Loading...

Loading...
کتب
۱۳۸ احادیث
اس سند سے بھی ابن اسحاق سے اسی طرح کی روایت منقول ہے لیکن اس میں ہے کہ «عرق» ایسی زنبیل ہے جس میں تیس صاع کے بقدر کھجور آتی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث یحییٰ بن آدم کی روایت کے مقابلے میں زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد العزيز بن يحيى ابو الاصبغ الحراني، حدثنا محمد بن سلمة، عن ابن اسحاق، بهذا الاسناد نحوه الا انه قال والعرق مكتل يسع ثلاثين صاعا . قال ابو داود وهذا اصح من حديث يحيى بن ادم
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری کہتے ہیں کہ «عرق» سے مراد ایسی زنبیل ہے جس میں پندرہ صاع کھجوریں آ جائیں ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابان، حدثنا يحيى، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، قال يعني بالعرق زنبيلا ياخذ خمسة عشر صاعا
لیمان بن یسار سے یہی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوریں آئیں تو آپ نے وہ انہیں دے دیں، وہ تقریباً پندرہ صاع تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں صدقہ کر دو ، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! مجھ سے اور میرے گھر والوں سے زیادہ کوئی ضرورت مند نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اور تمہارے گھر والے ہی انہیں کھا لو ۔
حدثنا ابن السرح، حدثنا ابن وهب، اخبرني ابن لهيعة، وعمرو بن الحارث، عن بكير بن الاشج، عن سليمان بن يسار، بهذا الخبر قال فاتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بتمر فاعطاه اياه وهو قريب من خمسة عشر صاعا قال " تصدق بهذا " . قال فقال يا رسول الله على افقر مني ومن اهلي فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كله انت واهلك
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے بھائی اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پندرہ صاع جو دی تاکہ ساٹھ مسکینوں کو کھلا دیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عطا نے اوس کو نہیں پایا ہے اور وہ بدری صحابی ہیں ان کا انتقال بہت پہلے ہو گیا تھا، لہٰذا یہ حدیث مرسل ہے، اور لوگوں نے اسے اوزاعی سے اوزاعی نے عطاء سے روایت کیا اس میں «عن أوس» کے بجائے «أوسا» ہے۔
قال ابو داود قرات على محمد بن وزير المصري قلت له حدثكم بشر بن بكر، حدثنا الاوزاعي، حدثنا عطاء، عن اوس، اخي عبادة بن الصامت ان النبي صلى الله عليه وسلم اعطاه خمسة عشر صاعا من شعير اطعام ستين مسكينا . قال ابو داود وعطاء لم يدرك اوسا وهو من اهل بدر قديم الموت والحديث مرسل وانما رووه عن الاوزاعي عن عطاء ان اوسا
ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ جمیلہ رضی اللہ عنہا اوس بن صامت رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، اور وہ عورتوں کے دیوانے تھے جب ان کی دیوانگی بڑھ جاتی تو وہ اپنی عورت سے ظہار کر لیتے، اللہ تعالیٰ نے انہیں کے متعلق ظہار کے کفارے کا حکم نازل فرمایا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن هشام بن عروة، ان جميلة، كانت تحت اوس بن الصامت وكان رجلا به لمم فكان اذا اشتد لممه ظاهر من امراته فانزل الله تعالى فيه كفارة الظهار
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی کے مثل مروی ہے۔
حدثنا هارون بن عبد الله، حدثنا محمد بن الفضل، حدثنا حماد بن سلمة، عن هشام بن عروة، عن عروة، عن عايشة، مثله
عکرمہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا، پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے ہی وہ اس سے صحبت کر بیٹھا چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس کی خبر دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں اس فعل پر کس چیز نے آمادہ کیا؟ اس نے کہا: چاندنی رات میں میں نے اس کی پنڈلی کی سفیدی دیکھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم اس سے اس وقت تک الگ رہو جب تک کہ تم اپنی طرف سے کفارہ ادا نہ کر دو ۔
حدثنا اسحاق بن اسماعيل الطالقاني، حدثنا سفيان، حدثنا الحكم بن ابان، عن عكرمة، ان رجلا، ظاهر من امراته ثم واقعها قبل ان يكفر فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فاخبره فقال " ما حملك على ما صنعت " . قال رايت بياض ساقيها في القمر . قال " فاعتزلها حتى تكفر عنك
عکرمہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا، پھر اس نے چاندنی میں اس کی پنڈلی کی چمک دیکھی، تو اس سے صحبت کر بیٹھا، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے اسے کفارہ ادا کرنے کا حکم فرمایا۔
