Loading...

Loading...
کتب
۸۹ احادیث
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس نے، انہیں زہری نے، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے میرے ( مقرر کئے ہوئے ) امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔“
حدثنا عبدان، اخبرنا عبد الله، عن يونس، عن الزهري، اخبرني ابو سلمة بن عبد الرحمن، انه سمع ابا هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من اطاعني فقد اطاع الله، ومن عصاني فقد عصى الله، ومن اطاع اميري فقد اطاعني، ومن عصى اميري فقد عصاني
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ کو امام مالک نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن دینار نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”آگاہ ہو جاؤ تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ پس امام ( امیرالمؤمنین ) لوگوں پر نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہو گا۔ مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہو گا اور عورت اپنے شوہر کے گھر والوں اور اس کے بچوں کی نگہبان ہے اور اس سے ان کے بارے میں سوال ہو گا اور کسی شخص کا غلام اپنے سردار کے مال کا نگہبان ہے اور اس سے اس کے بارے میں سوال ہو گا۔ آگاہ ہو جاؤ کہ تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں پرسش ہو گی۔“
حدثنا اسماعيل، حدثني مالك، عن عبد الله بن دينار، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الا كلكم راع، وكلكم مسيول عن رعيته، فالامام الذي على الناس راع وهو مسيول عن رعيته، والرجل راع على اهل بيته وهو مسيول عن رعيته، والمراة راعية على اهل بيت زوجها وولده وهي مسيولة عنهم، وعبد الرجل راع على مال سيده وهو مسيول عنه، الا فكلكم راع وكلكم مسيول عن رعيته
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ محمد بن جبیر بن مطعم بیان کرتے تھے کہ میں قریش کے ایک وفد کے ساتھ معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ انہیں معلوم ہوا کہ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عنقریب قبیلہ قحطان کا ایک بادشاہ ہو گا۔ معاویہ رضی اللہ عنہ اس پر غصہ ہوئے اور کھڑے ہو کر اللہ کی تعریف اس کی شان کے مطابق کی پھر فرمایا، امابعد! مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم میں سے کچھ لوگ ایسی حدیث بیان کرتے ہیں جو نہ کتاب اللہ میں ہے اور اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے، یہ تم میں سے جاہل لوگ ہیں۔ پس تم ایسے خیالات سے بچتے رہو جو تمہیں گمراہ کر دیں کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ یہ امر ( خلافت ) قریش میں رہے گا۔ کوئی بھی ان سے اگر دشمنی کرے گا تو اللہ اسے رسوا کر دے گا لیکن اس وقت تک جب تک وہ دین کو قائم رکھیں گے۔ اس روایت کی متابعت نعیم نے ابن مبارک سے کی ہے، ان سے معمر نے، ان سے زہری نے اور ان سے محمد بن جبیر نے۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال كان محمد بن جبير بن مطعم يحدث انه بلغ معاوية وهو عنده في وفد من قريش ان عبد الله بن عمرو يحدث انه سيكون ملك من قحطان فغضب، فقام فاثنى على الله بما هو اهله، ثم قال اما بعد فانه بلغني ان رجالا منكم يحدثون احاديث ليست في كتاب الله، ولا توثر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم واوليك جهالكم، فاياكم والاماني التي تضل اهلها، فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان هذا الامر في قريش، لا يعاديهم احد الا كبه الله على وجهه ما اقاموا الدين ". تابعه نعيم عن ابن المبارك عن معمر عن الزهري عن محمد بن جبير
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم بن محمد نے بیان کیا، کہا میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہ امر خلافت اس وقت تک قریش میں رہے گا جب تک ان میں دو شخص بھی باقی رہیں گے۔“
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا عاصم بن محمد، سمعت ابي يقول، قال ابن عمر قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يزال الامر في قريش ما بقي منهم اثنان
ہم سے شہاب بن عباد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن حمید نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”رشک بس دو آدمیوں پر ہی کیا جانا چاہئے۔ ایک وہ شخص جسے اللہ نے مال دیا اور پھر اس نے وہ حق کے راستے میں بےدریغ خرچ کیا اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے حکمت دین کا علم ( قرآن و حدیث کا ) دیا ہے وہ اس کے موافق فیصلے کرتا ہے۔“
حدثنا شهاب بن عباد، حدثنا ابراهيم بن حميد، عن اسماعيل، عن قيس، عن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا حسد الا في اثنتين، رجل اتاه الله مالا فسلطه على هلكته في الحق، واخر اتاه الله حكمة فهو يقضي بها ويعلمها
