Loading...

Loading...
کتب
۱۹۳ احادیث
ہم سے ابوعاصم نبیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے زکریا بن اسحاق نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی نے بیان کیا، ان سے ابومعبد نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا۔
حدثنا ابو عاصم، حدثنا زكرياء بن اسحاق، عن يحيى بن عبد الله بن صيفي، عن ابي معبد، عن ابن عباس، رضى الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم بعث معاذا الى اليمن
اور مجھ سے عبداللہ بن محمد بن ابی الاسود نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے فضل بن العلاء نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن امیہ نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن عبداللہ بن محمد بن صیفی نے بیان کیا، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام ابومعبد سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو ان سے فرمایا کہ تم اہل کتاب میں سے ایک قوم کے پاس جا رہے ہو۔ اس لیے سب سے پہلے انہیں اس کی دعوت دینا کہ وہ اللہ کو ایک مانیں ( اور میری رسالت کو مانیں ) جب وہ اسے سمجھ لیں تو پھر انہیں بتانا کہ اللہ نے ایک دن اور رات میں ان پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ جب وہ نماز پڑھنے لگیں تو انہیں بتانا کہ اللہ نے ان پر ان کے مالوں میں زکوٰۃ فرض کی ہے، جو ان کے امیروں سے لی جائے گی اور ان کے غریبوں کو لوٹا دی جائے گی۔ جب وہ اس کا بھی اقرار کر لیں تو ان سے زکوٰۃ لینا اور لوگوں کے عمدہ مال لینے سے پرہیز کرنا۔
وحدثني عبد الله بن ابي الاسود، حدثنا الفضل بن العلاء، حدثنا اسماعيل بن امية، عن يحيى بن عبد الله بن محمد بن صيفي، انه سمع ابا معبد، مولى ابن عباس يقول سمعت ابن عباس، يقول لما بعث النبي صلى الله عليه وسلم معاذا نحو اليمن قال له " انك تقدم على قوم من اهل الكتاب فليكن اول ما تدعوهم الى ان يوحدوا الله تعالى فاذا عرفوا ذلك فاخبرهم ان الله فرض عليهم خمس صلوات في يومهم وليلتهم، فاذا صلوا فاخبرهم ان الله افترض عليهم زكاة في اموالهم توخذ من غنيهم فترد على فقيرهم، فاذا اقروا بذلك فخذ منهم وتوق كرايم اموال الناس
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوحصین اور اشعث بن سلیم نے، انہوں نے اسود بن ہلال سے سنا، ان سے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے معاذ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ کا اس کے بندوں پر کیا حق ہے؟“ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کا کوئی شریک نہ ٹھہرائیں۔ کیا تمہیں معلوم ہے پھر بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے؟ عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں، فرمایا یہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن ابي حصين، والاشعث بن سليم، سمعا الاسود بن هلال، عن معاذ بن جبل، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " يا معاذ اتدري ما حق الله على العباد ". قال الله ورسوله اعلم. قال " ان يعبدوه ولا يشركوا به شييا، اتدري ما حقهم عليه ". قال الله ورسوله اعلم. قال " ان لا يعذبهم
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص نے ایک دوسرے شخص قتادہ بن نعمان کو باربار قل ھو اللہ احد پڑھتے سنا۔ صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس طرح واقعہ بیان کیا جیسے وہ اسے کم سمجھتے ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ سورت تہائی قرآن کے برابر ہے۔ اسماعیل بن جعفر نے امام مالک سے یہ بڑھایا کہ ان سے عبدالرحمٰن نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے میرے بھائی قتادہ بن نعمان نے خبر دی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
حدثنا اسماعيل، حدثني مالك، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن عبد الرحمن بن ابي صعصعة، عن ابيه، عن ابي سعيد الخدري، ان رجلا، سمع رجلا، يقرا {قل هو الله احد} يرددها، فلما اصبح جاء الى النبي صلى الله عليه وسلم فذكر له ذلك، وكان الرجل يتقالها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " والذي نفسي بيده انها لتعدل ثلث القران ". زاد اسماعيل بن جعفر عن مالك، عن عبد الرحمن، عن ابيه، عن ابي سعيد، اخبرني اخي، قتادة بن النعمان عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، ان سے عمرو نے، ان سے ابوہلال نے اور ان سے ابوالرجال محمد بن عبدالرحمٰن نے، ان سے ان کی والدہ عمرہ بن عبدالرحمٰن نے وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی پرورش میں تھیں۔ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب کو ایک مہم پر روانہ کیا۔ وہ صاحب اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تھے اور نماز میں ختم قل ھو اللہ احد پر کرتے تھے۔ جب لوگ واپس آئے تو اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان سے پوچھو کہ وہ یہ طرز عمل کیوں اختیار کئے ہوئے تھے۔ چنانچہ لوگوں نے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وہ ایسا اس لیے کرتے تھے کہ یہ اللہ کی صفت ہے اور میں اسے پڑھنا عزیز رکھتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں بتا دو کہ اللہ بھی انہیں عزیز رکھتا ہے۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، حدثنا عمرو، عن ابن ابي هلال، ان ابا الرجال، محمد بن عبد الرحمن حدثه عن امه، عمرة بنت عبد الرحمن وكانت في حجر عايشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم عن عايشة ان النبي صلى الله عليه وسلم بعث رجلا على سرية، وكان يقرا لاصحابه في صلاته فيختم ب {قل هو الله احد} فلما رجعوا ذكروا ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال " سلوه لاى شىء يصنع ذلك ". فسالوه فقال لانها صفة الرحمن، وانا احب ان اقرا بها. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اخبروه ان الله يحبه
ہم سے محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں زید بن وہب اور ابوظبیان نے اور ان سے جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو لوگوں پر رحم نہیں کھاتا اللہ بھی اس پر رحم نہیں کھاتا۔“
حدثنا محمد، اخبرنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن زيد بن وهب، وابي، ظبيان عن جرير بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يرحم الله من لا يرحم الناس
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عاصم احول نے، ان سے ابوعثمان نہدی نے اور ان سے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ آپ کی ایک صاحبزادی زینب کے بھیجے ہوئے ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ ان کے لڑکے جاں کنی میں مبتلا ہیں اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا رہی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم جا کر انہیں بتا دو کہ اللہ ہی کا سب مال ہے جو چاہے لے لے اور جو چاہے دیدے اور اس کی بارگاہ میں ہر چیز کے لیے ایک وقت مقرر ہے پس ان سے کہو کہ صبر کریں اور اس پر صبر ثواب کی نیت سے کریں۔ صاحبزادی نے دوبارہ آپ کو قسم دے کر کہلا بھیجا کہ آپ ضرور تشریف لائے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ کے ساتھ سعد بن معاذ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما بھی کھڑے ہوئے ( پھر جب آپ صاحبزادی کے گھر پہنچے تو ) بچہ آپ کو دیا گیا اور اس کی سانس اکھڑ رہی تھی جیسے پرانی مشک کا حال ہوتا ہے۔ یہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ اس پر سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! یہ کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ رحمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھی ہے اور اللہ بھی اپنے انہیں بندوں پر رحم کرتا ہے جو رحم دل ہوتے ہیں۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد بن زيد، عن عاصم الاحول، عن ابي عثمان النهدي، عن اسامة بن زيد، قال كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم اذ جاءه رسول احدى بناته يدعوه الى ابنها في الموت فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ارجع فاخبرها ان لله ما اخذ، وله ما اعطى، وكل شىء عنده باجل مسمى، فمرها فلتصبر ولتحتسب ". فاعادت الرسول انها اقسمت لتاتينها، فقام النبي صلى الله عليه وسلم وقام معه سعد بن عبادة ومعاذ بن جبل، فدفع الصبي اليه ونفسه تقعقع كانها في شن ففاضت عيناه فقال له سعد يا رسول الله. قال " هذه رحمة جعلها الله في قلوب عباده، وانما يرحم الله من عباده الرحماء
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ نے، ان سے اعمش نے، ان سے سعید بن جبیر نے، ان سے ابوعبدالرحمٰن سلمی نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تکلیف دہ بات سن کر اللہ سے زیادہ صبر کرنے والا کوئی نہیں ہے، کم بخت مشرک کہتے ہیں کہ اللہ اولاد رکھتا ہے اور پھر بھی وہ انہیں معاف کرتا ہے اور انہیں روزی دیتا ہے۔“
حدثنا عبدان، عن ابي حمزة، عن الاعمش، عن سعيد بن جبير، عن ابي عبد الرحمن السلمي، عن ابي موسى الاشعري، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ما احد اصبر على اذى سمعه من الله، يدعون له الولد، ثم يعافيهم ويرزقهم
