Loading...

Loading...
کتب
۱۳۸ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی عورت کو اس کے شوہر سے یا غلام کو مالک سے برگشتہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا زيد بن الحباب، حدثنا عمار بن رزيق، عن عبد الله بن عيسى، عن عكرمة، عن يحيى بن يعمر، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس منا من خبب امراة على زوجها او عبدا على سيده
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کا پیالہ خالی کرا لے ( یعنی اس کا حصہ خود لے لے ) اور خود نکاح کر لے، جو اس کے مقدر میں ہو گا وہ اسے ملے گا ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تسال المراة طلاق اختها لتستفرغ صحفتها ولتنكح فانما لها ما قدر لها
محارب کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک حلال چیزوں میں طلاق سے زیادہ ناپسندیدہ کوئی چیز نہیں ۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا معرف، عن محارب، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما احل الله شييا ابغض اليه من الطلاق
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں
حدثنا كثير بن عبيد، حدثنا محمد بن خالد، عن معرف بن واصل، عن محارب بن دثار، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ابغض الحلال الى الله تعالى الطلاق
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے حکم دو کہ وہ اپنی بیوی سے رجوع کر لے، پھر اسے روکے رکھے یہاں تک کہ وہ حیض سے پاک ہو جائے، پھر حیض آ جائے، پھر پاک ہو جائے، پھر اس کے بعد اگر چاہے تو رکھے، ورنہ چھونے سے پہلے طلاق دیدے، یہی وہ عدت ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کے سلسلے میں حکم دیا ہے ۱؎ ۔
حدثنا القعنبي، عن مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، انه طلق امراته وهي حايض على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فسال عمر بن الخطاب رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " مره فليراجعها ثم ليمسكها حتى تطهر ثم تحيض ثم تطهر ثم ان شاء امسك بعد ذلك وان شاء طلق قبل ان يمس فتلك العدة التي امر الله سبحانه ان تطلق لها النساء
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی ایک عورت کو حالت حیض میں ایک طلاق دے دی، آگے مالک کی حدیث کے ہم معنی روایت ہے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن نافع، ان ابن عمر، طلق امراة له وهي حايض تطليقة بمعنى حديث مالك
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی تو عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے حکم دو کہ وہ رجوع کر لے پھر جب وہ پاک ہو جائے یا حاملہ ہو تو اسے طلاق دے ۱؎ ۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن محمد بن عبد الرحمن، مولى ال طلحة عن سالم، عن ابن عمر، انه طلق امراته وهي حايض فذكر ذلك عمر للنبي صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " مره فليراجعها ثم ليطلقها اذا طهرت او وهي حامل
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی، عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہو گئے پھر فرمایا: اسے حکم دو کہ اس سے رجوع کر لے پھر اسے روکے رکھے یہاں تک کہ وہ حیض سے پاک ہو جائے، پھر حائضہ ہو پھر پاک ہو جائے پھر چاہیئے کہ وہ پاکی کی حالت میں اسے چھوئے بغیر طلاق دے، یہی عدت کا طلاق ہے جیسا کہ اللہ نے حکم دیا ہے ۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عنبسة، حدثنا يونس، عن ابن شهاب، اخبرني سالم بن عبد الله، عن ابيه، انه طلق امراته وهي حايض فذكر ذلك عمر لرسول صلى الله عليه وسلم فتغيظ رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال " مره فليراجعها ثم ليمسكها حتى تطهر ثم تحيض فتطهر ثم ان شاء طلقها طاهرا قبل ان يمس فذلك الطلاق للعدة كما امر الله عز وجل
