Loading...

Loading...
کتب
۱۹۳ احادیث
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل نے، ان سے شعبی نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اگر کوئی تم سے یہ بیان کرتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی چیز چھپائی، ( اور دوسری سند ) اور محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعامر عقدی نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے شعبی نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اگر تم سے کوئی یہ بیان کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی میں کچھ چھپا لیا تو اس کی تصدیق نہ کرنا ( وہ جھوٹا ہے ) کیونکہ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے «يا أيها الرسول بلغ ما أنزل إليك من ربك وإن لم تفعل فما بلغت رسالته» کہ ”اے رسول! پہنچا دیجئیے وہ پیغام جو آپ کے پاس آپ کے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے اور اگر آپ نے یہ نہیں کیا تو آپ اپنے رب کا پیغام نہیں پہنچایا۔“
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن اسماعيل، عن الشعبي، عن مسروق، عن عايشة رضى الله عنها قالت من حدثك ان محمدا صلى الله عليه وسلم كتم شييا وقال محمد حدثنا ابو عامر العقدي حدثنا شعبة عن اسماعيل بن ابي خالد عن الشعبي عن مسروق عن عايشة قالت من حدثك ان النبي صلى الله عليه وسلم كتم شييا من الوحى، فلا تصدقه، ان الله تعالى يقول {يا ايها الرسول بلغ ما انزل اليك من ربك وان لم تفعل فما بلغت رسالته}
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابووائل نے، ان سے عمرو بن شرجیل نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کون سا گناہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا ہے؟ فرمایا کہ تم اللہ کی عبادت میں کسی کو بھی ساجھی بناؤ حالانکہ تمہیں اللہ نے پیدا کیا ہے۔ پوچھا پھر کون سا؟ فرمایا یہ کہ تم اپنے بچے کو اس خوف سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا۔ پوچھا پھر کون سا؟ فرمایا یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ( سورۃ الفرقان میں ) اس کی تصدیق میں قرآن نازل فرمایا «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق ولا يزنون ومن يفعل ذلك» ”اور وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود باطل کو نہیں پکارتے اور جو کسی ایسے کی جان نہیں لیتے جسے اللہ نے حرام کیا ہے سوا حق کے اور جو زنا نہیں کرتے اور جو کوئی ایسا کرے گا وہ گناہ سے بھڑ جائے گا۔“
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا جرير، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن عمرو بن شرحبيل، قال قال عبد الله قال رجل يا رسول الله اى الذنب اكبر عند الله قال " ان تدعو لله ندا، وهو خلقك ". قال ثم اى قال " ثم ان تقتل ولدك، ان يطعم معك ". قال ثم اى قال " ان تزاني حليلة جارك ". فانزل الله تصديقها {والذين لا يدعون مع الله الها اخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله الا بالحق ولا يزنون ومن يفعل ذلك} الاية
ہم سے عبدان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سالم نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”گذشتہ امتوں کے مقابلہ میں تمہارا وجود ایسا ہے جیسے عصر اور مغرب کے درمیان کا وقت، اہل توریت کو توریت دی گئی تو انہوں نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ دن آدھا ہو گیا اور وہ عاجز ہو گئے۔ پھر انہیں ایک ایک قیراط دیا گیا۔ پھر اہل انجیل کو انجیل دی گئی اور انہوں نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت ہو گیا، انہیں بھی ایک ایک قیراط دیا گیا۔ پھر تمہیں قرآن دیا گیا اور تم نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ مغرب کا وقت ہو گیا، تمہیں دو دو قیراط دئیے گئے، اس پر کتاب نے کہا کہ یہ ہم سے عمل میں کم ہیں اور اجر میں زیادہ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا میں نے تمہارا حق دینے میں کوئی ظلم کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پھر یہ میرا فضل ہے میں جسے چاہوں دوں۔
