Loading...

Loading...
کتب
۱۳۸ احادیث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جس وقت بریرہ رضی اللہ عنہا آزاد ہوئی اس وقت اس کا شوہر آزاد ۱؎ تھا، اسے اختیار دیا گیا، تو اس نے کہا کہ اگر مجھے اتنا اتنا مال بھی مل جائے تب بھی میں اس کے ساتھ رہنا پسند نہ کروں گی۔
حدثنا ابن كثير، اخبرنا سفيان، عن منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، ان زوج، بريرة كان حرا حين اعتقت وانها خيرت فقالت ما احب ان اكون معه وان لي كذا وكذا
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا آزاد کی گئی اس وقت وہ آل ابواحمد کے غلام مغیث رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دیا اور اس سے کہا: اگر اس نے تجھ سے صحبت کر لی تو پھر تجھے اختیار حاصل نہیں رہے گا ۔
حدثنا عبد العزيز بن يحيى الحراني، حدثني محمد، - يعني ابن سلمة - عن محمد بن اسحاق، عن ابي جعفر، وعن ابان بن صالح، عن مجاهد، وعن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، ان بريرة، اعتقت وهي عند مغيث - عبد لال ابي احمد - فخيرها رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال لها " ان قربك فلا خيار لك
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے لونڈی غلام کے ایک جوڑے کو آزاد کرنا چاہا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے حکم دیا کہ وہ عورت سے پہلے مرد کو آزاد کریں۔
حدثنا زهير بن حرب، ونصر بن علي، قال زهير حدثنا عبيد الله بن عبد المجيد، حدثنا عبيد الله بن عبد الرحمن بن موهب، عن القاسم، عن عايشة، انها ارادت ان تعتق، مملوكين لها زوج قال فسالت النبي صلى الله عليه وسلم عن ذلك فامرها ان تبدا بالرجل قبل المراة . قال نصر اخبرني ابو علي الحنفي عن عبيد الله
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص مسلمان ہو کر آیا پھر اس کے بعد اس کی بیوی بھی مسلمان ہو کر آ گئی، تو اس نے کہا: اللہ کے رسول! یہ میرے ساتھ ہی مسلمان ہوئی ہے تو آپ اسے میرے پاس لوٹا دیجئیے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن اسراييل، عن سماك، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان رجلا، جاء مسلما على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم جاءت امراته مسلمة بعده فقال يا رسول الله انها قد كانت اسلمت معي . فردها عليه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت مسلمان ہو گئی اور اس نے نکاح بھی کر لیا، اس کے بعد اس کا شوہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں اسلام لے آیا تھا اور اسے میرے اسلام لانے کا علم تھا چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے شوہر سے اسے چھین کر اس کے پہلے شوہر کو لوٹا دیا۔
حدثنا نصر بن علي، اخبرني ابو احمد، عن اسراييل، عن سماك، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال اسلمت امراة على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فتزوجت فجاء زوجها الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله اني قد كنت اسلمت وعلمت باسلامي فانتزعها رسول الله صلى الله عليه وسلم من زوجها الاخر وردها الى زوجها الاول
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا کو ابوالعاص کے پاس پہلے نکاح پر واپس بھیج دیا اور نئے سرے سے کوئی نکاح نہیں پڑھایا۔ محمد بن عمرو کی روایت میں ہے چھ سال کے بعد ایسا کیا اور حسن بن علی نے کہا: دو سال کے بعد
حدثنا عبد الله بن محمد النفيلي، حدثنا محمد بن سلمة، ح وحدثنا محمد بن عمرو الرازي، حدثنا سلمة يعني ابن الفضل، ح وحدثنا الحسن بن علي، حدثنا يزيد، - المعنى - كلهم عن ابن اسحاق، عن داود بن الحصين، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال رد رسول الله صلى الله عليه وسلم ابنته زينب على ابي العاصي بالنكاح الاول لم يحدث شييا . قال محمد بن عمرو في حديثه بعد ست سنين وقال الحسن بن علي بعد سنتين
حارث بن قیس اسدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے اسلام قبول کیا، میرے پاس آٹھ بیویاں تھیں تو میں نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان میں سے چار کا انتخاب کر لو ( اور باقی کو طلاق دے دو ) ۔
حدثنا مسدد، حدثنا هشيم، ح وحدثنا وهب بن بقية، اخبرنا هشيم، عن ابن ابي ليلى، عن حميضة بن الشمردل، عن الحارث بن قيس، - قال مسدد ابن عميرة . وقال وهب الاسدي - قال اسلمت وعندي ثمان نسوة فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اختر منهن اربعا " . قال ابو داود وحدثنا به احمد بن ابراهيم حدثنا هشيم بهذا الحديث فقال قيس بن الحارث مكان الحارث بن قيس قال احمد بن ابراهيم هذا الصواب . يعني قيس بن الحارث
