Loading...

Loading...
کتب
۸۱ احادیث
حدثنا عبد الله بن مسلمة، قال قرات على مالك عن ابن شهاب، ان عمر بن عبد العزيز، اخر الصلاة يوما، فدخل عليه عروة بن الزبير، فاخبره ان المغيرة بن شعبة اخر الصلاة يوما وهو بالعراق، فدخل عليه ابو مسعود الانصاري فقال ما هذا يا مغيرة اليس قد علمت ان جبريل نزل فصلى، فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم صلى فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم صلى فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم صلى فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم صلى فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال " بهذا امرت ". فقال عمر لعروة اعلم ما تحدث اوان جبريل هو اقام لرسول الله صلى الله عليه وسلم وقت الصلاة. قال عروة كذلك كان بشير بن ابي مسعود يحدث عن ابيه. قال عروة ولقد حدثتني عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي العصر، والشمس في حجرتها قبل ان تظهر
حدثنا عبد الله بن مسلمة، قال قرات على مالك عن ابن شهاب، ان عمر بن عبد العزيز، اخر الصلاة يوما، فدخل عليه عروة بن الزبير، فاخبره ان المغيرة بن شعبة اخر الصلاة يوما وهو بالعراق، فدخل عليه ابو مسعود الانصاري فقال ما هذا يا مغيرة اليس قد علمت ان جبريل نزل فصلى، فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم صلى فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم صلى فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم صلى فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم صلى فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال " بهذا امرت ". فقال عمر لعروة اعلم ما تحدث اوان جبريل هو اقام لرسول الله صلى الله عليه وسلم وقت الصلاة. قال عروة كذلك كان بشير بن ابي مسعود يحدث عن ابيه. قال عروة ولقد حدثتني عايشة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي العصر، والشمس في حجرتها قبل ان تظهر
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عباد بن عباد بصریٰ نے، اور یہ عباد کے لڑکے ہیں، ابوجمرہ (نصر بن عمران) کے ذریعہ سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے کہا کہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا کہ ہم اس ربیعہ قبیلہ سے ہیں اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں صرف حرمت والے مہینوں ہی میں حاضر ہو سکتے ہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ایسی بات کا ہمیں حکم دیجیئے، جسے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھ لیں اور اپنے پیچھے رہنے والے دوسرے لوگوں کو بھی اس کی دعوت دے سکیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں، پہلے اللہ پر ایمان لانے کا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفصیل بیان فرمائی کہ اس بات کی شہادت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں، اور دوسرے نماز قائم کرنے کا، تیسرے زکوٰۃ دینے کا، اور چوتھے جو مال تمہیں غنیمت میں ملے، اس میں سے پانچواں حصہ ادا کرنے کا اور تمہیں میں تونبڑی حنتم، قسار اور نقیر کے استعمال سے روکتا ہوں۔ ( نوٹ: یہ تمام برتن شراب بنانے کے لیے استعمال ہوتے تھے ) ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، قال حدثنا عباد هو ابن عباد عن ابي جمرة، عن ابن عباس، قال قدم وفد عبد القيس على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا انا من هذا الحى من ربيعة، ولسنا نصل اليك الا في الشهر الحرام، فمرنا بشىء ناخذه عنك، وندعو اليه من وراءنا. فقال " امركم باربع، وانهاكم عن اربع الايمان بالله ثم فسرها لهم شهادة ان لا اله الا الله، واني رسول الله، واقام الصلاة، وايتاء الزكاة، وان تودوا الى خمس ما غنمتم، وانهى عن الدباء والحنتم والمقير والنقير
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے قیس بن ابی حازم نے جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے بیان کیا کہ جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر نماز قائم کرنے، زکوٰۃ دینے، اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی۔
