Loading...

Loading...
کتب
۸۹ احادیث
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو سلیمان بن بلال نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن سعید نے، کہا میں نے قاسم بن محمد سے سنا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ( اپنے سر درد پر ) ہائے سر پھٹا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم مر جاؤ اور میں زندہ رہا تو میں تمہارے لیے مغفرت کروں گا اور تمہارے لیے دعا کروں گا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس پر کہا افسوس میرا خیال ہے کہ آپ میری موت چاہتے ہیں اور اگر ایسا ہو گیا تو آپ دن کے آخری وقت ضرور کسی دوسری عورت سے شادی کر لیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو نہیں بلکہ میں اپنا سر دکھنے کا اظہار کرتا ہوں۔ میرا ارادہ ہوا تھا کہ ابوبکر اور ان کے بیٹے کو بلا بھیجوں اور انہیں ( ابوبکر کو ) خلیفہ بنا دوں تاکہ اس پر کسی دعویٰ کرنے والے یا اس کی خواہش رکھنے والے کے لیے کوئی گنجائش نہ رہے لیکن پھر میں نے سوچا کہ اللہ خود ( کسی دوسرے کو خلیفہ ) نہیں ہونے دے گا اور مسلمان بھی اسے دفع کریں گے۔ یا ( آپ نے اس طرح فرمایا کہ ) اللہ دفع کرے گا اور مسلمان کسی اور کو خلیفہ نہ ہونے دیں گے۔
حدثنا يحيى بن يحيى، اخبرنا سليمان بن بلال، عن يحيى بن سعيد، سمعت القاسم بن محمد، قال قالت عايشة رضى الله عنها واراساه. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ذاك لو كان وانا حى فاستغفر لك وادعو لك ". فقالت عايشة واثكلياه والله اني لاظنك تحب موتي ولو كان ذاك لظللت اخر يومك معرسا ببعض ازواجك. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " بل انا واراساه لقد هممت او اردت ان ارسل الى ابي بكر وابنه فاعهد ان يقول القايلون او يتمنى المتمنون ". ثم قلت يابى الله ويدفع المومنون، او يدفع الله ويابى المومنون
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ جب زخمی ہوئے تو ان سے کہا گیا کہ آپ اپنا خلیفہ کسی کو کیوں نہیں منتخب کر دیتے، آپ نے فرمایا کہ اگر کسی کو خلیفہ منتخب کرتا ہوں ( تو اس کی بھی مثال ہے کہ ) اس شخص نے اپنا خلیفہ منتخب کیا تھا جو مجھ سے بہتر تھے یعنی ابوبکر رضی اللہ عنہ اور اگر میں اسے مسلمانوں کی رائے پر چھوڑتا ہوں تو ( اس کی بھی مثال موجود ہے کہ ) اس بزرگ نے ( خلیفہ کا انتخاب مسلمانوں کے لیے ) چھوڑ دیا تھا جو مجھ سے بہتر تھے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ پھر لوگوں نے آپ کی تعریف کی، پھر انہوں نے کہا کہ کوئی تو دل سے میری تعریف کرتا ہے کوئی ڈر کر۔ اب میں تو یہی غنیمت سمجھتا ہوں کہ خلافت کی ذمہ داریوں میں اللہ کے ہاں برابر برابر ہی چھوٹ جاؤں، نہ مجھے کچھ ثواب ملے اور نہ کوئی عذاب میں نے خلافت کا بوجھ اپنی زندگی بھر اٹھایا۔ اب مرنے پر میں اس بار کو نہیں اٹھاؤں گا۔
حدثنا محمد بن يوسف، اخبرنا سفيان، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما قال قيل لعمر الا تستخلف قال ان استخلف فقد استخلف من هو خير مني ابو بكر، وان اترك فقد ترك من هو خير مني رسول الله صلى الله عليه وسلم فاثنوا عليه فقال راغب راهب، وددت اني نجوت منها كفافا لا لي ولا على لا اتحملها حيا وميتا
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں زہری نے، انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کا دوسرا خطبہ سنا جب آپ منبر پر بیٹھے ہوئے تھے، یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے دوسرے دن کا ہے۔ انہوں نے کلمہ شہادت پڑھا، ابوبکر رضی اللہ عنہ خاموش تھے اور کچھ نہیں بول رہے تھے، پھر کہا مجھے امید تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زندہ رہیں گے اور ہمارے کاموں کی تدبیر و انتظام کرتے رہیں گے۔ ان کا منشا یہ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سب لوگوں کے بعد تک زندہ رہیں گے تو اگر آج محمد صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے تمہارے سامنے نور ( قرآن ) کو باقی رکھا ہے جس کے ذریعہ تم ہدایت حاصل کرتے رہو گے اور اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے ہدایت کی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی ( جو غار ثور میں ) دو میں کے دوسرے ہیں، بلا شک وہ تمہارے امور خلافت کے لیے تمام مسلمانوں میں سب سے بہتر ہیں، پس اٹھو اور ان سے بیعت کرو۔ ایک جماعت ان سے پہلے ہی سقیفہ بنی ساعدہ میں بیعت کر چکی تھی، پھر عام لوگوں نے منبر پر بیعت کی۔ زہری نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے، اس دن کہہ رہے تھے، منبر پر چڑھ آئیے۔ چنانچہ وہ اس کا برابر اصرار کرتے رہے، یہاں تک کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھ گئے اور سب لوگوں نے آپ سے بیعت کی۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا هشام، عن معمر، عن الزهري، اخبرني انس بن مالك رضى الله عنه انه سمع خطبة، عمر الاخرة حين جلس على المنبر، وذلك الغد من يوم توفي النبي صلى الله عليه وسلم فتشهد وابو بكر صامت لا يتكلم قال كنت ارجو ان يعيش رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى يدبرنا يريد بذلك ان يكون اخرهم فان يك محمد صلى الله عليه وسلم قد مات، فان الله تعالى قد جعل بين اظهركم نورا تهتدون به بما هدى الله محمدا صلى الله عليه وسلم وان ابا بكر صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم ثاني اثنين، فانه اولى المسلمين باموركم، فقوموا فبايعوه. وكانت طايفة منهم قد بايعوه قبل ذلك في سقيفة بني ساعدة، وكانت بيعة العامة على المنبر. قال الزهري عن انس بن مالك سمعت عمر يقول لابي بكر يوميذ اصعد المنبر. فلم يزل به حتى صعد المنبر، فبايعه الناس عامة