اس سند سے بھی قیس بن حارث رضی اللہ عنہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔
حدثنا احمد بن ابراهيم، حدثنا بكر بن عبد الرحمن، قاضي الكوفة عن عيسى بن المختار، عن ابن ابي ليلى، عن حميضة بن الشمردل، عن قيس بن الحارث، بمعناه
فیروز رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے اسلام قبول کر لیا ہے اور میرے نکاح میں دو بہنیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان دونوں میں سے جس کو چاہو طلاق دے دو ۔
حدثنا يحيى بن معين، حدثنا وهب بن جرير، عن ابيه، قال سمعت يحيى بن ايوب، عن يزيد بن ابي حبيب، عن ابي وهب الجيشاني، عن الضحاك بن فيروز، عن ابيه، قال قلت يا رسول الله اني اسلمت وتحتي اختان . قال " طلق ايتهما شيت
رافع بن سنان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کر لیا، لیکن ان کی بیوی نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا، اور آپ کے پاس آ کر کہنے لگی: بیٹی میری ہے ( اسے میں اپنے پاس رکھوں گی ) اس کا دودھ چھوٹ چکا تھا، یا چھوٹنے والا تھا، اور رافع نے کہا کہ بیٹی میری ہے ( اسے میں اپنے پاس رکھوں گا ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رافع کو ایک طرف اور عورت کو دوسری طرف بیٹھنے کے لیے فرمایا، اور بچی کو درمیان میں بٹھا دیا، پھر دونوں کو اپنی اپنی جانب بلانے کے لیے کہا بچی ماں کی طرف مائل ہوئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اسے ہدایت دے ، چنانچہ بچی اپنے باپ کی طرف مائل ہو گئی تو انہوں نے اسے لے لیا ۱؎۔
حدثنا ابراهيم بن موسى الرازي، اخبرنا عيسى، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، اخبرني ابي، عن جدي، رافع بن سنان انه اسلم وابت امراته ان تسلم فاتت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت ابنتي وهي فطيم او شبهه وقال رافع ابنتي . فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " اقعد ناحية " . وقال لها " اقعدي ناحية " . قال واقعد الصبية بينهما ثم قال " ادعواها " . فمالت الصبية الى امها فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اللهم اهدها " . فمالت الصبية الى ابيها فاخذها
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عویمر بن اشقر عجلانی، عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے آ کر کہنے لگے: عاصم! ذرا بتاؤ، اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس کسی ( اجنبی ) شخص کو پا لے تو کیا وہ اسے قتل کر دے پھر اس کے بدلے میں تم اسے بھی قتل کر دو گے، یا وہ کیا کرے؟ میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھو، چنانچہ عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلہ میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( بغیر ضرورت ) اس طرح کے سوالات کو ناپسند فرمایا اور اس کی اس قدر برائی کی کہ عاصم رضی اللہ عنہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات گراں گزری، جب عاصم رضی اللہ عنہ گھر لوٹے تو عویمر رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس آ کر پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا فرمایا؟ تو عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے تم سے کوئی بھلائی نہیں ملی جس مسئلہ کے بارے میں، میں نے سوال کیا اسے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایا۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھ کر رہوں گا، وہ سیدھے آپ کے پاس پہنچ گئے اس وقت آپ لوگوں کے بیچ تشریف فرما تھے، عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! بتائیے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ ( اجنبی ) آدمی کو پا لے تو کیا وہ اسے قتل کر دے پھر آپ لوگ اسے اس کے بدلے میں قتل کر دیں گے، یا وہ کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے اور تمہاری بیوی کے متعلق قرآن نازل ہوا ہے لہٰذا اسے لے کر آؤ ، سہل کا بیان ہے کہ ان دونوں نے لعان ۱؎ کیا، اس وقت میں لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، جب وہ ( لعان سے ) فارغ ہو گئے تو عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں اسے اپنے پاس رکھوں تو ( گویا ) میں نے جھوٹ کہا ہے