Loading...

Loading...
کتب
۸۹ احادیث
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدہ بن سلیمان نے خبر دی، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابو حمید ساعدی نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن الاتیہ کو بنی سلیم کے صدقہ کی وصول یابی کے لیے عامل بنایا۔ جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( وصول یابی کر کے ) آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے حساب طلب فرمایا تو انہوں نے کہا یہ تو آپ لوگوں کا ہے اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم اپنے ماں باپ کے گھر کیوں نہ بیٹھے رہے، اگر تم سچے ہو تو وہاں بھی تمہارے پاس ہدیہ آتا۔ پھر آپ کھڑے ہوئے اور لوگوں کو خطبہ دیا۔ آپ نے حمد و ثنا کے بعد فرمایا، امابعد! میں کچھ لوگوں کو بعض ان کاموں کے لیے عامل بناتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے سونپے ہیں، پھر تم میں سے کوئی ایک آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ مال تمہارا ہے اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔ اگر وہ سچا ہے تو پھر کیوں نہ وہ اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر میں بیٹھا رہا تاکہ وہیں اس کا ہدیہ پہنچ جاتا۔ پس اللہ کی قسم! تم میں سے کوئی اگر اس مال میں سے کوئی چیز لے گا۔ ہشام نے آگے کا مضمون اس طرح بیان کیا کہ بلا حق کے تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے اس طرح لائے گا کہ وہ اس کو اٹھائے ہوئے ہو گا۔ آگاہ ہو جاؤ کہ میں اسے پہچان لوں گا جو اللہ کے پاس وہ شخص لے کر آئے گا، اونٹ جو آواز نکال رہا ہو گا یا گائے جو اپنی آواز نکال رہی ہو گی یا بکری جو اپنی آواز نکال رہی ہو گی۔ پھر آپ نے اپنے ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ میں نے آپ کے بغلوں کی سفیدی دیکھی اور فرمایا کیا میں نے پہنچا دیا۔
حدثنا محمد، اخبرنا عبدة، حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن ابي حميد الساعدي، ان النبي صلى الله عليه وسلم استعمل ابن الاتبية على صدقات بني سليم، فلما جاء الى رسول الله صلى الله عليه وسلم وحاسبه قال هذا الذي لكم، وهذه هدية اهديت لي. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فهلا جلست في بيت ابيك وبيت امك حتى تاتيك هديتك، ان كنت صادقا ". ثم قام رسول الله صلى الله عليه وسلم فخطب الناس وحمد الله واثنى عليه ثم قال " اما بعد فاني استعمل رجالا منكم على امور مما ولاني الله، فياتي احدكم فيقول هذا لكم وهذه هدية اهديت لي فهلا جلس في بيت ابيه وبيت امه حتى تاتيه هديته ان كان صادقا، فوالله لا ياخذ احدكم منها شييا قال هشام بغير حقه الا جاء الله يحمله يوم القيامة، الا فلاعرفن ما جاء الله رجل ببعير له رغاء، او ببقرة لها خوار، او شاة تيعر ". ثم رفع يديه حتى رايت بياض ابطيه " الا هل بلغت
ہم سے اصبغ نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن وہب نے خبر دی، انہیں یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں ابوسلمہ نے اور انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ نے جب بھی کوئی نبی بھیجا یا کسی کو خلیفہ بنایا تو اس کے ساتھ دو رفیق تھے ایک تو انہیں نیکی کے لیے کہتا اور اس پر ابھارتا اور دوسرا انہیں برائی کے لیے کہتا اور اس پر ابھارتا۔ پس معصوم وہ ہے جسے اللہ بچائے رکھے۔“ اور سلیمان بن بلال نے اس حدیث کو یحییٰ بن سعید انصاری سے روایت کیا، کہا مجھ کو ابن شہاب نے خبر دی ( اس کو اسماعیلی نے وصل کیا ) اور ابن ابی عتیق اور موسیٰ بن عقبہ سے بھی، ان دونوں نے ابن شہاب سے یہی حدیث ( اس کو بیہقی نے وصل کیا ) اور شعیب بن ابی حمزہ نے زہری سے یوں روایت کی، مجھ سے ابوسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے ان کا قول ( یعنی حدیث کوث موقوفاً نقل کیا ) اور امام اوزاعی اور معاویہ بن سلام نے کہا، مجھ سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی حسین اور سعید بن زیاد نے اس کو ابوسلمہ سے روایت کیا ‘، انہوں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے موقوفاً ( یعنی ابوسعید کا قول ) اور عبداللہ بن ابی جعفر نے کہا، مجھ سے صفوان بن سلیم نے بیان کیا، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے ابوایوب سے، کہا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔
حدثنا اصبغ، اخبرنا ابن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة، عن ابي سعيد الخدري، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما بعث الله من نبي ولا استخلف من خليفة، الا كانت له بطانتان، بطانة تامره بالمعروف وتحضه عليه، وبطانة تامره بالشر وتحضه عليه، فالمعصوم من عصم الله تعالى ". وقال سليمان عن يحيى اخبرني ابن شهاب بهذا، وعن ابن ابي عتيق وموسى عن ابن شهاب مثله، وقال شعيب عن الزهري حدثني ابو سلمة عن ابي سعيد قوله. وقال الاوزاعي ومعاوية بن سلام حدثني الزهري حدثني ابو سلمة عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم. وقال ابن ابي حسين وسعيد بن زياد عن ابي سلمة عن ابي سعيد قوله. وقال عبيد الله بن ابي جعفر حدثني صفوان عن ابي سلمة عن ابي ايوب قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم
حدثنا اسماعيل، حدثني مالك، عن يحيى بن سعيد، قال اخبرني عبادة بن الوليد، اخبرني ابي، عن عبادة بن الصامت، قال "بايعنا رسول الله صلى الله عليه وسلم على السمع والطاعة في المنشط والمكره. وان لا ننازع الامر اهله، وان نقوم او نقول بالحق حيثما كنا لا نخاف في الله لومة لايم
حدثنا اسماعيل، حدثني مالك، عن يحيى بن سعيد، قال اخبرني عبادة بن الوليد، اخبرني ابي، عن عبادة بن الصامت، قال "بايعنا رسول الله صلى الله عليه وسلم على السمع والطاعة في المنشط والمكره. وان لا ننازع الامر اهله، وان نقوم او نقول بالحق حيثما كنا لا نخاف في الله لومة لايم
ہم سے عمر بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حمید نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سردی میں صبح کے وقت باہر نکلے اور مہاجرین اور انصار خندق کھود رہے تھے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے اللہ! خیر تو آخرت ہی کی خیر ہے۔ پس انصار و مہاجرین کی مغفرت کر دے۔“ اس کا جواب لوگوں نے دیا کہ ہم وہ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد پر بیعت کی ہے ہمیشہ کے لیے جب تک وہ زندہ ہیں۔
حدثنا عمرو بن علي، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا حميد، عن انس رضى الله عنه خرج النبي صلى الله عليه وسلم في غداة باردة والمهاجرون والانصار يحفرون الخندق فقال " اللهم ان الخير خير الاخره فاغفر للانصار والمهاجره " فاجابوا نحن الذين بايعوا محمدا على الجهاد ما بقينا ابدا
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن دینار نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے اور اطاعت کرنے کی بیعت کرتے تو آپ ہم سے فرماتے کہ جتنی تمہیں طاقت ہو۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن عبد الله بن دينار، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما قال كنا اذا بايعنا رسول الله صلى الله عليه وسلم على السمع والطاعة يقول لنا " فيما استطعت
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا کہا کہ میں اس وقت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا جب سب لوگ عبدالملک بن مروان سے بیعت کے لیے جمع ہو گئے۔ بیان کیا کہ انہوں نے عبدالملک کو لکھا کہ ”میں سننے اور اطاعت کرنے کا اقرار کرتا ہوں عبداللہ عبدالملک امیرالمؤمنین کے لیے اللہ کے دین اور اس کے رسول کی سنت کے مطابق جتنی بھی مجھ میں قوت ہو گی اور یہ کہ میرے لڑکے بھی اس کا اقرار کرتے ہیں۔“
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، حدثنا عبد الله بن دينار، قال شهدت ابن عمر حيث اجتمع الناس على عبد الملك قال كتب اني اقر بالسمع والطاعة لعبد الملك امير المومنين على سنة الله وسنة رسوله ما استطعت، وان بني قد اقروا بمثل ذلك
