Loading...

Loading...
کتب
۱۹۳ احادیث
ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے ابوالعالیہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پریشانی کے وقت کرتے تھے «لا إله إلا الله العظيم الحليم، لا إله إلا الله رب العرش العظيم، لا إله إلا الله رب السموات ورب العرش الكريم» ”کوئی معبود اللہ کے سوا نہیں جو عظیم ہے اور بردبار ہے، کوئی معبود اللہ کے سوا نہیں جو عرش عظیم کا رب ہے، کوئی معبود اللہ کے سوا نہیں جو آسمانوں کا رب ہے اور عرش کریم کا رب ہے۔
حدثنا عبد الاعلى بن حماد، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن ابي العالية، عن ابن عباس، ان نبي الله صلى الله عليه وسلم كان يدعو بهن عند الكرب " لا اله الا الله العظيم الحليم، لا اله الا الله رب العرش العظيم، لا اله الا الله رب السموات ورب العرش الكريم
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، ان سے ابن ابی نعم یا ابونعم نے۔۔۔ قبیصہ کو شک تھا۔۔۔ اور ان سے ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ سونا بھیجا گیا تو آپ نے اسے چار آدمیوں میں تقسیم کر دیا۔ اور مجھ سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، ان سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں سفیان نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے، انہیں ابن ابی نعم نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے کچھ سونا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اقرع بن حابس حنظلی، عیینہ بن بدری فزاری، علقمہ بن علاثہ العامری اور زید الخیل الطائی میں تقسیم کر دیا۔ اس پر قریش اور انصار کو غصہ آ گیا اور انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نجد کے رئیسوں کو تو دیتے ہیں اور ہمیں چھوڑ دیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ایک مصلحت کے لیے ان کا دل بہلاتا ہوں۔ پھر ایک شخص جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں، پیشانی ابھری ہوئی تھی، داڑھی گھنی تھی، دونوں کلے پھولے ہوئے تھے اور سر گٹھا ہوا تھا۔ اس مردود نے کہا: اے محمد! اللہ سے ڈر۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں بھی اس ( اللہ ) کی نافرمانی کروں گا تو پھر کون اس کی اطاعت کرے گا؟ اس نے مجھے زمین پر امین بنایا ہے اور تم مجھے امین نہیں سمجھتے۔ پھر حاضرین میں سے ایک صحابی خالد رضی اللہ عنہ یا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے قتل کی اجازت چاہی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔ پھر جب وہ جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن کے صرف لفظ پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ اسلام سے اس طرح نکال کر پھینک دئیے جائیں گے جس طرح تیر شکاری جانور میں سے پار نکل جاتا ہے، وہ اہل اسلام کو ( کافر کہہ کر ) قتل کریں اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے اگر میں نے ان کا دور پایا تو انہیں قوم عاد کی طرح نیست و نابود کر دوں گا۔
حدثنا قبيصة، حدثنا سفيان، عن ابيه، عن ابن ابي نعم او ابي نعم شك قبيصة عن ابي سعيد، قال بعث الى النبي صلى الله عليه وسلم بذهيبة فقسمها بين اربعة. وحدثني اسحاق بن نصر حدثنا عبد الرزاق اخبرنا سفيان عن ابيه عن ابن ابي نعم عن ابي سعيد الخدري قال بعث علي وهو باليمن الى النبي صلى الله عليه وسلم بذهيبة في تربتها، فقسمها بين الاقرع بن حابس الحنظلي ثم احد بني مجاشع، وبين عيينة بن بدر الفزاري، وبين علقمة بن علاثة العامري ثم احد بني كلاب، وبين زيد الخيل الطايي ثم احد بني نبهان، فتغضبت قريش والانصار فقالوا يعطيه صناديد اهل نجد ويدعنا قال " انما اتالفهم ". فاقبل رجل غاير العينين، ناتي الجبين، كث اللحية، مشرف الوجنتين، محلوق الراس فقال يا محمد اتق الله. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " فمن يطيع الله اذا عصيته فيامني على اهل الارض، ولا تامنوني ". فسال رجل من القوم قتله اراه خالد بن الوليد فمنعه النبي صلى الله عليه وسلم فلما ولى قال النبي صلى الله عليه وسلم " ان من ضيضي هذا قوما يقرءون القران لا يجاوز حناجرهم، يمرقون من الاسلام مروق السهم من الرمية، يقتلون اهل الاسلام ويدعون اهل الاوثان، لين ادركتهم لاقتلنهم قتل عاد
ہم سے عیاش بن الولید نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آیت «والشمس تجري لمستقر لها» کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا مستقر عرش کے نیچے ہے۔
حدثنا عياش بن الوليد، حدثنا وكيع، عن الاعمش، عن ابراهيم التيمي، عن ابيه، عن ابي ذر، قال سالت النبي صلى الله عليه وسلم عن قوله {والشمس تجري لمستقر لها} قال " مستقرها تحت العرش
ہم سے عمر بن عون نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد اور ہشیم نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، ان سے قیس نے اور ان سے جریر رضی اللہ عنہ نے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے تھے کہ آپ نے چاند کی طرف دیکھا، چودھوریں رات کا چاند تھا اور فرمایا کہ تم لوگ اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو اور اس کے دیکھنے میں کوئی دھکم پیل نہیں ہو گی۔ پس اگر تمہیں اس کی طاقت ہو کہ سورج طلوع ہونے کے پہلے اور سورج غروب ہونے کے بعد کی نمازوں میں سستی نہ ہو تو ایسا کر لو۔
حدثنا عمرو بن عون، حدثنا خالد، وهشيم، عن اسماعيل، عن قيس، عن جرير، قال كنا جلوسا عند النبي صلى الله عليه وسلم اذ نظر الى القمر ليلة البدر قال " انكم سترون ربكم كما ترون هذا القمر لا تضامون في رويته، فان استطعتم ان لا تغلبوا على صلاة قبل طلوع الشمس وصلاة قبل غروب الشمس، فافعلوا
ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عاصم بن یوسف الیربوعی نے بیان کیا، ان سے ابوشہاب نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا اور ان سے جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنے رب کو صاف صاف دیکھو گے۔
حدثنا يوسف بن موسى، حدثنا عاصم بن يوسف اليربوعي، حدثنا ابو شهاب، عن اسماعيل بن ابي خالد، عن قيس بن ابي حازم، عن جرير بن عبد الله، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " انكم سترون ربكم عيانا
ہم سے عبدۃ بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حسین جعفی نے بیان کیا ان سے زائد نے، ان سے بیان بن بشر نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے جریر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چودھویں رات کو ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ تم اپنے رب کو قیامت کے دن اس طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو۔ اس کے دیکھنے میں کوئی مزاحمت نہیں ہو گی۔ کھلم کھلا دیکھو گے، بےتکلف، بےمشقت، بےزحمت۔
حدثنا عبدة بن عبد الله، حدثنا حسين الجعفي، عن زايدة، حدثنا بيان بن بشر، عن قيس بن ابي حازم، حدثنا جرير، قال خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة البدر فقال " انكم سترون ربكم يوم القيامة كما ترون هذا، لا تضامون في رويته
