگوں کو بلوا لیتی، کوئی آنے سے انکار نہ کرتا، جب سب جمع ہو جاتے تو کہتی: تمہیں اپنا حال معلوم ہی ہے، اور میں نے بچہ جنا ہے، پھر وہ جسے چاہتی اس کا نام لے کر کہتی کہ اے فلاں! یہ تیرا بچہ ہے، اور اس بچے کو اس کے ساتھ ملا دیا جاتا۔ نکاح کی چوتھی قسم یہ تھی کہ بہت سے لوگ جمع ہو جاتے اور ایک عورت سے صحبت کرتے، وہ کسی بھی آنے والے کو منع نہ کرتی، یہ بدکار عورتیں ہوتیں، ان کے دروازوں پر بطور نشانی جھنڈے لگے ہوتے، جو شخص بھی چاہتا ان سے صحبت کرتا، جب وہ حاملہ ہو جاتی اور بچہ جن دیتی تو سب جمع ہو جاتے، اور قیافہ شناس کو بلاتے، وہ جس کا بھی نام لیتا اس کے ساتھ ملا دیا جاتا، وہ بچہ اس کا ہو جاتا اور وہ کچھ نہ کہہ پاتا، تو جب اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی بنا کر بھیجا تو زمانہ جاہلیت کے سارے نکاحوں کو باطل قرار دے دیا سوائے اہل اسلام کے نکاح کے جو آج رائج ہے۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عنبسة بن خالد، حدثني يونس بن يزيد، قال قال محمد بن مسلم بن شهاب اخبرني عروة بن الزبير، ان عايشة، - رضى الله عنها - زوج النبي صلى الله عليه وسلم اخبرته ان النكاح كان في الجاهلية على اربعة انحاء فنكاح منها نكاح الناس اليوم يخطب الرجل الى الرجل وليته فيصدقها ثم ينكحها ونكاح اخر كان الرجل يقول لامراته اذا طهرت من طمثها ارسلي الى فلان فاستبضعي منه ويعتزلها زوجها ولا يمسها ابدا حتى يتبين حملها من ذلك الرجل الذي تستبضع منه فاذا تبين حملها اصابها زوجها ان احب وانما يفعل ذلك رغبة في نجابة الولد فكان هذا النكاح يسمى نكاح الاستبضاع ونكاح اخر يجتمع الرهط دون العشرة فيدخلون على المراة كلهم يصيبها فاذا حملت ووضعت ومر ليال بعد ان تضع حملها ارسلت اليهم فلم يستطع رجل منهم ان يمتنع حتى يجتمعوا عندها فتقول لهم قد عرفتم الذي كان من امركم وقد ولدت وهو ابنك يا فلان فتسمي من احبت منهم باسمه فيلحق به ولدها ونكاح رابع يجتمع الناس الكثير فيدخلون على المراة لا تمتنع ممن جاءها وهن البغايا كن ينصبن على ابوابهن رايات يكن علما لمن ارادهن دخل عليهن فاذا حملت فوضعت حملها جمعوا لها ودعوا لهم القافة ثم الحقوا ولدها بالذي يرون فالتاطه ودعي ابنه لا يمتنع من ذلك فلما بعث الله محمدا صلى الله عليه وسلم هدم نكاح اهل الجاهلية كله الا نكاح اهل الاسلام اليوم
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کا جھگڑا لے آئے، سعد رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میرے بھائی عتبہ نے مجھے وصیت کی تھی کہ جب میں مکہ جاؤں تو زمعہ کی لونڈی کے بچے کو دیکھوں تو اس کو لے لوں کیونکہ وہ انہیں کا بیٹا ہے، اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یہ میرا بھائی ہے کیونکہ میرے والد کی لونڈی کا بیٹا ہے، اور میرے والد کے بستر پر اس کی ولادت ہوئی ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبہ کے ساتھ کھلی مشابہت دیکھی ( اس کے باوجود ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچہ بستر والے کا ہے، اور زانی کے لیے سنگساری ہے، اور سودہ! تم اس سے پردہ کرو ۔ مسدد نے اپنی روایت میں یہ الفاظ زیادہ کئے ہیں کہ آپ نے فرمایا: عبد! یہ تیرا بھائی ہے ۔
حدثنا سعيد بن منصور، ومسدد، قالا حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، اختصم سعد بن ابي وقاص وعبد بن زمعة الى رسول الله صلى الله عليه وسلم في ابن امة زمعة فقال سعد اوصاني اخي عتبة اذا قدمت مكة ان انظر الى ابن امة زمعة فاقبضه فانه ابنه . وقال عبد بن زمعة اخي ابن امة ابي ولد على فراش ابي . فراى رسول الله صلى الله عليه وسلم شبها بينا بعتبة فقال " الولد للفراش وللعاهر الحجر واحتجبي عنه يا سودة " . زاد مسدد في حديثه وقال " هو اخوك يا عبد
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! فلاں میرا بیٹا ہے میں نے زمانہ جاہلیت میں اس کی ماں سے زنا کیا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں اس طرح کا مطالبہ صحیح نہیں، زمانہ جاہلیت کی بات ختم ہوئی، بچہ صاحب بستر کا ہے اور زانی کے لیے سنگساری ہے ۔
حدثنا زهير بن حرب، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا حسين المعلم، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، قال قام رجل فقال يا رسول الله ان فلانا ابني عاهرت بامه في الجاهلية فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا دعوة في الاسلام ذهب امر الجاهلية الولد للفراش وللعاهر الحجر