Loading...

Loading...
کتب
۱۹۳ احادیث
مجھ سے سعید بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے عبداللہ ابن مبارک نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے، ان سے سالم بن عبداللہ بن عمر نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قسم اس طرح کھاتے ”قسم اس کی جو دلوں کا پھیر دینے والا ہے۔“
حدثني سعيد بن سليمان، عن ابن المبارك، عن موسى بن عقبة، عن سالم، عن عبد الله، قال اكثر ما كان النبي صلى الله عليه وسلم يحلف " لا ومقلب القلوب
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں، جو انہیں یاد کر لے گا وہ جنت میں جائے گا۔“
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، حدثنا ابو الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان لله تسعة وتسعين اسما ماية الا واحدا، من احصاها دخل الجنة ". {احصيناه} حفظناه
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اپنے بستر پر جائے تو اسے چاہئے کہ اسے اپنے کپڑے کے کنارے سے تین مرتبہ صاف کر لے اور یہ دعا پڑھے «باسمك رب وضعت جنبي وبك أرفعه، إن أمسكت نفسي فاغفر لها، وإن أرسلتها فاحفظها بما تحفظ به عبادك الصالحين» ”اے میرے رب! تیرا نام لے کر میں اپنی کروٹ رکھتا ہوں اور تیرے نام ہی کے ساتھ اسے اٹھاؤں گا۔ اگر تو نے میری جان کو باقی رکھا تو اسے معاف کرنا اور اگر اسے ( اپنی طرف سوتے ہی میں ) اٹھا لیا تو اس کی حفاظت اس طرح کرنا جس طرح تو اپنے نیکوکار بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔“ اس روایت کی متابعت یحییٰ اور بشر بن الفضل نے عبیداللہ سے کی ہے، ان سے سعید نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ اور زہیر، ابوضمرہ اور اسماعیل بن زکریا نے عبیداللہ سے یہ اضافہ کیا کہ ان سے سعید نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور اس کی روایت ابن عجلان نے کی، ان سے سعید نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ اس کی متابعت محمد بن عبدالرحمٰن الداوردی اور اسامہ بن حفص نے کی۔
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثني مالك، عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا جاء احدكم فراشه فلينفضه بصنفة ثوبه ثلاث مرات، وليقل باسمك رب وضعت جنبي وبك ارفعه، ان امسكت نفسي فاغفر لها، وان ارسلتها فاحفظها بما تحفظ به عبادك الصالحين ". تابعه يحيى وبشر بن المفضل عن عبيد الله عن سعيد عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم. وزاد زهير وابو ضمرة واسماعيل بن زكرياء عن عبيد الله عن سعيد عن ابيه عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم. ورواه ابن عجلان عن سعيد عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالملک بن عمیر نے، ان سے ربعی بن حراش نے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے بستر پر لیٹنے جاتے تو یہ دعا کرتے «اللهم باسمك أحيا وأموت» ”اے اللہ! تیرے نام کے ساتھ زندہ ہوں اور اسی کے ساتھ مروں گا۔“ اور جب صبح ہوتی تو یہ دعا کرتے «الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور» ”تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے اس کے بعد زندہ کیا کہ ہم مر چکے تھے اور اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے۔“
حدثنا مسلم، حدثنا شعبة، عن عبد الملك، عن ربعي، عن حذيفة، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا اوى الى فراشه قال " اللهم باسمك احيا واموت ". واذا اصبح قال " الحمد لله الذي احيانا بعد ما اماتنا واليه النشور
ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ربعی بن حراش نے، ان سے خرشہ بن الحر نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات میں لیٹنے جاتے تو کہتے «باسمك نموت ونحيا» ”ہم تیرے ہی نام سے مریں گے اور اسی سے زندہ ہوں گے۔“ اور جب بیدار ہوتے تو کہتے «الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور» ”تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف جانا ہے۔“
