Loading...

Loading...
کتب
۱۳۸ احادیث
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء ولا يحل لهن أن يكتمن ما خلق الله في أرحامهن» اور جن عورتوں کو طلاق دے دی گئی ہے وہ تین طہر تک ٹھہری رہیں اور ان کے لیے حلال نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے رحم میں جو پیدا کر دیا ہے اسے چھپائیں ( سورۃ البقرہ: ۲۲۸ ) یہ اس وجہ سے کہ جب آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا تھا تو رجعت کا وہ زیادہ حقدار رہتا تھا گرچہ اس نے تین طلاقیں دے دی ہوں پھر اسے منسوخ کر دیا گیا اور ارشاد ہوا «الطلاق مرتان»یعنی طلاق کا اختیار صرف دو بار ہے۔
حدثنا احمد بن محمد المروزي، حدثني علي بن حسين بن واقد، عن ابيه، عن يزيد النحوي، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال { والمطلقات يتربصن بانفسهن ثلاثة قروء ولا يحل لهن ان يكتمن ما خلق الله في ارحامهن } الاية وذلك ان الرجل كان اذا طلق امراته فهو احق برجعتها وان طلقها ثلاثا فنسخ ذلك وقال { الطلاق مرتان}
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رکانہ اور اس کے بھائیوں کے والد عبد یزید نے رکانہ کی ماں کو طلاق دے دی، اور قبیلہ مزینہ کی ایک عورت سے نکاح کر لیا، وہ عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنے سر سے ایک بال لے کر کہنے لگی کہ وہ میرے کام کا نہیں مگر اس بال برابر لہٰذا میرے اور اس کے درمیان جدائی کرا دیجئیے، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آ گیا، آپ نے رکانہ اور اس کے بھائیوں کو بلوا لیا، پھر پاس بیٹھے ہوئے لوگوں سے پوچھا کہ: کیا فلاں کی شکل اس اس طرح اور فلاں کی اس اس طرح عبد یزید سے نہیں ملتی؟ ، لوگوں نے کہا: ہاں ( ملتی ہے ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد یزید سے فرمایا: اسے طلاق دے دو ، چنانچہ انہوں نے طلاق دے دی، پھر فرمایا: اپنی بیوی یعنی رکانہ اور اس کے بھائیوں کی ماں سے رجوع کر لو ، عبد یزید نے کہا: اللہ کے رسول میں تو اسے تین طلاق دے چکا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے معلوم ہے، تم اس سے رجوع کر لو ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی «يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن لعدتهن» ( سورۃ الطلاق: ۱ ) اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت میں طلاق دو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نافع بن عجیر اور عبداللہ بن علی بن یزید بن رکانہ کی حدیث جسے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے اپنے دادا سے روایت ( حدیث نمبر: ۲۲۰۶ ) کیا ہے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دے دی، پھر بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے رجوع کرا دیا، زیادہ صحیح ہے کیونکہ رکانہ کے لڑکے اور ان کے گھر والے اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک ہی شمار کیا ۱؎۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا ابن جريج، اخبرني بعض بني ابي رافع، مولى النبي صلى الله عليه وسلم عن عكرمة مولى ابن عباس عن ابن عباس قال طلق عبد يزيد - ابو ركانة واخوته - ام ركانة ونكح امراة من مزينة فجاءت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت ما يغني عني الا كما تغني هذه الشعرة . لشعرة اخذتها من راسها ففرق بيني وبينه فاخذت النبي صلى الله عليه وسلم حمية فدعا بركانة واخوته ثم قال لجلسايه " اترون فلانا يشبه منه كذا وكذا من عبد يزيد وفلانا يشبه منه - كذا وكذا " . قالوا نعم . قال النبي صلى الله عليه وسلم لعبد يزيد " طلقها " . ففعل ثم قال " راجع امراتك ام ركانة واخوته " . فقال اني طلقتها ثلاثا يا رسول الله . قال " قد علمت راجعها " . وتلا { يا ايها النبي اذا طلقتم النساء فطلقوهن لعدتهن } . قال ابو داود وحديث نافع بن عجير وعبد الله بن علي بن يزيد بن ركانة عن ابيه عن جده ان ركانة طلق امراته البتة فردها اليه النبي صلى الله عليه وسلم اصح لان ولد الرجل واهله اعلم به ان ركانة انما طلق امراته البتة فجعلها النبي صلى الله عليه وسلم واحدة
