Loading...

Loading...
کتب
۱۹۳ احادیث
ہم سے محمد بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے اسرائیل نے، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے عبیدہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جنت میں سب سے بعد میں داخل ہونے والا اور دوزخ سے سب سے بعد میں نکلنے والا وہ شخص ہو گا جو گھسٹ کر نکلے گا، اس سے اس کا رب کہے گا جنت میں داخل ہو جا، وہ کہے گا میرے رب! جنت تو بالکل بھری ہوئی ہے، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا تیرے لیے دنیا کے دس گنا ہے۔“
حدثنا محمد بن خالد، حدثنا عبيد الله بن موسى، عن اسراييل، عن منصور، عن ابراهيم، عن عبيدة، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان اخر اهل الجنة دخولا الجنة، واخر اهل النار خروجا من النار رجل يخرج حبوا فيقول له ربه ادخل الجنة. فيقول رب الجنة ملاى. فيقول له ذلك ثلاث مرات فكل ذلك يعيد عليه الجنة ملاى. فيقول ان لك مثل الدنيا عشر مرار
ہم سے علی بن حجر نے بیان کیا، کہا ہم کو عیسیٰ بن یونس نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں خیثمہ نے اور ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے ہر شخص سے تمہارا رب اس طرح بات کرے گا کہ تمہارے اور اس کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہو گا وہ اپنے دائیں طرف دیکھے گا اور اسے اپنے اعمال کے سوا اور کچھ نظر نہیں آئے گا اور وہ اپنے بائیں طرف دیکھے گا اور اسے اپنے اعمال کے سوا کچھ نظر نہیں آئے گا۔ پھر اپنے سامنے دیکھے گا تو اپنے سامنے جہنم کے سوا اور کوئی چیز نہ دیکھے گا۔ پس جہنم سے بچو خواہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کے ذریعہ ہو سکے۔“ اعمش نے بیان کیا کہ مجھ سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا، ان سے خیشمہ نے اسی طرح اور اس میں یہ لفظ زیادہ کئے کہ ( جہنم سے بچو ) خواہ ایک اچھی بات ہی کے ذریعہ ہو۔
حدثنا علي بن حجر، اخبرنا عيسى بن يونس، عن الاعمش، عن خيثمة، عن عدي بن حاتم، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما منكم احد الا سيكلمه ربه، ليس بينه وبينه ترجمان، فينظر ايمن منه فلا يرى الا ما قدم من عمله، وينظر اشام منه فلا يرى الا ما قدم، وينظر بين يديه فلا يرى الا النار تلقاء وجهه، فاتقوا النار ولو بشق تمرة ". قال الاعمش وحدثني عمرو بن مرة عن خيثمة مثله وزاد فيه " ولو بكلمة طيبة
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے عبیدہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے عبیدہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن ابراهيم، عن عبيدة، عن عبد الله رضى الله عنه قال جاء حبر من اليهود فقال انه اذا كان يوم القيامة جعل الله السموات على اصبع، والارضين على اصبع، والماء والثرى على اصبع، والخلايق على اصبع، ثم يهزهن ثم يقول انا الملك انا الملك. فلقد رايت النبي صلى الله عليه وسلم يضحك حتى بدت نواجذه تعجبا وتصديقا، لقوله ثم قال النبي صلى الله عليه وسلم {وما قدروا الله حق قدره} الى قوله {يشركون}
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے صفوان بن محرز نے بیان کیا کہ ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: سرگوشی کے بارے میں آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس طرح سنا ہے؟ انہوں نے بیان کیا کہ تم میں سے کوئی اپنے رب کے قریب جائے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا پردہ اس پر ڈال دے گا اور کہے گا تو نے یہ یہ عمل کیا تھا؟ بندہ کہے گا کہ ہاں۔ چنانچہ وہ اس کا اقرار کرے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے دنیا میں تیرے گناہ پر پردہ ڈالا تھا اور آج بھی تجھے معاف کرتا ہوں۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن صفوان بن محرز، ان رجلا، سال ابن عمر كيف سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في النجوى قال " يدنو احدكم من ربه حتى يضع كنفه عليه فيقول اعملت كذا وكذا فيقول نعم. ويقول عملت كذا وكذا فيقول نعم. فيقرره، ثم يقول اني سترت عليك في الدنيا، وانا اغفرها لك اليوم ". وقال ادم حدثنا شيبان، حدثنا قتادة، حدثنا صفوان، عن ابن عمر، سمعت النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، کہا ہم سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، کہا ہم سے حمید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”آدم علیہ السلام اور موسیٰ علیہ السلام نے بحث کی، موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ آپ آدم ہیں جنہوں نے اپنی نسل کو جنت سے نکالا۔ آدم علیہ السلام نے کہا کہ آپ موسیٰ ہیں جنہیں اللہ نے اپنے پیغام اور کلام کے لیے منتخب کیا اور پھر بھی آپ مجھے ایک ایسی بات کے لیے ملامت کرتے ہیں جو اللہ نے میری پیدائش سے پہلے ہی میری تقدیر میں لکھ دی تھی، چنانچہ آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر غالب آئے۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، حدثنا عقيل، عن ابن شهاب، حدثنا حميد بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " احتج ادم وموسى، فقال موسى انت ادم الذي اخرجت ذريتك من الجنة. قال ادم انت موسى الذي اصطفاك الله برسالاته وكلامه، ثم تلومني على امر قد قدر على قبل ان اخلق. فحج ادم موسى
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایمان والے قیامت کے دن جمع کئے جائیں گے اور وہ کہیں گے کہ کاش کوئی ہماری شفاعت کرتا تاکہ ہم اپنی اس حالت سے نجات پاتے، چنانچہ وہ آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ آپ آدم ہیں انسانوں کے پردادا۔ اللہ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، آپ کو سجدہ کرنے کا فرشتوں کو حکم دیا اور ہر چیز کے نام آپ کو سکھائے پس آپ اپنے رب کے حضور میں ہماری شفاعت کریں، آپ جواب دیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں اور آپ اپنی غلطی انہیں یاد دلائیں گے جو آپ سے سرزد ہوئی تھی۔“
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا هشام، حدثنا قتادة، عن انس رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يجمع المومنون يوم القيامة فيقولون لو استشفعنا الى ربنا، فيريحنا من مكاننا هذا. فياتون ادم فيقولون له انت ادم ابو البشر خلقك الله بيده واسجد لك الملايكة وعلمك اسماء كل شىء، فاشفع لنا الى ربنا حتى يريحنا. فيقول لهم لست هناكم. فيذكر لهم خطييته التي اصاب
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے شریک بن عبداللہ بن ابی نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے وہ واقعہ بیان کیا جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد کعبہ سے معراج کے لیے لے جایا گیا کہ وحی آنے سے پہلے آپ کے پاس فرشتے آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد الحرام میں سوئے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک نے پوچھا کہ وہ کون ہیں؟ دوسرے نے جواب دیا کہ وہ ان میں سب سے بہتر ہیں تیسرے نے کہا کہ ان میں جو سب سے بہتر ہیں انہیں لے لو۔ اس رات کو بس اتنا ہی واقعہ پیش آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد انہیں نہیں دیکھا۔ یہاں تک کہ وہ دوسری رات آئے جب کہ آپ کا دل دیکھ رہا تھا اور آپ کی آنکھیں سو رہی تھیں۔ لیکن دل نہیں سو رہا تھا۔ انبیاء کا یہی حال ہوتا ہے۔ ان کی آنکھیں سوتی ہیں لیکن ان کے دل نہیں سوتے۔ چنانچہ انہوں نے آپ سے بات نہیں کی۔ بلکہ آپ کو اٹھا کر زمزم کے کنویں کے پاس لائے۔ یہاں جبرائیل علیہ السلام نے آپ کا کام سنبھالا اور آپ کے گلے سے دل کے نیچے تک سینہ چاک کیا اور سینے اور پیٹ کو پاک کر کے زمزم کے پانی سے اسے اپنے ہاتھ سے دھویا یہاں تک کہ آپ کا پیٹ صاف ہو گیا۔ پھر آپ کے پاس سونے کا طشت لایا گیا جس میں سونے کا ایک برتن ایمان و حکمت سے بھرا ہوا تھا۔ اس سے آپ کے سینے اور حلق کی رگوں کو سیا اور اسے برابر کر دیا۔ پھر آپ کو لے کر آسمان دنیا پر چڑھے اور اس کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر دستک دی۔ آسمان والوں نے ان سے پوچھا آپ کون ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جبرائیل انہوں نے پوچھا اور آپ کے ساتھ کون ہے؟ جواب دیا کہ میرے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پوچھا: کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ جواب دیا کہ ہاں۔ آسمان والوں نے کہا خوب اچھے آئے اور اپنے ہی لوگوں میں آئے ہو۔ آسمان والے اس سے خوش ہوئے۔ ان میں سے کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ زمین میں کیا کرنا چاہتا ہے جب تک وہ انہیں بتا نہ دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان دنیا پر آدم علیہ السلام کو پایا۔ جبرائیل علیہ السلام نے آپ سے کہا کہ یہ آپ کے بزرگ ترین دادا آدم ہیں آپ انہیں سلام کیجئے۔ آدم علیہ السلام نے سلام کا جواب دیا۔ کہا کہ خوب اچھے آئے اور اپنے ہی لوگوں میں آئے ہو۔ مبارک ہو اپنے بیٹے کو، آپ کیا ہی اچھے بیٹے ہیں۔ آپ نے آسمان دنیا میں دو نہریں دیکھیں جو بہہ رہی تھیں۔ پوچھا اے جبرائیل! یہ نہریں کیسی ہیں؟ جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا کہ یہ نیل اور فرات کا منبع ہے۔ پھر آپ آسمان پر اور چلے تو دیکھا کہ ایک دوسری نہر ہے جس کے اوپر موتی اور زبرجد کا محل ہے۔ اس پر اپنا ہاتھ مارا تو وہ مشک ہے۔ پوچھا: جبرائیل! یہ کیا ہے؟ جواب دیا کہ یہ کوثر ہے جسے اللہ نے آپ کے لیے محفوظ رکھا ہے۔ پھر آپ دوسرے آسمان پر چڑھے۔ فرشتوں نے یہاں بھی وہی سوال کیا جو پہلے آسمان پر کیا تھا۔ کون ہیں؟ کہا: جبرائیل۔ پوچھا آپ کے ساتھ کون ہیں؟ کہا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ پوچھا کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ فرشتے بولے انہیں مرحبا اور بشارت ہو۔ پھر آپ کو لے کر تیسرے آسمان پر چڑھے اور یہاں بھی وہی سوال کیا جو پہلے اور دوسرے آسمان پر کیا تھا۔ پھر چوتھے آسمان پر لے کر چڑھے اور یہاں بھی وہی سوال کیا۔ پھر پانچویں آسمان پر آپ کو لے کر چڑھے اور یہاں بھی وہی سوال کیا پھر چھٹے آسمان پر آپ کو لے کر چڑھے اور یہاں بھی وہی سوال کیا۔ پھر آپ کو لے کر ساتویں آسمان پر چڑھے اور یہاں بھی وہی سوال کیا۔ ہر آسمان پر انبیاء ہیں جن کے نام آپ نے لیے۔ مجھے یہ یاد ہے کہ ادریس علیہ السلام دوسرے آسمان پر، ہارون علیہ السلام چوتھے آسمان پر، اور دوسرے نبی پانچویں آسمان پر۔ جن کے نام مجھے یاد نہیں اور ابراہیم علیہ السلام چھٹے آسمان پر اور موسیٰ علیہ السلام ساتویں آسمان پر۔ یہ انہیں اللہ تعالیٰ نے شرف ہم کلامی کی وجہ سے فضیلت ملی تھی۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: میرے رب! میرا خیال نہیں تھا کہ کسی کو مجھ سے بڑھایا جائے گا۔ پھر جبرائیل علیہ السلام انہیں لے کر اس سے بھی اوپر گئے جس کا علم اللہ کے سوا اور کسی کو نہیں یہاں تک کہ آپ کو سدرۃ المنتہیٰ پر لے کر آئے اور رب العزت اللہ تبارک وتعالیٰ سے قریب ہوئے اور اتنے قریب جیسے کمان کے دونوں کنارے یا اس سے بھی قریب۔ پھر اللہ نے اور دوسری باتوں کے ساتھ آپ کی امت پر دن اور رات میں پچاس نمازوں کی وحی کی۔ پھر آپ اترے اور جب موسیٰ علیہ السلام کے پاس پہنچے تو انہوں نے آپ کو روک لیا اور پوچھا: اے محمد! آپ کے رب نے آپ سے کیا عہد لیا ہے؟ فرمایا کہ میرے رب نے مجھ سے دن اور رات میں پچاس نمازوں کا عہد لیا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ کی امت میں اس کی طاقت نہیں۔ واپس جائیے اور اپنی اور اپنی امت کی طرف سے کمی کی درخواست کیجئے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوئے اور انہوں نے بھی اشارہ کیا کہ ہاں اگر چاہیں تو بہتر ہے۔ چنانچہ آپ پھر انہیں لے کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور اپنے مقام پر کھڑے ہو کر عرض کیا: اے رب! ہم سے کمی کر دے کیونکہ میری امت اس کی طاقت نہیں رکھتی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے دس نمازوں کی کمی کر دی۔ پھر آپ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے تو انہوں نے آپ کو روکا۔ موسیٰ علیہ السلام آپ کو اسی طرح برابر اللہ رب العزت کے پاس واپس کرتے رہے۔ یہاں تک کہ پانچ نمازیں ہو گئیں۔ پانچ نمازوں پر بھی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو روکا اور کہا: اے محمد! میں نے اپنی قوم بنی اسرائیل کا تجربہ اس سے کم پر کیا ہے وہ ناتواں ثابت ہوئے اور انہوں نے چھوڑ دیا۔ آپ کی امت تو جسم، دل، بدن، نظر اور کان ہر اعتبار سے کمزور ہے، آپ واپس جائیے اور اللہ رب العزت اس میں بھی کمی کر دے گا۔ ہر مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جبرائیل علیہ السلام کی طرف متوجہ ہوتے تھے تاکہ ان سے مشورہ لیں اور جبرائیل علیہ السلام اسے ناپسند نہیں کرتے تھے۔ جب وہ آپ کو پانچویں مرتبہ بھی لے گئے تو عرض کیا: اے میرے رب! میری امت جسم، دل، نگاہ اور بند ہر حیثیت سے کمزور ہے، پس ہم سے اور کمی کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر فرمایا کہ وہ قول میرے یہاں بدلا نہیں جاتا جیسا کہ میں نے تم پر ام الکتاب میں فرض کیا ہے۔ اور فرمایا کہ ہر نیکی کا ثواب دس گناہ ہے پس یہ ام الکتاب میں پچاس نمازیں ہیں لیکن تم پر فرض پانچ ہی ہیں۔ چنانچہ آپ موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آئے اور انہوں نے پوچھا: کیا ہوا؟ آپ نے کہا کہ ہم سے یہ تخفیف کی کہ ہر نیکی کے بدلے دس کا ثواب ملے گا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ میں نے بنی اسرائیل کو اس سے کم پر آزمایا ہے اور انہوں نے چھوڑ دیا۔ پس آپ واپس جائیے اور مزید کمی کرائیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کہا: اے موسیٰ، واللہ! مجھے اپنے رب سے اب شرم آتی ہے کیونکہ باربار آ جا چکا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پھر اللہ کا نام لے کر اتر جاؤ۔ پھر جب آپ بیدار ہوئے تو مسجد الحرام میں تھے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد الحرام ہی میں تھے کہ جاگ اٹھے، جاگ اٹھنے سے یہ مراد ہے کہ وہ حالت معراج کی جاتی رہی اور آپ اپنی حالت میں آ گئے۔
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے امام مالک نے بیان کیا، ان سے زید بن اسلم نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یسار نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ جنت والوں سے کہے گا: اے جنت والو! وہ بولیں گے حاضر تیری خدمت کے لیے مستعد، ساری بھلائی تیرے دونوں ہاتھوں میں ہے۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا: کیا تم خوش ہو؟ وہ جواب دیں گے کیوں نہیں ہم خوش ہوں گے، اے رب! اور تو نے ہمیں وہ چیزیں عطا کی ہیں جو کسی مخلوق کو نہیں عطا کیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا میں تمہیں اس سے افضل انعام نہ دوں؟ جنتی پوچھیں گے: اے رب! اس سے افضل کیا چیز ہو سکتی ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں اپنی خوشی تم پر اتارتا ہوں اور اب کبھی تم سے ناراض نہیں ہوں گا۔“
حدثنا يحيى بن سليمان، حدثني ابن وهب، قال حدثني مالك، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد الخدري رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ان الله يقول لاهل الجنة يا اهل الجنة. فيقولون لبيك ربنا وسعديك والخير في يديك. فيقول هل رضيتم فيقولون وما لنا لا نرضى يا رب وقد اعطيتنا ما لم تعط احدا من خلقك. فيقول الا اعطيكم افضل من ذلك. فيقولون يا رب واى شىء افضل من ذلك فيقول احل عليكم رضواني فلا اسخط عليكم بعده ابدا
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہلال بن علی نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یسار نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن گفتگو کر رہے تھے، اس وقت آپ کے پاس ایک بدوی بھی تھا ( فرمایا ) کہ اہل جنت میں سے ایک شخص نے اللہ تعالیٰ سے کھیتی کی اجازت چاہی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کیا وہ سب کچھ تمہارے پاس نہیں ہے جو تم چاہتے ہو؟ وہ کہے گا کہ ضرور لیکن میں چاہتا ہوں کہ کھیتی کروں۔ چنانچہ بہت جلدی وہ بیج ڈالے گا اور پلک جھپکنے تک اس کا اگنا، برابر کٹنا اور پہاڑوں کی طرح غلے کے انبار لگ جانا ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کہے گا: ابن آدم! اسے لے لے، تیرے پیٹ کو کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔ دیہاتی نے کہا: یا رسول اللہ! اس کا مزہ تو قریشی یا انصاری ہی اٹھایں گے کیونکہ وہی کھیتی باڑی والے ہیں، ہم تو کسان ہیں نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات سن کر ہنسی آ گئی۔
