Loading...

Loading...
کتب
۸۹ احادیث
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو مالک نے خبر دی، انہیں عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن ابی صعصعہ نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”وہ وقت قریب ہے کہ مسلمان کا بہترین مال وہ بکریاں ہوں گی جنہیں وہ لے کر پہاڑی کی چوٹیوں اور بارش برسنے کی جگہوں پر چلا جائے گا۔ وہ فتنوں سے اپنے دین کی حفاظت کے لیے وہاں بھاگ کر آ جائے گا۔“
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن ابي صعصعة، عن ابيه، عن ابي سعيد الخدري رضى الله عنه انه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يوشك ان يكون خير مال المسلم غنم، يتبع بها شعف الجبال ومواقع القطر، يفر بدينه من الفتن
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے سوالات کئے آخر جب لوگ باربار سوال کرنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر ایک دن چڑھے اور فرمایا کہ آج تم مجھ سے جو سوال بھی کرو گے میں تمہیں اس کا جواب دوں گا۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں دائیں بائیں دیکھنے لگا تو ہر شخص کا سر اس کے کپڑے میں چھپا ہوا تھا اور وہ رو رہا تھا۔ آخر ایک شخص نے خاموشی توڑی۔ اس کا جب کسی سے جھگڑا ہوتا تو انہیں ان کے باپ کے سوا دوسرے باپ کی طرف پکارا جاتا۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میرے والد کون ہیں؟ فرمایا تمہارے والد حذافہ ہیں۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ سامنے آئے اور عرض کیا ہم اللہ سے کہ وہ رب ہے، اسلام سے کہ وہ دین ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ وہ رسول ہیں راضی ہیں اور آزمائش کی برائی سے ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خیر و شر آج جیسا دیکھا، کبھی نہیں دیکھا تھا۔ میرے سامنے جنت و دوزخ کی صورت پیش کی گئی اور میں نے انہیں دیوار کے قریب دیکھا۔ قتادہ نے بیان کیا کہ یہ بات اس آیت کے ساتھ ذکر کی جاتی ہے «يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم» کہ ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو اگر وہ ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں بری معلوم ہوں۔“
حدثنا معاذ بن فضالة، حدثنا هشام، عن قتادة، عن انس رضى الله عنه قال سالوا النبي صلى الله عليه وسلم حتى احفوه بالمسالة، فصعد النبي صلى الله عليه وسلم ذات يوم المنبر فقال " لا تسالوني عن شىء الا بينت لكم ". فجعلت انظر يمينا وشمالا، فاذا كل رجل راسه في ثوبه يبكي، فانشا رجل كان اذا لاحى يدعى الى غير ابيه فقال يا نبي الله من ابي فقال " ابوك حذافة ". ثم انشا عمر فقال رضينا بالله ربا، وبالاسلام دينا، وبمحمد رسولا، نعوذ بالله من سوء الفتن. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ما رايت في الخير والشر كاليوم قط، انه صورت لي الجنة والنار حتى رايتهما دون الحايط ". قال قتادة يذكر هذا الحديث عند هذه الاية {يا ايها الذين امنوا لا تسالوا عن اشياء ان تبد لكم تسوكم}
اور عباس النرسی نے بیان کیا، ان سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی اور انس رضی اللہ عنہ نے کہا ہر شخص کپڑے میں اپنا سر لپیٹے ہوئے رو رہا تھا اور فتنے سے اللہ کی پناہ مانگ رہا تھا یا یوں کہہ رہا تھا کہ میں اللہ سے فتنہ کی برائی سے پناہ مانگتا ہوں۔
وقال عباس النرسي حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا سعيد، حدثنا قتادة، ان انسا، حدثهم ان نبي الله صلى الله عليه وسلم بهذا وقال كل رجل لافا راسه في ثوبه يبكي. وقال عايذا بالله من سوء الفتن. او قال اعوذ بالله من سوء الفتن