حدثنا سعد بن حفص، حدثنا شيبان، عن منصور، عن ربعي بن حراش، عن خرشة بن الحر، عن ابي ذر، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا اخذ مضجعه من الليل قال " باسمك نموت ونحيا، فاذا استيقظ قال الحمد لله الذي احيانا بعد ما اماتنا واليه النشور
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے سالم نے، ان سے کریب نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘””جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس جانے کا ارادہ کرے اور یہ دعا پڑھ لے «باسم الله، اللهم جنبنا الشيطان، وجنب الشيطان ما رزقتنا.» ”شروع اللہ کے نام سے، اے اللہ! ہمیں شیطان سے دور رکھنا اور تو جو ہمیں بچہ عطا کرے اسے بھی شیطان سے دور رکھنا۔“ تو اگر اسی صحبت میں ان دونوں سے کوئی بچہ نصیب ہوا تو شیطان اسے کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔“
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا جرير، عن منصور، عن سالم، عن كريب، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو ان احدكم اذا اراد ان ياتي اهله فقال باسم الله، اللهم جنبنا الشيطان، وجنب الشيطان ما رزقتنا. فانه ان يقدر بينهما ولد في ذلك لم يضره شيطان ابدا
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے فضیل نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے ہمام نے، ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں اپنے سدھائے ہوئے کتے کو شکار کے لیے چھوڑتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم سدھائے ہوئے کتے چھوڑو اور ان کے ساتھ اللہ کا نام بھی لے لو، پھر وہ کوئی شکار پکڑیں اور اسے کھائیں نہیں تو تم اسے کھا سکتے ہو اور جب شکار پر بن پھال کے تیر یعنی لکڑی سے کوئی شکار مارے لیکن وہ نوک سے لگ کر جانور کا گوشت چیر دے تو ایسا شکار بھی کھاؤ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا فضيل، عن منصور، عن ابراهيم، عن همام، عن عدي بن حاتم، قال سالت النبي صلى الله عليه وسلم قلت ارسل كلابي المعلمة. قال " اذا ارسلت كلابك المعلمة وذكرت اسم الله فامسكن فكل، واذا رميت بالمعراض فخزق فكل
ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوخالد احمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ہشام بن عروہ سنا، وہ اپنے والد (عروہ بن زبیر) سے بیان کرتے تھے کہ ان سے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ! وہاں کے قبیلے ابھی حال ہی میں اسلام لائے اور وہ ہمیں گوشت لا کر دیتے ہیں۔ ہمیں یقین نہیں ہوتا کہ ذبح کرتے وقت انہوں نے اللہ کا نام بھی لیا تھا یا نہیں ( تو کیا ہم اسے کھا سکتے ہیں؟ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس پر اللہ کا نام لے کر اسے کھا لیا کرو۔ اس روایت کی متابعت محمد بن عبدالرحمٰن دراوردی اور اسامہ بن حفص نے کی۔
حدثنا يوسف بن موسى، حدثنا ابو خالد الاحمر، قال سمعت هشام بن عروة، يحدث عن ابيه، عن عايشة، قالت قالوا يا رسول الله ان هنا اقواما حديثا عهدهم بشرك، ياتونا بلحمان لا ندري يذكرون اسم الله عليها ام لا. قال " اذكروا انتم اسم الله وكلوا ". تابعه محمد بن عبد الرحمن والدراوردي واسامة بن حفص
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مینڈھوں کی قربانی کی اور ذبح کرتے وقت بسم اللہ اللہ اکبر پڑھا۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا هشام، عن قتادة، عن انس، قال ضحى النبي صلى الله عليه وسلم بكبشين، يسمي ويكبر
ہم سے حفص بن عمر حوضی نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اسود بن قیس نے اور ان سے جندب رضی اللہ عنہ نے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو موجود تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی پھر خطبہ دیا اور فرمایا ”جس نے نماز سے پہلے جانور ذبح کر لیا تو اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور جس نے ذبح ابھی نہ کیا ہو تو وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرے۔“