حدثنا محمد بن سنان، حدثنا فليح، حدثنا هلال، عن عطاء بن يسار، عن ابي هريرة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يوما يحدث وعنده رجل من اهل البادية " ان رجلا من اهل الجنة استاذن ربه في الزرع فقال او لست فيما شيت. قال بلى ولكني احب ان ازرع. فاسرع وبذر فتبادر الطرف نباته واستواوه واستحصاده وتكويره امثال الجبال فيقول الله تعالى دونك يا ابن ادم فانه لا يشبعك شىء ". فقال الاعرابي يا رسول الله لا تجد هذا الا قرشيا او انصاريا فانهم اصحاب زرع، فاما نحن فلسنا باصحاب زرع. فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابووائل نے، ان سے عمرو بن شرجیل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا گناہ اللہ کے یہاں سب سے بڑا ہے؟ فرمایا یہ کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤ حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ میں نے کہا یہ تو بہت بڑا گناہ ہے۔ میں نے عرض کیا: پھر کون سا؟ فرمایا یہ کہ تم اپنے بچے کو اس خطرہ کی وجہ سے قتل کر دو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا۔ میں نے عرض کیا کہ پھر کون؟ فرمایا یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا جرير، عن منصور، عن ابي وايل، عن عمرو بن شرحبيل، عن عبد الله، قال سالت النبي صلى الله عليه وسلم اى الذنب اعظم عند الله قال " ان تجعل لله ندا وهو خلقك ". قلت ان ذلك لعظيم. قلت ثم اى قال " ثم ان تقتل ولدك تخاف ان يطعم معك ". قلت ثم اى قال " ثم ان تزاني بحليلة جارك
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے منصور نے بیان کیا، ان سے مجاہد نے بیان کیا، ان سے ابومعمر نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ خانہ کعبہ کے پاس دو ثقفی اور ایک قریشی یا ( یہ کہا کہ ) دو قریشی اور ایک ثقفی جمع ہوئے جن کے پیٹ کی چربی بہت تھی ( توند بڑی تھی ) اور جن میں سوجھ بوجھ کی بڑی کمی تھی۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ تمہارا خیال ہے کہ اللہ وہ سب کچھ سنتا ہے جو ہم کہتے ہیں۔ دوسرے نے کہا کہ جب ہم زور سے بولتے ہیں تو سنتا ہے لیکن اگر ہم آہستہ بولیں تو نہیں سنتا۔ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل کی «وما كنتم تستترون أن يشهد عليكم سمعكم ولا أبصاركم ولا جلودكم» ”تم جو دنیا میں چھپ کر گناہ کرتے تھے تو اس ڈر سے نہیں کہ تیرے کان تمہاری آنکھیں اور تمہارے چمڑے تمہارے خلاف قیامت کے دن گواہی دیں گے“ آخر تک۔
حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا منصور، عن مجاهد، عن ابي معمر، عن عبد الله رضى الله عنه قال اجتمع عند البيت ثقفيان وقرشي، او قرشيان وثقفي، كثيرة شحم بطونهم قليلة فقه قلوبهم فقال احدهم اترون ان الله يسمع ما نقول قال الاخر يسمع ان جهرنا ولا يسمع ان اخفينا وقال الاخر ان كان يسمع اذا جهرنا فانه يسمع اذا اخفينا. فانزل الله تعالى {وما كنتم تستترون ان يشهد عليكم سمعكم ولا ابصاركم ولا جلودكم} الاية
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم بن وردان نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ تم اہل کتاب سے ان کی کتابوں کے مسائل کے بارے میں کیونکر سوال کرتے ہو، تمہارے پاس خود اللہ کی کتاب موجود ہے جو زمانہ کے اعتبار سے بھی تم سے سب سے زیادہ قریب ہے، تم اسے پڑھتے ہو، وہ خالص ہے اس میں کوئی ملاوٹ نہیں۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا حاتم بن وردان، حدثنا ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال كيف تسالون اهل الكتاب عن كتبهم وعندكم كتاب الله اقرب الكتب عهدا بالله، تقرءونه محضا لم يشب