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا ہم کو سیار نے خبر دی، انہیں شعبی نے، ان سے جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے اور اطاعت کرنے کی بیعت کی تو آپ نے مجھے اس کی تلقین کی کہ جتنی مجھ میں طاقت ہو اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بھی بیعت کی۔
حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا هشيم، اخبرنا سيار، عن الشعبي، عن جرير بن عبد الله، قال بايعت النبي صلى الله عليه وسلم على السمع والطاعة، فلقنني، فيما استطعت، والنصح لكل مسلم
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا کہا کہ جب لوگوں نے عبدالملک کی بیعت کی تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے لکھا ”اللہ کے بندے عبدالملک امیرالمؤمنین کے نام، میں اقرار کرتا ہوں سننے اور اطاعت کرنے کی۔ اللہ کے بندے عبدالملک امیرالمؤمنین کے لیے اللہ کے دین اور اس کے رسول کی سنت کے مطابق، جتنی مجھ میں طاقت ہو گی اور میرے بیٹوں نے بھی اس کا اقرار کیا۔“
حدثنا عمرو بن علي، حدثنا يحيى، عن سفيان، قال حدثني عبد الله بن دينار، قال لما بايع الناس عبد الملك كتب اليه عبد الله بن عمر الى عبد الله عبد الملك امير المومنين اني اقر بالسمع والطاعة لعبد الله عبد الملك امير المومنين، على سنة الله وسنة رسوله، فيما استطعت، وان بني قد اقروا بذلك
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم نے بیان کیا، ان سے یزید نے بیان کیا کہ میں نے سلمہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا آپ لوگوں نے صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس بات پر بیعت کی تھی؟ انہوں نے کہا کہ موت پر۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا حاتم، عن يزيد، قال قلت لسلمة على اى شىء بايعتم النبي صلى الله عليه وسلم يوم الحديبية قال على الموت
ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسماء نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ بن اسماء نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے زہری نے، انہیں حمید بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور انہیں مسور بن مخرمہ نے خبر دی کہ وہ چھ آدمی جن کو عمر رضی اللہ عنہ خلافت کے لیے نامزد کر گئے تھے ( یعنی علی ‘ عثمان ‘ زبیر ‘ طلحہ اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہم کہ ان میں سے کسی ایک کو اتفاق سے خلیفہ بنا لیا جائے ) یہ سب جمع ہوئے اور مشورہ کیا۔ ان سے عبدالرحمٰن بن عوف نے کہا خلیفہ ہونے کے لیے میں آپ لوگوں سے کوئی مقابلہ نہیں کروں گا۔ البتہ اگر آپ لوگ چاہیں تو آپ لوگوں کے لیے کوئی خلیفہ آپ ہی میں سے میں چن دوں۔ چنانچہ سب نے مل کر اس کا اختیار عبدالرحمٰن بن عوف کو دے دیا۔ جب ان لوگوں نے انتخاب کی ذمہ داری عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دی تو سب لوگ ان کی طرف جھک گئے۔ جتنے لوگ بھی اس جماعت کے پیچھے چل رہے تھے، ان میں اب میں نے کسی کو بھی ایسا نہ دیکھا جو عبدالرحمٰن کے پیچھے نہ چل رہا ہو۔ سب لوگ ان ہی کی طرف مائل ہو گئے اور ان دنوں میں ان سے مشورہ کرتے رہے جب وہ رات آئی جس کی صبح کو ہم نے عثمان رضی اللہ عنہ سے بیعت کی۔ مسور رضی اللہ عنہ نے بیان کیا تو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ رات گئے میرے یہاں آئے اور دروازہ کھٹکٹھایا یہاں تک کہ میں بیدار ہو گیا۔ انہوں نے کہا میرا خیال ہے آپ سو رہے تھے، اللہ کی قسم میں ان راتوں میں بہت کم سو سکا ہوں۔ جائیے! زبیر اور سعد کو بلائیے۔ میں ان دونوں بزرگوں کو بلا لایا اور انہوں نے ان سے مشورہ کیا، پھر مجھے بلایا اور کہا کہ میرے لیے علی رضی اللہ عنہ کو بھی بلا دیجئیے۔ میں نے انہیں بھی بلایا اور انہوں نے ان سے بھی سر گوشی کی۔ یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی۔ پھر علی رضی اللہ عنہ ان کے پاس کھڑے ہو گئے اور ان کو اپنے ہی لیے امید تھی۔ عبدالرحمٰن کے دل میں بھی ان کی طرف سے یہی ڈر تھا، پھر انہوں نے کہا کہ میرے لیے عثمان رضی اللہ عنہ کو بھی بلا لائیے۔ میں نے انہیں بھی بلا لایا اور انہوں نے ان سے بھی سرگوشی کی۔ آخر صبح کے مؤذن نے ان کے درمیان جدائی کی۔ جب لوگوں نے صبح کی نماز پڑھ لی اور یہ سب لوگ منبر کے پاس جمع ہوئے تو انہوں نے موجود مہاجرین، انصار اور لشکروں کے قائدین کو بلایا۔ ان لوگوں نے اس سال حج عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا تھا۔ جب سب لوگ جمع ہو گئے تو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے خطبہ پڑھا پھر کہا امابعد! اے علی! میں نے لوگوں کے خیالات معلوم کئے اور میں نے دیکھا کہ وہ عثمان کو مقدم سمجھتے ہیں اور ان کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے، اس لیے آپ اپنے دل میں کوئی میل پیدا نہ کریں۔ پھر کہا میں آپ ( عثمان رضی اللہ عنہ ) سے اللہ کے دین اور اس کے رسول کی سنت اور آپ کے دو خلفاء کے طریق کے مطابق بیعت کرتا ہوں۔ چنانچہ پہلے ان سے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بیعت کی، پھر سب لوگوں نے اور مہاجرین، انصار اور فوجیوں کے سرداروں اور تمام مسلمانوں نے بیعت کی۔
ہم سے ابوالعاصم نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ابی عبید نے، ان سے سلمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخت کے نیچے بیعت کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ”سلمہ! کیا تم بیعت نہیں کرو گے؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے پہلی ہی مرتبہ میں بیعت کر لی ہے، فرمایا کہ اور دوسری مرتبہ میں بھی کر لو۔“
حدثنا ابو عاصم، عن يزيد بن ابي عبيد، عن سلمة، قال بايعنا النبي صلى الله عليه وسلم تحت الشجرة فقال لي " يا سلمة الا تبايع ". قلت يا رسول الله قد بايعت في الاول. قال " وفي الثاني
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما ان اعرابيا بايع رسول الله صلى الله عليه وسلم على الاسلام، فاصابه وعك فقال اقلني بيعتي. فابى، ثم جاءه فقال اقلني بيعتي. فابى، فخرج. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " المدينة كالكير، تنفي خبثها، وينصع طيبها
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا، ان سے سعید ابن ابی ایوب نے بیان کیا، ان سے ابوعقیل زہرہ بن معبد نے بیان کیا انہوں نے اپنے دادا عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا تھا اور ان کی والدہ زینب بنت حمید ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئی تھیں اور عرض کیا تھا یا رسول اللہ! اس سے بیعت لے لیجئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ابھی کمسن ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ان کے لیے دعا فرمائی اور اپنے تمام گھر والوں کی طرف سے ایک ہی بکری قربانی کیا کرتے تھے۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا عبد الله بن يزيد، حدثنا سعيد هو ابن ابي ايوب قال حدثني ابو عقيل، زهرة بن معبد عن جده عبد الله بن هشام، وكان، قد ادرك النبي صلى الله عليه وسلم وذهبت به امه زينب ابنة حميد الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله بايعه. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " هو صغير " فمسح راسه ودعا له، وكان يضحي بالشاة الواحدة عن جميع اهله
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله،. ان اعرابيا، بايع رسول الله صلى الله عليه وسلم على الاسلام فاصاب الاعرابي وعك بالمدينة، فاتى الاعرابي الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله اقلني بيعتي، فابى رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم جاءه فقال اقلني بيعتي فابى، ثم جاءه فقال اقلني بيعتي فابى فخرج الاعرابي، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما المدينة كالكير تنفي خبثها وينصع طيبها
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوحمزہ محمد بن سیرین نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تین آدمی ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہیں کرے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے بہت سخت دکھ دینے والا عذاب ہو گا۔ ایک وہ شخص جس کے پاس راستے میں زیادہ پانی ہو اور وہ مسافر کو اس میں سے نہ پلائے دوسرا وہ شخص جو امام سے بیعت کرے اور بیعت کی غرض صرف دنیا کمانا ہو اگر وہ امام اسے کچھ دنیا دیدے تو بیعت پوری کرے ورنہ توڑ دے۔ تیسرا وہ شخص جو کسی دوسرے سے کچھ مال متاع عصر کے بعد بیچ رہا ہو اور قسم کھائے کہ اسے اس سامان کی اتنی اتنی قیمت مل رہی تھی اور پھر خریدنے والا اسے سچا سمجھ کر اس مال کو لے لے حالانکہ اسے اس کی اتنی قیمت نہیں مل رہی تھی۔“
حدثنا عبدان، عن ابي حمزة، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ثلاثة لا يكلمهم الله يوم القيامة، ولا يزكيهم، ولهم عذاب اليم رجل على فضل ماء بالطريق يمنع منه ابن السبيل، ورجل بايع اماما لا يبايعه الا لدنياه، ان اعطاه ما يريد وفى له، والا لم يف له، ورجل يبايع رجلا بسلعة بعد العصر فحلف بالله لقد اعطي بها كذا وكذا فصدقه، فاخذها، ولم يعط بها
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انہیں زہری نے (دوسری سند) اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، کہا مجھ کو ابوادریس خولانی نے خبر دی، انہوں نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم مجلس میں موجود تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مجھ سے بیعت کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے، چوری نہیں کرو گے، زنا نہیں کرو گے، اپنی اولاد کو قتل نہیں کرو گے اور اپنی طرف سے گھڑ کر کسی پر بہتان نہیں لگاؤ گے اور نیک کام میں نافرمانی نہیں کرو گے۔ پس جو کوئی تم میں سے اس وعدے کو پورا کرے اس کا ثواب اللہ کے یہاں اسے ملے گا اور جو کوئی ان کاموں میں سے کسی برے کام کو کرے گا اس کی سزا اسے دنیا میں ہی مل جائے گی تو یہ اس کے لیے کفارہ ہو گا اور جو کوئی ان میں سے کسی برائی کا کام کرے گا اور اللہ اسے چھپا لے گا تو اس کا معاملہ اللہ کے حوالہ ہے۔ چاہے تو اس کی سزا دے اور چاہے اسے معاف کر دے۔“ چنانچہ ہم نے اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ بیعت اقرار کو کہتے ہیں جو خلیفہ اسلام کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کیا جائے یا پھر کسی نیک صالح انسان کے ہاتھ پر ہو۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، وقال الليث، حدثني يونس، عن ابن شهاب، اخبرني ابو ادريس الخولاني، انه سمع عبادة بن الصامت، يقول قال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن في مجلس " تبايعوني على ان لا تشركوا بالله شييا، ولا تسرقوا، ولا تزنوا، ولا تقتلوا اولادكم، ولا تاتوا ببهتان تفترونه بين ايديكم وارجلكم ولا تعصوا في معروف، فمن وفى منكم فاجره على الله، ومن اصاب من ذلك شييا فعوقب في الدنيا فهو كفارة له، ومن اصاب من ذلك شييا فستره الله فامره الى الله ان شاء عاقبه وان شاء عفا عنه "، فبايعناه على ذلك
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق بن ہمام نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں سے زبانی اس آیت کے احکام کی بیعت لیتے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی آخر آیت تک۔ بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے کبھی کسی عورت کا ہاتھ نہیں چھوا، سوا اس عورت کے جو آپ کی لونڈی ہو۔
حدثنا محمود، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يبايع النساء بالكلام بهذه الاية {لا يشركن بالله شييا} قالت وما مست يد رسول الله صلى الله عليه وسلم يد امراة، الا امراة يملكها
