Loading...

Loading...
کتب
۶۶ احادیث
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہمیں عبدالرزاق نے خبر دی، ان سے معمر نے، ان سے ہمام نے انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے خواب دیکھا کہ میں حوض پر ہوں اور لوگوں کو سیراب کر رہا ہوں پھر میرے پاس ابوبکر آئے اور مجھے آرام دینے کے لیے ڈول میرے ہاتھ سے لے لیا پھر انہوں نے دو ڈول کھینچے ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی، اللہ ان کی مغفرت کرے۔ پھر عمر بن خطاب آئے اور ان سے ڈول لے لیا اور برابر کھینچے رہے یہاں تک کہ لوگ سیراب ہو کر چل دئیے اور حوض سے پانی لبالب ابل رہا تھا۔“
حدثنا اسحاق بن ابراهيم، حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن همام، انه سمع ابا هريرة رضى الله عنه يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بينا انا نايم رايت اني على حوض اسقي الناس، فاتاني ابو بكر فاخذ الدلو من يدي ليريحني، فنزع ذنوبين وفي نزعه ضعف والله يغفر له، فاتى ابن الخطاب فاخذ منه، فلم يزل ينزع، حتى تولى الناس والحوض يتفجر
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو جنت میں دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ جنت کے محل کے ایک کنارے ایک عورت وضو کر رہی ہے۔ میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ بتایا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا۔ پھر میں نے ان کی غیرت یاد کی اور وہاں سے لوٹ گیا۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس پر رو پڑے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا میں آپ پر غیرت کروں گا؟
حدثنا سعيد بن عفير، حدثني الليث، حدثني عقيل، عن ابن شهاب، قال اخبرني سعيد بن المسيب، ان ابا هريرة، قال بينا نحن جلوس عند رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " بينا انا نايم رايتني في الجنة، فاذا امراة تتوضا الى جانب قصر، قلت لمن هذا القصر قالوا لعمر بن الخطاب. فذكرت غيرته فوليت مدبرا ". قال ابو هريرة فبكى عمر بن الخطاب ثم قال اعليك بابي انت وامي يا رسول الله اغار
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عمر نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں جنت میں داخل ہوا تو وہاں ایک سونے کا محل مجھے نظر آیا۔ میں نے پوچھا یہ کس کا ہے؟ کہا کہ قریش کے ایک شخص کا۔ اے ابن الخطاب! مجھے اس کے اندر جانے سے تمہاری غیرت نے روک دیا ہے جسے میں خوب جانتا ہوں۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں آپ پر غیرت کروں گا۔
حدثنا عمرو بن علي، حدثنا معتمر بن سليمان، حدثنا عبيد الله بن عمر، عن محمد بن المنكدر، عن جابر بن عبد الله، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " دخلت الجنة فاذا انا بقصر من ذهب، فقلت لمن هذا فقالوا لرجل من قريش. فما منعني ان ادخله يا ابن الخطاب الا ما اعلم من غيرتك ". قال وعليك اغار يا رسول الله
مجھ سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں سعید بن مسیب نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو جنت میں دیکھا وہاں ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کر رہی تھی۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے؟ کہا عمر رضی اللہ عنہ کا۔ پھر میں نے ان کی غیرت یاد کی اور وہاں سے لوٹ کر چلا آیا۔“ اس پر عمر رضی اللہ عنہ رو دئیے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، کیا آپ پر غیرت کروں گا۔
حدثني يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، اخبرني سعيد بن المسيب، ان ابا هريرة، قال بينما نحن جلوس عند رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " بينا انا نايم رايتني في الجنة، فاذا امراة تتوضا الى جانب قصر، فقلت لمن هذا القصر فقالوا لعمر. فذكرت غيرته فوليت مدبرا ". فبكى عمر وقال عليك بابي انت وامي يا رسول الله اغار
