Loading...

Loading...
کتب
۱۹۳ احادیث
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے، ان سے یزید نے کہ مجھ سے مطرف بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے عمران رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے کہا یا رسول اللہ! پھر عمل کرنے والے کس لیے عمل کرتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر شخص کے لیے اس عمل میں آسانی پیدا کر دی گئی ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔
حدثنا ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، قال يزيد حدثني مطرف بن عبد الله، عن عمران، قال قلت يا رسول الله فيما يعمل العاملون قال " كل ميسر لما خلق له
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے منصور اور اعمش نے، انہوں نے سعد بن عبیدہ سے سنا، انہوں نے ابوعبدالرحمٰن اسلمیٰ سے اور انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازہ میں تھے پھر آپ نے ایک لکڑی لی اور اس سے زمین کریدنے لگے۔ پھر فرمایا تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا ٹھکانہ جہنم میں یا جنت میں لکھا نہ جا چکا ہو۔ صحابہ نے کہا: پھر ہم اسی پر بھروسہ نہ کر لیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر شخص کے لیے اس عمل میں آسانی پیدا کر دی گئی جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «فأما من أعطى واتقى» کہ ”جس شخص نے بخشش کی اور تقویٰ اختیار کیا“ آخر آیت تک۔
حدثني محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن منصور، والاعمش، سمعا سعد بن عبيدة، عن ابي عبد الرحمن، عن علي رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان في جنازة فاخذ عودا فجعل ينكت في الارض فقال " ما منكم من احد الا كتب مقعده من النار او من الجنة ". قالوا الا نتكل. قال " اعملوا فكل ميسر {فاما من اعطى واتقى} ". الاية
امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا۔ ہم سے معتمر نے بیان کیا، کہا میں نے اپنے والد سلیمان سے سنا، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے ابورافع سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ جب خلقت کا پیدا کرنا ٹھہرا چکا ( یا جب خلقت پیدا کر چکا ) تو اس نے عرش کے اوپر اپنے پاس ایک کتاب لکھ کر رکھی اس میں یوں ہے میری رحمت میرے غصے پر غالب ہے یا میرے غصے سے آگے بڑھ چکی ہے۔“
وقال لي خليفة بن خياط حدثنا معتمر، سمعت ابي، عن قتادة، عن ابي رافع، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لما قضى الله الخلق كتب كتابا عنده غلبت او قال سبقت رحمتي غضبي. فهو عنده فوق العرش
مجھ سے محمد بن غالب نے بیان کیا، ان سے محمد بن اسماعیل بصریٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے کہا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے ابورافع نے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے ایک تحریر لکھی کہ میری رحمت میرے غضب سے بڑھ کر ہے، چنانچہ یہ اس کے پاس عرش کے اوپر لکھا ہوا ہے۔
حدثني محمد بن ابي غالب، حدثنا محمد بن اسماعيل، حدثنا معتمر، سمعت ابي يقول، حدثنا قتادة، ان ابا رافع، حدثه انه، سمع ابا هريرة رضى الله عنه يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان الله كتب كتابا قبل ان يخلق الخلق ان رحمتي سبقت غضبي. فهو مكتوب عنده فوق العرش