مجاہد کہتے ہیں: میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا کہ ایک آدمی آیا اور ان سے کہنے لگا کہ اس نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما خاموش رہے، یہاں تک کہ میں نے سمجھا کہ وہ اسے اس کی طرف لوٹا دیں گے، پھر انہوں نے کہا: تم لوگ بیوقوفی تو خود کرتے ہو پھر آ کر کہتے ہو: اے ابن عباس! اے ابن عباس! حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «ومن يتق الله يجعل له مخرجا» ۱؎ اور تو اللہ سے نہیں ڈرا لہٰذا میں تیرے لیے کوئی راستہ بھی نہیں پاتا، تو نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی لہٰذا تیری بیوی تیرے لیے بائنہ ہو گئی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے «يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن» ، «في قبل عدتهن» ۲؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو حمید اعرج وغیرہ نے مجاہد سے، مجاہد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ اور اسے شعبہ نے عمرو بن مرہ سے عمرو نے سعید بن جبیر سے سعید نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ اور ایوب و ابن جریج نے عکرمہ بن خالد سے عکرمہ نے سعید بن جبیر سے سعید نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، اور ابن جریج نے عبدالحمید بن رافع سے ابن رافع نے عطاء سے عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ نیز اسے اعمش نے مالک بن حارث سے مالک نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے اور ابن جریج نے عمرو بن دینار سے عمرو نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ ان سبھوں نے تین طلاق کے بارے میں کہا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کو تین ہی مانا اور کہا کہ وہ تمہارے لیے بائنہ ہو گئی جیسے اسماعیل کی روایت میں ہے جسے انہوں نے ایوب سے ایوب نے عبداللہ بن کثیر سے روایت کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور حماد بن زید نے ایوب سے ایوب نے عکرمہ سے عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ جب ایک ہی منہ سے ( یکبارگی یوں کہے کہ تجھے تین طلاق دی ) تو وہ ایک شمار ہو گی۔ اور اسے اسماعیل بن ابراہیم نے ایوب سے ایوب نے عکرمہ سے روایت کیا ہے اور یہ ان کا اپنا قول ہے البتہ انہوں نے ابن عباس کا ذکر نہیں کیا بلکہ اسے عکرمہ کا قول بتایا ہے۔
حدثنا حميد بن مسعدة، حدثنا اسماعيل، اخبرنا ايوب، عن عبد الله بن كثير، عن مجاهد، قال كنت عند ابن عباس فجاء رجل فقال انه طلق امراته ثلاثا . قال فسكت حتى ظننت انه رادها اليه . ثم قال ينطلق احدكم فيركب الحموقة ثم يقول يا ابن عباس يا ابن عباس وان الله قال { ومن يتق الله يجعل له مخرجا } وانك لم تتق الله فلم اجد لك مخرجا عصيت ربك وبانت منك امراتك وان الله قال { يا ايها النبي اذا طلقتم النساء فطلقوهن } في قبل عدتهن . قال ابو داود روى هذا الحديث حميد الاعرج وغيره عن مجاهد عن ابن عباس ورواه شعبة عن عمرو بن مرة عن سعيد بن جبير عن ابن عباس وايوب وابن جريج جميعا عن عكرمة بن خالد عن سعيد بن جبير عن ابن عباس ورواه ابن جريج عن عبد الحميد بن رافع عن عطاء عن ابن عباس ورواه الاعمش عن مالك بن الحارث عن ابن عباس وابن جريج عن عمرو بن دينار عن ابن عباس كلهم قالوا في الطلاق الثلاث انه اجازها قال وبانت منك نحو حديث اسماعيل عن ايوب عن عبد الله بن كثير . قال ابو داود وروى حماد بن زيد عن ايوب عن عكرمة عن ابن عباس اذا قال " انت طالق ثلاثا " . بفم واحد فهي واحدة ورواه اسماعيل بن ابراهيم عن ايوب عن عكرمة هذا قوله لم يذكر ابن عباس وجعله قول عكرمة