ابن سیرین کہتے ہیں کہ مجھے یونس بن جبیر نے خبر دی کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ آپ نے اپنی بیوی کو کتنی طلاق دی؟ تو انہوں نے کہا: ایک۔
حدثنا الحسن بن علي، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن ايوب، عن ابن سيرين، اخبرني يونس بن جبير، انه سال ابن عمر فقال كم طلقت امراتك فقال واحدة
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ مجھے یونس بن جبیر نے بتایا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مسئلہ دریافت کیا، میں نے کہا کہ جس آدمی نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی ہے ( تو اس کا کیا حکم ہے؟ ) کہنے لگے کہ تم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو پہچانتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں، تو انہوں نے کہا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی تو عمر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر مسئلہ دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے حکم دو کہ وہ رجوع کر لے اور عدت کے آغاز میں اسے طلاق دے ۔ میں نے پوچھا: کیا اس طلاق کا شمار ہو گا؟ انہوں نے کہا: تم کیا سمجھتے ہو اگر وہ عاجز ہو جائے یا دیوانہ ہو جائے ۱؎۔
حدثنا القعنبي، حدثنا يزيد، - يعني ابن ابراهيم - عن محمد بن سيرين، حدثني يونس بن جبير، قال سالت عبد الله بن عمر قال قلت رجل طلق امراته وهي حايض . قال تعرف عبد الله بن عمر قلت نعم . قال فان عبد الله بن عمر طلق امراته وهي حايض . فاتى عمر النبي صلى الله عليه وسلم فساله فقال " مره فليراجعها ثم ليطلقها في قبل عدتها " . قال قلت فيعتد بها قال فمه ارايت ان عجز واستحمق
ابن جریج کہتے ہیں کہ ہمیں ابوالزبیر نے خبر دی ہے کہ انہوں نے عروہ کے غلام عبدالرحمٰن بن ایمن کو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھتے سنا اور وہ سن رہے تھے کہ آپ اس شخص کے متعلق کیا کہتے ہیں جس نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دیدی ہو؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، اور کہا کہ عبداللہ بن عمر نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی ہے، عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو مجھ پر لوٹا دیا اور اس طلاق کو شمار نہیں کیا اور فرمایا: جب وہ پاک ہو جائے تو وہ طلاق دے یا اسے روک لے ، ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی «يا أيها النبي إذا طلقتم النساء فطلقوهن» اے نبی! جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو تم انہیں ان کی عدت کے شروع میں طلاق دو ( سورۃ الطلاق: ۱ ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یونس بن جبیر، انس بن سیرین، سعید بن جبیر، زید بن اسلم، ابوالزبیر اور منصور نے ابووائل کے طریق سے روایت کیا ہے، سب کا مفہوم یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ رجوع کر لیں یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے پھر اگر چاہیں تو طلاق دیدیں اور چاہیں تو باقی رکھیں ۔ اسی طرح اسے محمد بن عبدالرحمٰن نے سالم سے، اور سالم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے البتہ زہری کی جو روایت سالم اور نافع کے طریق سے ابن عمر سے مروی ہے، اس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ اس سے رجوع کر لیں یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، پھر اسے حیض آئے اور پھر پاک ہو، پھر اگر چاہیں تو طلاق دیں اور اگر چاہیں تو رکھے رہیں، اور عطاء خراسانی سے روایت کیا گیا ہے انہوں نے حسن سے انہوں نے ابن عمر سے نافع اور زہری کی طرح روایت کی ہے، اور یہ تمام حدیثیں ابوالزبیر کی بیان کردہ روایت کے مخالف ہیں ۱؎۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا ابن جريج، اخبرني ابو الزبير، انه سمع عبد الرحمن بن ايمن، مولى عروة يسال ابن عمر وابو الزبير يسمع قال كيف ترى في رجل طلق امراته حايضا قال طلق عبد الله بن عمر امراته وهي حايض على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فسال