Loading...

Loading...
کتب
۱۹۳ احادیث
ہم سے ابوالیمان نے بیان کی کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے، اسے رات دن کی بخشش بھی کم نہیں کرتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ جب اس نے آسمان و زمین پیدا کئے ہیں اس نے کتنا خرچ کیا ہے اس نے بھی اس میں کوئی کمی نہیں پیدا کی جو اس کے ہاتھ میں ہے اور فرمایا کہ اس کا عرش پانی پر ہے اور اس کے دوسرے ہاتھ میں ترازو ہے، جسے وہ جھکاتا اور اٹھاتا رہتا ہے۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، حدثنا ابو الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " يد الله ملاى لا يغيضها نفقة، سحاء الليل والنهار وقال ارايتم ما انفق منذ خلق السموات والارض، فانه لم يغض ما في يده وقال عرشه على الماء وبيده الاخرى الميزان يخفض ويرفع
حدثنا مقدم بن محمد، قال حدثني عمي القاسم بن يحيى، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " ان الله يقبض يوم القيامة الارض وتكون السموات بيمينه ثم يقول انا الملك ". رواه سعيد عن مالك. وقال عمر بن حمزة سمعت سالما سمعت ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا. وقال ابو اليمان اخبرنا شعيب، عن الزهري، اخبرني ابو سلمة، ان ابا هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يقبض الله الارض
حدثنا مقدم بن محمد، قال حدثني عمي القاسم بن يحيى، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قال " ان الله يقبض يوم القيامة الارض وتكون السموات بيمينه ثم يقول انا الملك ". رواه سعيد عن مالك. وقال عمر بن حمزة سمعت سالما سمعت ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا. وقال ابو اليمان اخبرنا شعيب، عن الزهري، اخبرني ابو سلمة، ان ابا هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يقبض الله الارض
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا اس نے یحییٰ بن سعید سے سنا، انہوں نے سفیان سے، انہوں نے کہا ہم سے منصور اور سلیمان نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے عبیدہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ نے بیان کیا کہ ایک یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے محمد! اللہ آسمانوں کو ایک انگلی پر روک لے گا اور زمین کو بھی ایک انگلی پر اور پہاڑوں کو ایک انگلی پر اور درختوں کو ایک انگلی پر اور مخلوقات کو ایک انگلی پر، پھر فرمائے گا کہ میں بادشاہ ہوں۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دئیے یہاں تک کہ آپ کے آگے کے دندان مبارک دکھائی دینے لگے۔ پھر سورۃ الانعام کی یہ آیت پڑھی «وما قدروا الله حق قدره» ۔ یحییٰ بن سعید نے بیان کیا کہ اس روایت میں فضیل بن عیاض نے منصور سے اضافہ کیا، ان سے ابراہیم نے، ان سے عبیدہ نے، ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تعجب کی وجہ سے اور اس کی تصدیق کرتے ہوئے ہنس دیئے۔
حدثنا مسدد، سمع يحيى بن سعيد، عن سفيان، حدثني منصور، وسليمان، عن ابراهيم، عن عبيدة، عن عبد الله، ان يهوديا، جاء الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا محمد ان الله يمسك السموات على اصبع والارضين على اصبع، والجبال على اصبع، والشجر على اصبع، والخلايق على اصبع، ثم يقول انا الملك. فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى بدت نواجذه ثم قرا {وما قدروا الله حق قدره}. قال يحيى بن سعيد وزاد فيه فضيل بن عياض عن منصور عن ابراهيم عن عبيدة عن عبد الله فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم تعجبا وتصديقا له
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، انہوں نے ابراہیم سے سنا، کہا کہ میں نے علقمہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اہل کتاب میں سے ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ اے ابوالقاسم! اللہ آسمانوں کو ایک انگلی پر روک لے گا، زمین کو ایک انگلی پر روک لے گا، درخت اور مٹی کو ایک انگلی پر روک لے گا اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر روک لے گا اور پھر فرمائے گا کہ میں ”بادشاہ ہوں، میں بادشاہ ہوں“ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس پر ہنس دئیے، یہاں تک کہ آپ کے دانت مبارک دکھائی دینے لگے، پھر یہ آیت پڑھی «وما قدروا الله حق قدره» ۔