حدثنا محمد بن المثنى، قال حدثنا يحيى، قال حدثنا اسماعيل، قال حدثنا قيس، عن جرير بن عبد الله، قال بايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم على اقام الصلاة، وايتاء الزكاة، والنصح لكل مسلم
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے اعمش کی روایت سے بیان کیا، اعمش (سلیمان بن مہران) نے کہا کہ مجھ سے شقیق بن مسلمہ نے بیان کیا، شقیق نے کہا کہ میں نے حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے سنا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے پوچھا کہ فتنہ سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث تم میں سے کسی کو یاد ہے؟ میں بولا، میں نے اسے ( اسی طرح یاد رکھا ہے ) جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث کو بیان فرمایا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ بولے، کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتن کو معلوم کرنے میں بہت بےباک تھے۔ میں نے کہا کہ انسان کے گھر والے، مال اولاد اور پڑوسی سب فتنہ ( کی چیز ) ہیں۔ اور نماز، روزہ، صدقہ، اچھی بات کے لیے لوگوں کو حکم کرنا اور بری باتوں سے روکنا ان فتنوں کا کفارہ ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تم سے اس کے متعلق نہیں پوچھتا، مجھے تم اس فتنہ کے بارے میں بتلاؤ جو سمندر کی موج کی طرح ٹھاٹھیں مارتا ہوا بڑھے گا۔ اس پر میں نے کہا کہ یا امیرالمؤمنین! آپ اس سے خوف نہ کھائیے۔ آپ کے اور فتنہ کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔ پوچھا کیا وہ دروازہ توڑ دیا جائے گا یا ( صرف ) کھولا جائے گا۔ میں نے کہا کہ توڑ دیا جائے گا۔ عمر رضی اللہ عنہ بول اٹھے، کہ پھر تو وہ کبھی بند نہیں ہو سکے گا۔ شقیق نے کہا کہ ہم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا عمر رضی اللہ عنہ اس دروازہ کے متعلق کچھ علم رکھتے تھے تو انہوں نے کہا کہ ہاں! بالکل اسی طرح جیسے دن کے بعد رات کے آنے کا۔ میں نے تم سے ایک ایسی حدیث بیان کی ہے جو قطعاً غلط نہیں ہے۔ ہمیں اس کے متعلق حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھنے میں ڈر ہوتا تھا ( کہ دروازہ سے کیا مراد ہے ) اس لیے ہم نے مسروق سے کہا ( کہ وہ پوچھیں ) انہوں نے دریافت کیا تو آپ نے بتایا کہ وہ دروازہ خود عمر رضی اللہ عنہ ہی تھے۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا يحيى، عن الاعمش، قال حدثني شقيق، قال سمعت حذيفة، قال كنا جلوسا عند عمر رضى الله عنه فقال ايكم يحفظ قول رسول الله صلى الله عليه وسلم في الفتنة قلت انا، كما قاله. قال انك عليه او عليها لجريء. قلت " فتنة الرجل في اهله وماله وولده وجاره تكفرها الصلاة والصوم والصدقة والامر والنهى ". قال ليس هذا اريد، ولكن الفتنة التي تموج كما يموج البحر. قال ليس عليك منها باس يا امير المومنين، ان بينك وبينها بابا مغلقا. قال ايكسر ام يفتح قال يكسر. قال اذا لا يغلق ابدا. قلنا اكان عمر يعلم الباب قال نعم، كما ان دون الغد الليلة، اني حدثته بحديث ليس بالاغاليط. فهبنا ان نسال حذيفة، فامرنا مسروقا فساله فقال الباب عمر
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، سلیمان تیمی کے واسطہ سے، انہوں نے ابوعثمان نہدی سے، انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہ ایک شخص نے کسی غیر عورت کا بوسہ لے لیا۔ اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور آپ کو اس حرکت کی خبر دے دی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، کہ نماز دن کے دونوں حصوں میں قائم کرو اور کچھ رات گئے بھی، اور بلاشبہ نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ اس شخص نے کہا کہ یا رسول اللہ! کیا یہ صرف میرے لیے ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں بلکہ میری تمام امت کے لیے یہی حکم ہے۔
حدثنا قتيبة، قال حدثنا يزيد بن زريع، عن سليمان التيمي، عن ابي عثمان النهدي، عن ابن مسعود، ان رجلا، اصاب من امراة قبلة، فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فاخبره، فانزل الله {اقم الصلاة طرفى النهار وزلفا من الليل ان الحسنات يذهبن السييات}. فقال الرجل يا رسول الله الي هذا قال " لجميع امتي كلهم