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سنو اور اطاعت کرو، خواہ تم پر کسی ایسے حبشی غلام کو ہی عامل بنایا جائے جس کا سر منقیٰ کی طرح چھوٹا ہو۔“
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن شعبة، عن ابي التياح، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اسمعوا واطيعوا وان استعمل عليكم عبد حبشي كان راسه زبيبة
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے جعد نے بیان کیا اور ان سے ابورجاء نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے اپنے امیر میں کوئی برا کام دیکھا تو اسے صبر کرنا چاہئے کیونکہ کوئی اگر جماعت سے ایک بالشت بھی جدا ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔“
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد، عن الجعد، عن ابي رجاء، عن ابن عباس، يرويه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " من راى من اميره شييا فكرهه فليصبر، فانه ليس احد يفارق الجماعة شبرا فيموت الا مات ميتة جاهلية
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ”مسلمان کے لیے امیر کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا ضروری ہے، ان چیزوں میں بھی جنہیں وہ پسند کرے اور ان میں بھی جنہیں وہ ناپسند کرے، جب تک اسے معصیت کا حکم نہ دیا جائے۔ پھر جب اسے معصیت کا حکم دیا جائے تو نہ سننا باقی رہتا ہے نہ اطاعت کرنا۔“
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن عبيد الله، حدثني نافع، عن عبد الله رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " السمع والطاعة على المرء المسلم، فيما احب وكره، ما لم يومر بمعصية، فاذا امر بمعصية فلا سمع ولا طاعة
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے سعد بن عبیدہ نے بیان کیا، ان سے ابوعبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دستہ بھیجا اور اس پر انصار کے ایک شخص کو امیر بنایا اور لوگوں کو حکم دیا کہ ان کی اطاعت کریں۔ پھر امیر فوج کے لوگوں پر غصہ ہوئے اور کہا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں میری اطاعت کا حکم نہیں دیا ہے؟ لوگوں نے کہا کہ ضرور دیا ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ لکڑی جمع کرو اور اس سے آگ جلاؤ اور اس میں کود پڑو۔ لوگوں نے لکڑی جمع کی اور آگ جلائی، جب کودنا چاہا تو ایک دوسرے کو لوگ دیکھنے لگے اور ان میں سے بعض نے کہا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری آگ سے بچنے کے لیے کی تھی، کیا پھر ہم اس میں خود ہی داخل ہو جائیں۔ اسی دوران میں آگ ٹھنڈی ہو گئی اور امیر کا غصہ بھی جاتا رہا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ لوگ اس میں کود پڑتے تو پھر اس میں سے نہ نکل سکتے۔ اطاعت صرف اچھی باتوں میں ہے۔
حدثنا عمر بن حفص بن غياث، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، حدثنا سعد بن عبيدة، عن ابي عبد الرحمن، عن علي رضى الله عنه قال بعث النبي صلى الله عليه وسلم سرية، وامر عليهم رجلا من الانصار وامرهم ان يطيعوه، فغضب عليهم وقال اليس قد امر النبي صلى الله عليه وسلم ان تطيعوني قالوا بلى. قال عزمت عليكم لما جمعتم حطبا واوقدتم نارا، ثم دخلتم فيها، فجمعوا حطبا فاوقدوا، فلما هموا بالدخول فقام ينظر بعضهم الى بعض، قال بعضهم انما تبعنا النبي صلى الله عليه وسلم فرارا من النار، افندخلها، فبينما هم كذلك اذ خمدت النار، وسكن غضبه، فذكر للنبي صلى الله عليه وسلم فقال " لو دخلوها ما خرجوا منها ابدا، انما الطاعة في المعروف
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، ان سے حسن نے اور ان سے عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے عبدالرحمٰن! حکومت کے طالب نہ بننا کیونکہ اگر تمہیں مانگنے کے بعد حکومت ملی تو تم اس کے حوالے کر دئیے جاؤ گے اور وہ تمہیں بلا مانگے ملی تو اس میں تمہاری ( اللہ کی طرف سے ) مدد کی جائے گی اور اگر تم نے قسم کھا لی ہو پھر اس کے سوا دوسری چیز میں بھلائی دیکھو تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دو اور وہ کام کرو جس میں بھلائی ہو۔“
حدثنا حجاج بن منهال، حدثنا جرير بن حازم، عن الحسن، عن عبد الرحمن بن سمرة، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " يا عبد الرحمن لا تسال الامارة، فانك ان اعطيتها عن مسالة وكلت اليها، وان اعطيتها عن غير مسالة اعنت عليها، واذا حلفت على يمين فرايت غيرها خيرا منها، فكفر يمينك، وات الذي هو خير
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یونس نے بیان کیا، ان سے حسن نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے عبدالرحمٰن ابن سمرہ! حکومت طلب مت کرنا کیونکہ اگر تمہیں مانگنے کے بعد امیری ملی تو تم اس کے حوالے کر دئیے جاؤ گے اور اگر تمہیں مانگے بغیر ملی تو اس میں تمہاری مدد کی جائے گی اور اگر تم کسی بات پر قسم کھا لو اور پھر اس کے سوا دوسری چیز میں بھلائی دیکھو تو وہ کرو جس میں بھلائی ہو اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دو۔“
