Loading...

Loading...
کتب
۸۹ احادیث
ہم سے عبداللہ بن عثمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں حمزہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب اللہ کسی قوم پر عذاب نازل کرتا ہے تو عذاب ان سب لوگوں پر آتا ہے جو اس قوم میں ہوتے ہیں پھر انہیں ان کے اعمال کے مطابق اٹھایا جائے گا۔“
حدثنا عبد الله بن عثمان، اخبرنا عبد الله، اخبرنا يونس، عن الزهري، اخبرني حمزة بن عبد الله بن عمر، انه سمع ابن عمر رضى الله عنهما يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا انزل الله بقوم عذابا، اصاب العذاب من كان فيهم، ثم بعثوا على اعمالهم
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل ابوموسیٰ نے بیان کیا اور میری ان سے ملاقات کوفہ میں ہوئی تھی۔ وہ ابن شبرمہ کے پاس آئے اور کہا کہ مجھے عیسیٰ ( منصور کے بھائی اور کوفہ کے والی ) کے پاس لے چلو تاکہ میں اسے نصیحت کروں۔ غالباً ابن شبرمہ نے خوف محسوس کیا اور نہیں لے گئے۔ انہوں نے اس پر بیان کیا کہ ہم سے حسن بصری نے بیان کیا کہ جب حسن بن علی امیر معاویہ رضی اللہ عنہم کے خلاف لشکر لے کر نکلے تو عمرو بن العاص نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں ایسا لشکر دیکھتا ہوں جو اس وقت تک واپس نہیں جا سکتا جب تک اپنے مقابل کو بھگا نہ لے۔ پھر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مسلمانوں کے اہل و عیال کا کون کفیل ہو گا؟ جواب دیا کہ میں، پھر عبداللہ بن عامر اور عبدالرحمٰن بن سمرہ نے کہا کہ ہم امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ سے ملتے ہیں ( اور ان سے صلح کے لیے کہتے ہیں ) حسن بصری نے کہا کہ میں نے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ حسن رضی اللہ عنہ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا یہ بیٹا سید ہے اور امید ہے کہ اس کے ذریعہ اللہ مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرا دے گا۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، حدثنا اسراييل ابو موسى، ولقيته، بالكوفة جاء الى ابن شبرمة فقال ادخلني على عيسى فاعظه. فكان ابن شبرمة خاف عليه فلم يفعل. قال حدثنا الحسن قال لما سار الحسن بن علي رضى الله عنهما الى معاوية بالكتايب. قال عمرو بن العاص لمعاوية ارى كتيبة لا تولي حتى تدبر اخراها. قال معاوية من لذراري المسلمين. فقال انا. فقال عبد الله بن عامر وعبد الرحمن بن سمرة نلقاه فنقول له الصلح. قال الحسن ولقد سمعت ابا بكرة قال بينا النبي صلى الله عليه وسلم يخطب جاء الحسن فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ابني هذا سيد ولعل الله ان يصلح به بين فيتين من المسلمين
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، کہا کہ عمرو نے بیان کیا، انہیں محمد بن علی نے خبر دی، انہیں اسامہ رضی اللہ عنہ کے غلام حرملہ نے خبر دی، عمرو نے بیان کیا کہ میں نے حرملہ کو دیکھا تھا۔ حرملہ نے بیان کیا کہ مجھے اسامہ نے علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور مجھ سے کہا، اس وقت تم سے علی رضی اللہ عنہ پوچھیں گے کہ تمہارے ساتھی ( اسامہ رضی اللہ عنہ ) جنگ جمل و صفین سے کیوں پیچھے رہ گئے تھے تو ان سے کہنا کہ انہوں نے آپ سے کہا ہے کہ اگر آپ شیر کے منہ میں ہوں تب بھی میں اس میں بھی آپ کے ساتھ رہوں لیکن یہ معاملہ ہی ایسا ہے یعنی مسلمانوں کی آپس کی جنگ تو ( اس میں شرکت صحیح ) نہیں معلوم ہوئی ( حرملہ کہتے ہیں کہ ) چنانچہ انہوں نے کوئی چیز نہیں دی۔ پھر میں حسن، حسین اور عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم کے پاس گیا تو انہوں نے میری سواری پر اتنا مال لدوا دیا جتنا کہ اونٹ اٹھا نہ سکتا تھا۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال قال عمرو اخبرني محمد بن علي، ان حرملة، مولى اسامة اخبره قال عمرو وقد رايت حرملة قال ارسلني اسامة الى علي وقال انه سيسالك الان فيقول ما خلف صاحبك فقل له يقول لك لو كنت في شدق الاسد لاحببت ان اكون معك فيه، ولكن هذا امر لم اره، فلم يعطني شييا، فذهبت الى حسن وحسين وابن جعفر فاوقروا لي راحلتي