چنانچہ عویمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی اسے تین طلاق دے دی۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں: تو یہی ( ان دونوں ) لعان کرنے والوں کا طریقہ بن گیا۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، عن مالك، عن ابن شهاب، ان سهل بن سعد الساعدي، اخبره ان عويمر بن اشقر العجلاني جاء الى عاصم بن عدي فقال له يا عاصم ارايت رجلا وجد مع امراته رجلا ايقتله فتقتلونه ام كيف يفعل سل لي يا عاصم رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك . فسال عاصم رسول الله صلى الله عليه وسلم فكره رسول الله صلى الله عليه وسلم المسايل وعابها حتى كبر على عاصم ما سمع من رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما رجع عاصم الى اهله جاءه عويمر فقال له يا عاصم ماذا قال لك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال عاصم لم تاتني بخير قد كره رسول الله صلى الله عليه وسلم المسالة التي سالته عنها . فقال عويمر والله لا انتهي حتى اساله عنها . فاقبل عويمر حتى اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو وسط الناس فقال يا رسول الله ارايت رجلا وجد مع امراته رجلا ايقتله فتقتلونه ام كيف يفعل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قد انزل فيك وفي صاحبتك قران فاذهب فات بها " . قال سهل فتلاعنا وانا مع الناس عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما فرغا قال عويمر كذبت عليها يا رسول الله ان امسكتها . فطلقها عويمر ثلاثا قبل ان يامره النبي صلى الله عليه وسلم . قال ابن شهاب فكانت تلك سنة المتلاعنين
سہل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: بچے کی ولادت تک عورت کو اپنے پاس روکے رکھو ۔
حدثنا عبد العزيز بن يحيى، حدثني محمد، - يعني ابن سلمة - عن محمد بن اسحاق، حدثني عباس بن سهل، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لعاصم بن عدي " امسك المراة عندك حتى تلد
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ان دونوں کے لعان میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود رہا اور میں پندرہ سال کا تھا، پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی لیکن اس میں اتنا اضافہ کیا کہ پھر وہ عورت حاملہ نکلی چنانچہ لڑکے کو اس کی ماں کی جانب منسوب کر کے پکارا جاتا تھا ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن سهل بن سعد الساعدي، قال حضرت لعانهما عند النبي صلى الله عليه وسلم وانا ابن خمس عشرة سنة . وساق الحديث قال فيه ثم خرجت حاملا فكان الولد يدعى الى امه
لعان والی حدیث میں سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس عورت پر نظر رکھو اگر بچہ سیاہ آنکھوں والا، بڑی سرینوں والا ہو تو میں یہی سمجھتا ہوں کہ اس ( شوہر ) نے سچ کہا ہے، اور اگر سرخ رنگ گیرو کی طرح ہو تو میں سمجھتا ہوں کی وہ جھوٹا ہے ، چنانچہ اس کا بچہ ناپسندیدہ صفت پر پیدا ہوا۔
حدثنا محمد بن جعفر الوركاني، اخبرنا ابراهيم، - يعني ابن سعد - عن الزهري، عن سهل بن سعد، في خبر المتلاعنين قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ابصروها فان جاءت به ادعج العينين عظيم الاليتين فلا اراه الا قد صدق وان جاءت به احيمر كانه وحرة فلا اراه الا كاذبا " . قال فجاءت به على النعت المكروه
اس سند سے بھی سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: تو اسے یعنی لڑکے کو اس کی ماں کی جانب منسوب کر کے پکارا جاتا تھا۔
حدثنا محمود بن خالد الدمشقي، حدثنا الفريابي، عن الاوزاعي، عن الزهري، عن سهل بن سعد الساعدي، بهذا الخبر قال فكان يدعى - يعني الولد - لامه
اس سند سے بھی سہل بن سعد رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: انہوں ( عاصم بن عدی ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اسے تین طلاق دے دی تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نافذ فرما دیا، اور جو کام آپ کی موجودگی میں کیا گیا ہو وہ سنت ہے۔ سہل رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت میں موجود تھا، اس کے بعد لعان کرنے والے مرد اور عورت کے سلسلہ میں طریقہ ہی یہ ہو گیا کہ انہیں جدا کر دیا جائے، اور وہ دونوں پھر کبھی اکٹھے نہ ہوں۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح، حدثنا ابن وهب، عن عياض بن عبد الله الفهري، وغيره، عن ابن شهاب، عن سهل بن سعد، في هذا الخبر قال فطلقها ثلاث تطليقات عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فانفذه رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان ما صنع عند النبي صلى الله عليه وسلم سنة . قال سهل حضرت هذا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فمضت السنة بعد في المتلاعنين ان يفرق بينهما ثم لا يجتمعان ابدا