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”غیب کی پانچ کنجیاں ہیں، جنہیں اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا کہ رحم مادر میں کیا ہے، اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہو گا، اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا کہ بارش کب آئے گی، اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا کہ کس جگہ کوئی مرے گا اور اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کب قائم ہو گی۔“
حدثنا خالد بن مخلد، حدثنا سليمان بن بلال، حدثني عبد الله بن دينار، عن ابن عمر رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " مفاتيح الغيب خمس لا يعلمها الا الله، لا يعلم ما تغيض الارحام الا الله، ولا يعلم ما في غد الا الله، ولا يعلم متى ياتي المطر احد الا الله، ولا تدري نفس باى ارض تموت الا الله، ولا يعلم متى تقوم الساعة الا الله
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے شعبی نے بیان کیا، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اگر تم سے کوئی یہ کہتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا تو وہ غلط کہتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بارے میں خود کہتا ہے کہ نظریں اس کو دیکھ نہیں سکتیں اور جو کوئی کہتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غیب جانتے تھے تو غلط کہتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ خود کہتا ہے کہ غیب کا علم اللہ کے سوا اور کسی کو نہیں۔
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن اسماعيل، عن الشعبي، عن مسروق، عن عايشة رضى الله عنها قالت من حدثك ان محمدا صلى الله عليه وسلم راى ربه فقد كذب وهو يقول {لا تدركه الابصار} ومن حدثك انه يعلم الغيب فقد كذب، وهو يقول لا يعلم الغيب الا الله
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے مغیرہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شقیق بن سلمہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم ( ابتداء اسلام میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تھے اور کہتے تھے «السلام على الله.» تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ اللہ تو خود ہی «السلام.» ہے، البتہ اس طرح کہا کرو «التحيات لله والصلوات والطيبات، السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين، أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» ۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا مغيرة، حدثنا شقيق بن سلمة، قال قال عبد الله كنا نصلي خلف النبي صلى الله عليه وسلم فنقول السلام على الله. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ان الله هو السلام ولكن قولوا التحيات لله والصلوات والطيبات، السلام عليك ايها النبي ورحمة الله وبركاته، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين، اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمدا عبده ورسوله
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ کو یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں سعید نے، انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ قیامت کے دن زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا اور آسمان کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا پھر فرمائے گا میں بادشاہ ہوں، کہاں ہیں زمین کے بادشاہ۔“ شعیب اور زبیدی بن مسافر اور اسحاق بن یحییٰ نے زہری سے بیان کیا اور ان سے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن سعيد، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يقبض الله الارض يوم القيامة، ويطوي السماء بيمينه ثم يقول انا الملك اين ملوك الارض ". وقال شعيب والزبيدي وابن مسافر واسحاق بن يحيى عن الزهري عن ابي سلمة
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے حسین معلم نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن بریدہ نے، ان سے یحییٰ بن یعمر نے اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے ”تیری عزت کی پناہ مانگتا ہوں کہ کوئی معبود تیرے سوا نہیں، تیری ایسی ذات ہے جسے موت نہیں اور جن و انس فنا ہو جائیں گے۔“
حدثنا ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، حدثنا حسين المعلم، حدثني عبد الله بن بريدة، عن يحيى بن يعمر، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يقول " اعوذ بعزتك الذي لا اله الا انت، الذي لا يموت والجن والانس يموتون