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے کہ جب اہل مدینہ نے یزید بن معاویہ کی بیعت سے انکار کیا تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے خادموں اور لڑکوں کو جمع کیا اور کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر غدر کرنے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا کھڑا کیا جائے گا اور ہم نے اس شخص ( یزید ) کی بیعت، اللہ اور اس کے رسول کے نام پر کی ہے اور میرے علم میں کوئی غدر اس سے بڑھ کر نہیں ہے کہ کسی شخص سے اللہ اور اس کے رسول کے نام پر بیعت کی جائے اور پھر اس سے جنگ کی جائے اور دیکھو مدینہ والو! تم میں سے جو کوئی یزید کی بیعت کو توڑے اور دوسرے کسی سے بیعت کرے تو مجھ میں اور اس میں کوئی تعلق نہیں رہا، میں اس سے الگ ہوں۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن نافع، قال لما خلع اهل المدينة يزيد بن معاوية جمع ابن عمر حشمه وولده فقال اني سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " ينصب لكل غادر لواء يوم القيامة ". وانا قد بايعنا هذا الرجل على بيع الله ورسوله، واني لا اعلم غدرا اعظم من ان يبايع رجل على بيع الله ورسوله، ثم ينصب له القتال، واني لا اعلم احدا منكم خلعه، ولا بايع في هذا الامر، الا كانت الفيصل بيني وبينه
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شہاب نے بیان کیا، ان سے عوف نے بیان کیا، ان سے ابومنہال نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن زیاد اور مروان شام میں تھے اور ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے مکہ میں اور خوارج نے بصرہ میں قبضہ کر لیا تھا تو میں اپنے والد کے ساتھ ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔ جب ہم ان کے گھر میں ایک کمرہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے جو بانس کا بنا ہوا تھا، ہم ان کے پاس بیٹھ گئے اور میرے والد ان سے بات کرنے لگے اور کہا: اے ابوبرزہ! آپ نہیں دیکھتے لوگ کن باتوں میں آفت اور اختلاف میں الجھ گئے ہیں۔ میں نے ان کی زبان سے سب سے پہلی بات یہ سنی کہ میں جو ان قریش کے لوگوں سے ناراض ہوں تو محض اللہ کی رضا مندی کے لیے، اللہ میرا اجر دینے والا ہے۔ عرب کے لوگو! تم جانتے ہو پہلے تمہارا کیا حال تھا تم گمراہی میں گرفتار تھے، اللہ نے اسلام کے ذریعہ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ تم کو اس بری حالت سے نجات دی۔ یہاں تک کہ تم اس رتبہ کو پہنچے۔ ( دنیا کے حاکم اور سردار بن گئے ) پھر اسی دنیا نے تم کو خراب کر دیا۔ دیکھو! یہ شخص جو شام میں حاکم بن بیٹھا ہے یعنی مروان دنیا کے لیے لڑ رہا ہے۔ یہ لوگ جو تمہارے سامنے ہیں۔ ( خوارج ) واللہ! یہ لوگ صرف دنیا کے لیے لڑ رہے ہیں اور وہ جو مکہ میں ہے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما، واللہ! وہ بھی صرف دنیا کے لیے لڑ رہا ہے۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا ابو شهاب، عن عوف، عن ابي المنهال، قال لما كان ابن زياد ومروان بالشام، ووثب ابن الزبير بمكة، ووثب القراء بالبصرة، فانطلقت مع ابي الى ابي برزة الاسلمي حتى دخلنا عليه في داره وهو جالس في ظل علية له من قصب، فجلسنا اليه فانشا ابي يستطعمه الحديث فقال يا ابا برزة الا ترى ما وقع فيه الناس فاول شىء سمعته تكلم به اني احتسبت عند الله اني اصبحت ساخطا على احياء قريش، انكم يا معشر العرب كنتم على الحال الذي علمتم من الذلة والقلة والضلالة، وان الله انقذكم بالاسلام وبمحمد صلى الله عليه وسلم حتى بلغ بكم ما ترون، وهذه الدنيا التي افسدت بينكم، ان ذاك الذي بالشام والله ان يقاتل الا على الدنيا
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے واصل احدب نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے حذیفہ بن الیمان نے بیان کیا کہ آج کل کے منافق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے منافقین سے بدتر ہیں۔ اس وقت چھپاتے تھے اور آج اس کا کھلم کھلا اظہار کر رہے ہیں۔