اور مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا، ان سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے سعید و معتمر کے والد نے قتادہ سے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا پھر یہی حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی، اس میں بجائے «سوء» کے «شر» کا لفظ ہے۔
وقال لي خليفة حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا سعيد، ومعتمر، عن ابيه، عن قتادة، ان انسا، حدثهم عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا وقال عايذا بالله من شر الفتن
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ان سے معمر نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے سالم نے، ان سے ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر کے ایک طرف کھڑے ہوئے اور فرمایا ”فتنہ ادھر ہے، فتنہ ادھر ہے جدھر سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے یا سورج کا سینگ فرمایا۔“
حدثني عبد الله بن محمد، حدثنا هشام بن يوسف، عن معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قام الى جنب المنبر فقال " الفتنة ها هنا الفتنة ها هنا من حيث يطلع قرن الشيطان ". او قال " قرن الشمس
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مشرق کی طرف رخ کئے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے ”آگاہ ہو جاؤ، فتنہ اس طرف ہے جدھر سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔“
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا ليث، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو مستقبل المشرق يقول " الا ان الفتنة ها هنا من حيث يطلع قرن الشيطان
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ازہر بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن عون نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے اللہ! ہمارے ملک شام میں ہمیں برکت دے، ہمارے یمن میں ہمیں برکت دے۔“ صحابہ نے عرض کیا اور ہمارے نجد میں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا ”اے اللہ ہمارے شام میں برکت دے، ہمیں ہمارے یمن میں برکت دے۔“ صحابہ نے عرض کی اور ہمارے نجد میں؟ میرا گمان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا ”وہاں زلزلے اور فتنے ہیں اور وہاں شیطان کا سینگ طلوع ہو گا۔“
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا ازهر بن سعد، عن ابن عون، عن نافع، عن ابن عمر، قال ذكر النبي صلى الله عليه وسلم " اللهم بارك لنا في شامنا، اللهم بارك لنا في يمننا ". قالوا وفي نجدنا. قال " اللهم بارك لنا في شامنا، اللهم بارك لنا في يمننا ". قالوا يا رسول الله وفي نجدنا فاظنه قال في الثالثة " هناك الزلازل والفتن، وبها يطلع قرن الشيطان
ہم سے اسحاق بن شاہین واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خلف بن عبداللہ طحان نے بیان کیا، ان سے بیان ابن بصیر نے، ان سے وبرہ بن عبدالرحمٰن نے، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس آئے تو ہم نے امید کی کہ وہ ہم سے کوئی اچھی بات کریں گے۔ اتنے میں ایک صاحب حکیم نامی ہم سے پہلے ان کے پاس پہنچ گئے اور پوچھا: اے ابوعبدالرحمٰن! ہم سے زمانہ فتنہ میں قتال کے متعلق حدیث بیان کیجئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا تمہیں معلوم بھی ہے کہ فتنہ کیا ہے؟ تمہاری ماں تمہیں روئے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فتنہ رفع کرنے کے لیے مشرکین سے جنگ کرتے تھے، شرک میں پڑنا یہ فتنہ ہے۔ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑائی تم لوگوں کی طرح بادشاہت حاصل کرنے کے لیے ہوتی تھی؟
