Loading...

Loading...
کتب
۸۹ احادیث
ہم سے عبداللہ بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے محبوب بن الحسن نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے حمید بن ہلال نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک شخص اسلام لایا پھر یہودی ہو گیا پھر معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ آئے اور وہ شخص ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھا۔ انہوں نے پوچھا اس کا کیا معاملہ ہے؟ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اسلام لایا پھر یہودی ہو گیا، پھر انہوں نے کہا کہ جب تک میں اسے قتل نہ کر لو نہیں بیٹھوں گا، یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے۔
حدثني عبد الله بن الصباح، حدثنا محبوب بن الحسن، حدثنا خالد، عن حميد بن هلال، عن ابي بردة، عن ابي موسى، ان رجلا، اسلم ثم تهود، فاتى معاذ بن جبل وهو عند ابي موسى فقال ما هذا قال اسلم ثم تهود. قال لا اجلس حتى اقتله، قضاء الله ورسوله صلى الله عليه وسلم
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک بن عمیر نے کہا کہ میں نے عبدالرحمٰن ابن ابی بکرہ سے سنا کہا کہ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے لڑکے ( عبیداللہ ) کو لکھا اور وہ اس وقت سجستان میں تھے کہ دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ اس وقت نہ کرنا جب تم غصہ میں ہو کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ کوئی ثالث دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ اس وقت نہ کرے جب وہ غصہ میں ہو۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا عبد الملك بن عمير، سمعت عبد الرحمن بن ابي بكرة، قال كتب ابو بكرة الى ابنه وكان بسجستان بان لا تقضي بين اثنين وانت غضبان، فاني سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " لا يقضين حكم بين اثنين وهو غضبان
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو اسماعیل بن ابی خالد نے خبر دی، انہیں قیس ابن ابی حازم نے، ان سے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں واللہ صبح کی جماعت میں فلاں ( امام معاذ بن جبل یا ابی بن کعب رضی اللہ عنہما ) کی وجہ سے شرکت نہیں کر پاتا کیونکہ وہ ہمارے ساتھ اس نماز کو بہت لمبی کر دیتے ہیں۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وعظ و نصیحت کے وقت اس سے زیادہ غضب ناک ہوتا کبھی نہیں دیکھا جیسا کہ آپ اس دن تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے لوگو! تم میں سے بعض نمازیوں کو نفرت دلانے والے ہیں، پس تم میں سے جو شخص بھی لوگوں کو نماز پڑھائے اسے اختصار کرنا چاہئے کیونکہ جماعت میں بوڑھے، بچے اور ضرورت مند سب ہی ہوتے ہیں۔“
حدثنا محمد بن مقاتل، اخبرنا عبد الله، اخبرنا اسماعيل بن ابي خالد، عن قيس بن ابي حازم، عن ابي مسعود الانصاري، قال جاء رجل الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله، اني والله لاتاخر عن صلاة الغداة من اجل فلان، مما يطيل بنا فيها. قال فما رايت النبي صلى الله عليه وسلم قط اشد غضبا في موعظة منه يوميذ، ثم قال " يا ايها الناس، ان منكم منفرين، فايكم ما صلى بالناس فليوجز، فان فيهم الكبير والضعيف وذا الحاجة
ہم سے محمد بن ابی یعقوب الکرمانی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حسان بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یونس نے بیان کیا، محمد نے بیان کیا کہ مجھے سالم نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ انہوں نے اپنی بیوی کو جب کہ وہ حالت حیض میں تھیں ( آمنہ بنت غفار ) طلاق دے دی، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ بہت خفا ہوئے پھر فرمایا ”انہیں چاہئے کہ وہ رجوع کر لیں اور انہیں اپنے پاس رکھیں، یہاں تک کہ جب وہ پاک ہو جائیں پھر حائضہ ہوں اور پھر پاک ہوں تب اگر چاہے تو اسے طلاق دیدے۔“
حدثنا محمد بن ابي يعقوب الكرماني، حدثنا حسان بن ابراهيم، حدثنا يونس، قال محمد اخبرني سالم، ان عبد الله بن عمر، اخبره انه، طلق امراته وهى حايض، فذكر عمر للنبي صلى الله عليه وسلم، فتغيظ فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال " ليراجعها، ثم ليمسكها حتى تطهر، ثم تحيض فتطهر، فان بدا له ان يطلقها فليطلقها
