Loading...

Loading...
کتب
۸۹ احادیث
حدثنا اسماعيل بن ابي اويس، حدثني اسماعيل بن ابراهيم، عن عمه، موسى بن عقبة قال ابن شهاب حدثني عروة بن الزبير، ان مروان بن الحكم، والمسور بن مخرمة، اخبراه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال حين اذن لهم المسلمون في عتق سبى هوازن " اني لا ادري من اذن منكم ممن لم ياذن، فارجعوا حتى يرفع الينا عرفاوكم امركم ". فرجع الناس فكلمهم عرفاوهم، فرجعوا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبروه ان الناس قد طيبوا واذنوا
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم بن محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر نے، اور ان سے ان کے والد نے کہ کچھ لوگوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ ہم اپنے حاکموں کے پاس جاتے ہیں اور ان کے حق میں وہ باتیں کہتے ہیں کہ باہر آنے کے بعد ہم اس کے خلاف کہتے ہیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ہم اسے نفاق کہتے تھے۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا عاصم بن محمد بن زيد بن عبد الله بن عمر، عن ابيه، قال اناس لابن عمر انا ندخل على سلطاننا فنقول لهم خلاف ما نتكلم اذا خرجنا من عندهم قال كنا نعدها نفاقا
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب نے، ان سے عراک نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بدترین وہ شخص دورخا ہے، کسی کے سامنے اس کا ایک رخ ہوتا ہے اور دوسرے کے سامنے دوسرا رخ برتتا ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن عراك، عن ابي هريرة، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان شر الناس ذو الوجهين، الذي ياتي هولاء بوجه وهولاء بوجه
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، انہیں ہشام نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ہند نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ( ان کے شوہر ) ابوسفیان بخیل ہیں اور مجھے ان کے مال میں سے لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دستور کے مطابق اتنا لے لیا کرو جو تمہارے اور تمہارے بچوں کے لیے کافی ہو۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها ان هند، قالت للنبي صلى الله عليه وسلم ان ابا سفيان رجل شحيح، فاحتاج ان اخذ من ماله. قال " خذي ما يكفيك وولدك بالمعروف
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی، انہیں زینب بنت ابی سلمہ نے خبر دی اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی۔ آپ نے اپنے حجرہ کے دروازے پر جھگڑے کی آواز سنی تو باہر ان کی طرف نکلے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں بھی ایک انسان ہوں اور میرے پاس لوگ مقدمے لے کر آتے ہیں۔ ممکن ہے ان میں سے ایک فریق دوسرے فریق سے بولنے میں زیادہ عمدہ ہو اور میں یقین کر لوں کی وہی سچا ہے اور اس طرح اس کے موافق فیصلہ کر دوں۔ پس جس شخص کے لیے بھی میں کسی مسلمان کا حق دلا دوں تو وہ جہنم کا ایک ٹکڑا ہے وہ چاہے اسے لے یا چھوڑ دے، میں اس کو درحقیقت دوزخ کا ایک ٹکڑا دلا رہا ہوں۔
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن صالح، عن ابن شهاب، قال اخبرني عروة بن الزبير، ان زينب ابنة ابي سلمة، اخبرته ان ام سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم اخبرتها عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه سمع خصومة بباب حجرته فخرج اليهم فقال " انما انا بشر، وانه ياتيني الخصم، فلعل بعضكم ان يكون ابلغ من بعض، فاحسب انه صادق فاقضي له بذلك، فمن قضيت له بحق مسلم، فانما هي قطعة من النار، فلياخذها او ليتركها