حدثنا اسحاق الواسطي، حدثنا خالد، عن بيان، عن وبرة بن عبد الرحمن، عن سعيد بن جبير، قال خرج علينا عبد الله بن عمر فرجونا ان يحدثنا، حديثا حسنا قال فبادرنا اليه رجل فقال يا ابا عبد الرحمن حدثنا عن القتال في الفتنة والله يقول {وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة} فقال هل تدري ما الفتنة ثكلتك امك، انما كان محمد صلى الله عليه وسلم يقاتل المشركين، وكان الدخول في دينهم فتنة، وليس كقتالكم على الملك
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے شقیق نے بیان کیا، انہوں نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ انہوں نے پوچھا: تم میں سے کسے فتنہ کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان یاد ہے؟ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ انسان کا فتنہ ( آزمائش ) اس کی بیوی، اس کے مال، اس کے بچے اور پڑوسی کے معاملات میں ہوتا ہے جس کا کفارہ نماز، صدقہ، امربالمعروف اور نہی عن المنکر کر دیتا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اس کے متعلق نہیں پوچھتا بلکہ اس فتنہ کے بارے میں پوچھتا ہوں جو دریا کی طرح ٹھاٹھیں مارے گا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ امیرالمؤمنین آپ پر اس کا کوئی خطرہ نہیں اس کے اور آپ کے درمیان ایک بند دروازہ رکاوٹ ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا وہ دروازہ توڑ دیا جائے گا یا کھولا جائے گا؟ بیان کیا توڑ دیا جائے گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ پھر تو وہ کبھی بند نہ ہو سکے گا۔ میں نے کہا جی ہاں۔ ہم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا عمر رضی اللہ عنہ اس دروازہ کے متعلق جانتے تھے؟ فرمایا کہ ہاں، جس طرح میں جانتا ہوں کہ کل سے پہلے رات آئے گی کیونکہ میں نے ایسی بات بیان کی تھی جو بےبنیاد نہیں تھی۔ ہمیں ان سے یہ پوچھتے ہوئے ڈر لگا کہ وہ دروازہ کون تھے۔ چنانچہ ہم نے مسروق سے کہا ( کہ وہ پوچھیں ) جب انہوں نے پوچھا کہ وہ دروازہ کون تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ وہ دروازہ عمر رضی اللہ عنہ تھے۔
حدثنا عمر بن حفص بن غياث، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، حدثنا شقيق، سمعت حذيفة، يقول بينا نحن جلوس عند عمر قال ايكم يحفظ قول النبي صلى الله عليه وسلم في الفتنة. قال " فتنة الرجل في اهله وماله وولده وجاره، تكفرها الصلاة والصدقة والامر بالمعروف والنهى عن المنكر ". قال ليس عن هذا اسالك، ولكن التي تموج كموج البحر. قال ليس عليك منها باس يا امير المومنين، ان بينك وبينها بابا مغلقا. قال عمر ايكسر الباب ام يفتح قال بل يكسر. قال عمر اذا لا يغلق ابدا. قلت اجل. قلنا لحذيفة اكان عمر يعلم الباب قال نعم كما اعلم ان دون غد ليلة، وذلك اني حدثته حديثا ليس بالاغاليط. فهبنا ان نساله من الباب فامرنا مسروقا فساله فقال من الباب قال عمر
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، انہیں شریک بن عبداللہ نے، انہیں سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے باغات میں کسی باغ کی طرف اپنی کسی ضرورت کے لیے گئے، میں بھی آپ کے پیچھے پیچھے گیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں داخل ہوئے تو میں اس کے دروازے پر بیٹھ گیا اور اپنے دل میں کہا کہ آج میں آپ کا دربان بنوں گا حالانکہ آپ نے مجھے اس کا حکم نہیں دیا تھا۔ آپ اندر چلے گئے اور اپنی حاجت پوری کی۔ پھر آپ کنوئیں کی منڈیر پر بیٹھ گئے اور اپنی دونوں پنڈلیوں کو کھول کر انہیں کنوئیں میں لٹکا لیا۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور اندر جانے کی اجازت چاہی۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ یہیں رہیں، میں آپ کے لیے اجازت لے کر آتا ہوں۔ چنانچہ وہ کھڑے رہے اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا نبی اللہ! ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ فرمایا کہ انہیں اجازت دے دو اور انہیں جنت کی بشارت سنا دو۔ چنانچہ وہ اندر آ گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب آ کر انہوں نے بھی اپنی پنڈلیوں کو کھول کر کنوئیں میں لٹکا لیا۔ اتنے میں عمر رضی اللہ عنہ آئے۔ میں نے کہا ٹھہرو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لوں ( اور میں نے اندر جا کر آپ سے عرض کیا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کو بھی اجازت دے اور بہشت کی خوشخبری بھی۔ خیر وہ بھی آئے اور اسی کنوئیں کی منڈیر پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب بیٹھے اور اپنی پنڈلیاں کھول کر کنوئیں میں لٹکا دیں۔ اور کنوئیں کی منڈیر بھر گئی اور وہاں جگہ نہ رہی۔ پھر عثمان رضی اللہ عنہ آئے اور میں نے ان سے بھی کہا کہ یہیں رہئیے یہاں تک کہ آپ کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگ لوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اجازت دو اور جنت کی بشارت دے دو اور اس کے ساتھ ایک آزمائش ہے جو انہیں پہنچے گی۔ پھر وہ بھی داخل ہوئے، ان کے ساتھ بیٹھنے کے لیے کوئی جگہ نہ تھی۔ چنانچہ وہ گھوم کر ان کے سامنے کنوئیں کے کنارے پر آ گئے پھر انہوں نے اپنی پنڈلیاں کھول کر کنوئیں میں پاؤں لٹکا لیے، پھر میرے دل میں بھائی ( غالباً ابوبردہ یا ابورہم ) کی تمنا پیدا ہوئی اور میں دعا کرنے لگا کہ وہ بھی آ جاتے، ابن المسیب نے بیان کیا کہ میں نے اس سے ان کی قبروں کی تعبیر لی کہ سب کی قبریں ایک جگہ ہوں گی لیکن عثمان رضی اللہ عنہ کی الگ بقیع غرقد میں ہے۔
حدثنا سعيد بن ابي مريم، اخبرنا محمد بن جعفر، عن شريك بن عبد الله، عن سعيد بن المسيب، عن ابي موسى الاشعري، قال خرج النبي صلى الله عليه وسلم الى حايط من حوايط المدينة لحاجته، وخرجت في اثره، فلما دخل الحايط جلست على بابه وقلت لاكونن اليوم بواب النبي صلى الله عليه وسلم ولم يامرني فذهب النبي صلى الله عليه وسلم وقضى حاجته، وجلس على قف البير، فكشف عن ساقيه ودلاهما في البير، فجاء ابو بكر يستاذن عليه ليدخل فقلت كما انت حتى استاذن لك، فوقف فجيت الى النبي صلى الله عليه وسلم فقلت يا نبي الله ابو بكر يستاذن عليك. قال " ايذن له، وبشره بالجنة ". فدخل فجاء عن يمين النبي صلى الله عليه وسلم فكشف عن ساقيه ودلاهما في البير، فجاء عمر فقلت كما انت حتى استاذن لك. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ايذن له، وبشره بالجنة ". فجاء عن يسار النبي صلى الله عليه وسلم فكشف عن ساقيه فدلاهما في البير، فامتلا القف فلم يكن فيه مجلس، ثم جاء عثمان فقلت كما انت حتى استاذن لك. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ايذن له، وبشره بالجنة، معها بلاء يصيبه ". فدخل فلم يجد معهم مجلسا، فتحول حتى جاء مقابلهم على شفة البير، فكشف عن ساقيه ثم دلاهما في البير. فجعلت اتمنى اخا لي وادعو الله ان ياتي. قال ابن المسيب فتاولت ذلك قبورهم اجتمعت ها هنا وانفرد عثمان
ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم کو جعفر نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں سلیمان نے کہ میں نے ابووائل سے سنا، انہوں نے کہا کہ اسامہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ آپ ( عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ) سے گفتگو کیوں نہیں کرتے ( کہ عام مسلمانوں کی شکایات کا خیال رکھیں ) انہوں نے کہا کہ میں نے ( خلوت میں ) ان سے گفتگو کی ہے لیکن ( فتنہ کے ) دروازہ کو کھولے بغیر کہ اس طرح میں سب سے پہلے اس دروازہ کو کھولنے والا ہوں گا میں ایسا آدمی نہیں ہوں کہ کسی شخص سے جب وہ دو آدمیوں پر امیر بنا دیا جائے یہ کہوں کہ تو سب سے بہتر ہے۔ جبکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن چکا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص کو ( قیامت کے دن ) لایا جائے گا اور اسے آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ پھر وہ اس میں اس طرح چکی پیسے گا جیسے گدھا پیستا ہے۔ پھر دوزخ کے لوگ اس کے چاروں طرف جمع ہو جائیں گے اور کہیں گے، اے فلاں! کیا تم نیکیوں کا حکم کرتے اور برائیوں سے روکا نہیں کرتے تھے؟ وہ شخص کہے گا کہ میں اچھی بات کے لیے کہتا تو ضرور تھا لیکن خود نہیں کرتا تھا اور بری بات سے روکتا بھی تھا لیکن خود کرتا تھا۔
حدثني بشر بن خالد، اخبرنا محمد بن جعفر، عن شعبة، عن سليمان، سمعت ابا وايل، قال قيل لاسامة الا تكلم هذا. قال قد كلمته ما دون ان افتح بابا، اكون اول من يفتحه، وما انا بالذي اقول لرجل بعد ان يكون اميرا على رجلين انت خير. بعد ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " يجاء برجل فيطرح في النار، فيطحن فيها كطحن الحمار برحاه، فيطيف به اهل النار فيقولون اى فلان الست كنت تامر بالمعروف، وتنهى عن المنكر فيقول اني كنت امر بالمعروف ولا افعله، وانهى عن المنكر وافعله
ہم سے عثمان بن ہیثم نے بیان کیا، کہا ہم سے عوف نے بیان کیا، کہا ان سے حسن نے اور ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جنگ جمل کے زمانہ میں مجھے ایک کلمہ نے فائدہ پہنچایا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ فارس کی سلطنت والوں نے بوران نامی کسریٰ کی بیٹی کو بادشاہ بنا لیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ قوم کبھی فلاح نہیں پائے گی جس کی حکومت ایک عورت کے ہاتھ میں ہو۔
حدثنا عثمان بن الهيثم، حدثنا عوف، عن الحسن، عن ابي بكرة، قال لقد نفعني الله بكلمة ايام الجمل لما بلغ النبي صلى الله عليه وسلم ان فارسا ملكوا ابنة كسرى قال " لن يفلح قوم ولوا امرهم امراة
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوحصین نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابومریم عبداللہ بن زیاد الاسدی نے بیان کیا کہ ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوحصین نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابومریم عبداللہ بن زیاد الاسدی نے بیان کیا کہ جب طلحہ، زبیر اور عائشہ رضی اللہ عنہم بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو علی رضی اللہ عنہ نے عمار بن یاسر اور حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو بھیجا۔ یہ دونوں بزرگ ہمارے پاس کوفہ آئے اور منبر پر چڑھے۔ حسن بن علی رضی اللہ عنہما منبر کے اوپر سب سے اونچی جگہ تھے اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما ان سے نیچے تھے۔ پھر ہم ان کے پاس جمع ہو گئے اور میں نے عمار رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا بصرہ گئی ہیں اور اللہ کی قسم وہ دنیا و آخرت میں تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک بیوی ہیں لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمہیں آزمایا ہے تاکہ جان لے کہ تم اس اللہ کی اطاعت کرتے ہو یا عائشہ رضی اللہ عنہا کی۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا ابو بكر بن عياش، حدثنا ابو حصين، حدثنا ابو مريم عبد الله بن زياد الاسدي، قال لما سار طلحة والزبير وعايشة الى البصرة بعث علي عمار بن ياسر وحسن بن علي، فقدما علينا الكوفة فصعدا المنبر، فكان الحسن بن علي فوق المنبر في اعلاه، وقام عمار اسفل من الحسن، فاجتمعنا اليه فسمعت عمارا يقول ان عايشة قد سارت الى البصرة، ووالله انها لزوجة نبيكم صلى الله عليه وسلم في الدنيا والاخرة، ولكن الله تبارك وتعالى ابتلاكم، ليعلم اياه تطيعون ام هي