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، انہوں نے کہا کہ مجھے ولید بن عیزار کوفی نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابوعمر و شیبانی سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے اس گھر کے مالک سے سنا، (آپ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کر رہے تھے) انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کون سا عمل زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے وقت پر نماز پڑھنا، پھر پوچھا، اس کے بعد، فرمایا والدین کے ساتھ نیک معاملہ رکھنا۔ پوچھا اس کے بعد، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ تفصیل بتائی اور اگر میں اور سوالات کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور زیادہ بھی بتلاتے۔ ( لیکن میں نے بطور ادب خاموشی اختیار کی ) ۔
حدثنا ابو الوليد، هشام بن عبد الملك قال حدثنا شعبة، قال الوليد بن العيزار اخبرني قال سمعت ابا عمرو الشيباني، يقول حدثنا صاحب، هذه الدار واشار الى دار عبد الله قال سالت النبي صلى الله عليه وسلم اى العمل احب الى الله قال " الصلاة على وقتها ". قال ثم اى قال " ثم بر الوالدين ". قال ثم اى قال " الجهاد في سبيل الله ". قال حدثني بهن ولو استزدته لزادني
ہم سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم اور عبدالعزیز بن محمد دراوردی نے یزید بن عبداللہ کی روایت سے، انہوں نے محمد بن ابراہیم تیمی سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اگر کسی شخص کے دروازے پر نہر جاری ہو اور وہ روزانہ اس میں پانچ پانچ دفعہ نہائے تو تمہارا کیا گمان ہے۔ کیا اس کے بدن پر کچھ بھی میل باقی رہ سکتا ہے؟ صحابہ نے عرض کی کہ نہیں یا رسول اللہ! ہرگز نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی حال پانچوں وقت کی نمازوں کا ہے کہ اللہ پاک ان کے ذریعہ سے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔
حدثنا ابراهيم بن حمزة، قال حدثني ابن ابي حازم، والدراوردي، عن يزيد، عن محمد بن ابراهيم، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ارايتم لو ان نهرا بباب احدكم، يغتسل فيه كل يوم خمسا، ما تقول ذلك يبقي من درنه ". قالوا لا يبقي من درنه شييا. قال " فذلك مثل الصلوات الخمس، يمحو الله بها الخطايا
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے مہدی بن میمون نے غیلان بن جریر کے واسطہ سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے، آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد کی کوئی بات اس زمانہ میں نہیں پاتا۔ لوگوں نے کہا، نماز تو ہے۔ فرمایا اس کے اندر بھی تم نے کر رکھا ہے جو کر رکھا ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، قال حدثنا مهدي، عن غيلان، عن انس، قال ما اعرف شييا مما كان على عهد النبي صلى الله عليه وسلم. قيل الصلاة. قال اليس ضيعتم ما ضيعتم فيها
ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں عبدالواحد بن واصل ابوعبیدہ حداد نے خبر دی، انہوں نے عبدالعزیز کے بھائی عثمان بن ابی رواد کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے زہری سے سنا کہ میں دمشق میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گیا۔ آپ اس وقت رو رہے تھے۔ میں نے عرض کیا کہ آپ کیوں رو رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد کی کوئی چیز اس نماز کے علاوہ اب میں نہیں پاتا اور اب اس کو بھی ضائع کر دیا گیا ہے۔ اور بکر بن خلف نے کہا کہ ہم سے محمد بن بکر برسانی نے بیان کیا کہ ہم سے عثمان بن ابی رواد نے یہی حدیث بیان کی۔
حدثنا عمرو بن زرارة، قال اخبرنا عبد الواحد بن واصل ابو عبيدة الحداد، عن عثمان بن ابي رواد، اخي عبد العزيز قال سمعت الزهري، يقول دخلت على انس بن مالك بدمشق وهو يبكي فقلت ما يبكيك فقال لا اعرف شييا مما ادركت الا هذه الصلاة، وهذه الصلاة قد ضيعت. وقال بكر حدثنا محمد بن بكر البرساني اخبرنا عثمان بن ابي رواد نحوه
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عبداللہ دستوائی نے قتادہ ابن دعامہ کے واسطے سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا رہتا ہے اس لیے اپنی داہنی جانب نہ تھوکنا چاہیے لیکن بائیں پاؤں کے نیچے تھوک سکتا ہے۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، قال حدثنا هشام، عن قتادة، عن انس، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ان احدكم اذا صلى يناجي ربه فلا يتفلن عن يمينه، ولكن تحت قدمه اليسرى ". وقال سعيد عن قتادة لا يتفل قدامه او بين يديه، ولكن عن يساره او تحت قدميه. وقال شعبة لا يبزق بين يديه ولا عن يمينه، ولكن عن يساره او تحت قدمه. وقال حميد عن انس عن النبي صلى الله عليه وسلم " لا يبزق في القبلة ولا عن يمينه، ولكن عن يساره او تحت قدمه