سہل بن سعد رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں دونوں لعان کرنے والوں کے پاس موجود تھا، اور میں پندرہ سال کا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان لعان کے بعد جدائی کرا دی، یہاں مسدد کی روایت پوری ہو گئی، دیگر لوگوں کی روایت میں ہے کہ: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے آپ نے دونوں لعان کرنے والے مرد اور عورت کے درمیان جدائی کرا دی تو مرد کہنے لگا: اللہ کے رسول! اگر میں اسے رکھوں تو میں نے اس پر بہتان لگایا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ سفیان ابن عیینہ کی کسی نے اس بات پر متابعت نہیں کی کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کرا دی ۔
حدثنا مسدد، ووهب بن بيان، واحمد بن عمرو بن السرح، وعمرو بن عثمان، قالوا حدثنا سفيان، عن الزهري، عن سهل بن سعد، قال مسدد قال شهدت المتلاعنين على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا ابن خمس عشرة ففرق بينهما رسول الله صلى الله عليه وسلم حين تلاعنا . وتم حديث مسدد . وقال الاخرون انه شهد النبي صلى الله عليه وسلم فرق بين المتلاعنين فقال الرجل كذبت عليها يا رسول الله ان امسكتها - لم يقل بعضهم عليها - قال ابو داود لم يتابع ابن عيينة احد على انه فرق بين المتلاعنين
اس سند سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے کہ: وہ عورت حاملہ تھی اور اس نے اس کے حمل کا انکار کیا، چنانچہ اس عورت کا بیٹا اسی طرف منسوب کر کے پکارا جاتا تھا، اس کے بعد میراث میں بھی یہی طریقہ رہا کہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصہ میں ماں لڑکے کی وارث ہوتی اور لڑکا ماں کا وارث ہوتا ۔
حدثنا سليمان بن داود العتكي، حدثنا فليح، عن الزهري، عن سهل بن سعد، في هذا الحديث وكانت حاملا فانكر حملها فكان ابنها يدعى اليها ثم جرت السنة في الميراث ان يرثها وترث منه ما فرض الله عز وجل لها
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ( ایک دفعہ ) جمعہ کی رات مسجد میں تھا کہ اچانک انصار کا ایک شخص مسجد میں آیا، اور کہنے لگا: اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی ( اجنبی ) آدمی کو پا لے اور ( حقیقت حال ) بیان کرے تو تم لوگ اسے کوڑے لگاؤ گے، یا وہ قتل کر دے تو اس کے بدلے میں تم لوگ اسے قتل کر دو گے، اور اگر وہ چپ رہے تو اندر ہی اندر غصہ میں جلے بھنے، اللہ کی قسم، میں اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ضرور دریافت کروں گا، چنانچہ جب دوسرا دن ہوا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی ( اجنبی ) آدمی کو پا لے اور حقیقت حال بیان کرے تو ( تہمت کی حد کے طور پر ) آپ اسے کوڑے لگائیں گے، یا وہ قتل کر دے تو اسے قتل کر دیں گے، یا وہ خاموشی اختیار کر کے اندر ہی غصہ سے جلے بھنے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرنے لگے: اے اللہ! معاملے کی وضاحت فرما دے ، چنانچہ لعان کی آیت «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم» اور جو لوگ اپنی بیویوں کو تہمت لگاتے ہیں اور ان کے پاس گواہ نہ ہوں ( سورۃ النور: ۶ ) آخر تک نازل ہوئی تو لوگوں میں یہی شخص اس مصیبت میں مبتلا ہوا چنانچہ وہ دونوں میاں بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان دونوں نے لعان کیا، اس آدمی نے چار بار اللہ کا نام لے کر اپنے سچے ہونے کی گواہی دی، اور پانچویں بار کہا کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو، پھر عورت لعان کرنے چلی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھہرو ، لیکن وہ نہیں مانی اور لعان کر ہی لیا، تو جب وہ دونوں جانے لگے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شاید یہ عورت کالا گھنگرالے بالوں والا بچہ جنم دے چنانچہ اس نے وہ کالا اور گھنگرالے بالوں والا بچہ ہی جنم دیا۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، قال انا لليلة جمعة في المسجد اذ دخل رجل من الانصار في المسجد فقال لو ان رجلا وجد مع امراته رجلا فتكلم به جلدتموه او قتل قتلتموه فان سكت سكت على غيظ والله لاسالن عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم . فلما كان من الغد اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فساله فقال لو ان رجلا وجد مع امراته رجلا فتكلم به جلدتموه او قتل قتلتموه او سكت سكت على غيظ . فقال " اللهم افتح " . وجعل يدعو فنزلت اية اللعان { والذين يرمون ازواجهم ولم يكن لهم شهداء الا انفسهم } هذه الاية فابتلي به ذلك الرجل من بين الناس فجاء هو وامراته الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فتلاعنا فشهد الرجل اربع شهادات بالله انه لمن الصادقين ثم لعن الخامسة عليه ان كان من الكاذبين قال فذهبت لتلتعن فقال لها النبي صلى الله عليه وسلم " مه " . فابت ففعلت فلما ادبرا قال " لعلها ان تجيء به اسود جعدا " . فجاءت به اسود جعدا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ ( زنا کی ) تہمت لگائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ثبوت لاؤ ورنہ پیٹھ پر کوڑے لگیں گے ، تو ہلال نے کہا کہ: اللہ کے رسول! جب ہم میں سے کوئی شخص کسی آدمی کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھے تو وہ گواہ ڈھونڈنے جائے؟ اس پر بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرمائے جا رہے تھے کہ: گواہ لاؤ، ورنہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے پڑیں گے ، تو ہلال نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے میں بالکل سچا ہوں اور اللہ تعالیٰ ضرور میرے بارے میں وحی نازل کر کے میری پیٹھ کو حد سے بری کرے گا، چنانچہ «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم» کی آیت نازل ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پڑھا یہاں تک کہ آپ پڑھتے پڑھتے «من الصادقين» ۱؎ تک پہنچے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پلٹے اور آپ نے ان دونوں کو بلوایا، وہ دونوں آئے، پہلے ہلال بن امیہ کھڑے ہوئے اور گواہی دینے لگے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: اللہ خوب جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے، تو کیا تم دونوں میں سے کوئی توبہ کرنے والا ہے؟ پھر عورت کھڑی ہوئی اور گواہی دینے لگی، پانچویں بار میں جب ان الفاظ کے کہنے کی باری آئی کہ اگر وہ سچا ہے تو مجھ پر اللہ کا غضب نازل ہو تو لوگ اس سے کہنے لگے: یہ عذاب کو واجب کر دینے والا ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے: تو وہ ہچکچائی اور ہٹ گئی اور ہمیں یہ گمان ہوا کہ وہ باز آ جائے گی، لیکن پھر کہنے لگی: ہمیشہ کے لیے میں اپنی قوم پر رسوائی کا داغ نہ لگاؤں گی ( یہ کہہ کر ) اس نے آخری جملہ کو بھی ادا کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو اس کا ہونے والا بچہ اگر سرمگیں آنکھوں، بڑی سرینوں اور موٹی پنڈلیوں والا ہوا تو وہ شریک بن سحماء کا ہے ، چنانچہ انہیں صفات کا بچہ پیدا ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ کی کتاب کا فیصلہ نہ آ گیا ہوتا تو میرا اور اس کا معاملہ کچھ اور ہوتا ، یعنی میں اس پر حد جاری کرتا۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابن ابي عدي، اخبرنا هشام بن حسان، حدثني عكرمة، عن ابن عباس، ان هلال بن امية، قذف امراته عند رسول الله صلى الله عليه وسلم بشريك بن سحماء فقال النبي صلى الله عليه وسلم " البينة او حد في ظهرك " . قال يا رسول الله اذا راى احدنا رجلا على امراته يلتمس البينة فجعل النبي صلى الله عليه وسلم يقول " البينة والا فحد في ظهرك " . فقال هلال والذي بعثك بالحق نبيا اني لصادق ولينزلن الله في امري ما يبري ظهري من الحد فنزلت { والذين يرمون ازواجهم ولم يكن لهم شهداء الا انفسهم } فقرا حتى بلغ { من الصادقين } فانصرف النبي صلى الله عليه وسلم فارسل اليهما فجاءا فقام هلال بن امية فشهد والنبي صلى الله عليه وسلم يقول " الله يعلم ان احدكما كاذب فهل منكما من تايب " . ثم قامت فشهدت فلما كان عند الخامسة ان غضب الله عليها ان كان من الصادقين وقالوا لها انها موجبة . قال ابن عباس فتلكات ونكصت حتى ظننا انها سترجع فقالت لا افضح قومي ساير اليوم . فمضت فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ابصروها فان جاءت به اكحل العينين سابغ الاليتين خدلج الساقين فهو لشريك بن سحماء " . فجاءت به كذلك فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لولا ما مضى من كتاب الله لكان لي ولها شان " . قال ابو داود وهذا مما تفرد به اهل المدينة حديث ابن بشار حديث هلال