احادیث
#7449
صحیح بخاری - Oneness, Uniqueness of Allah (Tawheed)
ہم سے عبیداللہ بن سعد بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے، کہا مجھ سے میرے والد نے، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جنت و دوزخ نے اپنے رب کے حضور میں جھگڑا کیا۔ جنت نے کہا: اے رب! کیا حال ہے کہ مجھ میں کمزور اور گرے پڑے لوگ ہی داخل ہوں گے اور دوزخ نے کہا کہ مجھ میں تو داخلہ کے لیے متکبروں کو خاص کر دیا گیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے جنت سے کہا کہ تو میری رحمت ہے اور جہنم سے کہا کہ تو میرا عذاب ہے۔ تیرے ذریعہ میں جسے چاہتا ہوں اس میں مبتلا کرتا ہوں اور تم میں سے ہر ایک کی بھرتی ہونے والی ہے۔ کہا کہ جہاں تک جنت کا تعلق ہے تو اللہ اپنی مخلوق میں کسی پر ظلم نہیں کرے گا اور دوزخ کی اس طرح سے کہ اللہ اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہے گا دوزخ کے لیے پیدا کرے گا وہ اس میں ڈالی جائے گی اس کے بعد بھی دوزخ کہے گی اور کچھ مخلوق ہے ( میں ابھی خالی ہوں ) تین بار ایسا ہی ہو گا، آخر پروردگار اپنا پاؤں اس میں رکھ دے گا، اس وقت وہ بھر جائے گی، ایک پر ایک الٹ کر سمٹ جائے گی، کہنے لگے گی بس بس بس میں بھر گئی۔
حدثنا عبيد الله بن سعد بن ابراهيم، حدثنا يعقوب، حدثنا ابي، عن صالح بن كيسان، عن الاعرج، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اختصمت الجنة والنار الى ربهما فقالت الجنة يا رب ما لها لا يدخلها الا ضعفاء الناس وسقطهم. وقالت النار يعني اوثرت بالمتكبرين. فقال الله تعالى للجنة انت رحمتي. وقال للنار انت عذابي اصيب بك من اشاء، ولكل واحدة منكما ملوها قال فاما الجنة فان الله لا يظلم من خلقه احدا، وانه ينشي للنار من يشاء فيلقون فيها فتقول هل من مزيد. ثلاثا، حتى يضع فيها قدمه فتمتلي ويرد بعضها الى بعض وتقول قط قط قط
Metadata
- Edition
- صحیح بخاری
- Book
- Oneness, Uniqueness of Allah (Tawheed)
- Hadith Index
- #7449
- Book Index
- 75
Grades
- -