عمر رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ان عبد الله بن عمر طلق امراته وهي حايض قال عبد الله فردها على ولم يرها شييا وقال " اذا طهرت فليطلق او ليمسك " . قال ابن عمر وقرا النبي صلى الله عليه وسلم { يا ايها النبي اذا طلقتم النساء فطلقوهن } في قبل عدتهن . قال ابو داود روى هذا الحديث عن ابن عمر يونس بن جبير وانس بن سيرين وسعيد بن جبير وزيد بن اسلم وابو الزبير ومنصور عن ابي وايل معناهم كلهم ان النبي صلى الله عليه وسلم امره ان يراجعها حتى تطهر ثم ان شاء طلق وان شاء امسك وكذلك رواه محمد بن عبد الرحمن عن سالم عن ابن عمر واما رواية الزهري عن سالم ونافع عن ابن عمر ان النبي صلى الله عليه وسلم امره ان يراجعها حتى تطهر ثم تحيض ثم تطهر ثم ان شاء طلق وان شاء امسك وروي عن عطاء الخراساني عن الحسن عن ابن عمر نحو رواية نافع والزهري والاحاديث كلها على خلاف ما قال ابو الزبير
مطرف بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو اپنی بیوی کو طلاق دیدے پھر اس کے ساتھ صحبت بھی کر لے اور اپنی طلاق اور رجعت کے لیے کسی کو گواہ نہ بنائے تو انہوں نے کہا کہ تم نے سنت کے خلاف طلاق دی اور سنت کے خلاف رجعت کی، اپنی طلاق اور رجعت دونوں کے لیے گواہ بناؤ اور پھر اس طرح نہ کرنا۔
حدثنا بشر بن هلال، ان جعفر بن سليمان، حدثهم عن يزيد الرشك، عن مطرف بن عبد الله، ان عمران بن حصين، سيل عن الرجل، يطلق امراته ثم يقع بها ولم يشهد على طلاقها ولا على رجعتها فقال طلقت لغير سنة . وراجعت لغير سنة اشهد على طلاقها وعلى رجعتها ولا تعد
بنی نوفل کے غلام ابوحسن نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس غلام کے بارے میں فتویٰ پوچھا جس کے نکاح میں کوئی لونڈی تھی تو اس نے اسے دو طلاق دے دی اس کے بعد وہ دونوں آزاد کر دیئے گئے، تو کیا غلام کے لیے درست ہے کہ وہ اس لونڈی کو نکاح کا پیغام دے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کا فیصلہ دیا ہے۔
حدثنا زهير بن حرب، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا علي بن المبارك، حدثني يحيى بن ابي كثير، ان عمر بن معتب، اخبره ان ابا حسن مولى بني نوفل اخبره انه، استفتى ابن عباس في مملوك كانت تحته مملوكة فطلقها تطليقتين ثم عتقا بعد ذلك هل يصلح له ان يخطبها قال نعم قضى بذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم
عثمان بن عمر کہتے ہیں کہ ہمیں علی نے خبر دی ہے آگے سابقہ سند سے اسی مفہوم کی روایت مذکور ہے لیکن عنعنہ کے صیغے کے ساتھ ہے نہ کہ «أخبرنا» کے صیغے کے ساتھ، اس میں ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: تیرے لیے ایک طلاق باقی رہ گئی ہے، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کا فیصلہ فرمایا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا کہ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ ابن مبارک نے معمر سے پوچھا کہ یہ ابوالحسن کون ہیں؟ انہوں نے ایک بھاری چٹان اٹھا لی ہے؟ ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالحسن وہی ہیں جن سے زہری نے روایت کی ہے، زہری کہتے ہیں کہ وہ فقہاء میں سے تھے، زہری نے ابوالحسن سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالحسن معروف ہیں اور اس حدیث پر عمل نہیں ہے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عثمان بن عمر، اخبرنا علي، باسناده ومعناه بلا اخبار قال ابن عباس بقيت لك واحدة قضى به رسول الله صلى الله عليه وسلم . قال ابو داود سمعت احمد بن حنبل قال قال عبد الرزاق قال ابن المبارك لمعمر من ابو الحسن هذا لقد تحمل صخرة عظيمة . قال ابو داود ابو الحسن هذا روى عنه الزهري قال الزهري وكان من الفقهاء روى الزهري عن ابي الحسن احاديث . قال ابو داود ابو الحسن معروف وليس العمل على هذا الحديث