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اے مسلمانو! تم اہل کتاب سے کسی مسئلہ میں کیوں پوچھتے ہو۔ تمہاری کتاب جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی ہے وہ اللہ کے یہاں سے بالکل تازہ آئی ہے، خالص ہے اس میں کوئی ملاوٹ نہیں ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے خود تمہیں بتا دیا ہے کہ اہل کتاب نے اللہ کی کتابوں کو بدل ڈالا۔ وہ ہاتھ سے ایک کتاب لکھتے اور دعویٰ کرتے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے تھوڑی پونچی حاصل کریں، تم کو جو اللہ نے قرآن و حدیث کا علم دیا ہے کیا وہ تم کو اس سے منع نہیں کرتا کہ تم دین کی باتیں اہل کتاب سے پوچھو۔ اللہ کی قسم! ہم تو ان کے کسی آدمی کو نہیں دیکھتے کہ جو کچھ تمہارے اوپر نازل ہوا ہے اس کے متعلق وہ تم سے پوچھتے ہوں۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، اخبرني عبيد الله بن عبد الله، ان عبد الله بن عباس، قال يا معشر المسلمين كيف تسالون اهل الكتاب عن شىء وكتابكم الذي انزل الله على نبيكم صلى الله عليه وسلم احدث الاخبار بالله محضا لم يشب وقد حدثكم الله ان اهل الكتاب قد بدلوا من كتب الله وغيروا فكتبوا بايديهم، قالوا هو من عند الله. ليشتروا بذلك ثمنا قليلا، او لا ينهاكم ما جاءكم من العلم عن مسالتهم، فلا والله ما راينا رجلا منهم يسالكم عن الذي انزل عليكم
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن ابی عائشہ نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ( سورۃ القیامہ میں ) اللہ تعالیٰ کا ارشاد «لا تحرك به لسانك» کے متعلق کہ وحی نازل ہوتی ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کا بہت بار پڑتا ہے اور آپ اپنے ہونٹ ہلاتے۔ مجھ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں تمہیں ہلا کے دکھاتا ہوں جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہلاتے تھے۔ سعید نے کہا کہ جس طرح ابن عباس رضی اللہ عنہما ہونٹ ہلا کر دکھاتے تھے، میں تمہارے سامنے اسی طرح ہلاتا ہوں۔ چنانچہ انہوں نے اپنے ہونٹ ہلائے۔ ( ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ) اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «لا تحرك به لسانك لتعجل به * إن علينا جمعه وقرآنه» یعنی ”تمہارے سینے میں قرآن کا جما دینا اور اس کو پڑھا دینا ہمارا کام ہے جب ہم ( جبرائیل علیہ السلام کی زبان پر ) اس کو پڑھ چکیں اس وقت تم اس کے پڑھنے کی پیروی کرو۔“ مطلب یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام کے پڑھتے وقت کان لگا کر سنتے رہو اور خاموش رہو، یہ ہمارا ذمہ ہے کہ ہم تم سے ویسا ہی پڑھوا دیں گے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اس آیت کے اترنے کے بعد جب جبرائیل علیہ السلام آتے ( قرآن سناتے ) تو آپ کان لگا کر سنتے۔ جب جبرائیل علیہ السلام چلے جاتے تو آپ لوگوں کو اسی طرح پڑھ کر سنا دیتے جیسے جبرائیل علیہ السلام نے آپ کو پڑھ کر سنایا تھا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا ابو عوانة، عن موسى بن ابي عايشة، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، في قوله تعالى {لا تحرك به لسانك} قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يعالج من التنزيل شدة، وكان يحرك شفتيه فقال لي ابن عباس احركهما لك كما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحركهما فقال سعيد انا احركهما كما كان ابن عباس يحركهما فحرك شفتيه فانزل الله عز وجل {لا تحرك به لسانك لتعجل به * ان علينا جمعه وقرانه} قال جمعه في صدرك ثم تقروه. {فاذا قراناه فاتبع قرانه} قال فاستمع له وانصت ثم ان علينا ان تقراه. قال فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اتاه جبريل عليه السلام استمع فاذا انطلق جبريل قراه النبي صلى الله عليه وسلم كما اقراه
مجھ سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا، ان سے ہشیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ابوبشر نے خبر دی، انہیں سعید بن جبیر نے اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها» کے بارے میں کہ یہ آیت جب نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں چھپ کر ( اعمال اسلام ادا کرتے تھے ) لیکن جب اپنے صحابہ کو نماز پڑھاتے تو قرآن مجید بلند آواز سے پڑھتے، جب مشرکین سنتے تو قرآن مجید کو، اس کے اتارنے والے کو اور اسے لے کر آنے والے کو گالی دیتے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اپنی قرآت میں آواز بلند نہ کریں کہ مشرکین سنین اور پھر قرآن کو گالی دیں اور نہ اتنا آہستہ ہی پڑھیں کہ آپ کے صحابہ بھی نہ سن سکیں بلکہ ان کے درمیان کا راستہ اختیار کریں۔