حدثنا ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، حدثنا يونس، عن الحسن، قال حدثني عبد الرحمن بن سمرة، قال قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا عبد الرحمن بن سمرة، لا تسال الامارة، فان اعطيتها عن مسالة وكلت اليها، وان اعطيتها عن غير مسالة اعنت عليها، واذا حلفت على يمين فرايت غيرها خيرا منها، فات الذي هو خير، وكفر عن يمينك
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے سعید مقبری نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے سعید مقبری نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا ابن ابي ذيب، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " انكم ستحرصون على الامارة، وستكون ندامة يوم القيامة، فنعم المرضعة وبيست الفاطمة ". وقال محمد بن بشار حدثنا عبد الله بن حمران، حدثنا عبد الحميد، عن سعيد المقبري، عن عمر بن الحكم، عن ابي هريرة، قوله
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے بریدہ نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنی قوم کے دو آدمیوں کو لے کر حاضر ہوا۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ یا رسول اللہ! ہمیں کہیں کا حاکم بنا دیجئیے اور دوسرے نے بھی یہی خواہش ظاہر کی۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم ایسے شخص کو یہ ذمہ داری نہیں سونپتے جو اسے طلب کرے اور نہ اسے دیتے ہیں جو اس کا حریص ہو۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابو اسامة، عن بريد، عن ابي بردة، عن ابي موسى رضى الله عنه قال دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم انا ورجلان من قومي فقال احد الرجلين امرنا يا رسول الله. وقال الاخر مثله. فقال " انا لا نولي هذا من ساله، ولا من حرص عليه
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوالاشہب نے بیان کیا، ان سے حسن نے کہ عبیداللہ بن زیاد، معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے اس مرض میں آئے جس میں ان کا انتقال ہوا تو معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ کو کسی رعیت کا حاکم بناتا ہے اور وہ خیر خواہی کے ساتھ اس کی حفاظت نہیں کرتا تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا۔“
حدثنا ابو نعيم، حدثنا ابو الاشهب، عن الحسن، ان عبيد الله بن زياد، عاد معقل بن يسار في مرضه الذي مات فيه فقال له معقل اني محدثك حديثا سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " ما من عبد استرعاه الله رعية، فلم يحطها بنصيحة، الا لم يجد رايحة الجنة
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم کو حسین الجعفی نے خبر دی کہ زائدہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے اور ان سے حسن نے بیان کیا کہ ہم معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے ان کے پاس گئے پھر عبیداللہ بھی آئے تو معقل رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ میں تم سے ایک ایسی حدیث بیان کرتا ہوں جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص مسلمانوں کا حاکم بنایا گیا اور اس نے ان کے معاملہ میں خیانت کی اور اسی حالت میں مر گیا تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دیتا ہے۔
حدثنا اسحاق بن منصور، اخبرنا حسين الجعفي، قال زايدة ذكره عن هشام، عن الحسن، قال اتينا معقل بن يسار نعوده فدخل عبيد الله فقال له معقل احدثك حديثا سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ما من وال يلي رعية من المسلمين، فيموت وهو غاش لهم، الا حرم الله عليه الجنة
ہم سے اسحاق واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے، ان سے جریری نے، ان سے ظریف ابوتمیمہ نے بیان کیا کہ میں صفوان اور جندب اور ان کے ساتھیوں کے پاس موجود تھا۔ صفوان اپنے ساتھیوں ( شاگردوں ) کو وصیت کر رہے تھے، پھر ( صفوان اور ان کے ساتھیوں نے جندب رضی اللہ عنہ سے ) پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہے؟ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا ہے کہ جو لوگوں کو ریاکاری کے طور پر دکھانے کے لیے کام کرے گا اللہ قیامت کے دن اس کی ریاکاری کا حال لوگوں کو سنا دے گا اور فرمایا کہ جو لوگوں کو تکلیف میں مبتلا کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے تکلیف میں مبتلا کرے گا، پھر ان لوگوں نے کہا کہ ہمیں کوئی وصیت کیجئے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے انسان کے جسم میں اس کا پیٹ سڑتا ہے پس جو کوئی طاقت رکھتا ہو کہ پاک و طیب کے سوا اور کچھ نہ کھائے تو اسے ایسا ہی کرنا چاہئے اور جو کوئی طاقت رکھتا ہو وہ چلو بھر لہو بہا کر ( یعنی ناحق خون کر کے ) اپنے آپ کو بہشت میں جانے سے روکے۔ جریری کہتے ہیں کہ میں نے ابوعبداللہ سے پوچھا، کون صاحب اس حدیث میں یہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا؟ کیا جندب کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہاں وہی کہتے ہیں۔
