Loading...

Loading...
کتب
۸۹ احادیث
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سالم نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں سویا ہوا ( خواب میں ) کعبہ کا طواف کر رہا تھا کہ ایک صاحب جو گندم گوں تھے اور ان کے سر کے بال سیدھے تھے اور سر سے پانی ٹپک رہا تھا ( ان پر میری نظر پڑی ) میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ میرے ساتھ کے لوگوں نے بتایا کہ یہ عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام ہیں پھر میں نے مڑ کر دیکھا تو موٹے شخص پر نظر پڑی جو سرخ تھا اس کے بال گھونگھریالے تھے، ایک آنکھ کا کانا تھا، اس کی ایک آنکھ انگور کی طرح اٹھی ہوئی تھی۔ لوگوں نے بتایا کہ یہ دجال ہے۔ اس کی صورت عبدالعزیٰ بن قطن سے بہت ملتی تھی۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن سالم، عن عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " بينا انا نايم اطوف بالكعبة، فاذا رجل ادم سبط الشعر ينطف او يهراق راسه ماء قلت من هذا قالوا ابن مريم. ثم ذهبت التفت، فاذا رجل جسيم احمر جعد الراس اعور العين، كان عينه عنبة طافية قالوا هذا الدجال. اقرب الناس به شبها ابن قطن ". رجل من خزاعة
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ اپنی نماز میں دجال کے فتنے سے پناہ مانگتے تھے۔
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن صالح، عن ابن شهاب، عن عروة، ان عايشة رضى الله عنها قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يستعيذ في صلاته من فتنة الدجال
ہم سے عبدان نے بیان کیا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں عبدالملک نے، انہیں ربعی نے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے بارے میں فرمایا کہ اس کے ساتھ پانی اور آگ ہو گی اور اس کی آگ ٹھنڈا پانی ہو گی اور پانی آگ ہو گا۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے بھی یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔
حدثنا عبدان، اخبرني ابي، عن شعبة، عن عبد الملك، عن ربعي، عن حذيفة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال في الدجال " ان معه ماء ونارا، فناره ماء بارد، وماوه نار ". قال ابو مسعود انا سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو نبی بھی مبعوث کیا گیا تو انہوں نے اپنی قوم کو کانے جھوٹے سے ڈرایا، آگاہ رہو کہ وہ کانا ہے اور تمہارا رب کانا نہیں ہے۔ اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ”کافر“ لکھا ہوا ہے۔“ اس باب میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی ہے۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن انس، رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ما بعث نبي الا انذر امته الاعور الكذاب، الا انه اعور، وان ربكم ليس باعور، وان بين عينيه مكتوب كافر ". فيه ابو هريرة وابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی، ان سے ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے دجال کے متعلق ایک طویل حدیث بیان کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں یہ بھی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دجال آئے گا اور اس کے لیے ناممکن ہو گا کہ مدینہ کی گھاٹیوں میں داخل ہو۔ چنانچہ وہ مدینہ منورہ کے قریب کسی شور والی زمین پر قیام کرے گا۔ پھر اس دن اس کے پاس ایک مرد مومن جائے گا اور وہ افضل ترین لوگوں میں سے ہو گا۔ اور اس سے کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں اس بات کی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیان فرمایا تھا۔ اس پر دجال کہے گا کیا تم دیکھتے ہو اگر میں اسے قتل کر دوں اور پھر زندہ کروں تو کیا تمہیں میرے معاملہ میں شک و شبہ باقی رہے گا؟ اس کے پاس والے لوگ کہیں گے کہ نہیں، چنانچہ وہ اس صاحب کو قتل کر دے گا اور پھر اسے زندہ کر دے گا۔ اب وہ صاحب کہیں گے کہ واللہ! آج سے زیادہ مجھے تیرے معاملے میں پہلے اتنی بصیرت حاصل نہ تھی۔ اس پر دجال پھر انہیں قتل کرنا چاہے گا لیکن اس مرتبہ اسے مار نہ سکے گا۔“
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، اخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود، ان ابا سعيد، قال حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما حديثا طويلا عن الدجال، فكان فيما يحدثنا به انه قال " ياتي الدجال وهو محرم عليه ان يدخل نقاب المدينة، فينزل بعض السباخ التي تلي المدينة، فيخرج اليه يوميذ رجل وهو خير الناس او من خيار الناس، فيقول اشهد انك الدجال الذي حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم حديثه، فيقول الدجال ارايتم ان قتلت هذا ثم احييته، هل تشكون في الامر فيقولون لا. فيقتله ثم يحييه فيقول والله ما كنت فيك اشد بصيرة مني اليوم. فيريد الدجال ان يقتله فلا يسلط عليه
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نعیم بن عبداللہ بن المجمر نے بیان کیا، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مدینہ منورہ کے راستوں پر فرشتے پہرہ دیتے ہیں نہ یہاں طاعون آ سکتی ہے اور نہ دجال آ سکتا ہے۔“
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن نعيم بن عبد الله المجمر، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " على انقاب المدينة ملايكة، لا يدخلها الطاعون ولا الدجال
مجھ سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں قتادہ نے، انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دجال مدینہ تک آئے گا تو یہاں فرشتوں کو اس کی حفاظت کرتے ہوئے پائے گا چنانچہ نہ دجال اس کے قریب آ سکتا ہے اور نہ طاعون، ان شاءاللہ۔“
حدثني يحيى بن موسى، حدثنا يزيد بن هارون، اخبرنا شعبة، عن قتادة، عن انس بن مالك، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " المدينة ياتيها الدجال، فيجد الملايكة يحرسونها، فلا يقربها الدجال قال ولا الطاعون، ان شاء الله
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، (دوسری سند) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے، ان سے سلیمان بن بلال نے، ان سے محمد بن ابی عتیق نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ بن زبیر نے، ان سے زینب بنت ابی سلمہ نے بیان کیا، ان سے ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہم نے اور ان سے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گھبرائے ہوئے داخل ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ تباہی ہے عربوں کے لیے اس برائی سے جو قریب آ چکی ہے۔ آج یاجوج ماجوج کی دیوار سے اتنا کھل گیا ہے اور آپ نے اپنے انگوٹھے اور اس کی قریب والی انگلی کو ملا کر ایک حلقہ بنایا۔ اتنا سن کر زینب بن جحش رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! تو کیا ہم اس کے باوجود ہلاک ہو جائیں گے کہ ہم میں نیک صالح لوگ بھی زندہ ہوں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں جب برائی بہت بڑھ جائے گی۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، ح وحدثنا اسماعيل، حدثني اخي، عن سليمان، عن محمد بن ابي عتيق، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، ان زينب ابنة ابي سلمة، حدثته عن ام حبيبة بنت ابي سفيان، عن زينب ابنة جحش، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل عليها يوما فزعا يقول " لا اله الا الله، ويل للعرب من شر قد اقترب، فتح اليوم من ردم ياجوج وماجوج مثل هذه ". وحلق باصبعيه الابهام والتي تليها. قالت زينب ابنة جحش فقلت يا رسول الله افنهلك وفينا الصالحون قال " نعم اذا كثر الخبث
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن طاؤس نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” «سد» یعنی یاجوج ماجوج کی دیوار اتنی کھل گئی ہے۔“ وہیب نے نوے کا اشارہ کر کے بتلایا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، حدثنا ابن طاوس، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يفتح الردم ردم ياجوج وماجوج مثل هذه ". وعقد وهيب تسعين