حدثنا ادم بن ابي اياس، حدثنا شعبة، عن واصل الاحدب، عن ابي وايل، عن حذيفة بن اليمان، قال ان المنافقين اليوم شر منهم على عهد النبي صلى الله عليه وسلم كانوا يوميذ يسرون واليوم يجهرون
ہم سے خلاد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے مسعر نے بیان کیا، ان سے حبیب بن ابی ثابت نے بیان کیا، ان سے ابوالشعثاء نے بیان کیا اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نفاق تھا آج تو ایمان کے بعد کفر اختیار کرنا ہے۔
حدثنا خلاد، حدثنا مسعر، عن حبيب بن ابي ثابت، عن ابي الشعثاء، عن حذيفة، قال انما كان النفاق على عهد النبي صلى الله عليه وسلم فاما اليوم فانما هو الكفر بعد الايمان
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ ایک شخص دوسرے کی قبر کے پاس سے گزرے گا اور کہے گا، کاش! میں اسی کی جگہ ہوتا۔“
حدثنا اسماعيل، حدثني مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تقوم الساعة حتى يمر الرجل بقبر الرجل فيقول يا ليتني مكانه
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ قبیلہ دوس کی عورتوں کا ذوالخلصہ کا ( طواف کرتے ہوئے ) چوتڑ سے چوتڑ چھلے اور ذوالخلصہ قبیلہ دوس کا بت تھا جس کو وہ زمانہ جاہلیت میں پوجا کرتے تھے۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال قال سعيد بن المسيب اخبرني ابو هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تقوم الساعة حتى تضطرب اليات نساء دوس على ذي الخلصة ". وذو الخلصة طاغية دوس التي كانوا يعبدون في الجاهلية
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا، ان سے ابوالغیث نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ قحطان کا ایک شخص ( بادشاہ بن کر ) نکلے گا اور لوگوں کو اپنے ڈنڈے سے ہانکے گا۔“
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثني سليمان، عن ثور، عن ابي الغيث، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تقوم الساعة حتى يخرج رجل من قحطان يسوق الناس بعصاه
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا شعیب نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں زہری نے خبر دی کہ سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ مجھے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ سر زمین حجاز سے ایک آگ نکلے گی اور بصریٰ میں اونٹوں کی گردنوں کو روشن کر دے گی۔“
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال سعيد بن المسيب اخبرني ابو هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تقوم الساعة حتى تخرج نار من ارض الحجاز، تضيء اعناق الابل ببصرى
ہم سے عبداللہ بن سعید الکندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عقبہ بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ان کے دادا حفص بن عاصم نے بیان کیا ‘ ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عنقریب دریائے فرات سے سونے کا ایک خزانہ نکلے گا پس جو کوئی وہاں موجود ہو وہ اس میں سے کچھ نہ لے۔“
حدثنا عبد الله بن سعيد الكندي، حدثنا عقبة بن خالد، حدثنا عبيد الله، عن خبيب بن عبد الرحمن، عن جده، حفص بن عاصم عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يوشك الفرات ان يحسر عن كنز من ذهب، فمن حضره فلا ياخذ منه شييا ". قال عقبة وحدثنا عبيد الله، حدثنا ابو الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله الا انه قال " يحسر عن جبل من ذهب
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے معبد نے بیان کیا، انہوں نے حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”صدقہ کرو کیونکہ عنقریب لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جب ایک شخص اپنا صدقہ لے کر پھرے گا اور کوئی اسے لینے والا نہیں ملے گا۔“ مسدد نے بیان کیا کہ حارثہ عبیداللہ بن عمر کے ماں شریک بھائی تھے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن شعبة، حدثنا معبد، سمعت حارثة بن وهب، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " تصدقوا، فسياتي على الناس زمان يمشي الرجل بصدقته، فلا يجد من يقبلها ". قال مسدد حارثة اخو عبيد الله بن عمر لامه قاله ابو عبد الله