حدثنا عمر بن حفص بن غياث، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، سمعت ابراهيم، قال سمعت علقمة، يقول قال عبد الله جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم من اهل الكتاب فقال يا ابا القاسم ان الله يمسك السموات على اصبع، والارضين على اصبع، والشجر والثرى على اصبع، والخلايق على اصبع، ثم يقول انا الملك انا الملك. فرايت النبي صلى الله عليه وسلم ضحك حتى بدت نواجذه ثم قرا {وما قدروا الله حق قدره}
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے عبدالملک نے بیان کیا، ان سے مغیرہ رضی اللہ عنہ کے کاتب وراد نے اور ان سے مغیرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھوں تو سیدھی تلوار سے اس کی گردن مار دوں پھر یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تمہیں سعد کی غیرت پر حیرت ہے؟ بلاشبہ میں ان سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے زیادہ غیرت مند ہے اور اللہ نے غیرت ہی کی وجہ سے فواحش کو حرام کیا ہے۔ چاہے وہ ظاہر میں ہوں یا چھپ کر اور معذرت اللہ سے زیادہ کسی کو پسند نہیں، اسی لیے اس نے بشارت دینے والے اور ڈرانے والے بھیجے اور تعریف اللہ سے زیادہ کسی کو پسند نہیں، اسی وجہ سے اس نے جنت کا وعدہ کیا ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابو عوانة، حدثنا عبد الملك، عن وراد، كاتب المغيرة عن المغيرة، قال قال سعد بن عبادة لو رايت رجلا مع امراتي لضربته بالسيف غير مصفح. فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " تعجبون من غيرة سعد، والله لانا اغير منه، والله اغير مني، ومن اجل غيرة الله حرم الفواحش ما ظهر منها وما بطن، ولا احد احب اليه العذر من الله، ومن اجل ذلك بعث المبشرين والمنذرين ولا احد احب اليه المدحة من الله ومن اجل ذلك وعد الله الجنة ". وقال عبيد الله بن عمرو عن عبد الملك " لا شخص اغير من الله
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو مالک نے خبر دی، انہیں ابوحازم نے اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب سے پوچھا کیا آپ کو قرآن میں سے کچھ شے یاد ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں فلاں فلاں سورتیں انہوں نے ان کے نام بتائے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد، قال النبي صلى الله عليه وسلم لرجل " امعك من القران شىء ". قال نعم سورة كذا وسورة كذا. لسور سماها
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ نے، ان سے اعمش نے، ان سے جامع بن شداد نے، ان سے صفوان بن محرز نے اور ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا کہ آپ کے پاس بنو تمیم کے کچھ لوگ آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بنو تمیم! بشارت قبول کرو۔ انہوں نے اس پر کہا کہ آپ نے ہمیں بشارت دے دی، اب ہمیں بخشش بھی دیجئیے۔ پھر آپ کے پاس یمن کے کچھ لوگ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اہل یمن! بنو تمیم نے بشارت نہیں قبول کی تم اسے قبول کرو۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے قبول کر لی۔ ہم آپ کے پاس اس لیے حاضر ہوئے ہیں تاکہ دین کی سمجھ حاصل کریں اور تاکہ آپ سے اس دنیا کی ابتداء کے متعلق پوچھیں کہ کس طرح تھی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تھا اور کوئی چیز نہیں تھی اور اللہ کا عرش پانی پر تھا۔ پھر اس نے آسمان و زمین پیدا کئے اور لوح محفوظ میں ہر چیز لکھ دی ( عمران بیان کرتے ہیں کہ ) مجھے ایک شخص نے آ کر خبر دی کہ عمران اپنی اونٹنی کی خبر لو وہ بھاگ گئی ہے۔ چنانچہ میں اس کی تلاش میں نکلا۔ میں نے دیکھا کہ میرے اور اس کے درمیان ریت کا چٹیل میدان حائل ہے اور اللہ کی قسم میری تمنا تھی کہ وہ چلی ہی گئی ہوتی اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں سے نہ اٹھا ہوتا۔