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے حفصہ نے اور ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تو آپ نے میرے سامنے سورۃ الممتحنہ کی یہ آیت پڑھی «أن لا يشركن بالله شيئا» یہ کہ ”وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں گی“ آخر تک۔ اور ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ سے منع کیا پھر ہم میں سے ایک عورت نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور کہا کہ فلاں عورت نے کسی نوحہ میں میری مدد کی تھی ( میرے ساتھ مل کر نوحہ کیا تھا ) اور میں اسے اس کا بدلہ دینا چاہتی ہوں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہیں کہا، پھر وہ گئیں اور واپس آئیں ( میرے ساتھ بیعت کرنے والی عورتوں میں سے ) کسی عورت نے اس بیعت کو پورا نہیں کیا، سوا ام سلیم اور ام العلاء اور معاذ رضی اللہ عنہم کی بیوی ابوسبرہ کی بیٹی کے یا ابوسبرہ کی بیٹی اور معاذ کی بیوی کے اور سب عورتوں نے احکام بیعت کو پورے طور پر ادا نہ کر کے بیعت کو نہیں نبھایا۔ غفر اللہ لھن اجمعین۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الوارث، عن ايوب، عن حفصة، عن ام عطية، قالت بايعنا النبي صلى الله عليه وسلم فقرا على {ان لا يشركن بالله شييا} ونهانا عن النياحة، فقبضت امراة منا يدها فقالت فلانة اسعدتني وانا اريد ان اجزيها، فلم يقل شييا، ثم رجعت، فما وفت امراة الا ام سليم وام العلاء، وابنة ابي سبرة امراة معاذ او ابنة ابي سبرة وامراة معاذ
ہم سے ابونعیم (فضل بن دکین) نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے، انہوں نے کہا میں نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے ایک گنوار ( نام نامعلوم ) یا قیس بن ابی حازم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، کہنے لگا: یا رسول اللہ! اسلام پر مجھ سے بیعت لیجئے۔ آپ نے اس سے بیعت لے لی، پھر دوسرے دن بخار میں ہلہلاتا آیا کہنے لگا میری بیعت فسخ کر دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا ( بیعت فسخ نہیں کی ) جب وہ پیٹھ موڑ کر چلتا ہوا، تو فرمایا مدینہ کیا ہے ( لوہار کی بھٹی ہے ) پلید اور ناپاک ( میل کچیل ) کو چھانٹ ڈالتا ہے اور کھرا ستھرا مال رکھ لیتا ہے۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا سفيان، عن محمد بن المنكدر، سمعت جابرا، قال جاء اعرابي الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال بايعني على الاسلام. فبايعه على الاسلام، ثم جاء الغد محموما فقال اقلني. فابى، فلما ولى قال " المدينة كالكير، تنفي خبثها، وينصع طيبها
حدثنا عبد الله بن محمد بن اسماء، حدثنا جويرية، عن مالك، عن الزهري، ان حميد بن عبد الرحمن، اخبره ان المسور بن مخرمة اخبره. ان الرهط الذين ولاهم عمر اجتمعوا فتشاوروا، قال لهم عبد الرحمن لست بالذي انافسكم على هذا الامر، ولكنكم ان شيتم اخترت لكم منكم. فجعلوا ذلك الى عبد الرحمن، فلما ولوا عبد الرحمن امرهم فمال الناس على عبد الرحمن، حتى ما ارى احدا من الناس يتبع اوليك الرهط ولا يطا عقبه، ومال الناس على عبد الرحمن يشاورونه تلك الليالي حتى اذا كانت الليلة التي اصبحنا منها، فبايعنا عثمان قال المسور طرقني عبد الرحمن بعد هجع من الليل فضرب الباب حتى استيقظت فقال اراك نايما، فوالله ما اكتحلت هذه الليلة بكبير نوم، انطلق فادع الزبير وسعدا، فدعوتهما له فشاورهما ثم دعاني فقال ادع لي عليا. فدعوته فناجاه حتى ابهار الليل، ثم قام علي من عنده، وهو على طمع، وقد كان عبد الرحمن يخشى من علي شييا، ثم قال ادع لي عثمان، فدعوته فناجاه حتى فرق بينهما الموذن بالصبح، فلما صلى للناس الصبح واجتمع اوليك الرهط عند المنبر، فارسل الى من كان حاضرا من المهاجرين والانصار، وارسل الى امراء الاجناد وكانوا وافوا تلك الحجة مع عمر، فلما اجتمعوا تشهد عبد الرحمن ثم قال اما بعد يا علي، اني قد نظرت في امر الناس فلم ارهم يعدلون بعثمان، فلا تجعلن على نفسك سبيلا. فقال ابايعك على سنة الله ورسوله والخليفتين من بعده. فبايعه عبد الرحمن، وبايعه الناس المهاجرون والانصار وامراء الاجناد والمسلمون