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے خبر دی، انہیں سالم بن عبداللہ ابن عمر نے خبر دی، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو کعبہ کا طواف کرتے دیکھا۔ اچانک ایک صاحب نظر آئے، گندم گوں بال لٹکے ہوئے تھے اور دو آدمیوں کے درمیان ( سہارا لیے ہوئے تھے ) ان کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا کہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام، پھر میں مڑا تو ایک دوسرا شخص سرخ، بھاری جسم والا، گھنگریالے بال والا اور ایک آنکھ سے کانا جیسے اس کی آنکھ پر خشک انگور ہو نظر آیا۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ کہا کہ یہ دجال ہے۔ اس کی صورت عبدالعزیٰ بن قطن سے بہت ملتی تھی۔“ یہ عبدالعزیٰ بن قطن مطلق میں تھا جو قبیلہ خزاعہ کی ایک شاخ ہے۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، اخبرني سالم بن عبد الله بن عمر، ان عبد الله بن عمر رضى الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بينا انا نايم رايتني اطوف بالكعبة فاذا رجل ادم سبط الشعر بين رجلين ينطف راسه ماء، فقلت من هذا قالوا ابن مريم. فذهبت التفت فاذا رجل احمر جسيم جعد الراس اعور العين اليمنى، كان عينه عنبة طافية، قلت من هذا قالوا هذا الدجال. اقرب الناس به شبها ابن قطن ". وابن قطن رجل من بني المصطلق من خزاعة
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں حمزہ بن عبداللہ بن عمر نے خبر دی کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ میں سویا ہوا تھا کہ دودھ کا ایک پیالہ میرے پاس لایا گیا اور اس میں سے اتنا پیا کہ سیرابی کو میں نے ہر رگ و پے میں پایا۔ پھر میں نے اپنا بچا ہوا دودھ عمر کو دے دیا۔ لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ نے اس کی تعبیر کیا کی؟ فرمایا کہ علم اس کی تعبیر ہے۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، اخبرني حمزة بن عبد الله بن عمر، ان عبد الله بن عمر، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " بينا انا نايم اتيت بقدح لبن فشربت منه، حتى اني لارى الري يجري، ثم اعطيت فضله عمر ". قالوا فما اولته يا رسول الله قال " العلم
حدثني عبيد الله بن سعيد، حدثنا عفان بن مسلم، حدثنا صخر بن جويرية، حدثنا نافع، ان ابن عمر، قال ان رجالا من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم كانوا يرون الرويا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فيقصونها على رسول الله صلى الله عليه وسلم فيقول فيها رسول الله صلى الله عليه وسلم ما شاء الله، وانا غلام حديث السن وبيتي المسجد قبل ان انكح، فقلت في نفسي لو كان فيك خير لرايت مثل ما يرى هولاء. فلما اضطجعت ليلة قلت اللهم ان كنت تعلم في خيرا فارني رويا. فبينما انا كذلك اذ جاءني ملكان في يد كل واحد منهما مقمعة من حديد، يقبلا بي الى جهنم، وانا بينهما ادعو الله اللهم اعوذ بك من جهنم. ثم اراني لقيني ملك في يده مقمعة من حديد فقال لن تراع، نعم الرجل انت لو تكثر الصلاة. فانطلقوا بي حتى وقفوا بي على شفير جهنم فاذا هي مطوية كطى البير، له قرون كقرن البير، بين كل قرنين ملك بيده مقمعة من حديد، وارى فيها رجالا معلقين بالسلاسل، رءوسهم اسفلهم، عرفت فيها رجالا من قريش، فانصرفوا بي عن ذات اليمين. فقصصتها على حفصة فقصتها حفصة على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان عبد الله رجل صالح ". فقال نافع لم يزل بعد ذلك يكثر الصلاة
حدثني عبيد الله بن سعيد، حدثنا عفان بن مسلم، حدثنا صخر بن جويرية، حدثنا نافع، ان ابن عمر، قال ان رجالا من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم كانوا يرون الرويا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فيقصونها على رسول الله صلى الله عليه وسلم فيقول فيها رسول الله صلى الله عليه وسلم ما شاء الله، وانا غلام حديث السن وبيتي المسجد قبل ان انكح، فقلت في نفسي لو كان فيك خير لرايت مثل ما يرى هولاء. فلما اضطجعت ليلة قلت اللهم ان كنت تعلم في خيرا فارني رويا. فبينما انا كذلك اذ جاءني ملكان في يد كل واحد منهما مقمعة من حديد، يقبلا بي الى جهنم، وانا بينهما ادعو الله اللهم اعوذ بك من جهنم. ثم اراني لقيني ملك في يده مقمعة من حديد فقال لن تراع، نعم الرجل انت لو تكثر الصلاة. فانطلقوا بي حتى وقفوا بي على شفير جهنم فاذا هي مطوية كطى البير، له قرون كقرن البير، بين كل قرنين ملك بيده مقمعة من حديد، وارى فيها رجالا معلقين بالسلاسل، رءوسهم اسفلهم، عرفت فيها رجالا من قريش، فانصرفوا بي عن ذات اليمين. فقصصتها على حفصة فقصتها حفصة على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان عبد الله رجل صالح ". فقال نافع لم يزل بعد ذلك يكثر الصلاة