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، ان سے عبدالوہاب نے، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے، ان سے ابوقلابہ اور قاسم تمیمی نے، ان سے زہدم نے بیان کیا کہ اس قبیلہ جرم اور اشعریوں میں محبت اور بھائی چارہ کا معاملہ تھا۔ ایک مرتبہ ہم ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ ان کے پاس کھانا لایا گیا جس میں مرغی کا گوشت بھی تھا۔ ان کے ہاں ایک بنی تیم اللہ کا بھی شخص تھا۔ غالباً وہ عرب کے غلام لوگوں میں سے تھا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے پاس بلایا تو اس نے کہا کہ میں نے مرغی کو گندگی کھاتے دیکھا ہے اور اسی وقت سے قسم کھا لی کہ اس کا گوشت نہیں کھاؤں گا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا، سنو! میں تم سے اس کے متعلق ایک حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کرتا ہوں۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اشعریوں کے کچھ افراد کو لے کر حاضر ہوا اور ہم نے آپ سے سواری مانگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واللہ! میں تمہارے لیے سواری کا انتظام نہیں کر سکتا، نہ میرے پاس کوئی ایسی چیز ہے جسے میں تمہیں سواری کے لیے دوں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مال غنیمت میں سے کچھ اونٹ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے متعلق پوچھا کہ اشعری لوگ کہاں ہیں؟ چنانچہ آپ نے ہمیں پانچ عمدہ اونٹ دینے کا حکم دیا۔ ہم انہیں لے کر چلے تو ہم نے اپنے عمل کے متعلق سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی تھی کہ ہمیں سواری کے لیے کوئی جانور نہیں دیں گے اور نہ آپ کے پاس کوئی ایسا جانور ہے جو ہمیں سواری کے لیے دیں۔ ہم نے سوچا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قسم بھول گئے ہیں، واللہ! ہم کبھی فلاح نہیں پا سکتے۔ ہم واپس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور آپ سے صورت حال کے متعلق پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں یہ سواری نہیں دے رہا ہوں بلکہ اللہ دے رہا ہے۔ واللہ! میں اگر کوئی قسم کھا لیتا ہوں اور پھر اس کے خلاف میں دیکھتا ہوں تو میں وہی کرتا ہوں جس میں بھلائی ہوتی ہے اور قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں۔
حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا ايوب، عن ابي قلابة، والقاسم التميمي، عن زهدم، قال كان بين هذا الحى من جرم وبين الاشعريين ود واخاء، فكنا عند ابي موسى الاشعري فقرب اليه الطعام فيه لحم دجاج، وعنده رجل من بني تيم الله كانه من الموالي، فدعاه اليه فقال اني رايته ياكل شييا ف��قذرته، فحلفت لا اكله. فقال هلم فلاحدثك عن ذاك، اني اتيت النبي صلى الله عليه وسلم في نفر من الاشعريين نستحمله قال " والله لا احملكم وما عندي ما احملكم ". فاتي النبي صلى الله عليه وسلم بنهب ابل فسال عنا فقال " اين النفر الاشعريون ". فامر لنا بخمس ذود غر الذرى، ثم انطلقنا قلنا ما صنعنا حلف رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يحملنا، وما عنده ما يحملنا، ثم حملنا، تغفلنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يمينه، والله لا نفلح ابدا، فرجعنا اليه فقلنا له فقال " لست انا احملكم، ولكن الله حملكم، اني والله لا احلف على يمين فارى غيرها خيرا منها، الا اتيت الذي هو خير منه، وتحللتها
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، ان سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے قرہ بن خالد نے بیان کیا، ان سے ابوجمرہ ضبعی نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: تو آپ نے فرمایا کہ قبیلہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور انہوں نے کہا کہ ہمارے اور آپ کے درمیان قبیلہ مضر کے مشرکین حائل ہیں اور ہم آپ کے پاس صرف حرمت والے مہینوں میں ہی آ سکتے ہیں۔ اس لیے آپ کچھ ایسے جامع احکام ہمیں بتا دیجئیے کہ اگر ہم ان پر عمل کریں تو جنت میں جائیں اور ان کی طرف ان لوگوں کو دعوت دیں جو ہمارے پیچھے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں چار کاموں کا حکم دیتا ہوں اور چار کاموں سے روکتا ہوں۔ میں تمہیں ایمان باللہ کا حکم دیتا ہوں۔ تمہیں معلوم ہے کہ ایمان باللہ کیا ہے؟ اس کی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینے اور غنیمت میں سے پانچواں حصہ دینے کا حکم دیتا ہوں اور تمہیں چار کاموں سے روکتا ہوں، یہ کہ کدو کی تونبی اور لکڑی کے کریدے ہوئے برتن اور روغنی برتنوں اور سبز لاکھی برتنوں میں مت پیا کرو۔