ہم سے عبداللہ بن ابی السود نے بیان کیا، کہا ہم سے حرمی بن عمارہ نے، کہا ہم شعبہ نے، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لوگوں کو دوزخ میں ڈالا جائے گا ( دوسری سند ) اور مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے، ان سے قتادہ نے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے۔ ( تیسری سند ) اور خلیفہ بن خیاط نے اس حدیث کو معتمر بن سلیمان سے روایت کیا، کہا میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دوزخیوں کو برابر دوزخ میں ڈالا جاتا رہے گا اور وہ کہے جائے گی کہ کیا ابھی اور ہے۔ یہاں تک کہ رب العالمین اس پر اپنا قدم رکھ دے گا اور پھر اس کا بعض بعض سے سمٹ جائے گا اور اس وقت وہ کہے گی کہ بس بس ‘ تیری عزت اور کرم کی قسم! اور جنت میں جگہ باقی رہ جائے گی۔ یہاں تک کہ اللہ اس کے لیے ایک اور مخلوق پیدا کر دے گا اور وہ لوگ جنت کے باقی حصے میں رہیں گے۔“
حدثنا ابن ابي الاسود، حدثنا حرمي، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن انس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يلقى في النار ". وقال لي خليفة حدثنا يزيد بن زريع حدثنا سعيد عن قتادة عن انس. وعن معتمر سمعت ابي عن قتادة عن انس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يزال يلقى فيها وتقول هل من مزيد. حتى يضع فيها رب العالمين قدمه فينزوي بعضها الى بعض، ثم تقول قد قد بعزتك وكرمك. ولا تزال الجنة تفضل حتى ينشي الله لها خلقا فيسكنهم فضل الجنة
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے سلیمان احول نے، ان سے طاؤس نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں یہ دعا کرتے تھے «اللهم لك الحمد أنت رب السموات والأرض، لك الحمد أنت قيم السموات والأرض ومن فيهن، لك الحمد أنت نور السموات والأرض، قولك الحق، ووعدك الحق، ولقاؤك حق، والجنة حق، والنار حق، والساعة حق، اللهم لك أسلمت، وبك آمنت، وعليك توكلت، وإليك أنبت، وبك خاصمت، وإليك حاكمت، فاغفر لي ما قدمت وما أخرت، وأسررت وأعلنت، أنت إلهي لا إله لي غيرك .» ”اے اللہ! تیرے ہی لیے تعریف ہے تو آسمان و زمین کا مالک ہے، حمد تیرے لیے ہی ہے تو آسمان و زمین کا قائم کرنے والا ہے اور ان سب کا جو اس میں ہیں۔ تیری ہی لیے حمد ہے تو آسمان و زمین کا نور ہے۔ تیرا قول حق ہے اور تیرا وعدہ سچ ہے اور تیری ملاقات سچ اور جنت سچ اور دوزخ سچ ہے اور قیامت سچ ہے۔ اے اللہ! میں نے تیرے ہی سامنے سر جھکا دیا، میں تجھ ہی پر ایمان لایا، میں نے تیرے ہی اوپر بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف رجوع کیا۔ میں نے تیری ہی مدد کے ساتھ مقابلہ کیا اور میں تجھی سے انصاف کا طلب گار ہوں۔ پس تو میری مغفرت کر، ان تمام گناہوں میں جو میں پہلے کر چکا ہوں اور جو بعد میں مجھ سے صادر ہوں جو میں نے چھپا رکھے ہیں اور جن کا میں نے اظہار کیا ہے، تو ہی میرا معبود ہے اور تیرے سوا اور کوئی معبود نہیں۔“ اور ہم سے ثابت بن محمد نے بیان کیا اور کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے پھر یہی حدیث بیان کی اور اس میں یوں ہے «أنت الحق وقولك الحق.» کہ ”تو حق ہے اور تیرا کلام حق ہے۔“
حدثنا قبيصة، حدثنا سفيان، عن ابن جريج، عن سليمان، عن طاوس، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يدعو من الليل " اللهم لك الحمد انت رب السموات والارض، لك الحمد انت قيم السموات والارض ومن فيهن، لك الحمد انت نور السموات والارض، قولك الحق، ووعدك الحق، ولقاوك حق، والجنة حق، والنار حق، والساعة حق، اللهم لك اسلمت، وبك امنت، وعليك توكلت، واليك انبت، وبك خاصمت، واليك حاكمت، فاغفر لي ما قدمت وما اخرت، واسررت واعلنت، انت الهي لا اله لي غيرك ". حدثنا ثابت بن محمد حدثنا سفيان بهذا وقال انت الحق وقولك الحق
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے ابوعثمان نہدی نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے اور جب ہم بلندی پر چڑھتے تو ( زور سے چلا کر ) تکبیر کہتے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگو! اپنے اوپر رحم کھاؤ! اللہ بہرا نہیں ہے اور نہ وہ کہیں دور ہے۔ تم ایک بہت سننے، بہت واقف کار اور قریب رہنے والی ذات کو بلاتے ہو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے۔ میں اس وقت دل میں «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہہ رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ”عبداللہ بن قیس! «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہا کرو کہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔“ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں یہ نہ بتا دوں۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن ابي عثمان، عن ابي موسى، قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر فكنا اذا علونا كبرنا فقال " اربعوا على انفسكم، فانكم لا تدعون اصم ولا غايبا، تدعون سميعا بصيرا قريبا ". ثم اتى على وانا اقول في نفسي لا حول ولا قوة الا بالله. فقال لي " يا عبد الله بن قيس قل لا حول ولا قوة الا بالله. فانها كنز من كنوز الجنة ". او قال الا ادلك به