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ابراہیم نے، انہوں نے کہا کہ ہم سے قتادہ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سجدہ کرنے میں اعتدال رکھو ( سیدھی طرح پر کرو ) اور کوئی شخص تم میں سے اپنے بازوؤں کو کتے کی طرح نہ پھیلائے۔ جب کسی کو تھوکنا ہی ہو تو سامنے یا داہنی طرف نہ تھوکے، کیونکہ وہ نماز میں اپنے رب سے پوشیدہ باتیں کرتا رہتا ہے اور سعید نے قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کر کے بیان کیا ہے کہ آگے یا سامنے نہ تھوکے البتہ بائیں طرف پاؤں کے نیچے تھوک سکتا ہے اور شعبہ نے کہا کہ اپنے سامنے اور دائیں جانب نہ تھوکے، بلکہ بائیں طرف یا پاؤں کے نیچے تھوک سکتا ہے۔ اور حمید نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ قبلہ کی طرف نہ تھوکے اور نہ دائیں طرف البتہ بائیں طرف یا پاؤں کے نیچے تھوک سکتا ہے۔
حدثنا حفص بن عمر، قال حدثنا يزيد بن ابراهيم، قال حدثنا قتادة، عن انس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اعتدلوا في السجود، ولا يبسط ذراعيه كالكلب، واذا بزق فلا يبزقن بين يديه ولا عن يمينه، فانه يناجي ربه
حدثنا ايوب بن سليمان، قال حدثنا ابو بكر، عن سليمان، قال صالح بن كيسان حدثنا الاعرج عبد الرحمن، وغيره، عن ابي هريرة.ونافع مولى عبد الله بن عمر عن عبد الله بن عمر، انهما حدثاه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " اذا اشتد الحر فابردوا عن الصلاة، فان شدة الحر من فيح جهنم
حدثنا ايوب بن سليمان، قال حدثنا ابو بكر، عن سليمان، قال صالح بن كيسان حدثنا الاعرج عبد الرحمن، وغيره، عن ابي هريرة.ونافع مولى عبد الله بن عمر عن عبد الله بن عمر، انهما حدثاه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " اذا اشتد الحر فابردوا عن الصلاة، فان شدة الحر من فيح جهنم
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ بن حجاج نے مہاجر ابوالحسن کی روایت سے بیان کیا، انہوں نے زید بن وہب ہمدانی سے سنا۔ انہوں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن ( بلال ) نے ظہر کی اذان دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھنڈا کر، ٹھنڈا کر، یا یہ فرمایا کہ انتظار کر، انتظار کر، اور فرمایا کہ گرمی کی تیزی جہنم کی آگ کی بھاپ سے ہے۔ اس لیے جب گرمی سخت ہو جائے تو نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو، پھر ظہر کی اذان اس وقت کہی گئی جب ہم نے ٹیلوں کے سائے دیکھ لیے۔
حدثنا ابن بشار، قال حدثنا غندر، قال حدثنا شعبة، عن المهاجر ابي الحسن، سمع زيد بن وهب، عن ابي ذر، قال اذن موذن النبي صلى الله عليه وسلم الظهر فقال " ابرد ابرد او قال انتظر انتظر ". وقال " شدة الحر من فيح جهنم، فاذا اشتد الحر فابردوا عن الصلاة ". حتى راينا فىء التلول
حدثنا علي بن عبد الله، قال حدثنا سفيان، قال حفظناه من الزهري عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا اشتد الحر فابردوا بالصلاة، فان شدة الحر من فيح جهنم ". " واشتكت النار الى ربها فقالت يا رب اكل بعضي بعضا. فاذن لها بنفسين نفس في الشتاء، ونفس في الصيف، فهو اشد ما تجدون من الحر، واشد ما تجدون من الزمهرير
حدثنا علي بن عبد الله، قال حدثنا سفيان، قال حفظناه من الزهري عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا اشتد الحر فابردوا بالصلاة، فان شدة الحر من فيح جهنم ". " واشتكت النار الى ربها فقالت يا رب اكل بعضي بعضا. فاذن لها بنفسين نفس في الشتاء، ونفس في الصيف، فهو اشد ما تجدون من الحر، واشد ما تجدون من الزمهرير
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا کہا مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوصالح ذکوان نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( کہ گرمی کے موسم میں ) ظہر کو ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے پیدا ہوتی ہے۔ اس حدیث کی متابعت سفیان ثوری، یحییٰ اور ابوعوانہ نے اعمش کے واسطہ سے کی ہے۔