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے محمد بن جبیر بن مطعم نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک خاتون آئیں اور کسی معاملہ میں آپ سے گفتگو کی، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ وہ دوبارہ آپ کے پاس آئیں۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر میں آؤں اور آپ کو نہ پاؤں تو پھر آپ کیا فرماتے ہیں؟ جیسے ان کا اشارہ وفات کی طرف ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر مجھے نہ پاؤ تو ابوبکر کے پاس آئیو۔
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابيه، عن محمد بن جبير بن مطعم، عن ابيه، قال اتت النبي صلى الله عليه وسلم امراة فكلمته في شىء فامرها ان ترجع اليه، قالت يا رسول الله ارايت ان جيت ولم اجدك، كانها تريد الموت، قال " ان لم تجديني فاتي ابا بكر
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے قیس بن مسلم نے، ان سے طارق بن شہاب نے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قبائل بزاخہ کے وفد سے ( جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مرتد ہو گیا تھا اور اب معافی کے لیے آیا تھا ) فرمایا کہ اونٹوں کی دموں کے پیچھے پیچھے جنگلوں میں گھومتے رہو، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ اور مہاجرین کو کوئی امر بتلا دے جس کی وجہ سے وہ تمہارا قصور معاف کر دیں۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، حدثني قيس بن مسلم، عن طارق بن شهاب، عن ابي بكر رضى الله عنه قال لوفد بزاخة تتبعون اذناب الابل حتى يري الله خليفة نبيه صلى الله عليه وسلم والمهاجرين امرا يعذرونكم به
حدثني محمد بن المثنى، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن عبد الملك، سمعت جابر بن سمرة، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " يكون اثنا عشر اميرا فقال كلمة لم اسمعها فقال ابي انه قال كلهم من قريش
حدثني محمد بن المثنى، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن عبد الملك، سمعت جابر بن سمرة، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " يكون اثنا عشر اميرا فقال كلمة لم اسمعها فقال ابي انه قال كلهم من قريش
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میرا ارادہ ہوا کہ میں لکڑیوں کے جمع کرنے کا حکم دوں، پھر نماز کے لیے اذان دینے کا، پھر کسی سے کہوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور میں اس کے بجائے ان لوگوں کے پاس جاؤں ( جو جماعت میں شریک نہیں ہوتے ) اور انہیں ان کے گھروں سمیت جلا دوں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم سے کسی کو اگر یہ امید ہو کہ وہاں موٹی ہڈی یا دو «مرماة حسنتين» بکری کے کھر کے درمیان کا گوشت ملے گا تو وہ ضرور ( نماز ) عشاء میں شریک ہو۔
حدثنا اسماعيل، حدثني مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " والذي نفسي بيده لقد هممت ان امر بحطب يحتطب، ثم امر بالصلاة فيوذن لها، ثم امر رجلا فيوم الناس، ثم اخالف الى رجال فاحرق عليهم بيوتهم، والذي نفسي بيده لو يعلم احدكم انه يجد عرقا سمينا او مرماتين حسنتين لشهد العشاء ". قال محمد بن يوسف قال يونس قال محمد بن سليمان قال ابو عبد الله مرماة ما بين ظلف الشاة من اللحم مثل منساة وميضاة. الميم مخفوضة
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک نے کہ عبداللہ بن کعب بن مالک، کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے نابینا ہو جانے کے زمانے میں ان کے سب لڑکوں میں یہی راستے میں ان کے ساتھ چلتے تھے، ( انہوں ) نے بیان کیا کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں جا سکتے تھے، پھر انہوں نے اپنا پورا واقعہ بیان کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہم سے گفتگو کرنے سے روک دیا تھا تو ہم پچاس دن اسی حالت میں رہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کیا کہ اللہ نے ہماری توبہ قبول کر لی ہے۔
حدثني يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب بن مالك، ان عبد الله بن كعب بن مالك وكان قايد كعب من بنيه حين عمي قال سمعت كعب بن مالك، قال لما تخلف عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة تبوك فذكر حديثه ونهى رسول الله صلى الله عليه وسلم المسلمين عن كلامنا، فلبثنا على ذلك خمسين ليلة، واذن رسول الله صلى الله عليه وسلم بتوبة الله علينا