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لونڈی کی طلاق دو ہیں اور اس کے قروء دو حیض ہیں ۔ ابوعاصم کہتے ہیں: مجھ سے مظاہر نے بیان کیا وہ کہتے ہیں: مجھ سے قاسم نے انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کیا ہے، لیکن اس میں ہے کہ اس کی عدت دو حیض ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مجہول حدیث ہے۔
حدثنا محمد بن مسعود، حدثنا ابو عاصم، عن ابن جريج، عن مظاهر، عن القاسم بن محمد، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " طلاق الامة تطليقتان وقروها حيضتان " . قال ابو عاصم حدثني مظاهر حدثني القاسم عن عايشة عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله الا انه قال " وعدتها حيضتان " . قال ابو داود وهو حديث مجهول
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: طلاق صرف انہیں میں ہے جو تمہارے نکاح میں ہوں، اور آزادی صرف انہیں میں ہے جو تمہاری ملکیت میں ہوں، اور بیع بھی صرف انہیں چیزوں میں ہے جو تمہاری ملکیت میں ہوں ۔ ابن صباح کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ ( تمہارے ذمہ ) صرف اسی نذر کا پورا کرنا ہے جس کے تم مالک ہو۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا هشام، ح وحدثنا ابن الصباح، حدثنا عبد العزيز بن عبد الصمد، قالا حدثنا مطر الوراق، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا طلاق الا فيما تملك ولا عتق الا فيما تملك ولا بيع الا فيما تملك " . زاد ابن الصباح " ولا وفاء نذر الا فيما تملك
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے اسی مفہوم کی روایت مروی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے: جس نے گناہ کرنے کی قسم کھا لی تو اس قسم کا کوئی اعتبار نہیں نیز جس نے رشتہ توڑنے کی قسم کھا لی اس کا بھی کوئی اعتبار نہیں ۔
حدثنا محمد بن العلاء، اخبرنا ابو اسامة، عن الوليد بن كثير، حدثني عبد الرحمن بن الحارث، عن عمرو بن شعيب، باسناده ومعناه زاد " من حلف على معصية فلا يمين له ومن حلف على قطيعة رحم فلا يمين له
اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے یہی روایت آئی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے کہ وہی نذر ماننا درست ہے جس کے ذکر سے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو ۔
حدثنا ابن السرح، حدثنا ابن وهب، عن يحيى بن عبد الله بن سالم، عن عبد الرحمن بن الحارث المخزومي، عن عمرو بن شعيب، عن ابيه، عن جده، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال في هذا الخبر زاد " ولا نذر الا فيما ابتغي به وجه الله تعالى ذكره
محمد بن عبید بن ابوصالح (جو ایلیاء میں رہتے تھے) کہتے ہیں کہ میں عدی بن عدی کندی کے ساتھ نکلا یہاں تک کہ میں مکہ آیا تو انہوں نے مجھے صفیہ بنت شیبہ کے پاس بھیجا، اور انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیثیں یاد کر رکھی تھیں، وہ کہتی ہیں: میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: زبردستی کی صورت میں طلاق دینے اور آزاد کرنے کا اعتبار نہیں ہو گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ غلاق کا مطلب غصہ ہے ۱؎۔
حدثنا عبيد الله بن سعد الزهري، ان يعقوب بن ابراهيم، حدثهم قال حدثنا ابي، عن ابن اسحاق، عن ثور بن يزيد الحمصي، عن محمد بن عبيد الله بن ابي صالح الذي، كان يسكن ايليا قال خرجت مع عدي بن عدي الكندي حتى قدمنا مكة فبعثني الى صفية بنت شيبة وكانت قد حفظت من عايشة قالت سمعت عايشة تقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا طلاق ولا عتاق في غلاق " . قال ابو داود الغلاق اظنه في الغضب
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں ایسی ہیں کہ انہیں چاہے سنجیدگی سے کیا جائے یا ہنسی مذاق میں ان کا اعتبار ہو گا، وہ یہ ہیں: نکاح، طلاق اور رجعت ۔
حدثنا القعنبي، حدثنا عبد العزيز، - يعني ابن محمد - عن عبد الرحمن بن حبيب، عن عطاء بن ابي رباح، عن ابن ماهك، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ثلاث جدهن جد وهزلهن جد النكاح والطلاق والرجعة