حدثنا الزعفراني، حدثنا سفيان بن عيينة، عن الحكم بن ابان، عن عكرمة، ان رجلا، ظاهر من امراته فراى بريق ساقها في القمر فوقع عليها فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فامره ان يكفر
اس سند سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً اسی طرح روایت ہے لیکن اس میں پنڈلی کا ذکر نہیں ہے۔
حدثنا زياد بن ايوب، حدثنا اسماعيل، حدثنا الحكم بن ابان، عن عكرمة، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه ولم يذكر الساق
اس سند سے بھی عکرمہ سے سے سفیان کی حدیث ( نمبر: ۲۲۲۱ ) کی طرح روایت ہے۔
حدثنا ابو كامل، ان عبد العزيز بن المختار، حدثهم حدثنا خالد، حدثني محدث، عن عكرمة، عن النبي صلى الله عليه وسلم بنحو حديث سفيان
ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے محمد بن عیسیٰ کو اسے بیان کرتے سنا ہے، وہ کہتے ہیں ہم سے معتمر نے بیان کیا وہ کہتے ہیں: میں نے حکم بن ابان کو یہی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ اسے عکرمہ سے روایت کر رہے تھے اس میں انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھے حسین بن حریث نے لکھا وہ کہتے ہیں کہ مجھے فضل بن موسیٰ نے خبر دی ہے وہ معمر سے وہ حکم بن ابان سے وہ عکرمہ سے وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں۔
قال ابو داود سمعت محمد بن عيسى، يحدث به حدثنا المعتمر، قال سمعت الحكم بن ابان، يحدث بهذا الحديث ولم يذكر ابن عباس قال عن عكرمةقال ابو داود كتب الى الحسين بن حريث قال اخبرنا الفضل بن موسى، عن معمر، عن الحكم بن ابان، عن عكرمة، عن ابن عباس، بمعناه عن النبي صلى الله عليه وسلم
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت نے اپنے شوہر سے بغیر کسی ایسی تکلیف کے جو اسے طلاق لینے پر مجبور کرے طلاق کا مطالبہ کیا تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے ۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن ابي اسماء، عن ثوبان، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ايما امراة سالت زوجها طلاقا في غير ما باس فحرام عليها رايحة الجنة
حبیبہ بنت سہل انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، ایک بار کیا ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر پڑھنے کے لیے نکلے تو آپ نے حبیبہ بنت سہل کو اندھیرے میں اپنے دروازے پر پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کون ہے؟ بولیں: میں حبیبہ بنت سہل ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا بات ہے؟ وہ اپنے شوہر ثابت بن قیس کے متعلق بولیں کہ میرا ان کے ساتھ گزارا نہیں ہو سکتا، پھر جب ثابت بن قیس آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: یہ حبیبہ بنت سہل ہیں انہوں نے مجھ سے بہت سی باتیں جنہیں اللہ نے چاہا ذکر کی ہیں ، حبیبہ کہنے لگیں: اللہ کے رسول! انہوں نے جو کچھ مجھے ( مہر وغیرہ ) دیا تھا وہ سب میرے پاس ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس سے کہا: اس ( مال ) میں سے لے لو ، تو انہوں نے اس میں سے لے لیا اور وہ اپنے گھر والوں کے پاس بیٹھی رہیں ۱؎۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن يحيى بن سعيد، عن عمرة بنت عبد الرحمن بن سعد بن زرارة، انها اخبرته عن حبيبة بنت سهل الانصارية، انها كانت تحت ثابت بن قيس بن شماس وان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج الى الصبح فوجد حبيبة بنت سهل عند بابه في الغلس فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من هذه " . فقالت انا حبيبة بنت سهل . قال " ما شانك " . قالت لا انا ولا ثابت بن قيس . لزوجها فلما جاء ثابت بن قيس قال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " هذه حبيبة بنت سهل " . وذكرت ما شاء الله ان تذكر وقالت حبيبة يا رسول الله كل ما اعطاني عندي . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لثابت بن قيس " خذ منها " . فاخذ منها وجلست هي في اهلها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں تو ان کو ان کے شوہر نے اتنا مارا کہ کوئی عضو ٹوٹ گیا، وہ فجر کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ سے ان کی شکایت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت کو بلوایا، اور کہا کہ تم اس سے کچھ مال لے کر اس سے الگ ہو جاؤ، ثابت نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ایسا کرنا درست ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ، وہ بولے، میں نے اسے دو باغ مہر میں دیئے ہیں یہ ابھی بھی اس کے پاس موجود ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں لے لو اور اس سے جدا ہو جاؤ ، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔