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دو عظیم جماعتیں جنگ نہ کریں گی۔ ان دونوں جماعتوں کے درمیان بڑی خونریزی ہو گی۔ حالانکہ دونوں کا دعویٰ ایک ہی ہو گا اور یہاں تک کہ بہت سے جھوٹے دجال بھیجے جائیں گے۔ تقریباً تین دجال۔ ان میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے اور یہاں تک کہ علم اٹھا لیا جائے گا اور زلزلوں کی کثرت ہو گی اور زمانہ قریب ہو جائے گا اور فتنے ظاہر ہو جائیں گے اور ہرج بڑھ جائے گا اور ہرج سے مراد قتل ہے اور یہاں تک کہ تمہارے پاس مال کی کثرت ہو جائے گی بلکہ بہہ پڑے گا اور یہاں تک کہ صاحب مال کو اس کا فکر دامن گیر ہو گا کہ اس کا صدقہ قبول کون کرے اور یہاں تک کہ وہ پیش کرے گا لیکن جس کے سامنے پیش کرے گا وہ کہے گا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے اور یہاں تک کہ لوگ بڑی بڑی عمارتوں پر آپس میں فخر کریں گے۔ ایک سے ایک بڑھ چڑھ کر عمارات بنائیں گے اور یہاں تک کہ ایک شخص دوسرے کی قبر سے گزرے گا اور کہے گا کہ کاش میں بھی اسی جگہ ہوتا اور یہاں تک کہ سورج مغرب سے نکلے گا۔ پس جب وہ اس طرح طلوع ہو گا اور لوگ دیکھ لیں گے تو سب ایمان لے آئیں گے لیکن یہ وہ وقت ہو گا جب کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان لانا فائدہ نہ پہنچائے گا جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہو یا اس نے اپنے ایمان کے ساتھ اچھے کام نہ کئے ہوں اور قیامت اچانک اس طرح قائم ہو جائے گی کہ دو آدمیوں نے اپنے درمیان کپڑا پھیلا رکھا ہو گا اور اسے ابھی بیچ نہ پائے ہوں گے نہ لپیٹ پائے ہوں گے اور قیامت اس طرح برپا ہو جائے گی کہ ایک شخص اپنی اونٹنی کا دودھ نکال کر واپس ہوا ہو گا کہ اسے کھا بھی نہ پایا ہو گا اور قیامت اس طرح قائم ہو جائے گی کہ وہ اپنے حوض کو درست کر رہا ہو گا اور اس میں سے پانی بھی نہ پیا ہو گا اور قیامت اس طرح قائم ہو جائے گی کہ اس نے اپنا لقمہ منہ کی طرف اٹھایا ہو گا اور ابھی اسے کھایا بھی نہ ہو گا۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، حدثنا ابو الزناد، عن عبد الرحمن، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تقوم الساعة حتى تقتتل فيتان عظيمتان، يكون بينهما مقتلة عظيمة، دعوتهما واحدة، وحتى يبعث دجالون كذابون، قريب من ثلاثين، كلهم يزعم انه رسول الله، وحتى يقبض العلم، وتكثر الزلازل، ويتقارب الزمان، وتظهر الفتن، ويكثر الهرج وهو القتل، وحتى يكثر فيكم المال فيفيض، حتى يهم رب المال من يقبل صدقته، وحتى يعرضه فيقول الذي يعرضه عليه لا ارب لي به. وحتى يتطاول الناس في البنيان، وحتى يمر الرجل بقبر الرجل فيقول يا ليتني مكانه. وحتى تطلع الشمس من مغربها، فاذا طلعت وراها الناس يعني امنوا اجمعون، فذلك حين لا ينفع نفسا ايمانها لم تكن امنت من قبل، او كسبت في ايمانها خيرا، ولتقومن الساعة وقد نشر الرجلان ثوبهما بينهما، فلا يتبايعانه ولا يطويانه، ولتقومن الساعة وقد انصرف الرجل بلبن لقحته فلا يطعمه، ولتقومن الساعة وهو يليط حوضه فلا يسقي فيه، ولتقومن الساعة وقد رفع اكلته الى فيه فلا يطعمها
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا مجھ سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے قیس نے بیان کیا، کہ مجھ سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ دجال کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جتنا میں نے پوچھا اتنا کسی نے نہیں پوچھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اس سے تمہیں کیا نقصان پہنچے گا۔ میں نے عرض کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ روٹی کا پہاڑ اور پانی کی نہر ہو گی، فرمایا کہ وہ اللہ پر اس سے بھی زیادہ آسان ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، حدثنا اسماعيل، حدثني قيس، قال قال لي المغيرة بن شعبة ما سال احد النبي صلى الله عليه وسلم عن الدجال ما سالته وانه قال لي " ما يضرك منه ". قلت لانهم يقولون ان معه جبل خبز ونهر ماء. قال " هو اهون على الله من ذلك