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ عتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو یہ وصیت کی تھی کہ زمعہ کی لونڈی ( کا لڑکا ) میرا ہے۔ تم اسے اپنی پرورش میں لے لینا۔ چنانچہ فتح مکہ کے دن سعد رضی اللہ عنہ نے اسے لے لیا اور کہا کہ یہ میرے بھائی کا لڑکا ہے اور مجھے اس کے بارے میں انہوں نے وصیت کی تھی، پھر عبد بن زمعہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ یہ میرا بھائی، میرے والد کی لونڈی کا لڑکا ہے اور انہیں کے فراش پر پیدا ہوا۔ چنانچہ یہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! میرے بھائی کا لڑکا ہے، انہوں نے مجھے اس کی وصیت کی تھی اور عبد بن زمعہ نے کہا کہ میرا بھائی ہے، میرے والد کی لونڈی کا لڑکا ہے اور انہیں کے فراش پر پیدا ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبد بن زمعہ! یہ تمہارا ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بچہ فراش کا ہوتا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہے۔ پھر آپ نے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اس لڑکے سے پردہ کیا کرو کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکے کی عتبہ سے مشابہت دیکھ لی تھی۔ چنانچہ اس نے سودہ رضی اللہ عنہا کو موت تک نہیں دیکھا۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم انها قالت كان عتبة بن ابي وقاص عهد الى اخيه سعد بن ابي وقاص ان ابن وليدة زمعة مني فاقبضه اليك. فلما كان عام الفتح اخذه سعد فقال ابن اخي، قد كان عهد الى فيه، فقام اليه عبد بن زمعة فقال اخي وابن وليدة ابي، ولد على فراشه. فتساوقا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال سعد يا رسول الله ابن اخي، كان عهد الى فيه. وقال عبد بن زمعة اخي وابن وليدة ابي، ولد على فراشه. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هو لك يا عبد بن زمعة ". ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الولد للفراش، وللعاهر الحجر ". ثم قال لسودة بنت زمعة " احتجبي منه "، لما راى من شبهه بعتبة، فما راها حتى لقي الله تعالى
ہم سے اسحاق بن نفر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی ‘، انہیں منصور اور اعمش نے، ان سے ابووائل نے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص ایسی قسم کھائے جو جھوٹی ہو جس کے ذریعہ وہ کسی دوسرے کا مال مار لے تو اللہ سے وہ اس حال میں ملے کا کہ وہ اس پر غضبناک ہو گا۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ( اس کی تصدیق میں ) نازل فرمائی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ”بلاشبہ جو لوگ اللہ کے عہد اور اس کی قسموں کو تھوڑی پونجی کے بدلے خریدتے ہیں“ الآية.۔
حدثنا اسحاق بن نصر، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا سفيان، عن منصور، والاعمش، عن ابي وايل، قال قال عبد الله قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا يحلف على يمين صبر، يقتطع مالا وهو فيها فاجر، الا لقي الله وهو عليه غضبان ". فانزل الله {ان الذين يشترون بعهد الله} الاية. فجاء الاشعث وعبد الله يحدثهم فقال في نزلت وفي رجل خاصمته في بير فقال النبي صلى الله عليه وسلم " الك بينة ". قلت لا. قال " فليحلف ". قلت اذا يحلف. فنزلت {ان الذين يشترون بعهد الله} الاية
ہم سے اسحاق بن نفر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی ‘، انہیں منصور اور اعمش نے، ان سے ابووائل نے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص ایسی قسم کھائے جو جھوٹی ہو جس کے ذریعہ وہ کسی دوسرے کا مال مار لے تو اللہ سے وہ اس حال میں ملے کا کہ وہ اس پر غضبناک ہو گا۔“ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ( اس کی تصدیق میں ) نازل فرمائی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ”بلاشبہ جو لوگ اللہ کے عہد اور اس کی قسموں کو تھوڑی پونجی کے بدلے خریدتے ہیں“ الآية.۔
حدثنا اسحاق بن نصر، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا سفيان، عن منصور، والاعمش، عن ابي وايل، قال قال عبد الله قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا يحلف على يمين صبر، يقتطع مالا وهو فيها فاجر، الا لقي الله وهو عليه غضبان ". فانزل الله {ان الذين يشترون بعهد الله} الاية. فجاء الاشعث وعبد الله يحدثهم فقال في نزلت وفي رجل خاصمته في بير فقال النبي صلى الله عليه وسلم " الك بينة ". قلت لا. قال " فليحلف ". قلت اذا يحلف. فنزلت {ان الذين يشترون بعهد الله} الاية