حدثنا عبدان، اخبرنا عبد الله، اخبرنا يونس، عن الزهري، اخبرني سالم، عن ابن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " انما بقاوكم فيمن سلف من الامم كما بين صلاة العصر الى غروب الشمس، اوتي اهل التوراة التوراة فعملوا بها حتى انتصف النهار، ثم عجزوا فاعطوا قيراطا قيراطا، ثم اوتي اهل الانجيل الانجيل فعملوا به حتى صليت العصر، ثم عجزوا فاعطوا قيراطا قيراطا، ثم اوتيتم القران فعملتم به حتى غربت الشمس، فاعطيتم قيراطين قيراطين، فقال اهل الكتاب هولاء اقل منا عملا واكثر اجرا. قال الله هل ظلمتكم من حقكم شييا قالوا لا. قال فهو فضلي اوتيه من اشاء
مجھ سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، ان سے ولید بن عیزار نے (دوسری سند) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے عباد بن یعقوب اسدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عباد بن العوام نے خبر دی، انہیں شیبانی نے اور انہیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کہ اپنے وقت پر نماز پڑھنا اور والدین کے ساتھ نیک معاملہ کرنا، پھر اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔
حدثني سليمان، حدثنا شعبة، عن الوليد،. وحدثني عباد بن يعقوب الاسدي، اخبرنا عباد بن العوام، عن الشيباني، عن الوليد بن العيزار، عن ابي عمرو الشيباني، عن ابن مسعود رضى الله عنه ان رجلا، سال النبي صلى الله عليه وسلم اى الاعمال افضل قال " الصلاة لوقتها، وبر الوالدين، ثم الجهاد في سبيل الله
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، ان سے امام حسن بصری نے، ان سے عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مال آیا اور آپ نے اس میں سے کچھ لوگوں کو دیا اور کچھ کو نہیں دیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ اس پر کچھ لوگ ناراض ہوئے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایک شخص کو دیتا ہوں اور دوسرے کو نہیں دیتا اور جسے نہیں دیتا وہ مجھے اس سے زیادہ عزیز ہوتا ہے جسے دیتا ہوں۔ میں کچھ لوگوں کو اس لیے دیتا ہوں کہ ان کے دلوں میں گھبراہٹ اور بے چینی ہے اور دوسرے لوگوں پر اعتماد کرتا ہوں کہ اللہ نے ان کے دلوں کو بے نیازی اور بھلائی عطا فرمائی ہے۔ انہیں میں سے عمرو بن تغلب بھی ہیں۔ عمرو رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس کلمہ کے مقابلہ میں مجھے لال لال اونٹ ملتے تو اتنی خوشی نہ ہوتی۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا جرير بن حازم، عن الحسن، حدثنا عمرو بن تغلب، قال اتى النبي صلى الله عليه وسلم مال فاعطى قوما ومنع اخرين فبلغه انهم عتبوا فقال " اني اعطي الرجل وادع الرجل، والذي ادع احب الى من الذي اعطي، اعطي اقواما لما في قلوبهم من الجزع والهلع، واكل اقواما الى ما جعل الله في قلوبهم من الغنى والخير منهم عمرو بن تغلب ". فقال عمرو ما احب ان لي بكلمة رسول الله صلى الله عليه وسلم حمر النعم
حدثني محمد بن عبد الرحيم، حدثنا ابو زيد، سعيد بن الربيع الهروي حدثنا شعبة، عن قتادة، عن انس رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم يرويه عن ربه، قال " اذا تقرب العبد الى شبرا تقربت اليه ذراعا، واذا تقرب مني ذراعا تقربت منه باعا، واذا اتاني مشيا اتيته هرولة
حدثنا مسدد، عن يحيى، عن التيمي، عن انس بن مالك، عن ابي هريرة، قال ربما ذكر النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا تقرب العبد مني شبرا تقربت منه ذراعا واذا تقرب مني ذراعا تقربت منه باعا او بوعا ". وقال معتمر سمعت ابي، سمعت انسا، {عن ابي هريرة،} عن النبي صلى الله عليه وسلم يرويه عن ربه، عز وجل
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن زیاد نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے، اللہ تعالیٰ سے روایت کرتے ہیں کہ پروردگار نے فرمایا ہر گناہ کا ایک کفارہ ہے ( جس سے وہ گناہ معاف ہو جاتا ہے ) اور روزہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بڑھ کر ہے۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا محمد بن زياد، قال سمعت ابا هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم يرويه عن ربكم، قال " لكل عمل كفارة، والصوم لي وانا اجزي به، ولخلوف فم الصايم اطيب عند الله من ريح المسك