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا کہا ہم سے وہیب نے کہا ہم سے ایوب سختیانی نے انہوں نے نافع سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا میں سمجھتا ہوں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دجال داہنی آنکھ سے کانا ہو گا اس کی آنکھ کیا ہے گویا پھولا ہوا انگور۔“
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، حدثنا ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، اراه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اعور عين اليمنى، كانها عنبة طافية
ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دجال آئے گا اور مدینہ کے ایک کنارے قیام کرے گا، پھر مدینہ تین مرتبہ کانپے گا اور اس کے نتیجے میں ہر کافر اور منافق نکل کر اس کی طرف چلا جائے گا۔“
حدثنا سعد بن حفص، حدثنا شيبان، عن يحيى، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس بن مالك، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " يجيء الدجال حتى ينزل في ناحية المدينة، ثم ترجف المدينة ثلاث رجفات، فيخرج اليه كل كافر ومنافق
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف کے دادا نے بیان کیا، انہوں نے ابوبکرہ سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مدینہ والوں پر دجال کا رعب نہیں پڑے گا اس دن مدینہ کے سات دروازے ہوں گے ہر دروازے پر دو فرشتے ( پہرہ دیتے ) ہوں گے۔“
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابيه، عن جده، عن ابي بكرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يدخل المدينة رعب المسيح الدجال، ولها يوميذ سبعة ابواب، على كل باب ملكان
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بشر نے بیان کیا، کہا ہم سے مسعر نے بیان کیا، ان سے سعد بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مدینہ پر مسیح دجال کا رعب نہیں پڑے گا۔ اس وقت اس کے سات دروازے ہوں گے اور ہر دروازے پر پہرہ دار دو فرشتے ہوں گے۔“ علی بن عبداللہ نے کہا کہ محمد بن اسحاق نے صالح بن ابراہیم سے روایت کیا، ان سے ان کے والد ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف نے بیان کیا کہ میں بصرہ گیا تو مجھ سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے یہی حدیث بیان کی۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا محمد بن بشر، حدثنا مسعر، حدثنا سعد بن ابراهيم، عن ابيه، عن ابي بكرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يدخل المدينة رعب المسيح، لها يوميذ سبعة ابواب، على كل باب ملكان ". قال وقال ابن اسحاق عن صالح بن ابراهيم، عن ابيه، قال قدمت البصرة فقال لي ابو بكرة سمعت النبي صلى الله عليه وسلم بهذا
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے صالح نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے اور اللہ کی تعریف اس کی شان کے مطابق بیان کی۔ پھر دجال کا ذکر فرمایا کہ میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں اور کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو اس سے نہ ڈرایا ہو، البتہ میں تمہیں اس کے بارے میں ایک بات بتاتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی تھی اور وہ یہ کہ وہ کانا ہو گا اور اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے۔
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا ابراهيم، عن صالح، عن ابن شهاب، عن سالم بن عبد الله، ان عبد الله بن عمر رضى الله عنهما قال قام رسول الله صلى الله عليه وسلم في الناس فاثنى على الله بما هو اهله ثم ذكر الدجال فقال " اني لانذركموه، وما من نبي الا وقد انذره قومه، ولكني ساقول لكم فيه قولا لم يقله نبي لقومه، انه اعور وان الله ليس باعور