حدثني عمرو بن زرارة، عن هشيم، اخبرنا ابو بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهما في قوله تعالى {ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها} قال نزلت ورسول الله صلى الله عليه وسلم مختف بمكة، فكان اذا صلى باصحابه رفع صوته بالقران، فاذا سمعه المشركون سبوا القران ومن انزله ومن جاء به، فقال الله لنبيه صلى الله عليه وسلم {ولا تجهر بصلاتك} اى بقراءتك، فيسمع المشركون، فيسبوا القران {ولا تخافت بها} عن اصحابك فلا تسمعهم {وابتغ بين ذلك سبيلا}
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ آیت «ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها» دعا کے بارے میں نازل ہوئی، یعنی دعا نہ بہت چلا کر مانگ نہ آہستہ بلکہ درمیانہ راستہ اختیار کر۔
حدثنا عبيد بن اسماعيل، حدثنا ابو اسامة، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت نزلت هذه الاية {ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها} في الدعاء
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعاصم نے، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، کہا ہم کو ابن شہاب نے خبر دی، انہیں ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو خوش آوازی سے قرآن نہیں پڑھتا وہ ہم مسلمانوں کے طریق پر نہیں ہے۔“ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے سوا دوسرے لوگوں نے اس حدیث میں اتنا زیادہ کیا ہے یعنی اس کو پکار کر نہ پڑھے۔
حدثنا اسحاق، حدثنا ابو عاصم، اخبرنا ابن جريج، اخبرنا ابن شهاب، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ليس منا من لم يتغن بالقران ". وزاد غيره " يجهر به
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”رشک صرف دو آدمیوں پر کیا جا سکتا ہے، ایک اس پر جسے اللہ نے قرآن کا علم دیا اور وہ اس کی تلاوت رات دن کرتا ہے تو ایک دیکھنے والا کہتا ہے کہ کاش مجھے بھی اسی جیسا قرآن کا علم ہوتا تو میں بھی اس کی طرح تلاوت کرتا رہتا اور دوسرا وہ شخص ہے جسے اللہ نے مال دیا اور وہ اسے اس کے حق میں خرچ کرتا ہے جسے دیکھنے والا کہتا ہے کہ کاش مجھے بھی اللہ اتنا مال دیتا تو میں بھی اسی طرح خرچ کرتا جیسے یہ کرتا ہے۔“
حدثنا قتيبة، حدثنا جرير، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تحاسد الا في اثنتين رجل اتاه الله القران فهو يتلوه اناء الليل واناء النهار، فهو يقول لو اوتيت مثل ما اوتي هذا، لفعلت كما يفعل. ورجل اتاه الله مالا فهو ينفقه في حقه فيقول لو اوتيت مثل ما اوتي عملت فيه مثل ما يعمل
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے سالم نے اور ان سے ان کے والد رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”رشک کے قابل تو دو ہی آدمی ہیں۔ ایک وہ جسے اللہ نے قرآن دیا اور وہ اس کی تلاوت رات دن کرتا رہتا ہے اور دوسرا وہ جسے اللہ نے مال دیا ہو اور وہ اسے رات و دن خرچ کرتا رہا۔“ علی بن عبداللہ نے کہا کہ میں نے یہ حدیث سفیان بن عیینہ سے کئی بار سنی «أخبرنا» کے لفظوں کے ساتھ انہیں کہتا سنا باوجود اس کے ان کی یہ حدیث صحیح اور متصل ہے۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال الزهري عن سالم، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا حسد الا في اثنتين رجل اتاه الله القران فهو يتلوه اناء الليل واناء النهار، ورجل اتاه الله مالا فهو ينفقه اناء الليل واناء النهار ". سمعت سفيان مرارا لم اسمعه يذكر الخبر وهو من صحيح حديثه
ہم سے فضل بن یعقوب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن جعفر الرقی نے بیان کیا، ان سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے سعید بن عبیداللہ ثقفی نے بیان کیا، ان سے بکر بن عبداللہ مزنی اور زیاد بن جبیر بن حیہ نے بیان کیا، ان سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے (ایران کی فوج کے سامنے) کہا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے رب کے پیغامات میں سے یہ پیغام پہنچایا کہ ہم میں سے جو ( فی سبیل اللہ ) قتل کیا جائے گا وہ جنت میں جائے گا۔