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عروہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ہند بنت عتبہ بن ربیعہ آئیں اور کہا: یا رسول اللہ! روئے زمین کا کوئی گھرانہ ایسا نہیں تھا جس کے متعلق اس درجہ میں ذلت کی خواہشمند ہوں جتنا آپ کے گھرانہ کی ذلت و رسوائی کی میں خواہشمند تھی لیکن اب میرا یہ حال ہے کہ میں سب سے زیادہ خواہشمند ہوں کہ روئے زمین کے تمام گھرانوں میں آپ کا گھرانہ عزت و سربلندی والا ہو۔ پھر انہوں نے کہا کہ ابوسفیان رضی اللہ عنہ بخیل آدمی ہیں، تو کیا میرے لیے کوئی حرج ہے اگر میں ان کے مال میں سے ( ان کی اجازت کے بغیر لے کر ) اپنے اہل و عیال کو کھلاؤں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تمہارے لیے کوئی حرج نہیں ہے، اگر تم انہیں دستور کے مطابق کھلاؤ۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، حدثني عروة، ان عايشة رضى الله عنها قالت جاءت هند بنت عتبة بن ربيعة فقالت يا رسول الله، والله ما كان على ظهر الارض اهل خباء احب الى ان يذلوا من اهل خبايك، وما اصبح اليوم على ظهر الارض اهل خباء احب الى ان يعزوا من اهل خبايك. ثم قالت ان ابا سفيان رجل مسيك، فهل على من حرج ان اطعم الذي له عيالنا قال لها " لا حرج عليك ان تطعميهم من معروف
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے قتادہ سے سنا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل روم کو خط لکھنا چاہا تو صحابہ نے کہا کہ رومی صرف مہر لگا ہوا خط ہی قبول کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک مہر بنوائی گویا میں اس کی چمک کو اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں اور اس پر کلمہ «محمد رسول الله.» نقش تھا۔
حدثني محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، قال سمعت قتادة، عن انس بن مالك، قال لما اراد النبي صلى الله عليه وسلم ان يكتب الى الروم قالوا انهم لا يقرءون كتابا الا مختوما. فاتخذ النبي صلى الله عليه وسلم خاتما من فضة، كاني انظر الى وبيصه، ونقشه محمد رسول الله
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں نمر کے بھانجے سائب بن یزید نے خبر دی، انہیں حویطب بن عبدالعزیٰ نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن السعیدی نے خبر دی کہ وہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کے زمانہ خلافت میں آئے تو ان سے عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا مجھ سے یہ جو کہا گیا ہے وہ صحیح ہے کہ تمہیں لوگوں کے کام سپرد کئے جاتے ہیں اور جب اس کی تنخواہ دی جاتی ہے تو تم اسے لینا پسند نہیں کرتے؟ میں نے کہا کہ یہ صحیح ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تمہارا اس سے مقصد کیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میرے پاس گھوڑے اور غلام ہیں اور میں خوشحال ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ میری تنخواہ مسلمانوں پر صدقہ ہو جائے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو کیونکہ میں نے بھی اس کا ارادہ کیا تھا جس کا تم نے ارادہ کیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عطا کرتے تھے تو میں عرض کر دیتا تھا کہ اسے مجھ سے زیادہ اس کے ضرورت مند کو عطا فرما دیجئیے۔ آخر آپ نے ایک مرتبہ مجھے مال عطا کیا اور میں نے وہی بات دہرائی کہ اسے ایسے شخص کو دے دیجئیے جو اس کا مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لو اور اس کے مالک بننے کے بعد اس کا صدقہ کرو۔ یہ مال جب تمہیں اس طرح ملے کہ تم اس کے نہ خواہشمند ہو اور نہ اسے مانگا تو اسے لے لیا کرو اور اگر اس طرح نہ ملے تو اس کے پیچھے نہ پڑا کرو۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، اخبرني السايب بن يزيد ابن اخت، نمر ان حويطب بن عبد العزى، اخبره ان عبد الله بن السعدي اخبره انه، قدم على عمر في خلافته فقال له عمر الم احدث انك تلي من اعمال الناس اعمالا، فاذا اعطيت العمالة كرهتها. فقلت بلى. فقال عمر ما تريد الى ذلك قلت ان لي افراسا واعبدا، وانا بخير، واريد ان تكون عمالتي صدقة على المسلمين. قال عمر لا تفعل فاني كنت اردت الذي اردت فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعطيني العطاء فاقول اعطه افقر اليه مني. حتى اعطاني مرة مالا فقلت اعطه افقر اليه مني. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " خذه فتموله وتصدق به، فما جاءك من هذا المال وانت غير مشرف ولا سايل فخذه، والا فلا تتبعه نفسك