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عطاء بن یزید لیثی نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، کیا چودھویں رات کا چاند دیکھنے میں کوئی دشواری ہوتی ہے؟ لوگوں نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ! پھر آپ نے پوچھا کیا جب بادل نہ ہوں تو تمہیں سورج کو دیکھنے میں کوئی دشواری ہوتی ہے؟ لوگوں نے کہا نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم اسی طرح اللہ تعالیٰ کو دیکھو گے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو جمع کرے گا اور فرمائے گا کہ تم میں جو کوئی جس چیز کی پوجا پاٹ کیا کرتا تھا وہ اس کے پیچھے لگ جائے۔ چنانچہ جو سورج کی پوجا کرتا تھا وہ سورج کے پیچھے ہو جائے گا، جو چاند کی پوجا کرتا تھا وہ چاند کے پیچھے ہو جائے گا اور جو بتوں کی پوجا کرتا تھا وہ بتوں کے پیچھے لگ جائے گا ( اسی طرح قبروں، تعزیوں کے پجاری قبروں، تعزیوں کے پیچھے لگ جائیں گے ) پھر یہ امت باقی رہ جائے گی اس میں بڑے درجہ کے شفاعت کرنے والے بھی ہوں گے یا منافق بھی ہوں گے ابراہیم کو ان لفظوں میں شک تھا۔ پھر اللہ ان کے پاس آئے گا اور فرمائے گا کہ میں تمہارا رب ہوں، وہ جواب دیں گے کہ ہم یہیں رہیں گے۔ یہاں تک کہ ہمارا رب آ جائے، جب ہمارا رب آ جائے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ان کے پاس اس صورت میں آئے گا جسے وہ پہچانتے ہوں گے اور فرمائے گا کہ میں تمہارا رب ہوں، وہ اقرار کریں گے کہ تو ہمارا رب ہے۔ چنانچہ وہ اس کے پیچھے ہو جائیں گے اور دوزخ کی پیٹھ پر پل صراط نصب کر دیا جائے گا اور میں اور میری امت سب سے پہلے اس کو پار کرنے والے ہوں گے اور اس دن صرف انبیاء بات کر سکیں گے اور انبیاء کی زبان پر یہ ہو گا۔ اے اللہ! مجھ کو محفوظ رکھ، مجھ کو محفوظ رکھ۔ اور دوزخ میں درخت سعدان کے کانٹوں کی طرح آنکڑے ہوں گے۔ کیا تم نے سعدان دیکھا ہے؟ لوگوں نے جواب دیا کہ جی ہاں، یا رسول اللہ! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ سعدان کے کانٹوں ہی کی طرح ہوں گے البتہ وہ اتنے بڑے ہوں گے کہ اس کا طول و عرض اللہ کے سوا اور کسی کو معلوم نہ ہو گا۔ وہ لوگوں کو ان کے اعمال کے بدلے میں اچک لیں گے تو ان میں سے کچھ وہ ہوں گے جو تباہ ہونے والے ہوں گے اور اپنے عمل بد کی وجہ سے وہ دوزخ میں گر جائیں گے یا اپنے عمل کے ساتھ بندھے ہوں گے اور ان میں بعض ٹکڑے کر دئیے جائیں گے یا بدلہ دئیے جائیں گے یا اسی جیسے الفاظ بیان کئے۔ پھر اللہ تعالیٰ تجلی فرمائے گا اور جب بندوں کے درمیان فیصلہ کر کے فارغ ہو گا اور دوزخیوں میں سے جسے اپنی رحمت سے باہر نکالنا چاہے گا تو فرشتوں کو حکم دے گا کہ جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے انہیں دوزخ سے باہر نکالیں، یہ وہ لوگ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ رحم کرنا چاہے گا۔ ان میں سے جنہوں نے کلمہ لا الہٰ الا اللہ کا اقرار کیا تھا۔ چنانچہ فرشتے انہیں سجدوں کے نشان سے دوزخ میں پہچانیں گے۔ دوزخ ابن آدم کا ہر عضو جلا کر بھسم کر دے گی سوا سجدہ کے نشان کے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دوزخ پر حرام کیا ہے کہ وہ سجدوں کے نشان کو جلائے ( یا اللہ! ہم گنہگاروں کو دوزخ سے محفوظ رکھیو ہم کو تیری رحمت سے یہی امید ہے ) چنانچہ یہ لوگ دوزخ سے اس حال میں نکالے جائیں گے کہ یہ جل بھن چکے ہوں گے۔ پھر ان پر آب حیات ڈالا جائے گا اور یہ اس کے نیچے سے اس طرح اگ کر نکلیں گے جس طرح سیلاب کے کوڑے کرکٹ سے سبزہ اگ آتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلہ سے فارغ ہو گا۔ ایک شخص باقی رہ جائے گا جس کا چہرہ دوزخ کی طرف ہو گا، وہ ان دوزخیوں میں سب سے آخری انسان ہو گا جسے جنت میں داخل ہونا ہے۔ وہ کہے گا: اے رب! میرا منہ دوزخ سے پھیر دے کیونکہ مجھے اس کی گرم ہوا نے پریشان کر رکھا ہے اور اس کی تیزی نے جھلسا ڈالا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ سے وہ اس وقت تک دعا کرتا رہے گا جب تک اللہ چاہے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا اگر میں تیرا یہ سوال پورا کر دوں گا تو تو مجھ سے کچھ اور مانگے گا؟ وہ کہے گا نہیں، تیری عزت کی قسم! اس کے سوا اور کوئی چیز نہیں مانگوں گا اور وہ شخص اللہ رب العزت سے بڑے عہد و پیمان کرے گا۔ چنانچہ اللہ اس کا منہ دوزخ کی طرف سے پھیر دے گا۔ پھر جب وہ جنت کی طرف رخ کرے گا اور اسے دیکھے گا تو اتنی دیر خاموش رہے گا جتنی دیر اللہ تعالیٰ اسے خاموش رہنے دینا چاہے گا۔ پھر وہ کہے گا: اے رب! مجھے صرف جنت کے دروازے تک پہنچا دے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تو نے وعدہ نہیں کیا تھا کہ جو کچھ میں نے دیا ہے اس کے سوا اور کچھ کبھی تو نہیں مانگے گا؟ افسوس ابن آدم تو کتنا وعدہ خلاف ہے۔ پھر وہ کہے گا: اے رب! اور اللہ سے دعا کرے گا۔ آخر اللہ تعالیٰ پوچھے گا کیا اگر میں نے تیرا یہ سوال پورا کر دیا تو اس کے سوا کچھ اور مانگے گا؟ وہ کہے گا تیری عزت کی قسم! اس کے سوا اور کچھ نہیں مانگوں گا اور جتنے اللہ چاہے گا وہ شخص وعدہ کرے گا۔ چنانچہ اسے جنت کے دروازے تک پہنچا دے گا۔ پھر جب وہ جنت کے دروازے پر کھڑا ہو جائے گا تو جنت اسے سامنے نظر آئے گی اور دیکھے گا کہ اس کے اندر کس قدر خیریت اور مسرت ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ جتنی دیر چاہے گا وہ شخص خاموش رہے گا۔ پھر کہے گا: اے رب! مجھے جنت میں پہنچا دے۔ اللہ تعالیٰ اس پر کہے گا کیا تو نے وعدہ نہیں کیا تھا کہ جو کچھ میں نے تجھے دے دیا ہے اس کے سوا تو اور کچھ نہیں مانگے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا افسوس! ابن آدم تو کتنا وعدہ خلاف ہے۔ وہ کہے گا: اے رب! مجھے اپنی مخلوق میں سب سے بڑھ کر بدبخت نہ بنا۔ چنانچہ وہ مسلسل دعا کرتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کی دعاؤں پر ہنس دے گا، جب ہنس دے گا تو اس کے متعلق کہے گا کہ اسے جنت میں داخل کر دو۔ جنت میں اسے داخل کر دے گا تو اس سے فرمائے گا کہ اپنی آرزوئیں بیان کر، وہ اپنی تمام آرزوئیں بیان کر دے گا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے یاد دلائے گا۔ وہ کہے گا کہ فلاں چیز، فلاں چیز، یہاں تک کہ اس کی آرزوئیں ختم ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ یہ آرزوئیں اور انہی جیسی تمہیں ملیں گی۔ ( «اللھم ارزقنا آمین»)
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عطاء بن یزید لیثی نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، کیا چودھویں رات کا چاند دیکھنے میں کوئی دشواری ہوتی ہے؟ لوگوں نے عرض کیا نہیں یا رسول اللہ! پھر آپ نے پوچھا کیا جب بادل نہ ہوں تو تمہیں سورج کو دیکھنے میں کوئی دشواری ہوتی ہے؟ لوگوں نے کہا نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم اسی طرح اللہ تعالیٰ کو دیکھو گے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ لوگوں کو جمع کرے گا اور فرمائے گا کہ تم میں جو کوئی جس چیز کی پوجا پاٹ کیا کرتا تھا وہ اس کے پیچھے لگ جائے۔ چنانچہ جو سورج کی پوجا کرتا تھا وہ سورج کے پیچھے ہو جائے گا، جو چاند کی پوجا کرتا تھا وہ چاند کے پیچھے ہو جائے گا اور جو بتوں کی پوجا کرتا تھا وہ بتوں کے پیچھے لگ جائے گا ( اسی طرح قبروں، تعزیوں کے پجاری قبروں، تعزیوں کے پیچھے لگ جائیں گے ) پھر یہ امت باقی رہ جائے گی اس میں بڑے درجہ کے شفاعت کرنے والے بھی ہوں گے یا منافق بھی ہوں گے ابراہیم کو ان لفظوں میں شک تھا۔ پھر اللہ ان کے پاس آئے گا اور فرمائے گا کہ میں تمہارا رب ہوں، وہ جواب دیں گے کہ ہم یہیں رہیں گے۔ یہاں تک کہ ہمارا رب آ جائے، جب ہمارا رب آ جائے گا تو ہم اسے پہچان لیں گے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ان کے پاس اس صورت میں آئے گا جسے وہ پہچانتے ہوں گے اور فرمائے گا کہ میں تمہارا رب ہوں، وہ اقرار کریں گے کہ تو ہمارا رب ہے۔ چنانچہ وہ اس کے پیچھے ہو جائیں گے اور دوزخ کی پیٹھ پر پل صراط نصب کر دیا جائے گا اور میں اور میری امت سب سے پہلے اس کو پار کرنے والے ہوں گے اور اس دن صرف انبیاء بات کر سکیں گے اور انبیاء کی زبان پر یہ ہو گا۔ اے اللہ! مجھ کو محفوظ رکھ، مجھ کو محفوظ رکھ۔ اور دوزخ میں درخت سعدان کے کانٹوں کی طرح آنکڑے ہوں گے۔ کیا تم نے سعدان دیکھا ہے؟ لوگوں نے جواب دیا کہ جی ہاں، یا رسول اللہ! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ سعدان کے کانٹوں ہی کی طرح ہوں گے البتہ وہ اتنے بڑے ہوں گے کہ اس کا طول و عرض اللہ کے سوا اور کسی کو معلوم نہ ہو گا۔ وہ لوگوں کو ان کے اعمال کے بدلے میں اچک لیں گے تو ان میں سے کچھ وہ ہوں گے جو تباہ ہونے والے ہوں گے اور اپنے عمل بد کی وجہ سے وہ دوزخ میں گر جائیں گے یا اپنے عمل کے ساتھ بندھے ہوں گے اور ان میں بعض ٹکڑے کر دئیے جائیں گے یا بدلہ دئیے جائیں گے یا اسی جیسے الفاظ بیان کئے۔ پھر اللہ تعالیٰ تجلی فرمائے گا اور جب بندوں کے درمیان فیصلہ کر کے فارغ ہو گا اور دوزخیوں میں سے جسے اپنی رحمت سے باہر نکالنا چاہے گا تو فرشتوں کو حکم دے گا کہ جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے تھے انہیں دوزخ سے باہر نکالیں، یہ وہ لوگ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ رحم کرنا چاہے گا۔ ان میں سے جنہوں نے کلمہ لا الہٰ الا اللہ کا اقرار کیا تھا۔ چنانچہ فرشتے انہیں سجدوں کے نشان سے دوزخ میں پہچانیں گے۔ دوزخ ابن آدم کا ہر عضو جلا کر بھسم کر دے گی سوا سجدہ کے نشان کے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دوزخ پر حرام کیا ہے کہ وہ سجدوں کے نشان کو جلائے ( یا اللہ! ہم گنہگاروں کو دوزخ سے محفوظ رکھیو ہم کو تیری رحمت سے یہی امید ہے ) چنانچہ یہ لوگ دوزخ سے اس حال میں نکالے جائیں گے کہ یہ جل بھن چکے ہوں گے۔ پھر ان پر آب حیات ڈالا جائے گا اور یہ اس کے نیچے سے اس طرح اگ کر نکلیں گے جس طرح سیلاب کے کوڑے کرکٹ سے سبزہ اگ آتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلہ سے فارغ ہو گا۔ ایک شخص باقی رہ جائے گا جس کا چہرہ دوزخ کی طرف ہو گا، وہ ان دوزخیوں میں سب سے آخری انسان ہو گا جسے جنت میں داخل ہونا ہے۔ وہ کہے گا: اے رب! میرا منہ دوزخ سے پھیر دے کیونکہ مجھے اس کی گرم ہوا نے پریشان کر رکھا ہے اور اس کی تیزی نے جھلسا ڈالا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ سے وہ اس وقت تک دعا کرتا رہے گا جب تک اللہ چاہے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا اگر میں تیرا یہ سوال پورا کر دوں گا تو تو مجھ سے کچھ اور مانگے گا؟ وہ کہے گا نہیں، تیری عزت کی قسم! اس کے سوا اور کوئی چیز نہیں مانگوں گا اور وہ شخص اللہ رب العزت سے بڑے عہد و پیمان کرے گا۔ چنانچہ اللہ اس کا منہ دوزخ کی طرف سے پھیر دے گا۔ پھر جب وہ جنت کی طرف رخ کرے گا اور اسے دیکھے گا تو اتنی دیر خاموش رہے گا جتنی دیر اللہ تعالیٰ اسے خاموش رہنے دینا چاہے گا۔ پھر وہ کہے گا: اے رب! مجھے صرف جنت کے دروازے تک پہنچا دے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تو نے وعدہ نہیں کیا تھا کہ جو کچھ میں نے دیا ہے اس کے سوا اور کچھ کبھی تو نہیں مانگے گا؟ افسوس ابن آدم تو کتنا وعدہ خلاف ہے۔ پھر وہ کہے گا: اے رب! اور اللہ سے دعا کرے گا۔ آخر اللہ تعالیٰ پوچھے گا کیا اگر میں نے تیرا یہ سوال پورا کر دیا تو اس کے سوا کچھ اور مانگے گا؟ وہ کہے گا تیری عزت کی قسم! اس کے سوا اور کچھ نہیں مانگوں گا اور جتنے اللہ چاہے گا وہ شخص وعدہ کرے گا۔ چنانچہ اسے جنت کے دروازے تک پہنچا دے گا۔ پھر جب وہ جنت کے دروازے پر کھڑا ہو جائے گا تو جنت اسے سامنے نظر آئے گی اور دیکھے گا کہ اس کے اندر کس قدر خیریت اور مسرت ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ جتنی دیر چاہے گا وہ شخص خاموش رہے گا۔ پھر کہے گا: اے رب! مجھے جنت میں پہنچا دے۔ اللہ تعالیٰ اس پر کہے گا کیا تو نے وعدہ نہیں کیا تھا کہ جو کچھ میں نے تجھے دے دیا ہے اس کے سوا تو اور کچھ نہیں مانگے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا افسوس! ابن آدم تو کتنا وعدہ خلاف ہے۔ وہ کہے گا: اے رب! مجھے اپنی مخلوق میں سب سے بڑھ کر بدبخت نہ بنا۔ چنانچہ وہ مسلسل دعا کرتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کی دعاؤں پر ہنس دے گا، جب ہنس دے گا تو اس کے متعلق کہے گا کہ اسے جنت میں داخل کر دو۔ جنت میں اسے داخل کر دے گا تو اس سے فرمائے گا کہ اپنی آرزوئیں بیان کر، وہ اپنی تمام آرزوئیں بیان کر دے گا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے یاد دلائے گا۔ وہ کہے گا کہ فلاں چیز، فلاں چیز، یہاں تک کہ اس کی آرزوئیں ختم ہو جائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ یہ آرزوئیں اور انہی جیسی تمہیں ملیں گی۔ ( «اللھم ارزقنا آمین»)
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے، ان سے خالد بن یزید نے، ان سے سعید بن ابی ہلال نے، ان سے زید بن اسلم نے، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے کہا: یا رسول اللہ! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا تم کو سورج اور چاند دیکھنے میں کچھ تکلیف ہوتی ہے جب کہ آسمان بھی صاف ہو؟ ہم نے کہا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ پھر اپنے رب کے دیدار میں تمہیں کوئی تکلیف نہیں پیش آئے گی جس طرح سورج اور چاند کو دیکھنے میں نہیں پیش آتی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک آواز دینے والا آواز دے گا کہ ہر قوم اس کے ساتھ جائے جس کی وہ پوجا کیا کرتی تھی۔ چنانچہ صلیب کے پجاری اپنی صلیب کے ساتھ، بتوں کے پجاری اپنے بتوں کے ساتھ، تمام جھوٹے معبودوں کے پجاری اپنے جھوٹے معبودوں کے ساتھ چلے جائیں گے اور صرف وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جو خالص اللہ کی عبادت کرنے والے تھے۔ ان میں نیک و بد دونوں قسم کے مسلمانوں ہوں گے اور اہل کتاب کے کچھ باقی ماندہ لوگ بھی ہوں گے۔ پھر دوزخ ان کے سامنے پیش کی جائے گی وہ ایسی چمکدار ہو گی جیسے میدان کا ریت ہوتا ہے۔ ( جو دور سے پانی معلوم ہوتا ہے ) پھر یہود سے پوچھا جائے گا کہ تم کس کے پوجا کرتے تھے۔ وہ کہیں گے کہ ہم عزیر ابن اللہ کی پوجا کیا کرتے تھے۔ انہیں جواب ملے گا کہ تم جھوٹے ہو اللہ کے نہ کوئی بیوی ہے اور نہ کوئی لڑکا۔ تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے کہ ہم پانی پینا چاہتے ہیں کہ ہمیں اس سے سیراب کیا جائے۔ ان سے کہا جائے گا کہ پیو وہ اس چمکتی ریت کی طرف پانی جان کر چلیں گے اور پھر وہ جہنم میں ڈال دئیے جائیں گے۔ پھر نصاریٰ سے کہا جائے گا کہ تم کس کی پوجا کرتے تھے؟ وہ جواب دیں گے کہ ہم مسیح ابن اللہ کی پوجا کرتے تھے۔ ان سے کہا جائے گا کہ تم جھوٹے ہو۔ اللہ کے نہ بیوی تھی اور نہ کوئی بچہ، اب تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے کہ ہم چاہتے ہیں کہ پانی سے سیراب کئے جائیں۔ ان سے کہا جائے گا کہ پیو ( ان کو بھی اس چمکتی ریت کی طرف چلایا جائے گا ) اور انہیں بھی جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ یہاں تک کہ وہی باقی رہ جائیں گے جو خالص اللہ کی عبادت کرتے تھے، نیک و بد دونوں قسم کے مسلمان، ان سے کہا جائے گا کہ تم لوگ کیوں رکے ہوئے ہو جب کہ سب لوگ جا چکے ہیں؟ وہ کہیں گے ہم دنیا میں ان سے ایسے وقت جدا ہوئے کہ ہمیں ان کی دنیاوی فائدوں کے لیے بہت زیادہ ضرورت تھی اور ہم نے ایک آواز دینے والے کو سنا ہے کہ ہر قوم اس کے ساتھ ہو جائے جس کی وہ عبادت کرتی تھی اور ہم اپنے رب کے منتظر ہیں۔ بیان کیا کہ پھر اللہ جبار ان کے سامنے اس صورت کے علاوہ دوسری صورت میں آئے گا جس میں انہوں نے اسے پہلی مرتبہ دیکھا ہو گا اور کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں! لوگ کہیں گے کہ تو ہی ہمارا رب ہے اور اس دن انبیاء کے سوا اور کوئی بات نہیں کرے گا۔ پھر پوچھے گا: کیا تمہیں اس کی کوئی نشانی معلوم ہے؟ وہ کہیں گے کہ «ساق.» پنڈلی، پھر اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کھولے گا اور ہر مومن اس کے لیے سجدہ میں گر جائے گا۔ صرف وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جو دکھاوے اور شہرت کے لیے اسے سجدہ کرتے تھے، وہ بھی سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی پیٹھ تختہ کی طرح ہو کر رہ جائے گی۔ پھر انہیں پل پر لایا جائے گا۔ ہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! پل کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا , وہ ایک پھسلواں گرنے کا مقام ہے اس پر سنسنیاں ہیں، آنکڑے ہیں، چوڑے چوڑے کانٹے ہیں، ان کے سر خمدار سعدان کے کانٹوں کی طرح ہیں جو نجد کے ملک میں ہوتے ہیں۔ مومن اس پر پلک مارنے کی طرح، بجلی کی طرح، ہوا کی طرح، تیز رفتار گھوڑے اور سواری کی طرح گزر جائیں گے۔ ان میں بعض تو صحیح سلامت نجات پانے والے ہوں گے اور بعض جہنم کی آگ سے جھلس کر بچ نکلنے والے ہوں گے یہاں تک کہ آخری شخص اس پر سے گھسٹتے ہوئے گزرے گا تم لوگ آج کے دن اپنا حق لینے کے لیے جتنا تقاضا اور مطالبہ مجھ سے کرتے ہو اس سے زیادہ مسلمان لوگ اللہ سے تقاضا اور مطالبہ کریں گے اور جب وہ دیکھیں گے کہ اپنے بھائیوں میں سے انہیں نجات ملی ہے تو وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب! ہمارے بھائی بھی ہمارے ساتھ نماز پڑھتے تھے اور ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے اور ہمارے ساتھ دوسرے ( نیک ) اعمال کرتے تھے ( ان کو بھی دوزخ سے نجات فرما ) چنانچہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جاؤ اور جس کے دل میں ایک اشرفی کے برابر بھی ایمان پاؤ اسے دوزخ سے نکال لو اور اللہ ان کے چہروں کو دوزخ پر حرام کر دے گا۔ چنانچہ وہ آئیں گے اور دیکھیں گے کہ بعض کا تو جہنم میں قدم اور آدھی پنڈلی جلی ہوئی ہے۔ چنانچہ جنہیں وہ پہچانیں گے انہیں دوزخ سے نکالیں گے، پھر واپس آئیں گے اور اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ جاؤ اور جس کے دل میں آدھی اشرفی کے برابر بھی ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ۔ چنانچہ جن کو وہ پہچانتے ہوں گے ان کو نکالیں گے۔ پھر وہ واپس آئیں گے اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جاؤ اور جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ۔ چنانچہ پہچانے جانے والوں کو نکالیں گے۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ اگر تم میری تصدیق نہیں کرتے تو یہ آیت پڑھو «إن الله لا يظلم مثقال ذرة وإن تك حسنة يضاعفها» ”اللہ تعالیٰ ذرہ برابر بھی کسی پر ظلم نہیں کرتا۔“ اگر نیکی ہے تو اسے بڑھاتا ہے۔ پھر انبیاء اور مومنین اور فرشتے شفاعت کریں گے اور پروردگار کا ارشاد ہو گا کہ اب خاص میری شفاعت باقی رہ گئی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ دوزخ سے ایک مٹھی بھر لے گا اور ایسے لوگوں کو نکالے گا جو کوئلہ ہو گئے ہوں گے۔ پھر وہ جنت کے سرے پر ایک نہر میں ڈال دئیے جائیں گے جسے نہر آب حیات کہا جاتا ہے اور یہ لوگ اس کے کنارے سے اس طرح ابھریں گے جس طرح سیلاب کے کوڑے کرکٹ سے سبزہ ابھر آتا ہے۔ تم نے یہ منظر کسی چٹان کے یا کسی درخت کے کنارے دیکھا ہو گا تو جس پر دھوپ پڑتی رہتی ہے وہ سبزا بھرتا ہے اور جس پر سایہ ہوتا ہے وہ سفید ابھرتا ہے۔ پھر وہ اس طرح نکلیں گے جیسے موتی چمکتا ہے۔ اس کے بعد ان کی گردنوں پر مہر کر دی جائیں گے ( کہ یہ اللہ کے آزاد کردہ غلام ہیں ) اور انہیں جنت میں داخل کیا جائے گا۔ اہل جنت انہیں «عتقاء الرحمن» کہیں گے۔ انہیں اللہ نے بلا عمل کے جو انہوں نے کیا ہو اور بلا خیر کے جو ان سے صادر ہوئی ہو جنت میں داخل کیا ہے۔ اور ان سے کہا جائے گا کہ تمہیں وہ سب کچھ ملے گا جو تم دیکھتے ہو اور اتنا ہی اور بھی ملے گا۔
اور حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے حمام بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ بن دعامہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن مومنوں کو ( گرم میدان میں ) روک دیا جائے گا یہاں تک کہ اس کی وجہ سے وہ غمگین ہو جائیں گے اور ( صلاح کر کے ) کہیں گے کہ کاش کوئی ہمارے رب سے ہماری شفاعت کرتا کہ ہمیں اس حالت سے نجات ملتی۔ چنانچہ وہ مل کر آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور کہیں گے کہ آپ انسانوں کے باپ ہیں، اللہ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور آپ کو جنت میں مقام عطا کیا، آپ کو سجدہ کرنے کا فرشتوں کو حکم دیا اور آپ کو ہر چیز کے نام سکھائے۔ آپ ہماری شفاعت اپنے رب کے حضور میں کریں تاکہ ہمیں اس حالت سے نجات دے۔ بیان کیا کہ آدم علیہ السلام کہیں گے کہ میں اس لائق نہیں وہ اپنی اس غلطی کو یاد کریں گے جو باوجود رکنے کے درخت کھا لینے کی وجہ سے ان سے ہوئی تھی اور کہیں گے کہ نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ کیونکہ وہ پہلے نبی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا تھا۔ چنانچہ لوگ نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ بھی یہ فرمائیں گے کہ میں اس لائق نہیں اور اپنی اس غلطی کو یاد کریں گے جو بغیر علم کے اللہ رب العزت سے سوال کر کے ( اپنے بیٹے کی بخشش کے لیے ) انہوں نے کی تھی اور کہیں گے کہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ جو اللہ کے خلیل ہیں۔ بیان کیا کہ ہم سب لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ بھی یہی عذر کریں گے کہ میں اس لائق نہیں اور وہ ان تین باتوں کو یاد کریں گے جن میں آپ نے بظاہر غلط بیانی کی تھی اور کہیں گے کہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ وہ ایسے بندے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے توریت دی اور ان سے بات کی اور ان کو نزدیک کر کے ان سے سرگوشی کی۔ بیان کیا کہ پھر لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ بھی کہیں گے کہ میں اس لائق نہیں ہوں اور وہ غلطی یاد کریں گے جو ایک شخص کو قتل کر کے انہوں نے کی تھی۔ ( وہ کہیں گے ) البتہ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ وہ اللہ کے بندے، اس کے رسول، اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں۔ چنانچہ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے۔ وہ فرمائیں گے کہ میں اس لائق نہیں ہوں تم لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ۔ وہ ایسے بندے ہیں کہ اللہ نے ان کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دئیے۔ چنانچہ لوگ میرے پاس آئیں گے اور میں اپنے رب سے اس کے در دولت یعنی عرش معلی پر آنے کے لیے اجازت چاہوں گا۔ مجھے اس کی اجازت دی جائے گی پھر میں اللہ تعالیٰ کو دیکھتے ہی سجدہ میں گر پڑوں گا اور اللہ تعالیٰ مجھے جب تک چاہے گا اسی حالت میں رہنے دے گا۔ پھر فرمائے گا کہ اے محمد! سر اٹھاؤ، کہو سنا جائے گا، شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی، جو مانگو گے دیا جائے گا۔ بیان کیا کہ پھر میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اپنے رب کی حمد و ثنا کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا۔ بیان کیا کہ پھر میں شفاعت کروں گا۔ چنانچہ میرے لیے حد مقرر کی جائے گی اور میں اس کے مطابق لوگوں کو دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا۔ قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ پھر میں نکالوں گا اور جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا۔ پھر تیسری مرتبہ اپنے رب سے اس کے در دولت کے لیے اجازت چاہوں گا اور مجھے اس کی اجازت دی جائے گی۔ پھر میں اللہ رب العزت کو دیکھتے ہی اس کے لیے سجدہ میں گر پڑوں گا اور اللہ تعالیٰ جب تک چاہے گا مجھے یوں ہی چھوڑے رکھے گا۔ پھر فرمائے گا: اے محمد! سر اٹھاؤ، کہو سنا جائے گا شفاعت کرو قبول کی جائے گی، مانگو دیا جائے گا۔ آپ نے بیان کیا کہ میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اپنے رب کی ایسی حمد و ثنا کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا بیان کیا کہ پھر شفاعت کروں گا اور میرے لیے حد مقرر کر دی جائے گا اور میں اس کے مطابق جہنم سے لوگوں کو نکال کر جنت میں داخل کروں گا۔ قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ پھر میں لوگوں کو نکالوں گا اور انہیں جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا، یہاں تک کہ جہنم میں صرف وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جنہیں قرآن نے روک رکھا ہو گا یعنی انہیں ہمیشہ ہی اس میں رہنا ہو گا ( یعنی کفار و مشرکین ) پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی «عسى أن يبعثك ربك مقاما محمودا» ”قریب ہے کہ آپ کا رب مقام محمود پر آپ کو بھیجے گا“ فرمایا کہ یہی وہ مقام محمود ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کیا ہے۔
ہم سے عبیداللہ بن سعد بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے میرے چچا نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، ان سے صالح نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلا بھیجا اور انہیں ایک ڈیرے میں جمع کیا اور ان سے کہا کہ صبر کرو یہاں تک کہ تم اللہ اور اس کے رسول سے آ کر ملو، میں حوض پر ہوں گا۔
حدثنا عبيد الله بن سعد بن ابراهيم، حدثني عمي، حدثنا ابي، عن صالح، عن ابن شهاب، قال حدثني انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ارسل الى الانصار فجمعهم في قبة وقال لهم " اصبروا حتى تلقوا الله ورسوله، فاني على الحوض
مجھ سے ثابت بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے سلیمان احول نے بیان کیا، ان سے طاؤس نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت تہجد کی نماز میں یہ دعا کرتے تھے «اللهم ربنا لك الحمد، أنت قيم السموات والأرض، ولك الحمد أنت رب السموات والأرض ومن فيهن، ولك الحمد أنت نور السموات والأرض ومن فيهن، أنت الحق، وقولك الحق، ووعدك الحق، ولقاؤك الحق، والجنة حق، والنار حق، والساعة حق، اللهم لك أسلمت، وبك آمنت، وعليك توكلت، وإليك خاصمت، وبك حاكمت، فاغفر لي ما قدمت وما أخرت، وأسررت وأعلنت، وما أنت أعلم به مني، لا إله إلا أنت» ”اے اللہ! اے ہمارے رب! حمد تیرے ہی لیے ہے، تو آسمان و زمین کا تھامنے والا ہے اور ان سب کا جو ان میں ہیں اور تیرے ہی لیے حمد ہے، تو آسمان و زمین کا نور ہے اور ان سب کا جو ان میں ہیں۔ تو سچا ہے، تیرا قول سچا، تیرا وعدہ سچا، تیری ملاقات سچی ہے، جنت سچ ہے، دوزخ سچ ہے، قیامت سچ ہے۔ اے اللہ! میں تیرے سامنے جھکا، تجھ پر ایمان لایا، تجھ پر بھروسہ کیا، تیرے پاس اپنے جھگڑے لے گیا اور تیری ہی مدد سے مقابلہ کیا، پس تو مجھے معاف کر دے، میرے وہ گناہ بھی جو میں پہلے کر چکا ہوں اور وہ بھی جو بعد میں کروں گا اور وہ بھی جو میں نے پوشیدہ طور پر کئے اور وہ بھی جو ظاہر طور پر کیا اور وہ بھی جن میں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ تیرے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ قیس بن سعد اور ابو الزبیر نے طاؤس کے حوالہ سے «قيام» بیان کیا اور مجاہد نے «قيوم» کہا یعنی ہر چیز کی نگرانی کرنے والا اور عمر رضی اللہ عنہ نے «قيام» پڑھا اور دونوں ہی مدح کے لیے ہیں۔
حدثني ثابت بن محمد، حدثنا سفيان، عن ابن جريج، عن سليمان الاحول، عن طاوس، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا تهجد من الليل قال " اللهم ربنا لك الحمد، انت قيم السموات والارض، ولك الحمد انت رب السموات والارض ومن فيهن، ولك الحمد انت نور السموات والارض ومن فيهن، انت الحق، وقولك الحق، ووعدك الحق، ولقاوك الحق، والجنة حق، والنار حق، والساعة حق، اللهم لك اسلمت، وبك امنت، وعليك توكلت، واليك خاصمت، وبك حاكمت، فاغفر لي ما قدمت وما اخرت، واسررت واعلنت، وما انت اعلم به مني، لا اله الا انت ". قال ابو عبد الله قال قيس بن سعد وابو الزبير عن طاوس قيام. وقال مجاهد القيوم القايم على كل شىء. وقرا عمر القيام، وكلاهما مدح
ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسامہ نے بیان کیا، کہا مجھ سے اعمش نے بیان کیا، ان سے خیشمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں کوئی ایسا نہیں ہو گا جس سے اس کا رب کلام نہ کرے، اس کے اور بندے کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہو گا اور نہ کوئی حجاب ہو گا جو اسے چھپائے رکھے۔“
حدثنا يوسف بن موسى، حدثنا ابو اسامة، حدثني الاعمش، عن خيثمة، عن عدي بن حاتم، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما منكم من احد الا سيكلمه ربه، ليس بينه وبينه ترجمان ولا حجاب يحجبه
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن عبدالصمد نے بیان کیا، ان سے ابوعمران نے، ان سے ابوبکر بن عبداللہ بن قیس نے، ان سے ان کی والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دو جنتیں ایسی ہوں گی جو خود اور اس میں سارا سامان چاندی کا ہو گا اور دو جنتیں ایسی ہوں گی جو خود اور اس کا سارا سامان سونے کا ہو گا اور جنت عدن میں قوم اور اللہ کے دیدار کے درمیان صرف چادر کبریائی رکاوٹ ہو گی جو اللہ رب العزت کے منہ پر پڑی ہو گی۔“
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا عبد العزيز بن عبد الصمد، عن ابي عمران، عن ابي بكر بن عبد الله بن قيس، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " جنتان من فضة انيتهما وما فيهما، وجنتان من ذهب انيتهما وما فيهما، وما بين القوم وبين ان ينظروا الى ربهم الا رداء الكبر على وجهه في جنة عدن
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالملک بن اعین اور جامع بن ابی راشد نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے کسی مسلمان کا مال جھوٹی قسم کھا کر مار لیا تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضبناک ہو گا۔“ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تصدیقاً قرآن مجید کی اس آیت کی تلاوت کی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا أولئك لا خلاق لهم في الآخرة ولا يكلمهم الله» ”بلاشبہ جو لوگ اللہ کے عہد اور اس کی قسموں کو تھوڑی پونجی کے بدلے بیچتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور اللہ ان سے بات نہیں کرے گا۔“ آخر آیت تک۔
حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا عبد الملك بن اعين، وجامع بن ابي راشد، عن ابي وايل، عن عبد الله رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اقتطع مال امري مسلم بيمين كاذبة، لقي الله وهو عليه غضبان ". قال عبد الله ثم قرا رسول الله صلى الله عليه وسلم مصداقه من كتاب الله جل ذكره {ان الذين يشترون بعهد الله وايمانهم ثمنا قليلا اوليك لا خلاق لهم في الاخرة ولا يكلمهم الله} الاية
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے ابوصالح سمان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تین آدمی ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہیں کرے گا اور نہ ان کی طرف رحمت سے دیکھے گا۔ ایک وہ جس نے کسی سامان کے متعلق قسم کھائی کہ اسے اس نے اتنے میں خریدا ہے، حالانکہ وہ جھوٹا ہے۔ دوسرا وہ شخص جس نے عصر کے بعد جھوٹی قسم اس لیے کھائی کہ کسی مسلمان کا مال ناحق مار لے اور تیسرا وہ شخص جس نے ضرورت سے فالتو پانی مانگنے والے کو نہیں دیا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے کہے گا کہ جس طرح تو نے اس زائد ضرورت، فالتو چیز سے دوسرے کو روکا جسے تیرے ہاتھوں نے بنایا بھی نہیں تھا، میں بھی تجھے اپنا فضل نہیں دوں گا۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا سفيان، عن عمرو، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ثلاثة لا يكلمهم الله يوم القيامة ولا ينظر اليهم رجل حلف على سلعة لقد اعطى بها اكثر مما اعطى وهو كاذب، ورجل حلف على يمين كاذبة بعد العصر ليقتطع بها مال امري مسلم، ورجل منع فضل ماء فيقول الله يوم القيامة، اليوم امنعك فضلي، كما منعت فضل ما لم تعمل يداك
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے بیان کیا اور ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”زمانہ اپنی اصلی قدیم ہیئت پر گھوم کر آ گیا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا تھا۔ سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے جن میں چار مہینے حرمت والے مہینے ہیں۔ تین مسلسل یعنی ذیقعدہ، ذی الحجہ اور محرم اور رجب مضر جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے درمیان میں آتا ہے۔ پھر آپ نے پوچھا کہ یہ کون سا مہینہ ہے؟ ہم نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ خاموش ہو گئے اور ہم نے سمجھا کہ آپ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ ذی الحجہ نہیں ہے؟ ہم نے کہا کیوں نہیں۔ پھر فرمایا یہ کون سا شہر ہے؟ ہم نے کہا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے پھر آپ خاموش ہو گئے اور ہم نے سمجھا کہ آپ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ بلدہ طیبہ ( مکہ ) نہیں ہے؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں۔ پھر فرمایا یہ کون سا دن ہے؟ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ پھر آپ خاموش ہو گئے ہم نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کوئی اور نام رکھیں گے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ یوم النحر ( قربانی کا دن ) نہیں ہے؟ ہم نے کہا کیوں نہیں پھر فرمایا کہ پھر تمہارا خون اور تمہارے اموال۔ محمد نے بیان کیا کہ مجھے خیال ہے کہ یہ بھی کہا کہ اور تمہاری عزت تم پر اسی طرح حرمت والے ہیں جیسے تمہارے اس دن کی حرمت تمہارے اس شہر اور اس مہینے میں ہے اور عنقریب تم اپنے رب سے ملو گے اور وہ تمہارے اعمال کے متعلق تم سے سوال کرے گا۔ آگاہ ہو جاؤ کہ میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کو قتل کرنے لگو۔ آگاہ ہو جاؤ! جو موجود ہیں وہ غیر حاضروں کو میری یہ بات پہنچا دیں۔ شاید کوئی جسے بات پہنچائی گئی ہو وہ یہاں سننے والے سے زیادہ محفوظ رکھنے والا ہو۔ چنانچہ محمد بن سیرین جب اس کا ذکر کرتے تو کہتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہاں کیا میں نے پہنچا دیا؟ ہاں! کیا میں نے پہنچا دیا؟
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا ايوب، عن محمد، عن ابن ابي بكرة، عن ابي بكرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الزمان قد استدار كهييته يوم خلق الله السموات والارض، السنة اثنا عشر شهرا، منها اربعة حرم ثلاث متواليات ذو القعدة وذو الحجة والمحرم، ورجب مضر الذي بين جمادى وشعبان، اى شهر هذا ". قلنا الله ورسوله اعلم فسكت حتى ظننا انه يسميه بغير اسمه قال " اليس ذا الحجة ". قلنا بلى. قال " اى بلد هذا ". قلنا الله ورسوله اعلم. فسكت حتى ظننا انه سيسميه بغير اسمه قال " اليس البلدة ". قلنا بلى. قال " فاى يوم هذا ". قلنا الله ورسوله اعلم فسكت حتى ظننا انه سيسميه بغير اسمه قال " اليس يوم النحر ". قلنا بلى. قال " فان دماءكم واموالكم قال محمد واحسبه قال واعراضكم عليكم حرام، كحرمة يومكم هذا في بلدكم هذا في شهركم هذا، وستلقون ربكم فيسالكم عن اعمالكم، الا فلا ترجعوا بعدي ضلالا، يضرب بعضكم رقاب بعض، الا ليبلغ الشاهد الغايب، فلعل بعض من يبلغه ان يكون اوعى من بعض من سمعه ". فكان محمد اذا ذكره قال صدق النبي صلى الله عليه وسلم ثم قال " الا هل بلغت الا هل بلغت
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم احول نے بیان کیا، ان سے ابوعثمان نہدی نے اور ان سے اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی ( زینب رضی اللہ عنہا ) کا لڑکا جاں کنی کے عالم میں تھا تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا بھیجا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہلایا کہ اللہ ہی کا وہ ہے جو وہ لیتا ہے اور وہ بھی جسے وہ دیتا ہے اور سب کے لیے ایک مدت مقرر ہے، پس صبر کرو اور اسے ثواب کا کام سمجھو۔ لیکن انہوں نے پھر دوبارہ بلا بھیجا اور قسم دلائی۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور میں بھی آپ کے ساتھ چلا۔ معاذ بن جبل، ابی بن کعب اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہم بھی ساتھ تھے۔ جب ہم صاحبزادی کے گھر میں داخل ہوئے تو لوگوں نے بچے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گود میں دے دیا۔ اس وقت بچہ کا سانس اکھڑ رہا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسا پرانی مشک۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دیکھ کر رو دئیے تو سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، آپ روتے ہیں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں میں رحم کرنے والوں پر ہی رحم کھاتا ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا عبد الواحد، حدثنا عاصم، عن ابي عثمان، عن اسامة، قال كان ابن لبعض بنات النبي صلى الله عليه وسلم يقضي، فارسلت اليه ان ياتيها فارسل " ان لله ما اخذ، وله ما اعطى، وكل الى اجل مسمى، فلتصبر ولتحتسب ". فارسلت اليه فاقسمت عليه فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم وقمت معه ومعاذ بن جبل وابى بن كعب وعبادة بن الصامت، فلما دخلنا ناولوا رسول الله صلى الله عليه وسلم الصبي ونفسه تقلقل في صدره حسبته قال كانها شنة، فبكى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال سعد بن عبادة اتبكي فقال " انما يرحم الله من عباده الرحماء