ابوداؤد کہتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول اگلی والی حدیث میں ہے جسے محمد بن ایاس نے روایت کیا ہے کہ ابن عباس، ابوہریرہ اور عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم سے باکرہ ( کنواری ) کے بارے میں جسے اس کے شوہر نے تین طلاق دے دی ہو، دریافت کیا گیا تو ان سب نے کہا کہ وہ اپنے اس شوہر کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہو سکتی، جب تک کہ وہ کسی اور سے نکاح نہ کر لے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور مالک نے یحییٰ بن سعید سے یحییٰ نے بکیر بن اشبح سے بکیر نے معاویہ بن ابی عیاش سے روایت کیا ہے کہ وہ اس واقعہ میں موجود تھے جس وقت محمد بن ایاس بن بکیر، ابن زبیر اور عاصم بن عمر کے پاس آئے، اور ان دونوں سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو ان دونوں نے ہی کہا کہ تم ابن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤ میں انہیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چھوڑ کر آیا ہوں، پھر انہوں نے یہ پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ قول کہ تین طلاق سے عورت اپنے شوہر کے لیے بائنہ ہو جائے گی، چاہے وہ اس کا دخول ہو چکا ہو، یا ابھی دخول نہ ہوا ہو، اور وہ اس کے لیے اس وقت تک حلال نہ ہو گی، جب تک کہ کسی اور سے نکاح نہ کر لے اس کی مثال «صَرْف» والی حدیث کی طرح ہے ۱؎ اس میں ہے کہ پھر انہوں یعنی ابن عباس نے اس سے رجوع کر لیا۔
وصار قول ابن عباس فيما حدثنا احمد بن صالح، ومحمد بن يحيى، - وهذا حديث احمد - قالا حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن الزهري، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن بن عوف، ومحمد بن عبد الرحمن بن ثوبان، عن محمد بن اياس، ان ابن عباس، وابا، هريرة وعبد الله بن عمرو بن العاص سيلوا عن البكر، يطلقها زوجها ثلاثا فكلهم قالوا لا تحل له حتى تنكح زوجا غيره . قال ابو داود وروى مالك عن يحيى بن سعيد عن بكير بن الاشج عن معاوية بن ابي عياش انه شهد هذه القصة حين جاء محمد بن اياس بن البكير الى ابن الزبير وعاصم بن عمر فسالهما عن ذلك فقالا اذهب الى ابن عباس وابي هريرة فاني تركتهما عند عايشة - رضى الله عنها - ثم ساق هذا الخبر . قال ابو داود وقول ابن عباس هو ان الطلاق الثلاث تبين من زوجها مدخولا بها وغير مدخول بها لا تحل له حتى تنكح زوجا غيره هذا مثل خبر الصرف قال فيه ثم انه رجع عنه يعني ابن عباس
طاؤس سے روایت ہے کہ ایک صاحب جنہیں ابوصہبا کہا جاتا تھا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کثرت سے سوال کرتے تھے انہوں نے پوچھا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ جب آدمی اپنی بیوی کو دخول سے پہلے ہی تین طلاق دے دیتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے نیز عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور خلافت میں اسے ایک طلاق مانا جاتا تھا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: ہاں کیوں نہیں؟ جب آدمی اپنی بیوی کو دخول سے پہلے ہی تین طلاق دے دیتا تھا، تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نیز عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور خلافت میں ایک ہی طلاق مانا جاتا تھا، لیکن جب عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ لوگ بہت زیادہ ایسا کرنے لگے ہیں تو کہا کہ میں انہیں تین ہی نافذ کروں گا ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن مروان، حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن غير، واحد، عن طاوس، ان رجلا، يقال له ابو الصهباء كان كثير السوال لابن عباس قال اما علمت ان الرجل كان اذا طلق امراته ثلاثا قبل ان يدخل بها جعلوها واحدة على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وابي بكر وصدرا من امارة عمر قال ابن عباس بلى كان الرجل اذا طلق امراته ثلاثا قبل ان يدخل بها جعلوها واحدة على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وابي بكر وصدرا من امارة عمر فلما راى الناس قد تتابعوا فيها قال اجيزوهن عليهم