اور زہری سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عطا کرتے تھے تو میں کہتا کہ آپ اسے دے دیں جو اس کا مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک مرتبہ مال دیا اور میں نے کہا کہ آپ اسے ایسے شخص کو دے دیں جو اس کا مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لے لو اور اس کے مالک بننے کے بعد اس کا صدقہ کر دو۔ یہ مال جب تمہیں اس طرح ملے کہ تم اس کے خواہشمند نہ ہو اور نہ اسے تم نے مانگا ہو تو اسے لے لیا کرو اور جو اس طرح نہ ملے اس کے پیچھے نہ پڑا کرو۔
وعن الزهري، قال حدثني سالم بن عبد الله، ان عبد الله بن عمر، قال سمعت عمر، يقول كان النبي صلى الله عليه وسلم يعطيني العطاء فاقول اعطه افقر اليه مني. حتى اعطاني مرة مالا فقلت اعطه من هو افقر اليه مني. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " خذه فتموله وتصدق به، فما جاءك من هذا المال وانت غير مشرف ولا سايل فخذه، وما لا فلا تتبعه نفسك
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے دو لعان کرنے والوں کو دیکھا، میں اس وقت پندرہ سال کا تھا اور ان دونوں کے درمیان جدائی کرا دی گئی تھی۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال الزهري عن سهل بن سعد، قال شهدت المتلاعنين وانا ابن خمس، عشرة فرق بينهما
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں ابن جریج نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے خبر دی، انہیں بنی ساعدہ کے ایک فرد سہل رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ قبیلہ انصار کا ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے اگر کوئی مرد اپنی بیوی کے ساتھ دوسرے مرد کو دیکھے، کیا اسے قتل کر سکتا ہے؟ پھر دونوں ( میاں بیوی ) میں میری موجودگی میں لعان کرایا گیا۔
حدثنا يحيى، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا ابن جريج، اخبرني ابن شهاب، عن سهل، اخي بني ساعدة ان رجلا، من الانصار جاء الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال ارايت رجلا وجد مع امراته رجلا، ايقتله فتلاعنا في المسجد وانا شاهد
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ نے، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے اور انہوں نے آپ کو آواز دی اور کہا: یا رسول اللہ! میں نے زنا کر لیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے منہ موڑ لیا لیکن جب اس نے اپنے ہی خلاف چار مرتبہ گواہی دی تو آپ نے اس سے پوچھا کیا تم پاگل ہو؟ اس نے کہا کہ نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں لے جاؤ اور رجم کر دو۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثني الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة، وسعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، قال اتى رجل رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو في المسجد فناداه فقال يا رسول الله اني زنيت. فاعرض عنه. فلما شهد على نفسه اربعا قال " ابك جنون ". قال لا. قال " اذهبوا به فارجموه
ابن شہاب نے بیان کیا کہ پھر مجھے اس شخص نے خبر دی جس نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا تھا، انہوں نے بیان کیا کہ میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے اس شخص کو عیدگاہ پر رجم کیا تھا۔ اس کی روایت یونس، معمر اور ابن جریج نے زہری سے کی، ان سے ابوسلمہ نے، ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رجم کے سلسلے میں یہی حدیث ذکر کی۔
قال ابن شهاب فاخبرني من، سمع جابر بن عبد الله، قال كنت فيمن رجمه بالمصلى. رواه يونس ومعمر وابن جريج عن الزهري عن ابي سلمة عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم في الرجم