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی غنیہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے بیان کیا اور ان سے ابووائل نے بیان کیا کہ کوفہ میں عمار رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے اور عائشہ رضی اللہ عنہا اور ان کی روانگی کا ذکر کیا اور کہا کہ بلاشبہ وہ دنیا و آخرت میں تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں لیکن تم ان کے بارے میں آزمائے گئے ہو۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا ابن ابي غنية، عن الحكم، عن ابي وايل، قام عمار على منبر الكوفة، فذكر عايشة وذكر مسيرها وقال انها زوجة نبيكم صلى الله عليه وسلم في الدنيا والاخرة، ولكنها مما ابتليتم
حدثنا بدل بن المحبر، حدثنا شعبة، اخبرني عمرو، سمعت ابا وايل، يقول دخل ابو موسى وابو مسعود على عمار حيث بعثه علي الى اهل الكوفة يستنفرهم فقالا ما رايناك اتيت امرا اكره عندنا من اسراعك في هذا الامر منذ اسلمت. فقال عمار ما رايت منكما منذ اسلمتما امرا اكره عندي من ابطايكما عن هذا الامر. وكساهما حلة حلة، ثم راحوا الى المسجد
حدثنا بدل بن المحبر، حدثنا شعبة، اخبرني عمرو، سمعت ابا وايل، يقول دخل ابو موسى وابو مسعود على عمار حيث بعثه علي الى اهل الكوفة يستنفرهم فقالا ما رايناك اتيت امرا اكره عندنا من اسراعك في هذا الامر منذ اسلمت. فقال عمار ما رايت منكما منذ اسلمتما امرا اكره عندي من ابطايكما عن هذا الامر. وكساهما حلة حلة، ثم راحوا الى المسجد
حدثنا بدل بن المحبر، حدثنا شعبة، اخبرني عمرو، سمعت ابا وايل، يقول دخل ابو موسى وابو مسعود على عمار حيث بعثه علي الى اهل الكوفة يستنفرهم فقالا ما رايناك اتيت امرا اكره عندنا من اسراعك في هذا الامر منذ اسلمت. فقال عمار ما رايت منكما منذ اسلمتما امرا اكره عندي من ابطايكما عن هذا الامر. وكساهما حلة حلة، ثم راحوا الى المسجد
حدثنا عبدان، عن ابي حمزة، عن الاعمش، عن شقيق بن سلمة، كنت جالسا مع ابي مسعود وابي موسى وعمار فقال ابو مسعود ما من اصحابك احد الا لو شيت لقلت فيه غيرك، وما رايت منك شييا منذ صحبت النبي صلى الله عليه وسلم اعيب عندي من استسراعك في هذا الامر. قال عمار يا ابا مسعود وما رايت منك ولا من صاحبك هذا شييا منذ صحبتما النبي صلى الله عليه وسلم اعيب عندي من ابطايكما في هذا الامر. فقال ابو مسعود وكان موسرا يا غلام هات حلتين. فاعطى احداهما ابا موسى والاخرى عمارا وقال روحا فيه الى الجمعة
حدثنا عبدان، عن ابي حمزة، عن الاعمش، عن شقيق بن سلمة، كنت جالسا مع ابي مسعود وابي موسى وعمار فقال ابو مسعود ما من اصحابك احد الا لو شيت لقلت فيه غيرك، وما رايت منك شييا منذ صحبت النبي صلى الله عليه وسلم اعيب عندي من استسراعك في هذا الامر. قال عمار يا ابا مسعود وما رايت منك ولا من صاحبك هذا شييا منذ صحبتما النبي صلى الله عليه وسلم اعيب عندي من ابطايكما في هذا الامر. فقال ابو مسعود وكان موسرا يا غلام هات حلتين. فاعطى احداهما ابا موسى والاخرى عمارا وقال روحا فيه الى الجمعة
حدثنا عبدان، عن ابي حمزة، عن الاعمش، عن شقيق بن سلمة، كنت جالسا مع ابي مسعود وابي موسى وعمار فقال ابو مسعود ما من اصحابك احد الا لو شيت لقلت فيه غيرك، وما رايت منك شييا منذ صحبت النبي صلى الله عليه وسلم اعيب عندي من استسراعك في هذا الامر. قال عمار يا ابا مسعود وما رايت منك ولا من صاحبك هذا شييا منذ صحبتما النبي صلى الله عليه وسلم اعيب عندي من ابطايكما في هذا الامر. فقال ابو مسعود وكان موسرا يا غلام هات حلتين. فاعطى احداهما ابا موسى والاخرى عمارا وقال روحا فيه الى الجمعة