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے (دوسری سند) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے خلفیہ بن خیاط نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے سعید نے، ان سے قتادہ نے، ان سے ابوالعالیہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار سے روایت کیا پروردگار نے فرمایا کہ کسی بندے کے لیے مناسب نہیں کہ یہ کہے کہ میں یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر ہوں اور آپ نے یونس علیہ السلام کو ان کے باپ کی طرف نسبت دی۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن قتادة،. وقال لي خليفة حدثنا يزيد بن زريع، عن سعيد، عن قتادة، عن ابي العالية، عن ابن عباس رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم فيما يرويه عن ربه قال " لا ينبغي لعبد ان يقول انه خير من يونس بن متى ". ونسبه الى ابيه
ہم سے احمد بن ابی سریح نے بیان کیا، کہا ہم کو شبابہ نے خبر دی، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے معاویہ بن قرہ نے، ان سے عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنی ایک اونٹنی پر سوار تھے اور سورۃ الفتح پڑھ رہے تھے یا سورۃ الفتح میں سے کچھ آیات پڑھ رہے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر آپ نے اس میں ترجیع کی۔ شعبہ نے کہا یہ حدیث بیان کر کے معاویہ نے اس طرح آواز دہرا کر قرآت کی جیسے عبداللہ بن مغفل کیا کرتے تھے اور معاویہ نے کہا اگر مجھ کو اس کا خیال نہ ہوتا کہ لوگ تمہارے پاس جمع ہو کر ہجوم کریں گے تو میں اسی طرح آواز دہرا کر قرآت کرتا جس طرح عبداللہ بن مغفل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح آواز دہرانے کو نقل کیا تھا۔ شعبہ نے کہا میں نے معاویہ سے پوچھا ابن مغفل کیوں کر آواز دہراتے تھے؟ انہوں نے کہا آآآ تین تین بار مد کے ساتھ آواز دہراتے تھے۔
حدثنا احمد بن ابي سريج، اخبرنا شبابة، حدثنا شعبة، عن معاوية بن قرة، عن عبد الله بن مغفل المزني، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الفتح على ناقة له يقرا سورة الفتح، او من سورة الفتح قال فرجع فيها قال ثم قرا معاوية يحكي قراءة ابن مغفل وقال " لولا ان يجتمع الناس عليكم لرجعت كما رجع ابن مغفل ". يحكي النبي صلى الله عليه وسلم فقلت لمعاوية كيف كان ترجيعه قال ا ا ا ثلاث مرات
اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مجھے ابوسفیان بن حرب نے خبر دی کہ ہرقل نے اپنے ترجمان کو بلایا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط منگوایا اور اسے پڑھا۔ شروع اللہ کے نام سے جو بہت نہایت رحم کرنے والا بڑا مہربان ہے۔ اللہ کے بندے اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہرقل کی جانب۔ پھر یہ آیت لکھی تھی «يا أهل الكتاب تعالوا إلى كلمة سواء بيننا وبينكم» کہ ”اے کتاب والو! اس بات پر آ جاؤ جو ہم میں تم میں یکساں مانی جاتی ہے“ آخر آیت تک۔
وقال ابن عباس اخبرني ابو سفيان بن حرب، ان هرقل، دعا ترجمانه، ثم دعا بكتاب النبي صلى الله عليه وسلم فقراه " بسم الله الرحمن الرحيم من محمد عبد الله ورسوله الى هرقل، و{يا اهل الكتاب تعالوا الى كلمة سواء بيننا وبينكم }" الاية
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، انہیں علی بن مبارک نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن ابی کثیر نے، انہیں ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اہل کتاب توریت کو عبرانی میں پڑھتے اور مسلمانوں کے لیے اس کی تفسیر عربی میں کرتے تھے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نہ اہل کتاب کی تصدیق کرو اور نہ اس کی تکذیب، بلکہ کہو کہ ہم اللہ اور اس کی تمام نازل کی ہوئی کتابوں پر ایمان لائے۔ الآیہ۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عثمان بن عمر، اخبرنا علي بن المبارك، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال كان اهل الكتاب يقرءون التوراة بالعبرانية، ويفسرونها بالعربية لاهل الاسلام فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تصدقوا اهل الكتاب، ولا تكذبوهم و{قولوا امنا بالله وما انزل} الاية