حدثنا عبدان، عن ابي حمزة، عن الاعمش، عن جامع بن شداد، عن صفوان بن محرز، عن عمران بن حصين، قال اني عند النبي صلى الله عليه وسلم اذ جاءه قوم من بني تميم فقال " اقبلوا البشرى يا بني تميم ". قالوا بشرتنا فاعطنا. فدخل ناس من اهل اليمن فقال " اقبلوا البشرى يا اهل اليمن اذ لم يقبلها بنو تميم ". قالوا قبلنا. جيناك لنتفقه في الدين ولنسالك عن اول هذا الامر ما كان. قال " كان الله ولم يكن شىء قبله، وكان عرشه على الماء، ثم خلق السموات والارض، وكتب في الذكر كل شىء ". ثم اتاني رجل فقال يا عمران ادرك ناقتك فقد ذهبت فانطلقت اطلبها، فاذا السراب ينقطع دونها، وايم الله لوددت انها قد ذهبت ولم اقم
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے اسے کوئی خرچ کم نہیں کرتا جو دن و رات وہ کرتا رہتا ہے کیا تمہیں معلوم ہے کہ جب سے زمین و آسمان کو اس نے پیدا کیا ہے کتنا خرچ کر دیا ہے۔ اس سارے خرچ نے اس میں کوئی کمی نہیں کی جو اس کے ہاتھ میں ہے اور اس کا عرش پانی پر تھا اور اس کے دوسرے ہاتھ میں ترازو ہے جسے وہ اٹھاتا اور جھکاتا ہے۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن همام، حدثنا ابو هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان يمين الله ملاى لا يغيضها نفقة سحاء الليل والنهار، ارايتم ما انفق منذ خلق السموات والارض فانه لم ينقص ما في يمينه، وعرشه على الماء وبيده الاخرى الفيض او القبض يرفع ويخفض
ہم سے احمد نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن ابی بکر المقدمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ ( اپنی بیوی کی ) شکایت کرنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ ڈرو اور اپنی بیوی کو اپنے پاس ہی رکھو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی بات کو چھپانے والے ہوتے تو اسے ضرور چھپاتے۔ بیان کیا چنانچہ زینب رضی اللہ عنہا تمام ازواج مطہرات پر فخر سے کہتی تھی کہ تم لوگوں کی تمہارے گھر والوں نے شادی کی۔ اور میری اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر سے شادی کی اور ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آیت «وتخفي في نفسك ما الله مبديه وتخشى الناس» ”اور آپ اس چیز کو اپنے دل میں چھپاتے ہیں جسے اللہ ظاہر کرنے والا ہے۔“ زینب اور زید بن حارث رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔
حدثنا احمد، حدثنا محمد بن ابي بكر المقدمي، حدثنا حماد بن زيد، عن ثابت، عن انس، قال جاء زيد بن حارثة يشكو فجعل النبي صلى الله عليه وسلم يقول " اتق الله، وامسك عليك زوجك ". قالت عايشة لو كان رسول الله صلى الله عليه وسلم كاتما شييا لكتم هذه. قال فكانت زينب تفخر على ازواج النبي صلى الله عليه وسلم تقول زوجكن اهاليكن، وزوجني الله تعالى من فوق سبع سموات. وعن ثابت {وتخفي في نفسك ما الله مبديه وتخشى الناس} نزلت في شان زينب وزيد بن حارثة
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عیسیٰ بن طہمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ پردہ کی آیت ام المؤمنین زینب بن جحش رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی اور اس دن آپ نے روٹی اور گوشت کے ولیمہ کی دعوت دی اور زینب رضی اللہ عنہا تمام ازواج مطہرات پر فخر کیا کرتی تھیں اور کہتی تھیں کہ میرا نکاح اللہ نے آسمان پر کرایا تھا۔
حدثنا خلاد بن يحيى، حدثنا عيسى بن طهمان، قال سمعت انس بن مالك رضى الله عنه يقول نزلت اية الحجاب في زينب بنت جحش واطعم عليها يوميذ خبزا ولحما وكانت تفخر على نساء النبي صلى الله عليه وسلم وكانت تقول ان الله انكحني في السماء
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق پیدا کی تو عرش کے اوپر اپنے پاس لکھ دیا کہ میری رحمت میرے غصہ سے بڑھ کر ہے۔“
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، حدثنا ابو الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان الله لما قضى الخلق كتب عنده فوق عرشه ان رحمتي سبقت غضبي