طاؤس سے روایت ہے کہ ابوصہباء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نیز عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کے ابتدائی تین سالوں میں تین طلاقوں کو ایک ہی مانا جاتا تھا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: ہاں ۱؎۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا ابن جريج، اخبرني ابن طاوس، عن ابيه، ان ابا الصهباء، قال لابن عباس اتعلم انما كانت الثلاث تجعل واحدة على عهد النبي صلى الله عليه وسلم وابي بكر وثلاثا من امارة عمر قال ابن عباس نعم
علقمہ بن وقاص لیثی کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، ہر آدمی کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی چنانچہ جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو گی تو اسی کی ہجرت اللہ اور رسول کے لیے مانی جائے گی، اور جس نے دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کی غرض سے ہجرت کی ہو گی تو اس کی ہجرت اسی چیز کے لیے مانی جائے گی جس کے لیے اس نے ہجرت کی ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، حدثني يحيى بن سعيد، عن محمد بن ابراهيم التيمي، عن علقمة بن وقاص الليثي، قال سمعت عمر بن الخطاب، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما الاعمال بالنيات وانما لكل امري ما نوى فمن كانت هجرته الى الله ورسوله فهجرته الى الله ورسوله ومن كانت هجرته لدنيا يصيبها او امراة يتزوجها فهجرته الى ما هاجر اليه
عبداللہ بن کعب بن مالک (جو کہ اپنے والد کعب رضی اللہ عنہ کے نابینا ہو جانے کے بعد ان کے قائد تھے) کہتے ہیں کہ میں نے ( اپنے والد ) کعب بن مالک سے سنا، پھر انہوں نے جنگ تبوک والا اپنا قصہ سنایا اس میں انہوں نے بیان کیا کہ جب پچاس دنوں میں سے چالیس دن گزر گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد آیا اور کہنے لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم اپنی بیوی سے علیحدہ رہو، میں نے پوچھا: کیا میں اسے طلاق دے دوں یا کیا کروں؟ اس نے کہا: نہیں بلکہ اس سے علیحدہ رہو اس کے قریب نہ جاؤ، چنانچہ میں نے اپنی بیوی سے کہہ دیا: تم اپنے میکے چلی جاؤ ۱؎ اور جب تک اللہ تعالیٰ اس معاملہ کا فیصلہ نہ فرما دے وہیں رہنا۔
حدثنا احمد بن عمرو بن السرح، وسليمان بن داود، قالا اخبرنا ابن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، اخبرني عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب بن مالك، ان عبد الله بن كعب، - وكان قايد كعب من بنيه حين عمي - قال سمعت كعب بن مالكفساق قصته في تبوك قال حتى اذا مضت اربعون من الخمسين اذا رسول رسول الله صلى الله عليه وسلم ياتي فقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم يامرك ان تعتزل امراتك . قال فقلت اطلقها ام ماذا افعل قال لا بل اعتزلها فلا تقربنها . فقلت لامراتي الحقي باهلك فكوني عندهم حتى يقضي الله سبحانه في هذا الامر
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ( اپنے عقد میں رہنے یا نہ رہنے کا ) اختیار دیا تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو اختیار کیا، پھر آپ نے اسے کچھ بھی شمار نہیں کیا ۱؎۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو عوانة، عن الاعمش، عن ابي الضحى، عن مسروق، عن عايشة، قالت خيرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخترناه فلم يعد ذلك شييا