ہم سے عبیداللہ بن سعد بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے، کہا مجھ سے میرے والد نے، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جنت و دوزخ نے اپنے رب کے حضور میں جھگڑا کیا۔ جنت نے کہا: اے رب! کیا حال ہے کہ مجھ میں کمزور اور گرے پڑے لوگ ہی داخل ہوں گے اور دوزخ نے کہا کہ مجھ میں تو داخلہ کے لیے متکبروں کو خاص کر دیا گیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے جنت سے کہا کہ تو میری رحمت ہے اور جہنم سے کہا کہ تو میرا عذاب ہے۔ تیرے ذریعہ میں جسے چاہتا ہوں اس میں مبتلا کرتا ہوں اور تم میں سے ہر ایک کی بھرتی ہونے والی ہے۔ کہا کہ جہاں تک جنت کا تعلق ہے تو اللہ اپنی مخلوق میں کسی پر ظلم نہیں کرے گا اور دوزخ کی اس طرح سے کہ اللہ اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہے گا دوزخ کے لیے پیدا کرے گا وہ اس میں ڈالی جائے گی اس کے بعد بھی دوزخ کہے گی اور کچھ مخلوق ہے ( میں ابھی خالی ہوں ) تین بار ایسا ہی ہو گا، آخر پروردگار اپنا پاؤں اس میں رکھ دے گا، اس وقت وہ بھر جائے گی، ایک پر ایک الٹ کر سمٹ جائے گی، کہنے لگے گی بس بس بس میں بھر گئی۔
حدثنا عبيد الله بن سعد بن ابراهيم، حدثنا يعقوب، حدثنا ابي، عن صالح بن كيسان، عن الاعرج، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اختصمت الجنة والنار الى ربهما فقالت الجنة يا رب ما لها لا يدخلها الا ضعفاء الناس وسقطهم. وقالت النار يعني اوثرت بالمتكبرين. فقال الله تعالى للجنة انت رحمتي. وقال للنار انت عذابي اصيب بك من اشاء، ولكل واحدة منكما ملوها قال فاما الجنة فان الله لا يظلم من خلقه احدا، وانه ينشي للنار من يشاء فيلقون فيها فتقول هل من مزيد. ثلاثا، حتى يضع فيها قدمه فتمتلي ويرد بعضها الى بعض وتقول قط قط قط
ہم سے حفص بن عمر حوضی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کچھ لوگ ان گناہوں کی وجہ سے جو انہوں نے کئے ہوں گے، آگ سے جھلس جائیں گے یہ ان کی سزا ہو گی۔ پھر اللہ اپنی رحمت سے انہیں جنت میں داخل کرے گا اور انہیں «جهنميون» کہا جائے گا۔ اور ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا هشام، عن قتادة، عن انس رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ليصيبن اقواما سفع من النار بذنوب اصابوها عقوبة، ثم يدخلهم الله الجنة بفضل رحمته يقال لهم الجهنميون ". وقال همام حدثنا قتادة حدثنا انس عن النبي صلى الله عليه وسلم
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابن شهاب، عن عطاء بن يزيد الليثي، عن ابي هريرة، ان الناس، قالوا يا رسول الله هل نرى ربنا يوم القيامة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هل تضارون في القمر ليلة البدر ". قالوا لا يا رسول الله. قال " فهل تضارون في الشمس ليس دونها سحاب ". قالوا لا يا رسول الله. قال " فانكم ترونه كذلك، يجمع الله الناس يوم القيامة فيقول من كان يعبد شييا فليتبعه. فيتبع من كان يعبد الشمس الشمس، ويتبع من كان يعبد القمر القمر، ويتبع من كان يعبد الطواغيت الطواغيت، وتبقى هذه الامة فيها شافعوها او منافقوها شك ابراهيم فياتيهم الله فيقول انا ربكم. فيقولون هذا مكاننا حتى ياتينا ربنا فاذا جاءنا ربنا عرفناه فياتيهم الله في صورته التي يعرفون فيقول انا ربكم. فيقولون انت ربنا. فيتبعونه ويضرب الصراط بين ظهرى جهنم، فاكون انا وامتي اول من يجيزها، ولا يتكلم يوميذ الا الرسل، ودعوى الرسل يوميذ اللهم سلم سلم. وفي جهنم كلاليب مثل شوك السعدان، هل رايتم السعدان ". قالوا نعم يا رسول الله. قال " فانها مثل شوك السعدان، غير انه لا يعلم ما قدر عظمها الا الله، تخطف الناس باعمالهم، فمنهم الموبق بقي بعمله، او الموثق بعمله، ومنهم المخردل او المجازى او نحوه، ثم يتجلى حتى اذا فرغ الله من القضاء بين العباد واراد ان يخرج برحمته من اراد من اهل النار امر الملايكة ان يخرجوا من النار من كان لا يشرك بالله شييا، ممن اراد الله ان يرحمه ممن يشهد ان لا اله الا الله، فيعرفونهم في النار باثر السجود، تاكل النار ابن ادم الا اثر السجود، حرم الله على النار ان تاكل اثر السجود، فيخرجون من النار قد امتحشوا، فيصب عليهم ماء الحياة فينبتون تحته كما تنبت الحبة في حميل السيل، ثم يفرغ الله من القضاء بين العباد، ويبقى رجل مقبل بوجهه على النار هو اخر اهل النار دخولا الجنة فيقول اى رب اصرف وجهي عن النار، فانه قد قشبني ريحها واحرقني ذكاوها. فيدعو الله بما شاء ان يدعوه ثم يقول الله هل عسيت ان اعطيت ذلك ان تسالني غيره. فيقول لا وعزتك لا اسالك غيره، ويعطي ربه من عهود ومواثيق ما شاء، فيصرف الله وجهه عن النار، فاذا اقبل على الجنة وراها سكت ما شاء الله ان يسكت ثم يقول اى رب قدمني الى باب الجنة. فيقول الله له الست قد اعطيت عهودك ومواثيقك ان لا تسالني غير الذي اعطيت ابدا، ويلك يا ابن ادم ما اغدرك. فيقول اى رب. ويدعو الله حتى يقول هل عسيت ان اعطيت ذلك ان تسال غيره. فيقول لا وعزتك لا اسالك غيره، ويعطي ما شاء من عهود ومواثيق، فيقدمه الى باب الجنة، فاذا قام الى باب الجنة انفهقت له الجنة فراى ما فيها من الحبرة والسرور، فيسكت ما شاء الله ان يسكت ثم يقول اى رب ادخلني الجنة. فيقول الله الست قد اعطيت عهودك ومواثيقك ان لا تسال غير ما اعطيت فيقول ويلك يا ابن ادم ما اغدرك. فيقول اى رب لا اكونن اشقى خلقك فلا يزال يدعو حتى يضحك الله منه فاذا ضحك منه قال له ادخل الجنة. فاذا دخلها قال الله له تمنه. فسال ربه وتمنى حتى ان الله ليذكره يقول كذا وكذا، حتى انقطعت به الاماني قال الله ذلك لك ومثله معه ". قال عطاء بن يزيد وابو سعيد الخدري مع ابي هريرة لا يرد عليه من حديثه شييا حتى اذا حدث ابو هريرة ان الله تبارك وتعالى قال " ذلك لك ومثله معه ". قال ابو سعيد الخدري " وعشرة امثاله معه ". يا ابا هريرة. قال ابو هريرة ما حفظت الا قوله " ذلك لك ومثله معه ". قال ابو سعيد الخدري اشهد اني حفظت من رسول الله صلى الله عليه وسلم قوله " ذلك لك وعشرة امثاله ". قال ابو هريرة فذلك الرجل اخر اهل الجنة دخولا الجنة
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابن شهاب، عن عطاء بن يزيد الليثي، عن ابي هريرة، ان الناس، قالوا يا رسول الله هل نرى ربنا يوم القيامة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هل تضارون في القمر ليلة البدر ". قالوا لا يا رسول الله. قال " فهل تضارون في الشمس ليس دونها سحاب ". قالوا لا يا رسول الله. قال " فانكم ترونه كذلك، يجمع الله الناس يوم القيامة فيقول من كان يعبد شييا فليتبعه. فيتبع من كان يعبد الشمس الشمس، ويتبع من كان يعبد القمر القمر، ويتبع من كان يعبد الطواغيت الطواغيت، وتبقى هذه الامة فيها شافعوها او منافقوها شك ابراهيم فياتيهم الله فيقول انا ربكم. فيقولون هذا مكاننا حتى ياتينا ربنا فاذا جاءنا ربنا عرفناه فياتيهم الله في صورته التي يعرفون فيقول انا ربكم. فيقولون انت ربنا. فيتبعونه ويضرب الصراط بين ظهرى جهنم، فاكون انا وامتي اول من يجيزها، ولا يتكلم يوميذ الا الرسل، ودعوى الرسل يوميذ اللهم سلم سلم. وفي جهنم كلاليب مثل شوك السعدان، هل رايتم السعدان ". قالوا نعم يا رسول الله. قال " فانها مثل شوك السعدان، غير انه لا يعلم ما قدر عظمها الا الله، تخطف الناس باعمالهم، فمنهم الموبق بقي بعمله، او الموثق بعمله، ومنهم المخردل او المجازى او نحوه، ثم يتجلى حتى اذا فرغ الله من القضاء بين العباد واراد ان يخرج برحمته من اراد من اهل النار امر الملايكة ان يخرجوا من النار من كان لا يشرك بالله شييا، ممن اراد الله ان يرحمه ممن يشهد ان لا اله الا الله، فيعرفونهم في النار باثر السجود، تاكل النار ابن ادم الا اثر السجود، حرم الله على النار ان تاكل اثر السجود، فيخرجون من النار قد امتحشوا، فيصب عليهم ماء