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے محمد بن فلیح نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے ہلال نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا، نماز قائم کی، رمضان کے روزے رکھے تو اللہ پر حق ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے۔ خواہ اس نے ہجرت کی ہو یا وہیں مقیم رہا ہو جہاں اس کی پیدائش ہوئی تھی۔“ صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ! کیا ہم اس کی اطلاع لوگوں کو نہ دے دیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں سو درجے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے راستے میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کیا ہے، ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین کے درمیان ہے۔ پس جب تم اللہ سے سوال کرو تو فردوس کا سوال کرو کیونکہ وہ درمیانہ درجے کی جنت ہے اور بلند ترین اور اس کے اوپر رحمان کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر، حدثني محمد بن فليح، قال حدثني ابي، حدثني هلال، عن عطاء بن يسار، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من امن بالله ورسوله، واقام الصلاة، وصام رمضان، كان حقا على الله ان يدخله الجنة هاجر، في سبيل الله، او جلس في ارضه التي ولد فيها ". قالوا يا رسول الله افلا ننبي الناس بذلك. قال " ان في الجنة ماية درجة اعدها الله للمجاهدين في سبيله، كل درجتين ما بينهما كما بين السماء والارض، فاذا سالتم الله فسلوه الفردوس، فانه اوسط الجنة واعلى الجنة، وفوقه عرش الرحمن، ومنه تفجر انهار الجنة
ہم سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابومعاویہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے اور ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، پھر جب سورج غروب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے ابوذر! کیا تمہیں معلوم ہے یہ کہاں جاتا ہے؟“ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ جاننے والے ہیں۔ فرمایا کہ یہ جاتا ہے اور سجدہ کی اجازت چاہتا ہے پھر اسے اجازت دی جاتی ہے اور گویا اس سے کہا جاتا ہے کہ واپس وہاں جاؤ جہاں سے آئے ہو۔ چنانچہ وہ مغرب کی طرف سے طلوع ہوتا ہے، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی «ذلك مستقر لها» عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قرآت یوں ہی ہے۔
حدثنا يحيى بن جعفر، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابراهيم هو التيمي عن ابيه، عن ابي ذر، قال دخلت المسجد ورسول الله صلى الله عليه وسلم جالس، فلما غربت الشمس قال " يا ابا ذر هل تدري اين تذهب هذه ". قال قلت الله ورسوله اعلم. قال " فانها تذهب تستاذن في السجود فيوذن لها، وكانها قد قيل لها ارجعي من حيث جيت. فتطلع من مغربها ". ثم قرا {ذلك مستقر لها} في قراءة عبد الله
ہم سے موسیٰ بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم نے، انہوں نے کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عبید بن سباق نے بیان کیا اور ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔ اور لیث نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن خالد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابن سباق نے اور ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلا بھیجا، پھر میں نے قرآن کی تلاش کی اور سورۃ التوبہ کی آخری آیت ابوخزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس پائی۔ یہ آیات مجھے کسی اور کے پاس نہیں ملی تھیں «لقد جاءكم رسول من أنفسكم» سورۃ برات کے آخر تک۔ ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، ان سے لیث نے بیان کیا اور ان سے یونس نے یہی بیان کیا کہ ابوخزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس سورۃ توبہ کی آخری آیات پائیں۔
حدثنا موسى، عن ابراهيم، حدثنا ابن شهاب، عن عبيد بن السباق، ان زيد بن ثابت،. وقال الليث حدثني عبد الرحمن بن خالد، عن ابن شهاب، عن ابن السباق، ان زيد بن ثابت، حدثه قال ارسل الى ابو بكر فتتبعت القران حتى وجدت اخر سورة التوبة مع ابي خزيمة الانصاري لم اجدها مع احد غيره {لقد جاءكم رسول من انفسكم} حتى خاتمة براءة. حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن يونس، بهذا وقال مع ابي خزيمة الانصاري