حماد بن زید کہتے ہیں کہ میں نے ایوب سے پوچھا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ کسی اور نے بھی «أمرك بيدك» کے سلسلہ میں وہی بات کہی ہے جو حسن نے کہی تو انہوں نے کہا: نہیں، مگر وہی روایت ہے جسے ہم سے قتادہ نے بیان کیا، قتادہ نے کثیر مولی ابن سبرہ سے کثیر نے ابوسلمہ سے ابوسلمہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ ایوب کہتے ہیں: تو کثیر ہمارے پاس آئے تو میں نے ان سے دریافت کیا، وہ بولے: میں نے تو کبھی یہ حدیث بیان نہیں کی، پھر میں نے قتادہ سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: ہاں کیوں نہیں انہوں نے اسے بیان کیا تھا لیکن وہ بھول گئے۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا سليمان بن حرب، عن حماد بن زيد، قال قلت لايوب هل تعلم احدا قال بقول الحسن في امرك بيدك . قال لا الا شىء حدثناه قتادة عن كثير مولى ابن سمرة عن ابي سلمة عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم بنحوه قال ايوب فقدم علينا كثير فسالته فقال ما حدثت بهذا قط فذكرته لقتادة فقال بلى ولكنه نسي
حسن سے «أمرك بيدك» کے سلسلہ میں مروی ہے کہ اس سے تین طلاق واقع ہو گی ۱؎۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا هشام، عن قتادة، عن الحسن، في امرك بيدك . قال ثلاث
نافع بن عجیر بن عبد یزید بن رکانہ سے روایت ہے کہ رکانہ بن عبد یزید نے اپنی بیوی سہیمہ کو طلاق بتہ ۱؎ ( قطعی طلاق ) دے دی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی اور کہا: اللہ کی قسم! میں نے تو ایک ہی طلاق کی نیت کی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اللہ کی تم نے صرف ایک کی نیت کی تھی؟ رکانہ نے کہا: قسم اللہ کی میں نے صرف ایک کی نیت کی تھی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بیوی انہیں واپس لوٹا دی، پھر انہوں نے اسے دوسری طلاق عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں دی اور تیسری عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں۔
حدثنا ابن السرح، وابراهيم بن خالد الكلبي ابو ثور، - في اخرين - قالوا حدثنا محمد بن ادريس الشافعي، حدثني عمي، محمد بن علي بن شافع عن عبد الله بن علي بن السايب، عن نافع بن عجير بن عبد يزيد بن ركانة، ان ركانة بن عبد يزيد، طلق امراته سهيمة البتة فاخبر النبي صلى الله عليه وسلم بذلك وقال والله ما اردت الا واحدة . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " والله ما اردت الا واحدة " . فقال ركانة والله ما اردت الا واحدة . فردها اليه رسول الله صلى الله عليه وسلم فطلقها الثانية في زمان عمر والثالثة في زمان عثمان . قال ابو داود اوله لفظ ابراهيم واخره لفظ ابن السرح
اس سند سے بھی رکانہ بن عبد یزید سے یہی حدیث مرفوعاً مروی ہے۔
حدثنا محمد بن يونس النسايي، ان عبد الله بن الزبير، حدثهم عن محمد بن ادريس، حدثني عمي، محمد بن علي عن ابن السايب، عن نافع بن عجير، عن ركانة بن عبد يزيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا الحديث
رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ دے دی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے پوچھا: تم نے کیا نیت کی تھی؟ انہوں نے کہا: ایک کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اللہ کی قسم کھا کر کہہ رہے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں اللہ کی قسم کھا کر کہہ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا تم نے ارادہ کیا ہے وہی ہو گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ روایت ابن جریج والی روایت سے زیادہ صحیح ہے جس میں ہے کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی تھی کیونکہ یہ روایت ان کے اہل خانہ کی بیان کردہ ہے اور وہ حقیقت حال سے زیادہ واقف ہیں اور ابن جریج والی روایت بعض بنی رافع ( جو ایک مجہول ہے ) سے منقول ہے جسے وہ عکرمہ سے روایت کرتے ہیں اور وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، ( دیکھئیے حدیث نمبر:)