حدثنا الفضل بن يعقوب، حدثنا عبد الله بن جعفر الرقي، حدثنا المعتمر بن سليمان، حدثنا سعيد بن عبيد الله الثقفي، حدثنا بكر بن عبد الله المزني، وزياد بن جبير بن حية، عن جبير بن حية، قال المغيرة اخبرنا نبينا، صلى الله عليه وسلم عن رسالة، ربنا " انه من قتل منا صار الى الجنة
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثني سليمان، عن شريك بن عبد الله، انه قال سمعت ابن مالك، يقول ليلة اسري برسول الله صلى الله عليه وسلم من مسجد الكعبة انه جاءه ثلاثة نفر قبل ان يوحى اليه وهو نايم في المسجد الحرام، فقال اولهم ايهم هو فقال اوسطهم هو خيرهم. فقال اخرهم خذوا خيرهم. فكانت تلك الليلة، فلم يرهم حتى اتوه ليلة اخرى فيما يرى قلبه، وتنام عينه ولا ينام قلبه وكذلك الانبياء تنام اعينهم ولا تنام قلوبهم، فلم يكلموه حتى احتملوه فوضعوه عند بير زمزم فتولاه منهم جبريل فشق جبريل ما بين نحره الى لبته حتى فرغ من صدره وجوفه، فغسله من ماء زمزم بيده، حتى انقى جوفه، ثم اتي بطست من ذهب فيه تور من ذهب محشوا ايمانا وحكمة، فحشا به صدره ولغاديده يعني عروق حلقه ثم اطبقه ثم عرج به الى السماء الدنيا فضرب بابا من ابوابها فناداه اهل السماء من هذا فقال جبريل. قالوا ومن معك قال معي محمد. قال وقد بعث قال نعم. قالوا فمرحبا به واهلا. فيستبشر به اهل السماء، لا يعلم اهل السماء بما يريد الله به في الارض حتى يعلمهم، فوجد في السماء الدنيا ادم فقال له جبريل هذا ابوك فسلم عليه. فسلم عليه ورد عليه ادم وقال مرحبا واهلا بابني، نعم الابن انت. فاذا هو في السماء الدنيا بنهرين يطردان فقال ما هذان النهران يا جبريل قال هذا النيل والفرات عنصرهما. ثم مضى به في السماء فاذا هو بنهر اخر عليه قصر من لولو وزبرجد فضرب يده فاذا هو مسك قال ما هذا يا جبريل قال هذا الكوثر الذي خبا لك ربك. ثم عرج الى السماء الثانية فقالت الملايكة له مثل ما قالت له الاولى من هذا قال جبريل. قالوا ومن معك قال محمد صلى الله عليه وسلم. قالوا وقد بعث اليه قال نعم. قالوا مرحبا به واهلا. ثم عرج به الى السماء الثالثة وقالوا له مثل ما قالت الاولى والثانية، ثم عرج به الى الرابعة فقالوا له مثل ذلك، ثم عرج به الى السماء الخامسة فقالوا مثل ذلك، ثم عرج به الى السماء السادسة فقالوا له مثل ذلك، ثم عرج به الى السماء السابعة فقالوا له مثل ذلك، كل سماء فيها انبياء قد سماهم فاوعيت منهم ادريس في الثانية، وهارون في الرابعة، واخر في الخامسة لم احفظ اسمه، وابراهيم في السادسة، وموسى في السابعة بتفضيل كلام الله، فقال موسى رب لم اظن ان يرفع على احد. ثم علا به فوق ذلك بما لا يعلمه الا الله، حتى جاء سدرة المنتهى ودنا الجبار رب العزة فتدلى حتى كان منه قاب قوسين او ادنى فاوحى الله فيما اوحى اليه خمسين صلاة على امتك كل يوم وليلة. ثم هبط حتى بلغ موسى فاحتبسه موسى فقال يا محمد ماذا عهد اليك ربك قال عهد الى خمسين صلاة كل يوم وليلة. قال ان امتك لا تستطيع ذلك فارجع فليخفف عنك ربك وعنهم. فالتفت النبي صلى الله عليه وسلم الى جبريل كانه يستشيره في ذلك، فاشار اليه جبريل ان نعم ان شيت. فعلا به الى الجبار فقال وهو مكانه يا رب خفف عنا، فان امتي لا تستطيع هذا. فوضع عنه عشر صلوات ثم رجع الى موسى فاحتبسه، فلم يزل يردده موسى الى ربه حتى صارت الى خمس صلوات، ثم احتبسه موسى عند الخمس فقال يا محمد والله لقد راودت بني اسراييل قومي على ادنى من هذا فضعفوا فتركوه فامتك اضعف اجسادا وقلوبا وابدانا وابصارا واسماعا، فارجع فليخفف عنك ربك، كل ذلك يلتفت النبي صلى الله عليه وسلم الى جبريل ليشير عليه ولا يكره ذلك جبريل، فرفعه عند الخامسة فقال يا رب ان امتي ضعفاء اجسادهم وقلوبهم واسماعهم وابدانهم فخفف عنا فقال الجبار يا محمد. قال لبيك وسعديك. قال انه لا يبدل القول لدى، كما فرضت عليك في ام الكتاب قال فكل حسنة بعشر امثالها، فهى خمسون في ام الكتاب وهى خمس عليك. فرجع الى موسى فقال كيف فعلت فقال خفف عنا اعطانا بكل حسنة عشر امثالها. قال موسى قد والله راودت بني اسراييل على ادنى من ذلك فتركوه، ارجع الى ربك فليخفف عنك ايضا. قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يا موسى قد والله استحييت من ربي مما اختلفت اليه. قال فاهبط باسم الله. قال واستيقظ وهو في مسجد الحرام