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے زینب بنت ابی سلمہ نے اور ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بلاشبہ میں ایک انسان ہوں، تم میرے پاس اپنے جھگڑے لاتے ہو ممکن ہے تم میں سے بعض اپنے مقدمہ کو پیش کرنے میں فریق ثانی کے مقابلہ میں زیادہ چرب زبان ہو اور میں تمہاری بات سن کر فیصلہ کر دوں تو جس شخص کے لیے میں اس کے بھائی ( فریق مخالف ) کا کوئی حق دلا دوں، چاہئے کہ وہ اسے نہ لے کیونکہ یہ آگ کا ایک ٹکڑا ہے جو میں اسے دیتا ہوں۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن هشام، عن ابيه، عن زينب ابنة ابي سلمة، عن ام سلمة رضى الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " انما انا بشر، وانكم تختصمون الى، ولعل بعضكم ان يكون الحن بحجته من بعض فاقضي نحو ما اسمع، فمن قضيت له بحق اخيه شييا فلا ياخذه، فانما اقطع له قطعة من النار
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے، ان سے عمر بن کثیر نے، ان سے ابوقتادہ کے غلام ابو محمد نافع نے اور ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کی جنگ کے دن فرمایا ”جس کے پاس کسی مقتول کے بارے میں جسے اس نے قتل کیا ہو گواہی ہو تو اس کا سامان اسے ملے گا۔ چنانچہ میں مقتول کے لیے گواہ تلاش کرنے کے لیے کھڑا ہوا تو میں نے کسی کو نہیں دیکھا جو میرے لیے گواہی دے سکے، اس لیے میں بیٹھ گیا۔ پھر میرے سامنے ایک صورت آئی اور میں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو وہاں بیٹھے ہوئے ایک صاحب نے کہا کہ اس مقتول کا سامان جس کا ابوقتادہ ذکر کر رہے ہیں، میرے پاس ہے۔ انہیں اس کے لیے راضی کر دیجئیے ( کہ وہ یہ ہتھیار وغیرہ مجھے دے دیں ) اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہرگز نہیں۔ اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کو نظر انداز کر کے جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کرتا ہے وہ قریش کے معمولی آدمی کو ہتھیار نہیں دیں گے۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور انہوں نے ہتھیار مجھے دے دئیے اور میں نے اس سے ایک باغ خریدا۔ یہ پہلا مال تھا جو میں نے ( اسلام کے بعد ) حاصل کیا تھا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے عبداللہ بن صالح نے بیان کیا، ان سے لیث بن سعد نے کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور مجھے وہ سامان دلا دیا، اور اہل حجاز، امام مالک وغیرہ نے کہا کہ حاکم کو صرف اپنے علم کی بنیاد پر فیصلہ کرنا درست نہیں۔ خواہ وہ معاملہ پر عہدہ قضاء حاصل ہونے کے بعد گواہ ہوا ہو یا اس سے پہلے اور اگر کسی فریق نے اس کے سامنے دوسرے کے لیے مجلس قضاء میں کسی حق کا اقرار کیا تو بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس بنیاد پر وہ فیصلہ نہیں کرے گا بلکہ دو گواہوں کو بلا کر ان کے سامنے اقرار کرائے گا۔ اور بعض اہل عراق نے کہا ہے کہ جو کچھ قاضی نے عدالت میں دیکھا یا سنا اس کے مطابق فیصلہ کرے گا لیکن جو کچھ عدالت کے باہر ہو گا اس کی بنیاد پر دو گواہوں کے بغیر فیصلہ نہیں کر سکتا اور انہیں میں سے دوسرے لوگوں نے کہا کہ اس کی بنیاد پر بھی فیصلہ کر سکتا ہے کیونکہ وہ امانت دار ہے۔ شہادت کا مقصد تو صرف حق کا جاننا ہے پس قاضی کا ذاتی علم گواہی سے بڑھ کر ہے۔ اور بعض ان میں سے کہتے ہیں کہ اموال کے بارے میں تو اپنے علم کی بنیاد پر فیصلہ کرے گا اور اس کے سوا میں نہیں کرے گا اور قاسم نے کہا کہ حاکم کے لیے درست نہیں کہ وہ کوئی فیصلہ صرف اپنے علم کی بنیاد پر کرے اور دوسرے کے علم کو نظر انداز کر دے گو قاضی کا علم دوسرے کی گواہی سے بڑھ کر ہے لیکن چونکہ عام مسلمانوں کی نظر میں اس صورت میں قاضی کے مہتمم ہونے کا خطرہ ہے اور مسلمانوں کو اس طرح بدگمانی میں مبتلا کرنا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدگمانی کو ناپسند کیا تھا اور فرمایا تھا کہ یہ صفیہ میری بیوی ہیں۔
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے جناب زین العابدین علی بن حسین رحمہ اللہ نے کہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا ( رات کے وقت ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ( اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں معتکف تھے ) جب وہ واپس آنے لگیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ آئے۔ اس وقت دو انصاری صحابی ادھر سے گزرے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا اور فرمایا کہ یہ صفیہ ہیں۔ ان دونوں انصاریوں نے کہا، سبحان اللہ ( کیا ہم آپ پر شبہ کریں گے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان انسان کے اندر اس طرح دوڑتا ہے جیسے خون دوڑتا ہے۔ اس کی روایت شعیب، ابن مسافر، ابن ابی عتیق اور اسحاق بن یحییٰ نے زہری سے کی ہے، ان سے علی بن حسین نے اور ان سے صفیہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی واقعہ نقل کیا ہے۔