حدثنا سليمان بن داود العتكي، حدثنا جرير بن حازم، عن الزبير بن سعيد، عن عبد الله بن علي بن يزيد بن ركانة، عن ابيه، عن جده، انه طلق امراته البتة فاتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ما اردت " . قال واحدة . قال " الله " . قال الله . قال " هو على ما اردت " . قال ابو داود وهذا اصح من حديث ابن جريج ان ركانة طلق امراته ثلاثا لانهم اهل بيته وهم اعلم به وحديث ابن جريج رواه عن بعض بني ابي رافع عن عكرمة عن ابن عباس
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت سے ان چیزوں کو معاف کر دیا ہے جنہیں وہ زبان پر نہ لائے یا ان پر عمل نہ کرے، اور ان چیزوں کو بھی جو اس کے دل میں گزرے ۱؎ ۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا هشام، عن قتادة، عن زرارة بن اوفى، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان الله تجاوز لامتي عما لم تتكلم به او تعمل به وبما حدثت به انفسها
ابوتمیمہ ہجیمی سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو اے چھوٹی بہن! کہہ کر پکارا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ تیری بہن ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناپسند فرمایا اور اس سے منع کیا ۱؎۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا حماد، ح وحدثنا ابو كامل، حدثنا عبد الواحد، وخالد الطحان، - المعنى - كلهم عن خالد، عن ابي تميمة الهجيمي، ان رجلا، قال لامراته يا اخية . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اختك هي " . فكره ذلك ونهى عنه
ابو تمیمہ سے روایت ہے، وہ اپنی قوم کے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنی بیوی کو اے چھوٹی بہن! کہہ کر پکارتے ہوئے سنا تو آپ نے اس سے منع فرمایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالعزیز بن مختار نے خالد سے خالد نے ابوعثمان سے اور ابوعثمان نے ابو تمیمہ سے اور ابوتمیمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے، نیز اسے شعبہ نے خالد سے خالد نے ایک شخص سے اس نے ابو تمیمہ سے اور ابو تمیمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے۔
حدثنا محمد بن ابراهيم البزاز، حدثنا ابو نعيم، حدثنا عبد السلام، - يعني ابن حرب - عن خالد الحذاء، عن ابي تميمة، عن رجل، من قومه انه سمع النبي صلى الله عليه وسلم سمع رجلا، يقول لامراته " يا اخية " . فنهاه . قال ابو داود ورواه عبد العزيز بن المختار عن خالد عن ابي عثمان عن ابي تميمة عن النبي صلى الله عليه وسلم ورواه شعبة عن خالد عن رجل عن ابي تميمة عن النبي صلى الله عليه وسلم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابراہیم علیہ السلام نے صرف تین جھوٹ بولے ۱؎ جن میں سے دو اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے تھے، پہلا جب انہوں نے کہا کہ میں بیمار ہوں ۲؎، دوسرا جب انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا: بلکہ یہ تو ان کے اس بڑے کی کارستانی ہے، تیسرا اس موقعہ پر جب کہ وہ ایک سرکش بادشاہ کے ملک سے گزر رہے تھے ایک مقام پر انہوں نے قیام فرمایا تو اس سرکش تک یہ بات پہنچی، اور اسے بتایا گیا کہ یہاں ایک شخص ٹھہرا ہوا ہے اور اس کے ساتھ ایک انتہائی خوبصورت عورت ہے، چنانچہ اس نے ابراہیم علیہ السلام کو بلوایا اور عورت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا: یہ تو میری بہن ہے ، جب وہ لوٹ کر بیوی کے پاس آئے تو انہوں نے بتایا کہ اس نے مجھ سے تمہارے بارے میں دریافت کیا تو میں نے اسے یہ بتایا ہے کہ تم میری بہن ہو کیونکہ آج میرے اور تمہارے علاوہ کوئی