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی مرد اور عورت لائے گئے، جنہوں نے زنا کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے پوچھا کہ تم ان کے ساتھ کیا کرتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم ان کا منہ کالا کر کے انہیں رسوا کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر توریت لاؤ اور اس کی تلاوت کرو اگر تم سچے ہو چنانچہ وہ ( توریت ) لائے اور ایک شخص سے جس پر وہ مطمئن تھے کہا کہ اے اعور! پڑھو۔ چنانچہ اس نے پڑھا اور جب اس کے ایک مقام پر پہنچا تو اس پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنا ہاتھ اٹھاؤ، جب اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا تو اس میں آیت رجم بالکل واضح طور پر موجود تھی، اس نے کہا: اے محمد! ان پر رجم کا حکم تو واقعی ہے لیکن ہم اسے آپس میں چھپاتے ہیں۔ چنانچہ دونوں رجم کئے گئے، میں نے دیکھا کہ مرد عورت کو پتھر سے بچانے کے لیے اس پر جھکا پڑتا تھا۔
حدثنا مسدد، حدثنا اسماعيل، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال اتي النبي صلى الله عليه وسلم برجل وامراة من اليهود قد زنيا فقال لليهود " ما تصنعون بهما ". قالوا نسخم وجوههما ونخزيهما. قال " {فاتوا بالتوراة فاتلوها ان كنتم صادقين} ". فجاءوا فقالوا لرجل ممن يرضون يا اعور اقرا. فقرا حتى انتهى على موضع منها فوضع يده عليه. قال " ارفع يدك ". فرفع يده فاذا فيه اية الرجم تلوح فقال يا محمد ان عليهما الرجم. ولكنا نكاتمه بيننا. فامر بهما فرجما، فرايته يجاني عليها الحجارة
ہم سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے یزید نے بیان کیا ان سے محمد بن ابراہیم نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو اتنی توجہ سے نہیں سنتا جتنی توجہ سے اچھی آواز سے پڑھنے پر نبی کے قرآن مجید کو سنتا ہے۔
حدثني ابراهيم بن حمزة، حدثني ابن ابي حازم، عن يزيد، عن محمد بن ابراهيم، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، انه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول " ما اذن الله لشىء ما اذن لنبي حسن الصوت بالقران يجهر به
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی عائشہ رضی اللہ عنہا کی بات کے سلسلہ میں جب تہمت لگانے والوں نے ان پر تہمت لگائی تھی اور ان راویوں میں سے ہر ایک نے واقعہ کا ایک ایک حصہ بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ پھر میں روتے روتے اپنے بستر پر لیٹ گئی اور مجھے یقین تھا کہ جب میں اس تہمت سے بَری ہوں تو اللہ تعالیٰ میری برات کرے گا، لیکن واللہ! اس کا مجھے گمان بھی نہ تھا کہ میرے بارے میں قرآن کی آیات نازل ہوں گی جن کی قیامت تک تلاوت کی جائے گی اور میرے خیال میں میری حیثیت اس سے بہت کم تھی کہ اللہ میرے بارے میں پاک کلام نازل فرمائے جس کی تلاوت ہو اور اللہ تعالیٰ نے ( سورۃ النور کی ) یہ آیت نازل کی «إن الذين جاءوا بالإفك» ”بلاشبہ وہ لوگ جنہوں نے تہمت لگائی“ پوری دس آیتوں تک۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن يونس، عن ابن شهاب، اخبرني عروة بن الزبير، وسعيد بن المسيب، وعلقمة بن وقاص، وعبيد الله بن عبد الله، عن حديث، عايشة حين قال لها اهل الافك ما قالوا وكل حدثني طايفة من الحديث قالت فاضطجعت على فراشي، وانا حينيذ اعلم اني بريية وان الله يبريني، ولكن والله ما كنت اظن ان الله ينزل في شاني وحيا يتلى، ولشاني في نفسي كان احقر من ان يتكلم الله في بامر يتلى، وانزل الله عز وجل {ان الذين جاءوا بالافك} العشر الايات كلها
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے مسعر نے، ان سے عدی بن ثابت نے، میرا یقین ہے کہ انہوں نے براء بن عازب سے نقل کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ عشاء کی نماز میں «والتين والزيتون» پڑھ رہے تھے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ بہترین آواز سے قرآن پڑھتے ہوئے کسی کو نہیں سنا۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا مسعر، عن عدي بن ثابت، اراه عن البراء، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقرا في العشاء {والتين والزيتون} فما سمعت احدا احسن صوتا او قراءة منه
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں چھپ کر تبلیغ کرتے تھے تو قرآن بلند آواز سے پڑھتے، مشرکین جب سنتے تو قرآن کو برا بھلا کہتے اور اس کے لانے والے کو برا بھلا کہتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ ”اپنی نماز میں نہ آواز بلند کرو اور نہ بہت پست۔“
حدثنا حجاج بن منهال، حدثنا هشيم، عن ابي بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال كان النبي صلى الله عليه وسلم متواريا بمكة، وكان يرفع صوته، فاذا سمع المشركون سبوا القران ومن جاء به، فقال الله عز وجل لنبيه صلى الله عليه وسلم {ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها}