حدثنا عمرو بن علي، حدثنا ابو عاصم، حدثنا قرة بن خالد، حدثنا ابو جمرة الضبعي، قلت لابن عباس فقال قدم وفد عبد القيس على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا ان بيننا وبينك المشركين من مضر، وانا لا نصل اليك الا في اشهر حرم، فمرنا بجمل من الامر، ان عملنا به دخلنا الجنة، وندعو اليها من وراءنا. قال " امركم باربع وانهاكم عن اربع، امركم بالايمان بالله، وهل تدرون ما الايمان بالله شهادة ان لا اله الا الله، واقام الصلاة، وايتاء الزكاة، وتعطوا من المغنم الخمس، وانهاكم عن اربع لا تشربوا في الدباء، والنقير، والظروف المزفتة، والحنتمة
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے لیث نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا، ان سے قاسم بن محمد نے بیان کیا اور ان سے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ان تصویروں کو بنانے والوں پر قیامت میں عذاب ہو گا اور ان سے کہا جائے گا کہ تم نے جو بنایا ہے اسے زندہ بھی کر کے دکھاؤ۔“
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن نافع، عن القاسم بن محمد، عن عايشة رضى الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان اصحاب هذه الصور يعذبون يوم القيامة، ويقال لهم احيوا ما خلقتم
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، ان سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ان تصویروں کو بنانے والوں پر قیامت میں عذاب ہو گا اور ان سے کہا جائے گا کہ تم نے جو بنایا ہے اسے زندہ بھی کرو۔“
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ان اصحاب هذه الصور يعذبون يوم القيامة، ويقال لهم احيوا ما خلقتم
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابن فضيل، عن عمارة، عن ابي زرعة، سمع ابا هريرة رضى الله عنه قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " قال الله عز وجل ومن اظلم ممن ذهب يخلق كخلقي، فليخلقوا ذرة، او ليخلقوا حبة او شعيرة
حدثنا هدبة بن خالد، حدثنا همام، حدثنا قتادة، حدثنا انس، عن ابي موسى رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " مثل المومن الذي يقرا القران كالاترجة، طعمها طيب وريحها طيب، والذي لا يقرا كالتمرة، طعمها طيب ولا ريح لها، ومثل الفاجر الذي يقرا القران كمثل الريحانة، ريحها طيب وطعمها مر، ومثل الفاجر الذي لا يقرا القران كمثل الحنظلة، طعمها مر ولا ريح لها
حدثنا علي، حدثنا هشام، اخبرنا معمر، عن الزهري، ح وحدثني احمد بن صالح، حدثنا عنبسة، حدثنا يونس، عن ابن شهاب، اخبرني يحيى بن عروة بن الزبير، انه سمع عروة بن الزبير، قالت عايشة رضى الله عنها سال اناس النبي صلى الله عليه وسلم عن الكهان فقال " انهم ليسوا بشىء ". فقالوا يا رسول الله فانهم يحدثون بالشىء يكون حقا. قال فقال النبي صلى الله عليه وسلم " تلك الكلمة من الحق يخطفها الجني فيقرقرها في اذن وليه كقرقرة الدجاجة، فيخلطون فيه اكثر من ماية كذبة
حدثنا ابو النعمان، حدثنا مهدي بن ميمون، سمعت محمد بن سيرين، يحدث عن معبد بن سيرين، عن ابي سعيد الخدري رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يخرج ناس من قبل المشرق ويقرءون القران لا يجاوز تراقيهم، يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية، ثم لا يعودون فيه حتى يعود السهم الى فوقه ". قيل ما سيماهم. قال " سيماهم التحليق ". او قال " التسبيد
حدثني احمد بن اشكاب، حدثنا محمد بن فضيل، عن عمارة بن القعقاع، عن ابي زرعة، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " كلمتان حبيبتان الى الرحمن، خفيفتان على اللسان، ثقيلتان في الميزان سبحان الله وبحمده، سبحان الله العظيم