حدثنا عمر بن حفص، قال حدثنا ابي قال، حدثنا الاعمش، حدثنا ابو صالح، عن ابي سعيد، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ابردوا بالظهر، فان شدة الحر من فيح جهنم ". تابعه سفيان ويحيى وابو عوانة عن الاعمش
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے بنی تیم اللہ کے غلام مہاجر ابوالحسن نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زید بن وہب جہنی سے سنا، وہ ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے تھے کہ انہوں نے کہا کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ مؤذن نے چاہا کہ ظہر کی اذان دے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وقت کو ٹھنڈا ہونے دو، مؤذن نے ( تھوڑی دیر بعد ) پھر چاہا کہ اذان دے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھنڈا ہونے دو۔ جب ہم نے ٹیلے کا سایہ ڈھلا ہوا دیکھ لیا۔ ( تب اذان کہی گئی ) پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گرمی کی تیزی جہنم کی بھاپ کی تیزی سے ہے۔ اس لیے جب گرمی سخت ہو جایا کرے تو ظہر کی نماز ٹھنڈے وقت میں پڑھا کرو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا «يتفيئو» ( کا لفظ جو سورۃ النحل میں ہے ) کے معنے «تتميل» ( جھکنا، مائل ہونا ) ہیں۔
حدثنا ادم بن ابي اياس، قال حدثنا شعبة، قال حدثنا مهاجر ابو الحسن، مولى لبني تيم الله قال سمعت زيد بن وهب، عن ابي ذر الغفاري، قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر، فاراد الموذن ان يوذن للظهر فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ابرد ". ثم اراد ان يوذن فقال له " ابرد ". حتى راينا فىء التلول، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ان شدة الحر من فيح جهنم، فاذا اشتد الحر فابردوا بالصلاة ". وقال ابن عباس تتفيا تتميل
ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا، کہا ہم سے شعیب نے زہری کی روایت سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ جب سورج ڈھلا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حجرہ سے باہر تشریف لائے اور ظہر کی نماز پڑھی۔ پھر منبر پر تشریف لائے۔ اور قیامت کا ذکر فرمایا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت میں بڑے عظیم امور پیش آئیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کسی کو کچھ پوچھنا ہو تو پوچھ لے۔ کیونکہ جب تک میں اس جگہ پر ہوں تم مجھ سے جو بھی پوچھو گے۔ میں اس کا جواب ضرور دوں گا۔ لوگ بہت زیادہ رونے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر فرماتے جاتے تھے کہ جو کچھ پوچھنا ہو پوچھو۔ عبداللہ بن حذافہ سہمی کھڑے ہوئے اور دریافت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے باپ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے باپ حذافہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اب بھی برابر فرما رہے تھے کہ پوچھو کیا پوچھتے ہو۔ اتنے میں عمر رضی اللہ عنہ ادب سے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور انہوں نے فرمایا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے مالک ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے نبی ہونے سے راضی اور خوش ہیں۔ ( پس اس گستاخی سے ہم باز آتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا اور بے جا سوالات کریں ) اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی ابھی میرے سامنے جنت اور جہنم اس دیوار کے کونے میں پیش کی گئی تھی۔ پس میں نے نہ ایسی کوئی عمدہ چیز دیکھی ( جیسی جنت تھی ) اور نہ کوئی ایسی بری چیز دیکھی ( جیسی دوزخ تھی ) ۔
حدثنا ابو اليمان، قال اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج حين زاغت الشمس فصلى الظهر، فقام على المنبر، فذكر الساعة، فذكر ان فيها امورا عظاما ثم قال " من احب ان يسال عن شىء فليسال، فلا تسالوني عن شىء الا اخبرتكم ما دمت في مقامي هذا ". فاكثر الناس في البكاء، واكثر ان يقول " سلوني ". فقام عبد الله بن حذافة السهمي فقال من ابي قال " ابوك حذافة ". ثم اكثر ان يقول " سلوني ". فبرك عمر على ركبتيه فقال رضينا بالله ربا، وبالاسلام دينا، وبمحمد نبيا. فسكت ثم قال " عرضت على الجنة والنار انفا في عرض هذا الحايط فلم ار كالخير والشر