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ بن زبیر نے، انہیں زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی، ان سے ان کی والدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دروازے پر جھگڑا کرنے والوں کی آواز سنی اور ان کی طرف نکلے۔ پھر ان سے فرمایا کہ میں تمہارے ہی جیسا انسان ہوں، میرے پاس لوگ مقدمہ لے کر آتے ہیں، ممکن ہے ایک فریق دوسرے سے زیادہ عمدہ بولنے والا ہو اور میں اس کے لیے اس حق کا فیصلہ کر دوں اور یہ سمجھوں کہ میں نے فیصلہ صحیح کیا ہے ( حالانکہ وہ صحیح نہ ہو ) تو جس کے لیے میں کسی مسلمان کے حق کا فیصلہ کر دوں تو بلاشبہ یہ فیصلہ جہنم کا ایک ٹکڑا ہے۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، اخبرني عروة بن الزبير، ان زينب بنت ابي سلمة، اخبرته عن امها ام سلمة، قالت سمع النبي صلى الله عليه وسلم جلبة خصام عند بابه فخرج عليهم فقال " انما انا بشر، وانه ياتيني الخصم، فلعل بعضا ان يكون ابلغ من بعض، اقضي له بذلك واحسب انه صادق، فمن قضيت له بحق مسلم فانما هي قطعة من النار، فلياخذها او ليدعها
ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بشر نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے سلمہ بن کہیل نے بیان کیا، ان سے عطاء نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ آپ کے صحابہ میں سے ایک نے اپنے غلام کو مدبر بنا دیا ہے ( کہ ان کی موت کے بعد وہ آزاد ہو جائے گا ) چونکہ ان کے پاس اس کے سوا اور کوئی مال نہیں تھا اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کو آٹھ سو درہم میں بیچ دیا اور اس کی قیمت انہیں بھیج دی۔
حدثنا ابن نمير، حدثنا محمد بن بشر، حدثنا اسماعيل، حدثنا سلمة بن كهيل، عن عطاء، عن جابر، قال بلغ النبي صلى الله عليه وسلم ان رجلا من اصحابه اعتق غلاما عن دبر، لم يكن له مال غيره، فباعه بثمانماية درهم، ثم ارسل بثمنه اليه
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن مسلم نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور اس کا امیر اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو بنایا لیکن ان کی سرداری پر طعن کیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اگر آج تم ان کی امارت کو مطعون قرار دیتے ہو تو تم نے اس سے پہلے اس کے والد ( زید رضی اللہ عنہ ) کی امارت کو بھی مطعون قرار دیا تھا اور اللہ کی قسم! وہ امارت کے لیے سزاوار تھے اور وہ مجھے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ عزیز تھے اور یہ ( اسامہ رضی اللہ عنہ ) ان کے بعد سب سے زیادہ مجھے عزیز ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا عبد العزيز بن مسلم، حدثنا عبد الله بن دينار، قال سمعت ابن عمر رضى الله عنهما يقول بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم بعثا وامر عليهم اسامة بن زيد، فطعن في امارته، وقال " ان تطعنوا في امارته فقد كنتم تطعنون في امارة ابيه من قبله، وايم الله ان كان لخليقا للامرة، وان كان لمن احب الناس الى، وان هذا لمن احب الناس الى بعده
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے سنا، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کے نزدیک سب سے مبغوض وہ شخص ہے جو سخت جھگڑالو ہو۔“
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن ابن جريج، سمعت ابن ابي مليكة، عن عايشة رضى الله عنها قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ابغض الرجال الى الله الالد الخصم
ہم سے محمود نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کہا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے انہیں سالم نے اور انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے نعیم بن حماد نے بیان کیا کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سالم نے، انہیں ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بنی جذیمہ کی طرف بھیجا ( جب انہیں اسلام کی دعوت دی ) تو وہ «أسلمنا.» ( ہم اسلام لائے ) کہہ کر اچھی طرح اظہار اسلام نہ کر سکے بلکہ کہنے لگے کہ «صبأنا صبأنا» ( ہم اپنے دین سے پھر گئے، ہم اپنے دین سے پھر گئے ) اس پر خالد رضی اللہ عنہ انہیں قتل اور قید کرنے لگے اور ہم میں سے ہر شخص کو اس کے حصہ کا قیدی دیا اور ہمیں حکم دیا کہ ہر شخص اپنے قیدی کو قتل کر دے۔ اس پر میں نے کہا کہ واللہ! میں اپنے قیدی کو قتل نہیں کروں گا اور نہ میرے ساتھیوں میں کوئی اپنے قیدی کو قتل کرے گا۔ پھر ہم نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ! میں اس سے برات ظاہر کرتا ہوں جو خالد بن ولید نے کیا، دو مرتبہ۔