حدثنا محمد بن معمر، حدثنا ابو عامر عبد الملك بن عمرو، حدثنا ابو عمرو السدوسي المديني، عن عبد الله بن ابي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم، عن عمرة، عن عايشة، ان حبيبة بنت سهل، كانت عند ثابت بن قيس بن شماس فضربها فكسر بعضها فاتت رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد الصبح فاشتكته اليه فدعا النبي صلى الله عليه وسلم ثابتا فقال " خذ بعض مالها وفارقها " . فقال ويصلح ذلك يا رسول الله قال " نعم " . قال فاني اصدقتها حديقتين وهما بيدها فقال النبي صلى الله عليه وسلم " خذهما ففارقها " . ففعل
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نے ان سے خلع کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی عدت ایک حیض مقرر فرمائی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو عبدالرزاق نے معمر سے معمر نے عمرو بن مسلم سے عمرو نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا۔
حدثنا محمد بن عبد الرحيم البزاز، حدثنا علي بن بحر القطان، حدثنا هشام بن يوسف، عن معمر، عن عمرو بن مسلم، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان امراة، ثابت بن قيس اختلعت منه فجعل النبي صلى الله عليه وسلم عدتها حيضة . قال ابو داود وهذا الحديث رواه عبد الرزاق عن معمر عن عمرو بن مسلم عن عكرمة عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ خلع کرانے والی عورت کی عدت ایک حیض ہے۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن نافع، عن ابن عمر، قال عدة المختلعة حيضة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مغیث رضی اللہ عنہ ایک غلام تھے وہ کہنے لگے: اللہ کے رسول! اس سے میری سفارش کر دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بریرہ! اللہ سے ڈرو، وہ تمہارا شوہر ہے اور تمہارے لڑکے کا باپ ہے کہنے لگیں: اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے ایسا کرنے کا حکم فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ میں تو سفارشی ہوں مغیث کے آنسو گالوں پر بہہ رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ کو مغیث کی بریرہ کے تئیں محبت اور بریرہ کی مغیث کے تئیں نفرت سے تعجب نہیں ہو رہا ہے؟ ۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، عن خالد الحذاء، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان مغيثا، كان عبدا فقال يا رسول الله اشفع لي اليها . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا بريرة اتقي الله فانه زوجك وابو ولدك " . فقالت يا رسول الله اتامرني بذلك قال " لا انما انا شافع " . فكان دموعه تسيل على خده فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم للعباس " الا تعجب من حب مغيث بريرة وبغضها اياه
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر ایک کالے کلوٹے غلام تھے جن کا نام مغیث رضی اللہ عنہ تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( مغیث کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا ) اختیار دیا اور ( نہ رہنے کی صورت میں ) انہیں عدت گزارنے کا حکم فرمایا۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا عفان، حدثنا همام، عن قتادة، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان زوج، بريرة كان عبدا اسود يسمى مغيثا فخيرها - يعني النبي صلى الله عليه وسلم - وامرها ان تعتد
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے بریرہ کے قصہ میں روایت ہے کہ اس کا شوہر غلام تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو ( آزاد ہونے کے بعد ) اختیار دے دیا تو انہوں نے اپنے آپ کو اختیار کیا، اگر وہ آزاد ہوتا تو آپ اسے ( بریرہ کو ) اختیار نہ دیتے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، في قصة بريرة قالت كان زوجها عبدا فخيرها رسول الله صلى الله عليه وسلم فاختارت نفسها ولو كان حرا لم يخيرها
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ کو اختیار دیا اس کا شوہر غلام تھا۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا حسين بن علي، والوليد بن عقبة، عن زايدة، عن سماك، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، ان بريرة، خيرها رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان زوجها عبدا