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن الاسود بن قيس، عن جندب، انه شهد النبي صلى الله عليه وسلم يوم النحر صلى ثم خطب فقال " من ذبح قبل ان يصلي فليذبح مكانها اخرى، ومن لم يذبح فليذبح باسم الله
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ورقاء نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اپنے باپ دادوں کی قسم نہ کھایا کرو، اگر کسی کو قسم کھانی ہی ہو تو اللہ کے نام کی قسم کھائے ورنہ خاموش رہے۔“
حدثنا ابو نعيم، حدثنا ورقاء، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا تحلفوا بابايكم، ومن كان حالفا فليحلف بالله
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عمرو بن ابی سفیان بن اسید بن جاریہ ثقفی نے خبر دی جو بنی زہرہ کے حلیف تھے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگردوں میں تھے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عضل اور قارہ والوں کی درخواست پر دس اکابر صحابہ کو جن میں خبیب رضی اللہ عنہ بھی تھے، ان کے ہاں بھیجا۔ ابن شہاب نے کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عیاض نے خبر دی کہ حارث کی صاحبزادی زینب نے انہیں بتایا کہ جب لوگ خبیب رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کے لیے آمادہ ہوئے ( اور قید میں تھے ) تو اسی زمانے میں انہوں نے ان سے صفائی کرنے کے لیے استرہ لیا تھا، جب وہ لوگ خبیب رضی اللہ عنہ کو حرم سے باہر قتل کرنے لے گئے تو انہوں نے یہ اشعار کہے۔ ”اور جب میں مسلمان ہونے کی حالت میں قتل کیا جا رہا ہوں تو مجھے اس کی پروا نہیں کہ مجھے کس پہلو پر قتل کیا جائے گا اور میرا یہ مرنا اللہ کے لیے ہے اور اگر وہ چاہے گا تو میرے ٹکڑے ٹکڑے کئے ہوئے اعضاء پر برکت نازل کرے گا۔“ پھر ابن الحارث نے انہیں قتل کر دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو اس حادثہ کی اطلاع اسی دن دی جس دن یہ حضرات شہید کئے گئے تھے۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، اخبرني عمرو بن ابي سفيان بن اسيد بن جارية الثقفي حليف لبني زهرة وكان من اصحاب ابي هريرة ان ابا هريرة قال بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم عشرة منهم خبيب الانصاري، فاخبرني عبيد الله بن عياض ان ابنة الحارث اخبرته انهم حين اجتمعوا استعار منها موسى يستحد بها، فلما خرجوا من الحرم ليقتلوه قال خبيب الانصاري ولست ابالي حين اقتل مسلما ** على اي شق كان لله مصرعي وذلك في ذات الاله وان يشا ** يبارك على اوصال شلو ممزع فقتله ابن الحارث فاخبر النبي صلى الله عليه وسلم اصحابه خبرهم يوم اصيبوا
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے شقیق نے اور ان سے عبداللہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی بھی اللہ سے زیادہ غیرت مند نہیں اور اسی لیے اس نے فواحش کو حرام قرار دیا ہے اور اللہ سے زیادہ کوئی تعریف پسند کرنے والا نہیں۔“
حدثنا عمر بن حفص بن غياث، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، عن شقيق، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما من احد اغير من الله، من اجل ذلك حرم الفواحش، وما احد احب اليه المدح من الله
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے صالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اپنی کتاب میں اسے لکھا، اس نے اپنی ذات کے متعلق بھی لکھا اور یہ اب بھی عرش پر لکھا ہوا موجود ہے «إن رحمتي تغلب غضبي» کہ ”میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔““
حدثنا عبدان، عن ابي حمزة، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لما خلق الله الخلق كتب في كتابه هو يكتب على نفسه، وهو وضع عنده على العرش ان رحمتي تغلب غضبي