حدثنا اسحاق الواسطي، حدثنا خالد، عن الجريري، عن طريف ابي تميمة، قال شهدت صفوان وجندبا واصحابه وهو يوصيهم فقالوا هل سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم شييا قال سمعته يقول " من سمع سمع الله به يوم القيامة قال ومن يشاقق يشقق الله عليه يوم القيامة ". فقالوا اوصنا. فقال" ان اول ما ينتن من الانسان بطنه، فمن استطاع ان لا ياكل الا طيبا فليفعل، ومن استطاع ان لا يحال بينه وبين الجنة بملء كفه من دم اهراقه فليفعل ". قلت لابي عبد الله من يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم جندب قال نعم جندب
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے سالم بن ابی الجعد نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے نکل رہے تھے کہ ایک شخص مسجد کی چوکھٹ پر آ کر ہم سے ملا اور دریافت کیا: یا رسول اللہ! قیامت کب ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم نے قیامت کے لیے کیا تیاری کی ہے؟“ اس پر وہ شخص خاموش سا ہو گیا، پھر اس نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے بہت زیادہ روزے، نماز اور صدقہ قیامت کے لیے نہیں تیار کئے ہیں لیکن میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم اس کے ساتھ ہو گے جس سے تم محبت رکھتے ہو۔“
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن سالم بن ابي الجعد، حدثنا انس بن مالك رضى الله عنه قال بينما انا والنبي، صلى الله عليه وسلم خارجان من المسجد فلقينا رجل عند سدة المسجد فقال يا رسول الله متى الساعة قال النبي صلى الله عليه وسلم " ما اعددت لها " فكان الرجل استكان ثم قال يا رسول الله ما اعددت لها كبير صيام ولا صلاة ولا صدقة، ولكني احب الله ورسوله. قال " انت مع من احببت
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالصمد نے خبر دی، کہا ہم سے شعبہ نے، کہا ہم سے ثابت البنانی نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ وہ اپنے گھر کی ایک عورت سے کہہ رہے تھے فلانی کو پہچانتی ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے اور وہ ایک قبر کے پاس رو رہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سے ڈر اور صبر کر۔ اس عورت نے جواب دیا۔ آپ میرے پاس سے چلے جاؤ، میری مصیبت آپ پر نہیں پڑی ہے۔ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے ہٹ گئے اور چلے گئے۔ پھر ایک صاحب ادھر سے گزرے اور ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا کہا تھا؟ اس عورت نے کہا کہ میں نے انہیں پہچانا نہیں۔ ان صاحب نے کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ پھر وہ عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ انہوں نے آپ کے یہاں کوئی دربان نہیں پایا پھر عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے آپ کو پہچانا نہیں ( تھا ) ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صبر تو صدمہ کے شروع میں ہی ہوتا ہے۔
حدثنا اسحاق، اخبرنا عبد الصمد، حدثنا شعبة، حدثنا ثابت البناني، عن انس بن مالك، يقول لامراة من اهله تعرفين فلانة قالت نعم. قال فان النبي صلى الله عليه وسلم مر بها وهى تبكي عند قبر فقال " اتقي الله واصبري ". فقالت اليك عني، فانك خلو من مصيبتي. قال فجاوزها ومضى فمر بها رجل فقال ما قال لك رسول الله صلى الله عليه وسلم. قالت ما عرفته قال انه لرسول الله صلى الله عليه وسلم قال فجاءت الى بابه فلم تجد عليه بوابا فقالت يا رسول الله والله ما عرفتك. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ان الصبر عند اول صدمة
ہم سے محمد بن خالد ذہلی نے بیان کیا، کہا ہم سے انصاری محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے ثمامہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس طرح رہتے تھے جیسے امیر کے ساتھ کوتوال رہتا ہے۔
حدثنا محمد بن خالد الذهلي، حدثنا الانصاري، محمد حدثنا ابي، عن ثمامة، عن انس، ان قيس بن سعد، كان يكون بين يدى النبي صلى الله عليه وسلم بمنزلة صاحب الشرط من الامير
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے قرہ نے، ان سے حمید بن ہلال نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھیجا تھا اور ان کے ساتھ معاذ رضی اللہ عنہ کو بھی بھیجا تھا۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن قرة، حدثني حميد بن هلال، حدثنا ابو بردة، عن ابي موسى، ان النبي صلى الله عليه وسلم بعثه واتبعه بمعاذ