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے ابوالعالیہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پریشانی کے وقت یہ دعا کرتے تھے «لا إله إلا الله العليم الحليم لا إله إلا الله رب العرش العظيم لا إله إلا الله رب السموات ورب الأرض رب العرش الكريم» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو بہت جاننے والا بڑا بردبار ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو عرش عظیم کا رب ہے، اللہ کے سوا کوئی رب نہیں جو آسمانوں کا رب ہے، زمین کا رب ہے اور عرش کریم کا رب ہے۔“
حدثنا معلى بن اسد، حدثنا وهيب، عن سعيد، عن قتادة، عن ابي العالية، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول عند الكرب " لا اله الا الله العليم الحليم لا اله الا الله رب العرش العظيم لا اله الا الله رب السموات ورب الارض رب العرش الكريم
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن عمرو بن يحيى، عن ابيه، عن ابي سعيد الخدري، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال النبي صلى الله عليه وسلم " الناس يصعقون يوم القيامة فاذا انا بموسى اخذ بقايمة من قوايم العرش ". وقال الماجشون عن عبد الله بن الفضل، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " فاكون اول من بعث فاذا موسى اخذ بالعرش
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن عمرو بن يحيى، عن ابيه، عن ابي سعيد الخدري، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال النبي صلى الله عليه وسلم " الناس يصعقون يوم القيامة فاذا انا بموسى اخذ بقايمة من قوايم العرش ". وقال الماجشون عن عبد الله بن الفضل، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " فاكون اول من بعث فاذا موسى اخذ بالعرش
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یکے بعد دیگرے تمہارے پاس رات اور دن کے فرشتے آتے رہتے ہیں اور یہ عصر اور فجر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں، پھر وہ اوپر چڑھتے ہیں، جنہوں نے رات تمہارے ساتھ گزاری ہوتی ہے۔ پھر اللہ تمہارے بارے میں ان سے پوچھتا ہے حالانکہ اسے تمہاری خوب خبر ہے، پوچھتا ہے کہ میرے بندوں کو تم نے کس حال میں چھوڑا؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اس حال میں چھوڑا کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے۔“
حدثنا اسماعيل، حدثني مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " يتعاقبون فيكم ملايكة بالليل وملايكة بالنهار، ويجتمعون في صلاة العصر وصلاة الفجر، ثم يعرج الذين باتوا فيكم فيسالهم وهو اعلم بكم فيقول كيف تركتم عبادي فيقولون تركناهم وهم يصلون واتيناهم وهم يصلون
اور خالد بن مخلد نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے بیان کیا ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے حلال کمائی سے ایک کھجور کے برابر بھی خیرات کی اور اللہ تک حلال کمائی ہی کی خیرات پہنچتی ہے، تو اللہ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے قبول کر لیتا ہے اور خیرات کرنے والے کے لیے اسے اس طرح بڑھاتا رہتا ہے جیسے کوئی تم میں سے اپنے بچھیرے کی پرورش کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ پہاڑ برابر ہو جاتی ہے۔“ اور ورقاء نے اس حدیث کو عبداللہ بن دینار سے روایت کیا، انہوں نے سعید بن یسار سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، اس میں بھی یہ فقرہ ہے کہ اللہ کی طرف وہی خیرات چڑھتی ہے جو حلال کمائی میں سے ہو۔
وقال خالد بن مخلد حدثنا سليمان، حدثني عبد الله بن دينار، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من تصدق بعدل تمرة من كسب طيب، ولا يصعد الى الله الا الطيب، فان الله يتقبلها بيمينه، ثم يربيها لصاحبه كما يربي احدكم فلوه، حتى تكون مثل الجبل ". ورواه ورقاء عن عبد الله بن دينار عن سعيد بن يسار عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم " ولا يصعد الى الله الا الطيب