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے، کہا ہم سے اعمش نے، کہا میں نے ابوصالح سے سنا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں اور جب وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اور جب وہ مجھے مجلس میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اس سے بہتر فرشتوں کی مجلس میں اسے یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے ایک بالشت قریب آتا ہے تو میں اس سے ایک ہاتھ قریب ہو جاتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے ایک ہاتھ قریب آتا ہے تو میں اس سے دو ہاتھ قریب ہو جاتا ہوں اور اگر وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آ جاتا ہوں۔“
حدثنا عمر بن حفص، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، سمعت ابا صالح، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " يقول الله تعالى انا عند ظن عبدي بي، وانا معه اذا ذكرني، فان ذكرني في نفسه ذكرته في نفسي، وان ذكرني في ملا ذكرته في ملا خير منهم، وان تقرب الى بشبر تقربت اليه ذراعا، وان تقرب الى ذراعا تقربت اليه باعا، وان اتاني يمشي اتيته هرولة
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے عمرو نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی «قل هو القادر على أن يبعث عليكم عذابا من فوقكم» ”آپ کہہ دیجئیے کہ وہ قادر ہے اس پر کہ تم پر تمہارے اوپر سے عذاب نازل کرے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ”میں تیرے منہ کی پناہ مانگتا ہوں۔“ پھر آیت کے یہ الفاظ نازل ہوئے «أو من تحت أرجلكم» ”وہ تمہارے اوپر سے تم پر عذاب نازل کرے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب آ جائے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہ دعا کی کہ میں تیرے منہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی «أو يلبسكم شيعا» ”یا تمہیں فرقہ بندی میں مبتلا کر دے ( کہ یہ بھی عذاب کی قسم ہے ) “ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ آسان ہے بہ نسبت اگلے عذابوں کے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا حماد، عن عمرو، عن جابر بن عبد الله، قال لما نزلت هذه الاية {قل هو القادر على ان يبعث عليكم عذابا من فوقكم} قال النبي صلى الله عليه وسلم " اعوذ بوجهك ". فقال {او من تحت ارجلكم} فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اعوذ بوجهك ". قال {او يلبسكم شيعا} فقال النبي صلى الله عليه وسلم " هذا ايسر
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دجال کا ذکر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ اللہ کانا نہیں ہے اور آپ نے ہاتھ سے اپنی آنکھ کی طرف اشارہ کیا اور دجال مسیح کی دائیں آنکھ کانی ہو گی، جیسے اس کی آنکھ پر انگور کا ایک اٹھا ہوا دانہ ہو۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا جويرية، عن نافع، عن عبد الله، قال ذكر الدجال عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ان الله لا يخفى عليكم، ان الله ليس باعور واشار بيده الى عينه وان المسيح الدجال اعور العين اليمنى كان عينه عنبة طافية
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم کو قتادہ نے خبر دی، کہا میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے جتنے نبی بھیجے ان سب نے جھوٹے کانے دجال سے اپنی قوم کو ڈرایا، وہ دجال کانا ہو گا اور تمہارا رب ( آنکھوں والا ہے ) کانا نہیں ہے، اس دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھا ہوا ہو گا ( لفظ ) کافر۔“
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، اخبرنا قتادة، قال سمعت انسا رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما بعث الله من نبي الا انذر قومه الاعور الكذاب، انه اعور، وان ربكم ليس باعور، مكتوب بين عينيه كافر