حدثنا يحيى بن سليمان، حدثني ابن وهب، اخبرني عمرو، عن يزيد، عن ابي الخير، سمع عبد الله بن عمرو، ان ابا بكر الصديق رضى الله عنه قال للنبي صلى الله عليه وسلم يا رسول الله علمني دعاء ادعو به في صلاتي. قال " قل اللهم اني ظلمت نفسي ظلما كثيرا، ولا يغفر الذنوب الا انت، فاغفر لي من عندك مغفرة، انك انت الغفور الرحيم
حدثنا يحيى بن سليمان، حدثني ابن وهب، اخبرني عمرو، عن يزيد، عن ابي الخير، سمع عبد الله بن عمرو، ان ابا بكر الصديق رضى الله عنه قال للنبي صلى الله عليه وسلم يا رسول الله علمني دعاء ادعو به في صلاتي. قال " قل اللهم اني ظلمت نفسي ظلما كثيرا، ولا يغفر الذنوب الا انت، فاغفر لي من عندك مغفرة، انك انت الغفور الرحيم
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ابن وہب نے خبر دی، انہوں نے کہا مجھ کو یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جبرائیل علیہ السلام نے مجھے پکار کر کہا کہ اللہ نے آپ کی قوم کی بات سن لی اور وہ بھی سن لیا جو انہوں نے آپ کو جواب دیا۔“
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا ابن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، حدثني عروة، ان عايشة رضى الله عنها حدثته قال النبي صلى الله عليه وسلم " ان جبريل عليه السلام ناداني قال ان الله قد سمع قول قومك وما ردوا عليك
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم سے معن بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابی الموالی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے محمد بن المنکدر سے سنا، وہ عبداللہ بن حسن سے بیان کرتے تھے، انہوں نے کہا کہ مجھے جابر بن عبداللہ سلمیٰ رضی اللہ عنہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو ہر مباح کام میں استخارہ کرنا سکھاتے تھے جس طرح آپ قرآن کی سورت سکھاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ جب تم میں سے کوئی کسی کام کا مقصد کرے تو اسے چاہئے کہ فرض کے سوا دو رکعت نفل نماز پڑھے، پھر سلام کے بعد یہ دعا کرے ”اے اللہ! میں تیرے علم کے طفیل اس کام میں خیریت طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کے طفیل طاقت مانگتا ہوں اور تیرا فضل۔ کیونکہ تجھے قدرت ہے اور مجھے نہیں ‘، تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا اور تو غیوب کا بہت جاننے والا ہے۔ اے اللہ! پس اگر تو یہ بات جانتا ہے ( اس وقت استخارہ کرنے والے کو اس کام کا نام لینا چاہئیے ) کہ اس کام میں میرے لیے دنیا و آخرت میں بھلائی ہے یا اس طرح فرمایا کہ ”میرے دین میں اور گزران میں اور میرے ہر انجام کے اعتبار سے بھلائی ہے تو اس پر مجھے قادر بنا دے اور میرے لیے اسے آسان کر دے، پھر اس میں میرے لیے برکت عطا فرما۔ اے اللہ! اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے برا ہے۔ میرے دین اور گزراہ کے اعتبار سے اور میرے انجام کے اعتبار سے، یا فرمایا کہ میری دنیا و دین کے اعتبار سے تو مجھے اس کام سے دور کر دے اور میرے لیے بھلائی مقدر کر دے جہاں بھی وہ ہو اور پھر مجھے اس پر راضی اور خوش رکھ۔
حدثني ابراهيم بن المنذر، حدثنا معن بن عيسى، حدثني عبد الرحمن بن ابي الموالي، قال سمعت محمد بن المنكدر، يحدث عبد الله بن الحسن يقول اخبرني جابر بن عبد الله السلمي، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلم اصحابه الاستخارة في الامور كلها، كما يعلم السورة من القران يقول " اذا هم احدكم بالامر فليركع ركعتين من غير الفريضة ثم ليقل اللهم اني استخيرك بعلمك، واستقدرك بقدرتك، واسالك من فضلك، فانك تقدر ولا اقدر، وتعلم ولا اعلم، وانت علام الغيوب، اللهم فان كنت تعلم هذا الامر ثم تسميه بعينه خيرا لي في عاجل امري واجله قال او في ديني ومعاشي وعاقبة امري فاقدره لي، ويسره لي، ثم بارك لي فيه، اللهم وان كنت تعلم انه شر لي في ديني ومعاشي وعاقبة امري او قال في عاجل امري واجله فاصرفني عنه، واقدر لي الخير حيث كان، ثم رضني به