حدثنا محمود، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، بعث النبي صلى الله عليه وسلم خالدا ح وحدثني نعيم اخبرنا عبد الله اخبرنا معمر عن الزهري عن سالم عن ابيه قال بعث النبي صلى الله عليه وسلم خالد بن الوليد الى بني جذيمة فلم يحسنوا ان يقولوا اسلمنا. فقالوا صبانا صبانا، فجعل خالد يقتل وياسر، ودفع الى كل رجل منا اسيره، فامر كل رجل منا ان يقتل اسيره، فقلت والله لا اقتل اسيري ولا يقتل رجل من اصحابي اسيره. فذكرنا ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال " اللهم اني ابرا اليك مما صنع خالد بن الوليد "، مرتين
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے ابوحازم المدینی نے بیان کیا اور ان سے سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قبیلہ بنی عمرو بن عوف میں باہم لڑائی ہو گئی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ملی تو آپ نے ظہر کی نماز پڑھی اور ان کے یہاں صلح کرانے کے لیے تشریف لائے۔ جب عصر کی نماز کا وقت ہوا ( مدینہ میں ) تو بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی اور اقامت کہی۔ آپ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا تھا۔ چنانچہ وہ آگے بڑھے، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز ہی میں تھے ‘ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی صف کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑے ہو گئے اور اس صف میں آ گئے جو ان سے قریب تھی۔ سہل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کو بتانے کے لیے ہاتھ مارے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ جب نماز شروع کرتے تو ختم کرنے سے پہلے کسی طرف توجہ نہیں کرتے تھے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ہاتھ پر ہاتھ مارنا رکتا ہی نہیں تو آپ متوجہ ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پیچھے دیکھا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا کہ نماز پوری کریں اور آپ نے اس طرح ہاتھ سے اپنی جگہ ٹھہرے رہنے کا اشارہ کیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ تھوڑی دیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اللہ کی حمد کرنے کے لیے ٹھہرے رہے، پھر آپ الٹے پاؤں پیچھے آ گئے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو آپ آگے بڑھے اور لوگوں کو آپ نے نماز پڑھائی۔ نماز پوری کرنے کے بعد آپ نے فرمایا، ابوبکر! جب میں نے ارشاد کر دیا تھا تو آپ کو نماز پوری پڑھانے میں کیا چیز مانع تھی؟ انہوں نے عرض کیا، ابن ابی قحافہ کے لیے مناسب نہیں تھا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امامت کرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( نماز میں ) جب کوئی معاملہ پیش آئے تو مردوں کو سبحان اللہ کہنا چاہئیے اور عورتوں کو ہاتھ پر ہاتھ مارنا چاہئے۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد، حدثنا ابو حازم المديني، عن سهل بن سعد الساعدي، قال كان قتال بين بني عمرو، فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فصلى الظهر، ثم اتاهم يصلح بينهم، فلما حضرت صلاة العصر فاذن بلال واقام وامر ابا بكر فتقدم، وجاء النبي صلى الله عليه وسلم وابو بكر في الصلاة، فشق الناس حتى قام خلف ابي بكر، فتقدم في الصف الذي يليه. قال وصفح القوم، وكان ابو بكر اذا دخل في الصلاة لم يلتفت حتى يفرغ، فلما راى التصفيح لا يمسك عليه التفت فراى النبي صلى الله عليه وسلم خلفه، فاوما اليه النبي صلى الله عليه وسلم ان امضه واوما بيده هكذا، ولبث ابو بكر هنية يحمد الله على قول النبي صلى الله عليه وسلم ثم مشى القهقرى، فلما راى النبي صلى الله عليه وسلم ذلك تقدم فصلى النبي صلى الله عليه وسلم بالناس، فلما قضى صلاته قال " يا ابا بكر ما منعك اذ اومات اليك ان لا تكون مضيت ". قال لم يكن لابن ابي قحافة ان يوم النبي صلى الله عليه وسلم. وقال للقوم " اذا نابكم امر، فليسبح الرجال، وليصفح النساء
ہم سے محمد بن عبداللہ ابوثابت نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبید بن سابق نے اور ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہ جنگ یمامہ میں بکثرت ( قاری صحابہ کی ) شہادت کی وجہ سے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے بلا بھیجا۔ ان کے پاس عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا کہ عمر میرے پاس آئے اور کہا کہ جنگ یمامہ میں قرآن کے قاریوں کا قتل بہت ہوا ہے اور میرا خیال ہے کہ دوسری جنگوں میں بھی اسی طرح وہ شہید کئے جائیں گے اور قرآن اکثر ضائع ہو جائے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ قرآن مجید کو ( کتابی صورت میں ) جمع کرنے کا حکم دیں۔ اس پر میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں کوئی ایسا کام کیسے کر سکتا ہوں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا واللہ! یہ تو کار خیر ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ اس معاملہ میں برابر مجھ سے کہتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسی طرح اس معاملے میں میرا بھی سینہ کھول دیا جس طرح عمر رضی اللہ عنہ کا تھا اور میں بھی وہی مناسب سمجھنے لگا جسے عمر رضی اللہ عنہ مناسب سمجھتے تھے۔ زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھ سے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم جوان ہو، عقلمند ہو اور ہم تمہیں کسی بارے میں متہم بھی نہیں سمجھتے تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی بھی لکھتے تھے، پس تم اس قرآن مجید ( کی آیات ) کو تلاش کرو اور ایک جگہ جمع کر دو۔ زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ واللہ! اگر ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھے کسی پہاڑ کو اٹھا کر دوسری جگہ رکھنے کا مکلف کرتے تو اس کا بوجھ بھی میں اتنا نہ محسوس کرتا جتنا کہ مجھے قرآن مجید کو جمع کرنے کے حکم سے محسوس ہوا۔ میں نے ان لوگوں سے کہا کہ آپ کس طرح ایسا کام کرتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا۔ ابوبکر نے کہا کہ واللہ! یہ خیر ہے۔ چنانچہ مجھے آمادہ کرنے کی کوشش کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لیے میرا بھی سینہ کھول دیا جس کے لیے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کا سینہ کھولا تھا اور میں بھی وہی مناسب خیال کرنے لگا جسے وہ لوگ مناسب خیال کر رہے تھے۔ چنانچہ میں نے قرآن مجید کی تلاش شروع کی۔ اسے میں کھجور کی چھال، چمڑے وغیرہ کے ٹکڑوں، پتلے پتھر کے ٹکڑوں اور لوگوں کے سینوں سے جمع کرنے لگا۔ میں نے سورۃ التوبہ کی آخری آیت «لقد جاءكم رسول من أنفسكم» آخر تک خزیمہ یا ابوخزیمہ رضی اللہ عنہ کے پاس پائی اور اس کو سورت میں شامل کر لیا۔ ( قرآن مجید کے یہ مرتب ) صحیفے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس رہے جب تک وہ زندہ ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دی پھر وہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے اور آخر وقت تک ان کے پاس رہے۔ جب آپ کو بھی اللہ تعالیٰ نے وفات دی تو وہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس محفوظ رہے۔ محمد بن عبیداللہ نے کہا کہ «اللخاف» کے لفظ سے ٹھیکری مراد ہے جسے «خزف.» کہتے ہیں۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن ابی لیلیٰ نے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابولیلیٰ بن عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن سہل نے، ان سے سہل بن ابی حثمہ نے، انہیں سہل اور ان کی قوم کے بعض دوسرے ذمہ داروں نے خبر دی کہ عبداللہ، سہل اور محیصہ رضی اللہ عنہم خیبر کی طرف ( کھجور لینے کے لیے ) گئے۔ کیونکہ تنگ دستی میں مبتلا تھے۔ پھر محیصہ کو بتایا گیا کہ عبداللہ کو کسی نے قتل کر کے گڑھے یا کنویں میں ڈال دیا ہے۔ پھر وہ یہودیوں کے پاس گئے اور کہا کہ واللہ! تم نے ہی قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا: واللہ! ہم نے انہیں نہیں قتل کیا۔ پھر وہ واپس آئے اور اپنی قوم کے پاس آئے اور ان سے ذکر کیا۔ اس کے بعد وہ اور ان کے بھائی حویصہ جو ان سے بڑے تھے اور عبدالرحمٰن بن سہل رضی اللہ عنہ آئے، پھر محیصہ رضی اللہ عنہ نے بات کرنی چاہی کیونکہ آپ ہی خیبر میں موجود تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ بڑے کو آگے کرو، بڑے کو آپ کی مراد عمر کی بڑائی تھی۔ چنانچہ حویصہ نے بات کی، پھر محیصہ نے بھی بات کی۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہودی تمہارے ساتھی کی دیت ادا کریں ورنہ لڑائی کے لیے تیار ہو جائیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو اس مقدمہ میں لکھا۔ انہوں نے جواب میں یہ لکھا کہ ہم نے انہیں نہیں قتل کیا ہے۔ پھر آپ نے حویصہ، محیصہ اور عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کیا آپ لوگ قسم کھا کر اپنے شہید ساتھی کے خون کے مستحق ہو سکتے ہیں؟ ان لوگوں نے کہا کہ نہیں ( کیونکہ جرم کرتے دیکھا نہیں تھا ) پھر آپ نے فرمایا، کیا آپ لوگوں کے بجائے یہودی قسم کھائیں ( کہ انہوں نے قتل نہیں کیا ہے ) ؟ انہوں نے کہا کہ وہ مسلمان نہیں ہیں اور وہ جھوٹی قسم کھا سکتے ہیں۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے سو اونٹوں کی دیت ادا کی اور وہ اونٹ گھر میں لائے گئے۔ سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان میں سے ایک اونٹنی نے مجھے لات ماری۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابي ليلى، ح حدثنا اسماعيل، حدثني مالك، عن ابي ليلى بن عبد الله بن عبد الرحمن بن سهل، عن سهل بن ابي حثمة، انه اخبره هو، ورجال، من كبراء قومه ان عبد الله بن سهل ومحيصة خرجا الى خيبر من جهد اصابهم، فاخبر محيصة ان عبد الله قتل وطرح في فقير او عين، فاتى يهود فقال انتم والله قتلتموه. قالوا ما قتلناه والله. ثم اقبل حتى قدم على قومه فذكر لهم، واقبل هو واخوه حويصة وهو اكبر منه وعبد الرحمن بن سهل، فذهب ليتكلم وهو الذي كان بخيبر فقال النبي صلى الله عليه وسلم لمحيصة " كبر كبر ". يريد السن، فتكلم حويصة ثم تكلم محيصة فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما ان يدوا صاحبكم، واما ان يوذنوا بحرب ". فكتب رسول الله صلى الله عليه وسلم اليهم به، فكتب ما قتلناه. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لحويصة ومحيصة وعبد الرحمن " اتحلفون وتستحقون دم صاحبكم ". قالوا لا. قال " افتحلف لكم يهود ". قالوا ليسوا بمسلمين. فوداه رسول الله صلى الله عليه وسلم من عنده ماية ناقة حتى ادخلت الدار. قال سهل فركضتني منها ناقة
حدثنا ادم، حدثنا ابن ابي ذيب، حدثنا الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابي هريرة، وزيد بن خالد الجهني، قالا جاء اعرابي فقال يا رسول الله اقض بيننا بكتاب الله فقام خصمه فقال صدق فاقض بيننا بكتاب الله. فقال الاعرابي ان ابني كان عسيفا على هذا فزنى بامراته، فقالوا لي على ابنك الرجم. ففديت ابني منه بماية من الغنم ووليدة، ثم سالت اهل العلم فقالوا انما على ابنك جلد ماية وتغريب عام. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لاقضين بينكما بكتاب الله، اما الوليدة والغنم فرد عليك، وعلى ابنك جلد ماية وتغريب عام، واما انت يا انيس لرجل فاغد على امراة هذا فارجمها ". فغدا عليها انيس فرجمها
حدثنا ادم، حدثنا ابن ابي ذيب، حدثنا الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابي هريرة، وزيد بن خالد الجهني، قالا جاء اعرابي فقال يا رسول الله اقض بيننا بكتاب الله فقام خصمه فقال صدق فاقض بيننا بكتاب الله. فقال الاعرابي ان ابني كان عسيفا على هذا فزنى بامراته، فقالوا لي على ابنك الرجم. ففديت ابني منه بماية من الغنم ووليدة، ثم سالت اهل العلم فقالوا انما على ابنك جلد ماية وتغريب عام. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لاقضين بينكما بكتاب الله، اما الوليدة والغنم فرد عليك، وعلى ابنك جلد ماية وتغريب عام، واما انت يا انيس لرجل فاغد على امراة هذا فارجمها ". فغدا عليها انيس فرجمها