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم سے عفان نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا مجھ سے محمد بن یحییٰ بن حبان نے بیان کیا، ان سے ابن محیریز نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ غزوہ بنو المصطلق میں انہیں باندیاں غنیمت میں ملیں تو انہوں نے چاہا کہ ان سے ہمبستری کریں لیکن حمل نہ ٹھہرے۔ چنانچہ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے متعلق پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم عزل بھی کرو تو کوئی قباحت نہیں مگر قیامت تک جس جان کے متعلق اللہ تعالیٰ نے پیدا ہونا لکھ دیا ہے وہ ضرور پیدا ہو کر رہے گی ( اس لیے تمہارا عزل کرنا بیکار ہے۔ موجودہ جبری نسل بندی کا جواز اس سے نکالنا بالکل غلط ہے۔ اور مجاہد نے قزعہ سے بیان کیا کہ انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی بھی جان جو پیدا ہونی ہے، اللہ تعالیٰ ضرور اسے پیدا کر کے رہے گا۔)
حدثنا اسحاق، حدثنا عفان، حدثنا وهيب، حدثنا موسى هو ابن عقبة حدثني محمد بن يحيى بن حبان، عن ابن محيريز، عن ابي سعيد الخدري، في غزوة بني المصطلق انهم اصابوا سبايا فارادوا ان يستمتعوا بهن ولا يحملن فسالوا النبي صلى الله عليه وسلم عن العزل فقال " ما عليكم ان لا تفعلوا، فان الله قد كتب من هو خالق الى يوم القيامة ". وقال مجاهد عن قزعة سمعت ابا سعيد فقال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ليست نفس مخلوقة الا الله خالقها
مجھ سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے، انہوں نے قتادہ بن دعامہ سے، انہوں نے انس رضی اللہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسی طرح جیسے ہم دنیا میں جمع ہوتے ہیں، مومنوں کو اکٹھا کرے گا ( وہ گرمی وغیرہ سے پریشان ہو کر ) کہیں گے کاش ہم کسی کی سفارش اپنے مالک کے پاس لے جاتے تاکہ ہمیں اپنی اس حالت سے آرام ملتا۔ چنانچہ سب مل کر آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے۔ ان سے کہیں گے آدم! آپ لوگوں کا حال نہیں دیکھتے کس بلا میں گرفتار ہیں۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ( خاص ) اپنے ہاتھ سے بنایا اور فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا اور ہر چیز کے نام آپ کو بتلائے ( ہر لغت میں بولنا بات کرنا سکھلایا ) کچھ سفارش کیجئے تاکہ ہم لوگوں کو اس جگہ سے نجات ہو کر آرام ملے۔ کہیں گے میں اس لائق نہیں، ان کو وہ گناہ یاد آ جائے گا جو انہوں نے کیا تھا ( ممنوع درخت میں سے کھانا ) ۔ ( وہ کہیں گے ) مگر تم لوگ ایسا کرو نوح علیہ السلام پیغمبر کے پاس جاؤ وہ پہلے پیغمبر ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے زمین والوں کی طرف بھیجا تھا۔ آخر وہ لوگ سب نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے، وہ بھی یہی جواب دیں گے، میں اس لائق نہیں اپنی خطا جو انہوں نے ( دنیا میں ) کی تھی یاد کریں گے۔ کہیں گے تم لوگ ایسا کرو پیغمبر ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ جو اللہ کے خلیل ہیں ( لوگ ان کے پاس جائیں گے ) وہ بھی اپنی خطائیں یاد کر کے کہیں گے میں اس لائق نہیں تم موسیٰ علیہ السلام پیغمبر کے پاس جاؤ اللہ نے ان کو توراۃ عنائت فرمائی، ان سے بول کر باتیں کیں۔ یہ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے وہ بھی یہی کہیں گے میں اس لائق نہیں اپنی خطا جو انہوں نے دنیا میں کی تھی یاد کریں گے مگر تم ایسا کرو عیسیٰ علیہ السلام پیغمبر کے پاس جاؤ وہ اللہ کے بندے، اس کے رسول، اس کے خاص کلمہ اور خاص روح ہیں۔ یہ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے وہ کہیں گے میں اس لائق نہیں تم ایسا کرو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ وہ اللہ کے ایسے بندے ہیں جن کی اگلی پچھلی خطائیں سب بخش دی گئی ہیں۔ آخر یہ سب لوگ جمع ہو کر میرے پاس آئیں گے۔ میں چلوں گا اور اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہونے کی اجازت مانگوں گا، مجھ کو اجازت ملے گی۔ میں اپنے پروردگار کو دیکھتے ہی سجدے میں گر پڑوں گا اور جب تک اس کو منظور ہے وہ مجھ کو سجدے ہی میں پڑا رہنے دے گا۔ اس کے بعد حکم ہو گا ”محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر اٹھاؤ اور عرض کرو تمہاری عرض سنی جائے گی تمہاری درخواست منظور ہو گی، تمہاری سفارش مقبول ہو گی اس وقت میں اپنے مالک کی ایسی ایسی تعریفیں کروں گا جو وہ مجھ کو سکھا چکا ہے۔ ( یا سکھلائے گا ) پھر لوگوں کی سفارش شروع کر دوں گا۔ سفارش کی ایک حد مقرر کر دی جائے گی۔ میں ان کو بہشت میں لے جاؤں گا، پھر لوٹ کر اپنے پروردگار کے پاس حاضر ہوں گا اور اس کو دیکھتے ہی سجدے میں گر پڑوں گا جب تک پروردگار چاہے گا مجھ کو سجدے میں پڑا رہنے دے گا۔ اس کے بعد ارشاد ہو گا ”محمد اپنا سر اٹھاؤ جو تم کہو گے سنا جائے گا اور سفارش کرو گے تو قبول ہو گی پھر میں اپنے پروردگار کی ایسی تعریفیں کروں گا جو اللہ نے مجھ کو سکھلائیں ( یا سکھلائے گا ) اس کے بعد سفارش کر دوں گا لیکن سفارش کی ایک حد مقرر کر دی جائے گی۔ میں ان کو بہشت میں لے جاؤں گا پھر لوٹ کر اپنے پروردگار کے پاس حاضر ہوں گا اس کو دیکھتے ہی سجدے میں گر پڑوں گا جب تک پروردگار چاہے گا مجھ کو سجدے میں پڑا رہنے دیے گا۔ اس کے بعد ارشاد ہو گا محمد اپنا سر اٹھاؤ جو تم کہو گے سنا جائے گا اور سفارش کرو گے تو قبول ہو گی پھر میں اپنے پروردگار کی ایسی تعریفیں کروں گا جو اللہ نے مجھ کو سکھلائیں ( یا سکھلائے گا ) اس کے بعد سفارش شروع کر دوں گا لیکن سفارش کی ایک حد مقرر کر دی جائے گی۔ میں ان کو بہشت میں لے جاؤں گا پھر لوٹ کر اپنے پروردگار کے پاس حاضر ہوں گا۔ عرض کروں گا: یا پاک پروردگار! اب تو دوزخ میں ایسے ہی لوگ رہ گئے ہیں جو قرآن کے بموجب دوزخ ہی میں ہمیشہ رہنے کے لائق ہیں ( یعنی کافر اور مشرک ) ۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دوزخ سے وہ لوگ نکال لیے جائیں گے جنہوں نے ( دنیا میں ) لا الہٰ الا اللہ کہا ہو گا اور ان کے دل میں ایک جَو برابر ایمان ہو گا پھر وہ لوگ بھی نکال لیے جائیں گے جنہوں نے لا الہٰ الا اللہ کہا ہو گا اور ان کے دل میں گیہوں برابر ایمان ہو گا۔ ( گیہوں جَو سے چھوٹا ہوتا ہے ) پھر وہ بھی نکال لیے جائیں گے جنہوں نے لا الہٰ الا اللہ کہا ہو گا اور ان کے دل میں چیونٹی برابر ( یا بھنگے برابر ) ایمان ہو گا۔
حدثني معاذ بن فضالة، حدثنا هشام، عن قتادة، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " يجمع الله المومنين يوم القيامة كذلك فيقولون لو استشفعنا الى ربنا حتى يريحنا من مكاننا هذا. فياتون ادم فيقولون يا ادم اما ترى الناس خلقك الله بيده واسجد لك ملايكته وعلمك اسماء كل شىء، شفع لنا الى ربنا حتى يريحنا من مكاننا هذا. فيقول لست هناك ويذكر لهم خطييته التي اصاب ولكن ايتوا نوحا، فانه اول رسول بعثه الله الى اهل الارض. فياتون نوحا فيقول لست هناكم ويذكر خطييته التي اصاب ولكن ايتوا ابراهيم خليل الرحمن. فياتون ابراهيم فيقول لست هناكم ويذكر لهم خطاياه التي اصابها ولكن ايتوا موسى عبدا اتاه الله التوراة وكلمه تكليما فياتون موسى فيقول لست هناكم ويذكر لهم خطييته التي اصاب ولكن ايتوا عيسى عبد الله ورسوله وكلمته وروحه. فياتون عيسى فيقول لست هناكم ولكن ايتوا محمدا صلى الله عليه وسلم عبدا غفر له ما تقدم من ذنبه وما تاخر. فياتوني فانطلق فاستاذن على ربي فيوذن لي عليه، فاذا رايت ربي وقعت له ساجدا فيدعني ما شاء الله ان يدعني ثم يقال لي ارفع محمد، وقل يسمع، وسل تعطه، واشفع تشفع. فاحمد ربي بمحامد علمنيها، ثم اشفع فيحد لي حدا فادخلهم الجنة، ثم ارجع فاذا رايت ربي وقعت ساجدا، فيدعني ما شاء الله ان يدعني ثم يقال ارفع محمد، وقل يسمع، وسل تعطه، واشفع تشفع، فاحمد ربي بمحامد علمنيها ربي ثم اشفع فيحد لي حدا فادخلهم الجنة، ثم ارجع فاذا رايت ربي وقعت ساجدا، فيدعني ما شاء الله ان يدعني ثم يقال ارفع محمد، قل يسمع، وسل تعطه، واشفع تشفع، فاحمد ربي بمحامد علمنيها، ثم اشفع فيحد لي حدا فادخلهم الجنة، ثم ارجع فاقول يا رب ما بقي في النار الا من حبسه القران ووجب عليه الخلود ". قال النبي صلى الله عليه وسلم " يخرج من النار من قال لا اله الا الله. وكان في قلبه من الخير ما يزن شعيرة، ثم يخرج من النار من قال لا اله الا الله. وكان في قلبه من الخير ما يزن برة، ثم يخرج من النار من قال لا اله الا الله. وكان في قلبه ما يزن من الخير ذرة