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم مجھ سے امام مالک نے بیان کا، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے ان سے کہا میرا خیال ہے کہ تم بکریوں کو اور جنگل کو پسند کرتے ہو۔ پس جب تم اپنی بکریوں میں یا جنگل میں ہو اور نماز کے لیے اذان دو تو بلند آواز کے ساتھ دو کیونکہ مؤذن کی آواز جہاں تک بھی پہنچے گی اور اسے جن و انس اور دوسری جو چیزیں بھی سنیں گی وہ قیامت کے دن اس کی گواہی دیں گی۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔
حدثنا اسماعيل، حدثني مالك، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن عبد الرحمن بن ابي صعصعة، عن ابيه، انه اخبره ان ابا سعيد الخدري رضى الله عنه قال له " اني اراك تحب الغنم والبادية، فاذا كنت في غنمك او باديتك فاذنت للصلاة فارفع صوتك بالنداء، فانه لا يسمع مدى صوت الموذن جن ولا انس ولا شىء، الا شهد له يوم القيامة ". قال ابو سعيد سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ان کی والدہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بھی قرآن پڑھتے تھے جب آپ کا سر مبارک میری گود میں ہوتا اور میں حالت حیض میں ہوتی۔
حدثنا قبيصة، حدثنا سفيان، عن منصور، عن امه، عن عايشة، قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يقرا القران وراسه في حجري وانا حايض
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، کہا مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا، ان سے مسور بن مخرمہ اور عبدالرحمٰن بن عبدالقاری نے، ان دونوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ہشام بن حکیم رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورۃ الفرقان پڑھتے سنا۔ میں نے دیکھا کہ وہ قرآن مجید بہت سے ایسے طریقوں سے پڑھ رہے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نہیں پڑھائے تھے۔ قریب تھا کہ نماز ہی میں ان پر میں ہلہ کر دوں لیکن میں نے صبر سے کام لیا اور جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں نے ان کی گردن میں اپنی چادر کا پھندا لگا دیا اور ان سے کہا تمہیں یہ سورت اس طرح کس نے پڑھائی جسے میں نے ابھی تم سے سنا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھائی ہے۔ میں نے کہا تم جھوٹے ہو، مجھے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے مختلف قرآت سکھائی ہے جو تم پڑھ رہے تھے۔ چنانچہ میں انہیں کھینچتا ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا اور عرض کیا کہ میں نے اس شخص کو سورۃ الفرقان اس طرح پڑھتے سنا جو آپ نے مجھے نہیں سکھائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں چھوڑ دو۔ ہشام! تم پڑھ کر سناؤ۔ انہوں نے وہی قرآت پڑھی جو میں ان سے سن چکا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی طرح یہ سورت نازل ہوئی ہے۔ اے عمر! اب تم پڑھو! میں نے اس قرآت کے مطابق پڑھا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سکھائی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح بھی نازل ہوئی ہے۔ یہ قرآن عرب کی سات بولیوں پر اتارا گیا ہے۔ پس تمہیں جس قرآت میں سہولت ہو پڑھو۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، حدثني عروة، ان المسور بن مخرمة، وعبد الرحمن بن عبد القاري، حدثاه انهما، سمعا عمر بن الخطاب، يقول سمعت هشام بن حكيم، يقرا سورة الفرقان في حياة رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستمعت لقراءته، فاذا هو يقرا على حروف كثيرة لم يقرينيها رسول الله صلى الله عليه وسلم، فكدت اساوره في الصلاة، فتصبرت حتى سلم، فلببته بردايه فقلت من اقراك هذه السورة التي سمعتك تقرا قال اقرانيها رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت كذبت، اقرانيها على غير ما قرات. فانطلقت به اقوده الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت اني سمعت هذا يقرا سورة الفرقان على حروف لم تقرينيها. فقال " ارسله، اقرا يا هشام ". فقرا القراءة التي سمعته. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كذلك انزلت ". ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقرا يا عمر ". فقرات التي اقراني فقال " كذلك انزلت، ان هذا القران انزل على سبعة احرف فاقرءوا ما تيسر منه