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا ابراهيم، عن ابن شهاب، عن علي بن حسين، ان النبي صلى الله عليه وسلم اتته صفية بنت حيى فلما رجعت انطلق معها، فمر به رجلان من الانصار فدعاهما فقال " انما هي صفية ". قالا سبحان الله. قال " ان الشيطان يجري من ابن ادم مجرى الدم ". رواه شعيب وابن مسافر وابن ابي عتيق واسحاق بن يحيى عن الزهري عن علي يعني ابن حسين عن صفية عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک بن عمرو عقدی نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی بردہ نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد ( ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ) اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا اور ان سے فرمایا کہ آسانی پیدا کرنا اور تنگی نہ کرنا اور خوشخبری دینا اور نفرت نہ دلانا اور آپس میں اتفاق رکھنا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ ہمارے ملک میں شہد کا نبیذ ( تبع ) بنایا جاتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ نضر بن شمیل، ابوداؤد طیالسی، یزید بن ہارو اور وکیع نے شعبہ سے بیان کیا، ان سے سعید نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے ان کے دادا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث نقل کی۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا العقدي، حدثنا شعبة، عن سعيد بن ابي بردة، قال سمعت ابي قال، بعث النبي صلى الله عليه وسلم ابي ومعاذ بن جبل على اليمن فقال " يسرا ولا تعسرا، وبشرا ولا تنفرا، وتطاوعا ". فقال له ابو موسى انه يصنع بارضنا البتع. فقال " كل مسكر حرام ". وقال النضر وابو داود ويزيد بن هارون ووكيع عن شعبة عن سعيد عن ابيه عن جده عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، کہا مجھ سے منصور نے بیان کیا، ان سے ابوائل نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیدیوں کو چھڑاؤ اور دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرو۔“
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سفيان، حدثني منصور، عن ابي وايل، عن ابي موسى، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " فكوا العاني واجيبوا الداعي
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے زہری نے، انہوں نے عروہ سے سنا، انہیں ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ بنی اسد کے ایک شخص کو صدقہ کی وصولی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تحصیلدار بنایا، ان کا نام ابن الاتیتہ تھا۔ جب وہ لوٹ کر آئے تو انہوں نے کہا کہ یہ آپ لوگوں کا ہے اور یہ مجھے ہدیہ میں دیا گیا ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے، سفیان ہی نے یہ روایت بھی کی کہ ”پھر آپ منبر پر چڑھے“ پھر اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا کہ اس عامل کا کیا حال ہو گا جسے ہم تحصیل کے لیے بھیجتے ہیں پھر وہ آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ مال تمہارا ہے اور یہ میرا ہے۔ کیوں نہ وہ اپنے باپ یا ماں کے گھر بیٹھا رہا اور دیکھا ہوتا کہ اسے ہدیہ دیا جاتا ہے یا نہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، عامل جو چیز بھی ( ہدیہ کے طور پر ) لے گا اسے قیامت کے دن اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے آئے گا۔ اگر اونٹ ہو گا تو وہ اپنی آواز نکالتا آئے گا، اگر گائے ہو گی تو وہ اپنی آواز نکالتی آئے گی، بکری ہو گی تو وہ بولتی آئے گی، پھر آپ نے اپنے ہاتھ اٹھائے۔ یہاں تک کہ ہم نے آپ کے دونوں بغلوں کی سفیدی دیکھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے پہنچا دیا! تین مرتبہ یہی فرمایا۔ سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ یہ حدیث ہم سے زہری نے بیان کی اور ہشام نے اپنے والد سے روایت کی، ان سے ابوحمید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے دونوں کانوں نے سنا اور دونوں آنکھوں نے دیکھا اور زید بن ثابت صحابی رضی اللہ عنہ سے بھی پوچھ کیونکہ انہوں نے بھی یہ حدیث میرے ساتھ سنی ہے۔ سفیان نے کہا زہری نے یہ لفظ نہیں کہا کہ میرے کانوں نے سنا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا حدیث میں «خوار» کا لفظ ہے یعنی گائے کی آواز یا «جؤار» کا لفظ جو لفظ «تجأرون» سے نکلا ہے جو سورۃ مومنون میں ہے یعنی گائے کی آواز نکالتے ہوں گے۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن الزهري، انه سمع عروة، اخبرنا ابو حميد الساعدي، قال استعمل النبي صلى الله عليه وسلم رجلا من بني اسد يقال له ابن الاتبية على صدقة فلما قدم قال هذا لكم وهذا اهدي لي. فقام النبي صلى الله عليه وسلم على المنبر قال سفيان ايضا فصعد المنبر فحمد الله واثنى عليه ثم قال " ما بال العامل نبعثه، فياتي يقول هذا لك وهذا لي. فهلا جلس في بيت ابيه وامه فينظر ايهدى له ام لا، والذي نفسي بيده لا ياتي بشىء الا جاء به يوم القيامة يحمله على رقبته، ان كان بعيرا له رغاء، او بقرة لها خوار، او شاة تيعر ". ثم رفع يديه حتى راينا عفرتى ابطيه " الا هل بلغت " ثلاثا. قال سفيان قصه علينا الزهري. وزاد هشام عن ابيه عن ابي حميد قال سمع اذناى وابصرته عيني، وسلوا زيد بن ثابت فانه سمعه معي. ولم يقل الزهري سمع اذني. {خوار} صوت، والجوار من تجارون كصوت البقرة
ہم سے عثمان بن صالح نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ کو ابن جریج نے خبر دی، انہیں نافع نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہا کہ ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے ( آزاد کردہ غلام ) سالم، مہاجر اولین کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم مسجد قباء میں امامت کیا کرتے تھے۔ ان اصحاب میں ابوبکر، عمر، ابوسلمہ، زید اور عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہم بھی ہوتے تھے۔
حدثنا عثمان بن صالح، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرني ابن جريج، ان نافعا، اخبره ان ابن عمر رضى الله عنهما اخبره قال كان سالم مولى ابي حذيفة يوم المهاجرين الاولين واصحاب النبي صلى الله عليه وسلم في مسجد قباء، فيهم ابو بكر وعمر وابو سلمة وزيد وعامر بن ربيعة
حدثنا اسماعيل بن ابي اويس، حدثني اسماعيل بن ابراهيم، عن عمه، موسى بن عقبة قال ابن شهاب حدثني عروة بن الزبير، ان مروان بن الحكم، والمسور بن مخرمة، اخبراه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال حين اذن لهم المسلمون في عتق سبى هوازن " اني لا ادري من اذن منكم ممن لم ياذن، فارجعوا حتى يرفع الينا عرفاوكم امركم ". فرجع الناس فكلمهم عرفاوهم، فرجعوا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبروه ان الناس قد طيبوا واذنوا
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن يحيى، عن عمر بن كثير، عن ابي محمد، مولى ابي قتادة ان ابا قتادة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم حنين " من له بينة على قتيل قتله، فله سلبه ". فقمت لالتمس بينة على قتيل، فلم ار احدا يشهد لي، فجلست، ثم بدا لي فذكرت امره الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رجل من جلسايه سلاح هذا القتيل الذي يذكر عندي. قال فارضه منه. فقال ابو بكر كلا لا يعطه اصيبغ من قريش ويدع اسدا من اسد الله يقاتل عن الله ورسوله. قال فامر رسول الله صلى الله عليه وسلم فاداه الى فاشتريت منه خرافا فكان اول مال تاثلته. قال لي عبد الله عن الليث فقام النبي صلى الله عليه وسلم فاداه الى. وقال اهل الحجاز الحاكم لا يقضي بعلمه، شهد بذلك في ولايته او قبلها. ولو اقر خصم عنده لاخر بحق في مجلس القضاء، فانه لا يقضي عليه في قول بعضهم، حتى يدعو بشاهدين فيحضرهما اقراره. وقال بعض اهل العراق ما سمع او راه في مجلس القضاء قضى به، وما كان في غيره لم يقض الا بشاهدين. وقال اخرون منهم بل يقضي به، لانه موتمن، وانما يراد من الشهادة معرفة الحق، فعلمه اكثر من الشهادة. وقال بعضهم يقضي بعلمه في الاموال، ولا يقضي في غيرها. وقال القاسم لا ينبغي للحاكم ان يمضي قضاء بعلمه دون علم غيره، مع ان علمه اكثر من شهادة غيره، ولكن فيه تعرضا لتهمة نفسه عند المسلمين، وايقاعا لهم في الظنون، وقد كره النبي صلى الله عليه وسلم الظن فقال " انما هذه صفية