بھی مسلمان نہیں ہے لہٰذا تم میری دینی بہن ہو، تو تم اس کے پاس جا کر مجھے جھٹلا نہ دینا ، اور پھر پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: شعیب بن ابی حمزہ نے ابوالزناد سے ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا هشام، عن محمد، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم " ان ابراهيم صلى الله عليه وسلم لم يكذب قط الا ثلاثا ثنتان في ذات الله تعالى قوله { اني سقيم } وقوله { بل فعله كبيرهم هذا } وبينما هو يسير في ارض جبار من الجبابرة اذ نزل منزلا فاتي الجبار فقيل له انه نزل ها هنا رجل معه امراة هي احسن الناس قال فارسل اليه فساله عنها فقال انها اختي . فلما رجع اليها قال ان هذا سالني عنك فانباته انك اختي وانه ليس اليوم مسلم غيري وغيرك وانك اختي في كتاب الله فلا تكذبيني عنده " . وساق الحديث . قال ابو داود روى هذا الخبر شعيب بن ابي حمزة عن ابي الزناد عن الاعرج عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
سلمہ بن صخر بیاضی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کہ لوگوں کے مقابلے میں میں کچھ زیادہ ہی عورتوں کا شوقین تھا، جب ماہ رمضان آیا تو مجھے ڈر ہوا کہ اپنی بیوی کے ساتھ کوئی ایسی حرکت نہ کر بیٹھوں جس کی برائی صبح تک پیچھا نہ چھوڑے چنانچہ میں نے ماہ رمضان کے ختم ہونے تک کے لیے اس سے ظہار کر لیا۔ ایک رات کی بات ہے وہ میری خدمت کر رہی تھی کہ اچانک اس کے جسم کا کوئی حصہ نظر آ گیا تو میں اس سے صحبت کئے بغیر نہیں رہ سکا، پھر جب میں نے صبح کی تو میں اپنی قوم کے پاس آیا اور انہیں سارا ماجرا سنایا، نیز ان سے درخواست کی کہ وہ میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیں، وہ کہنے لگے: اللہ کی قسم یہ نہیں ہو سکتا تو میں خود ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری بات بتائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سلمہ! تم نے ایسا کیا؟ میں نے جواب دیا: ہاں اللہ کے رسول، مجھ سے یہ حرکت ہو گئی، دو بار اس طرح کہا، میں اللہ کا حکم بجا لانے کے لیے تیار ہوں، تو آپ میرے بارے میں حکم کیجئے جو اللہ آپ کو سجھائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک گردن آزاد کرو ، میں نے اپنی گردن پر ہاتھ مار کر کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اس کے علاوہ میرے پاس کوئی گردن نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو دو مہینے کے مسلسل روزے رکھو ، میں نے کہا: میں تو روزے ہی کے سبب اس صورت حال سے دوچار ہوا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر ساٹھ صاع کھجور ساٹھ مسکینوں کو کھلاؤ ، میں نے جواب دیا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہم دونوں تو رات بھی بھوکے سوئے، ہمارے پاس کھانا ہی نہیں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی زریق کے صدقے والے کے پاس جاؤ، وہ تمہیں اسے دے دیں گے اور ساٹھ صاع کھجور ساٹھ مسکینوں کو کھلا دینا اور جو بچے اسے تم خود کھا لینا، اور اپنے اہل و عیال کو کھلا دینا ، اس کے بعد میں نے اپنی قوم کے پاس آ کر کہا: مجھے تمہارے پاس تنگی اور غلط رائے ملی جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گنجائش اور اچھی رائے ملی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یا میرے لیے تمہارے صدقے کا حکم فرمایا ہے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، ومحمد بن العلاء، - المعنى - قالا حدثنا ابن ادريس، عن محمد بن اسحاق، عن محمد بن عمرو بن عطاء، - قال ابن العلاء ابن علقمة بن عياش - عن سليمان بن يسار، عن سلمة بن صخر، - قال ابن العلاء البياضي - قال كنت امرا اصيب من النساء ما لا يصيب غيري فلما دخل شهر رمضان خفت ان اصيب من امراتي شييا يتابع بي حتى اصبح فظاهرت منها حتى ينسلخ شهر رمضان فبينما هي تخدمني ذات ليلة اذ تكشف لي منها شىء فلم البث ان نزوت عليها فلما اصبحت خرجت الى قومي فاخبرتهم الخبر وقلت امشوا معي الى رسول الله صلى الله عليه وسلم . قالوا لا والله . فانطلقت الى النبي صلى الله عليه وسلم فاخبرته فقال " انت بذاك يا سلمة " . قلت انا بذاك يا رسول الله مرتين وانا صابر لامر الله فاحكم في ما اراك الله قال " حرر رقبة " . قلت والذي بعثك بالحق ما املك رقبة غيرها وضربت صفحة رقبتي قال " فصم شهرين متتابعين " . قال وهل اصبت الذي اصبت الا من الصيام قال " فاطعم وسقا من تمر بين ستين مسكينا " . قلت والذي بعثك بالحق لقد بتنا وحشين ما لنا طعام قال " فانطلق الى صاحب صدقة بني زريق فليدفعها اليك فاطعم ستين مسكينا وسقا من تمر وكل انت وعيالك بقيتها " . فرجعت الى قومي فقلت وجدت عندكم الضيق وسوء الراى ووجدت عند النبي صلى الله عليه وسلم السعة وحسن الراى وقد امرني - او امر لي - بصدقتكم زاد ابن العلاء قال ابن ادريس بياضة بطن من بني زريق
خویلہ بنت مالک بن ثعلبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے شوہر اوس بن صامت نے مجھ سے ظہار کر لیا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، میں آپ سے شکایت کر رہی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ان کے بارے میں جھگڑ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: اللہ سے ڈر، وہ تیرا چچا زاد بھائی ہے ، میں وہاں سے ہٹی بھی نہ تھی کہ یہ آیت نازل ہوئی: «قد سمع الله قول التي تجادلك في زوجها» اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی گفتگو سن لی ہے جو آپ سے اپنے شوہر کے متعلق جھگڑ رہی تھی ( سورۃ المجادلہ: ۱ ) ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ایک گردن آزاد کریں ، کہنے لگیں: ان کے پاس نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر وہ دو مہینے کے پے در پے روزے رکھیں ، کہنے لگیں: اللہ کے رسول! وہ بوڑھے کھوسٹ ہیں انہیں روزے کی طاقت نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائیں ، کہنے لگیں: ان کے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں۔ کہتی ہیں: اسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کی ایک زنبیل آ گئی، میں نے کہا: اللہ کے رسول ( آپ یہ دے دیجئیے ) ایک اور زنبیل میں دے دوں گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ٹھیک ہی کہا ہے، لے جاؤ اور ان کی جانب سے ساٹھ مسکینوں کو کھلا دو، اور اپنے چچا زاد بھائی ( یعنی شوہر ) کے پاس لوٹ جاؤ ۔ راوی کا بیان ہے کہ زنبیل ساٹھ صاع کی تھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: کہ اس عورت نے اپنے شوہر سے مشورہ کئے بغیر اس کی جانب سے کفارہ ادا کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ عبادہ بن صامت کے بھائی ہیں۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا ابن ادريس، عن محمد بن اسحاق، عن معمر بن عبد الله بن حنظلة، عن يوسف بن عبد الله بن سلام، عن خويلة بنت مالك بن ثعلبة، قالت ظاهر مني زوجي اوس بن الصامت فجيت رسول الله صلى الله عليه وسلم اشكو اليه ورسول الله صلى الله عليه وسلم يجادلني فيه ويقول " اتقي الله فانه ابن عمك " . فما برحت حتى نزل القران { قد سمع الله قول التي تجادلك في زوجها } الى الفرض فقال " يعتق رقبة " . قالت لا يجد قال " فيصوم شهرين متتابعين " . قالت يا رسول الله انه شيخ كبير ما به من صيام . قال " فليطعم ستين مسكينا " . قالت ما عنده من شىء يتصدق به قالت فاتي ساعتيذ بعرق من تمر قلت يا رسول الله فاني اعينه بعرق اخر . قال " قد احسنت اذهبي فاطعمي بها عنه ستين مسكينا وارجعي الى ابن عمك " . قال والعرق ستون صاعا قال ابو داود في هذا انها كفرت عنه من غير ان تستامره . وقال ابو داود وهذا اخو عبادة بن الصامت