الحياة فينبتون تحته كما تنبت الحبة في حميل السيل، ثم يفرغ الله من القضاء بين العباد، ويبقى رجل مقبل بوجهه على النار هو اخر اهل النار دخولا الجنة فيقول اى رب اصرف وجهي عن النار، فانه قد قشبني ريحها واحرقني ذكاوها. فيدعو الله بما شاء ان يدعوه ثم يقول الله هل عسيت ان اعطيت ذلك ان تسالني غيره. فيقول لا وعزتك لا اسالك غيره، ويعطي ربه من عهود ومواثيق ما شاء، فيصرف الله وجهه عن النار، فاذا اقبل على الجنة وراها سكت ما شاء الله ان يسكت ثم يقول اى رب قدمني الى باب الجنة. فيقول الله له الست قد اعطيت عهودك ومواثيقك ان لا تسالني غير الذي اعطيت ابدا، ويلك يا ابن ادم ما اغدرك. فيقول اى رب. ويدعو الله حتى يقول هل عسيت ان اعطيت ذلك ان تسال غيره. فيقول لا وعزتك لا اسالك غيره، ويعطي ما شاء من عهود ومواثيق، فيقدمه الى باب الجنة، فاذا قام الى باب الجنة انفهقت له الجنة فراى ما فيها من الحبرة والسرور، فيسكت ما شاء الله ان يسكت ثم يقول اى رب ادخلني الجنة. فيقول الله الست قد اعطيت عهودك ومواثيقك ان لا تسال غير ما اعطيت فيقول ويلك يا ابن ادم ما اغدرك. فيقول اى رب لا اكونن اشقى خلقك فلا يزال يدعو حتى يضحك الله منه فاذا ضحك منه قال له ادخل الجنة. فاذا دخلها قال الله له تمنه. فسال ربه وتمنى حتى ان الله ليذكره يقول كذا وكذا، حتى انقطعت به الاماني قال الله ذلك لك ومثله معه ". قال عطاء بن يزيد وابو سعيد الخدري مع ابي هريرة لا يرد عليه من حديثه شييا حتى اذا حدث ابو هريرة ان الله تبارك وتعالى قال " ذلك لك ومثله معه ". قال ابو سعيد الخدري " وعشرة امثاله معه ". يا ابا هريرة. قال ابو هريرة ما حفظت الا قوله " ذلك لك ومثله معه ". قال ابو سعيد الخدري اشهد اني حفظت من رسول الله صلى الله عليه وسلم قوله " ذلك لك وعشرة امثاله ". قال ابو هريرة فذلك الرجل اخر اهل الجنة دخولا الجنة
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن خالد بن يزيد، عن سعيد بن ابي هلال، عن زيد، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد الخدري، قال قلنا يا رسول الله هل نرى ربنا يوم القيامة قال " هل تضارون في روية الشمس والقمر اذا كانت صحوا ". قلنا لا. قال " فانكم لا تضارون في روية ربكم يوميذ، الا كما تضارون في رويتهما ثم قال ينادي مناد ليذهب كل قوم الى ما كانوا يعبدون. فيذهب اصحاب الصليب مع صليبهم، واصحاب الاوثان مع اوثانهم، واصحاب كل الهة مع الهتهم حتى يبقى من كان يعبد الله من بر او فاجر، وغبرات من اهل الكتاب، ثم يوتى بجهنم تعرض كانها سراب فيقال لليهود ما كنتم تعبدون قالوا كنا نعبد عزير ابن الله. فيقال كذبتم لم يكن لله صاحبة ولا ولد فما تريدون قالوا نريد ان تسقينا، فيقال اشربوا فيتساقطون في جهنم ثم يقال للنصارى ما كنتم تعبدون فيقولون كنا نعبد المسيح ابن الله. فيقال كذبتم لم يكن لله صاحبة ولا ولد، فما تريدون فيقولون نريد ان تسقينا. فيقال اشربوا. فيتساقطون حتى يبقى من كان يعبد الله من بر او فاجر فيقال لهم ما يحبسكم وقد ذهب الناس فيقولون فارقناهم ونحن احوج منا اليه اليوم وانا سمعنا مناديا ينادي ليلحق كل قوم بما كانوا يعبدون. وانما ننتظر ربنا قال فياتيهم الجبار. فيقول انا ربكم. فيقولون انت ربنا. فلا يكلمه الا الانبياء فيقول هل بينكم وبينه اية تعرفونه فيقولون الساق. فيكشف عن ساقه فيسجد له كل مومن، ويبقى من كان يسجد لله رياء وسمعة، فيذهب كيما يسجد فيعود ظهره طبقا واحدا، ثم يوتى بالجسر فيجعل بين ظهرى جهنم ". قلنا يا رسول الله وما الجسر قال " مدحضة مزلة، عليه خطاطيف وكلاليب وحسكة مفلطحة، لها شوكة عقيفاء تكون بنجد يقال لها السعدان، المومن عليها كالطرف وكالبرق وكالريح وكاجاويد الخيل والركاب، فناج مسلم وناج مخدوش ومكدوس في نار جهنم، حتى يمر اخرهم يسحب سحبا، فما انتم باشد لي مناشدة في الحق، قد تبين لكم من المومن يوميذ للجبار، واذا راوا انهم قد نجوا في اخوانهم يقولون ربنا اخواننا كانوا يصلون معنا ويصومون معنا ويعملون معنا. فيقول الله تعالى اذهبوا فمن وجدتم في قلبه مثقال دينار من ايمان فاخرجوه. ويحرم الله صورهم على النار، فياتونهم وبعضهم قد غاب في النار الى قدمه والى انصاف ساقيه، فيخرجون من عرفوا، ثم يعودون فيقول اذهبوا فمن وجدتم في قلبه مثقال نصف دينار فاخرجوه. فيخرجون من عرفوا، ثم يعودون فيقول اذهبوا فمن وجدتم في قلبه مثقال ذرة من ايمان فاخرجوه. فيخرجون من عرفوا ". قال ابو سعيد فان لم تصدقوني فاقرءوا {ان الله لا يظلم مثقال ذرة وان تك حسنة يضاعفها} " فيشفع النبيون والملايكة والمومنون فيقول الجبار بقيت شفاعتي. فيقبض قبضة من النار فيخرج اقواما قد امتحشوا، فيلقون في نهر بافواه الجنة يقال له ماء الحياة، فينبتون في حافتيه كما تنبت الحبة في حميل السيل، قد رايتموها الى جانب الصخرة الى جانب الشجرة، فما كان الى الشمس منها كان اخضر، وما كان منها الى الظل كان ابيض، فيخرجون كانهم اللولو، فيجعل في رقابهم الخواتيم فيدخلون الجنة فيقول اهل الجنة هولاء عتقاء الرحمن ادخلهم الجنة بغير عمل عملوه ولا خير قدموه. فيقال لهم لكم ما رايتم ومثله معه
وقال حجاج بن منهال حدثنا همام بن يحيى، حدثنا قتادة، عن انس رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " يحبس المومنون يوم القيامة حتى يهموا بذلك فيقولون لو استشفعنا الى ربنا فيريحنا من مكاننا. فياتون ادم فيقولون انت ادم ابو الناس خلقك الله بيده واسكنك جنته، واسجد لك ملايكته، وعلمك اسماء كل شىء، لتشفع لنا عند ربك حتى يريحنا من مكاننا هذا، قال فيقول لست هناكم قال ويذكر خطييته التي اصاب اكله من الشجرة وقد نهي عنها ولكن ايتوا نوحا اول نبي بعثه الله الى اهل الارض. فياتون نوحا فيقول لست هناكم ويذكر خطييته التي اصاب سواله ربه بغير علم ولكن ايتوا ابراهيم خليل الرحمن. قال فياتون ابراهيم فيقول اني لست هناكم ويذكر ثلاث كلمات كذبهن ولكن ايتوا موسى عبدا اتاه الله التوراة وكلمه وقربه نجيا. قال فياتون موسى فيقول اني لست هناكم ويذكر خطييته التي اصاب قتله النفس ولكن ايتوا عيسى عبد الله ورسوله وروح الله وكلمته. قال فياتون عيسى فيقول لست هناكم ولكن ايتوا محمدا صلى الله عليه وسلم عبدا غفر الله له ما تقدم من ذنبه وما تاخر. فياتوني فاستاذن على ربي في داره فيوذن لي عليه، فاذا رايته وقعت ساجدا فيدعني ما شاء الله ان يدعني فيقول ارفع محمد، وقل يسمع، واشفع تشفع، وسل تعط قال فارفع راسي فاثني على ربي بثناء وتحميد يعلمنيه، فيحد لي حدا فاخرج فادخلهم الجنة ". قال قتادة وسمعته ايضا يقول " فاخرج فاخرجهم من النار وادخلهم الجنة، ثم اعود فاستاذن على ربي في داره فيوذن لي عليه، فاذا رايته وقعت ساجدا فيدعني ما شاء الله ان يدعني ثم يقول ارفع محمد، وقل يسمع، واشفع تشفع، وسل تعط قال فارفع راسي فاثني على ربي بثناء وتحميد يعلمنيه قال ثم اشفع فيحد لي حدا فاخرج فادخلهم الجنة ". قال قتادة وسمعته يقول " فاخرج فاخرجهم من النار وادخلهم الجنة، ثم اعود الثالثة فاستاذن على ربي في داره فيوذن لي عليه، فاذا رايته وقعت ساجدا فيدعني ما شاء الله ان يدعني ثم يقول ارفع محمد، وقل يسمع، واشفع تشفع، وسل تعطه قال فارفع راسي فاثني على ربي بثناء وتحميد يعلمنيه قال ثم اشفع فيحد لي حدا فاخرج فادخلهم الجنة ". قال قتادة وقد سمعته يقول " فاخرج فاخرجهم من النار وادخلهم الجنة، حتى ما يبقى في النار الا من حبسه القران اى وجب عليه الخلود قال ثم تلا هذه الاية {عسى ان يبعثك ربك مقاما محمودا} قال وهذا المقام المحمود الذي وعده نبيكم صلى الله عليه وسلم