خارجہ بن زید بن ثابت نے اپنے والد زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ یہودیوں کی تحریر سیکھیں، یہاں تک کہ میں یہودیوں کے نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط لکھتا تھا اور جب یہودی آپ کو لکھتے تو ان کے خطوط آپ کو پڑھ کر سناتا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمٰن بن حاطب سے پوچھا، اس وقت ان کے پاس علی، عبدالرحمٰن اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی موجود تھے کہ یہ لونڈی کیا کہتی ہے؟ عبدالرحمٰن بن حاطب نے کہا کہ امیرالمؤمنین یہ آپ کو اس کے متعلق بتاتی ہے جس نے اس کے ساتھ زنا کیا ہے۔ ( جو یرغوس نام کا غلام تھا ) اور ابوجمرہ نے کہا کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما اور لوگوں کے درمیان ترجمانی کرتا تھا اور بعض لوگوں ( امام محمد اور امام شافعی ) نے کہا کہ حاکم کے لیے دو ترجموں کا ہونا ضروری ہے۔
وقال خارجة بن زيد بن ثابت عن زيد بن ثابت، ان النبي صلى الله عليه وسلم امره ان يتعلم كتاب اليهود، حتى كتبت للنبي صلى الله عليه وسلم كتبه، واقراته كتبهم اذا كتبوا اليه، وقال عمر وعنده علي وعبد الرحمن وعثمان ماذا تقول هذه قال عبد الرحمن بن حاطب فقلت تخبرك بصاحبهما الذي صنع بهما. وقال ابو جمرة كنت اترجم بين ابن عباس وبين الناس. وقال بعض الناس لا بد للحاكم من مترجمين
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی انہیں زہری نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ ابوسفیان بن حرب نے انہیں خبر دی کہ ہرقل نے انہیں قریش کی ایک جماعت کے ساتھ بلا بھیجا، پھر اپنے ترجمان سے کہا، ان سے کہو کہ میں ان کے بارے میں پوچھوں گا۔ اگر یہ مجھ سے جھوٹ بات کہے تو اسے جھٹلا دیں۔ پھر پوری حدیث بیان کی اس سے کہو کہ اگر تمہاری باتیں صحیح ہیں تو وہ شخص اس ملک کا بھی ہو جائے گا جو اس وقت میرے قدموں کے نیچے ہے۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، اخبرني عبيد الله بن عبد الله، ان عبد الله بن عباس، اخبره ان ابا سفيان بن حرب اخبره ان هرقل ارسل اليه في ركب من قريش، ثم قال لترجمانه قل لهم اني سايل هذا، فان كذبني فكذبوه. فذكر الحديث فقال للترجمان قل له ان كان ما تقول حقا فسيملك موضع قدمى هاتين
حدثنا محمد بن عبيد الله ابو ثابت، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابن شهاب، عن عبيد بن السباق، عن زيد بن ثابت، قال بعث الى ابو بكر لمقتل اهل اليمامة وعنده عمر فقال ابو بكر ان عمر اتاني فقال ان القتل قد استحر يوم اليمامة بقراء القران، واني اخشى ان يستحر القتل بقراء القران في المواطن كلها، فيذهب قران كثير، واني ارى ان تامر بجمع القران. قلت كيف افعل شييا لم يفعله رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال عمر هو والله خير. فلم يزل عمر يراجعني في ذلك حتى شرح الله صدري للذي شرح له صدر عمر، ورايت في ذلك الذي راى عمر. قال زيد قال ابو بكر وانك رجل شاب عاقل لا نتهمك، قد كنت تكتب الوحى لرسول الله صلى الله عليه وسلم فتتبع القران فاجمعه. قال زيد فوالله لو كلفني نقل جبل من الجبال ما كان باثقل على مما كلفني من جمع القران. قلت كيف تفعلان شييا لم يفعله رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ابو بكر هو والله خير. فلم يزل يحث مراجعتي حتى شرح الله صدري للذي شرح الله له صدر ابي بكر وعمر، ورايت في ذلك الذي رايا، فتتبعت القران اجمعه من العسب والرقاع واللخاف وصدور الرجال، فوجدت اخر سورة التوبة {لقد جاءكم رسول من انفسكم} الى اخرها مع خزيمة او ابي خزيمة فالحقتها في سورتها، وكانت الصحف عند ابي بكر حياته حتى توفاه الله عز وجل، ثم عند عمر حياته حتى توفاه الله، ثم عند حفصة بنت عمر. قال محمد بن عبيد الله اللخاف يعني الخزف