حدثني عبد الله بن محمد، حدثنا هشام بن يوسف، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، قال كنت غلاما شابا عزبا في عهد النبي صلى الله عليه وسلم وكنت ابيت في المسجد، وكان من راى مناما قصه على النبي صلى الله عليه وسلم فقلت اللهم ان كان لي عندك خير فارني مناما يعبره لي رسول الله صلى الله عليه وسلم، فنمت فرايت ملكين اتياني فانطلقا بي، فلقيهما ملك اخر فقال لي لن تراع، انك رجل صالح، فانطلقا بي الى النار، فاذا هي مطوية كطى البير، واذا فيها ناس قد عرفت بعضهم، فاخذا بي ذات اليمين، فلما اصبحت ذكرت ذلك لحفصة. فزعمت حفصة انها قصتها على النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ان عبد الله رجل صالح لو كان يكثر الصلاة من الليل ". قال الزهري وكان عبد الله بعد ذلك يكثر الصلاة من الليل
حدثني عبد الله بن محمد، حدثنا هشام بن يوسف، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، قال كنت غلاما شابا عزبا في عهد النبي صلى الله عليه وسلم وكنت ابيت في المسجد، وكان من راى مناما قصه على النبي صلى الله عليه وسلم فقلت اللهم ان كان لي عندك خير فارني مناما يعبره لي رسول الله صلى الله عليه وسلم، فنمت فرايت ملكين اتياني فانطلقا بي، فلقيهما ملك اخر فقال لي لن تراع، انك رجل صالح، فانطلقا بي الى النار، فاذا هي مطوية كطى البير، واذا فيها ناس قد عرفت بعضهم، فاخذا بي ذات اليمين، فلما اصبحت ذكرت ذلك لحفصة. فزعمت حفصة انها قصتها على النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ان عبد الله رجل صالح لو كان يكثر الصلاة من الليل ". قال الزهري وكان عبد الله بعد ذلك يكثر الصلاة من الليل
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے حمزہ بن عبداللہ نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس دودھ کا پیالہ لایا گیا۔ میں نے اس میں سے پیا پھر میں نے اپنا بچا ہوا عمر بن خطاب کو دے دیا۔ لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ نے اس کی تعبیر کیا لی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علم سے تعبیر لی۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن حمزة بن عبد الله، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " بينا انا نايم اتيت بقدح لبن فشربت منه، ثم اعطيت فضلي عمر بن الخطاب ". قالوا فما اولته يا رسول الله قال " العلم
مجھ سے سعید بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابوعبیدہ بن نشیط نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خواب کے متعلق پوچھا جو انہوں نے بیان کیا تھا۔
حدثني سعيد بن محمد، حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا ابي، عن صالح، عن ابن عبيدة بن نشيط، قال قال عبيد الله بن عبد الله سالت عبد الله بن عباس رضى الله عنهما عن رويا، رسول الله صلى الله عليه وسلم التي ذكر
تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ مجھ سے کہا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ دو سونے کے کنگن میرے ہاتھ میں رکھے گئے ہیں تو مجھے اس سے تکلیف پہنچی اور ناگوار ہوئی پھر مجھے اجازت دی گئی اور میں نے ان پر پھونک ماری اور وہ دونوں اڑ گئے۔ میں نے اس کی تعبیر لی کہ دو جھوٹے پیدا ہوں گے۔ عبیداللہ نے بیان کیا کہ ان میں سے ایک تو العنسی تھا جسے یمن میں فیروز نے قتل کیا اور دوسرا مسیلمہ۔
فقال ابن عباس ذكر لي ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " بينا انا نايم رايت انه وضع في يدى سواران من ذهب، ففظعتهما وكرهتهما، فاذن لي، فنفختهما فطارا، فاولتهما كذابين يخرجان ". فقال عبيد الله احدهما العنسي الذي قتله فيروز باليمن، والاخر مسيلمة
مجھ سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے بریدہ نے، ان سے ان کے دادا ابوبردہ نے، ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے میرا خیال ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے خواب دیکھا کہ میں مکہ سے ایک ایسی زمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں جہاں کھجوریں ہیں۔ میرا ذہن اس طرف گیا کہ یہ جگہ یمامہ ہے یا ہجر۔ لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ مدینہ یعنی یثرب ہے اور میں نے خواب میں گائے دیکھی ( زبح کی ہوئی ) اور یہ آواز سنی کہ کوئی کہہ رہا ہے کہ اور اللہ کے یہاں ہی خیر ہے تو اس کی تعبیر ان مسلمانوں کی صورت میں آئی جو جنگ احد میں شہید ہوئے اور خیر وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے خیر اور سچائی کے ثواب کی صورت میں دیا یعنی وہ جو ہمیں اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر کے بعد ( دوسری فتوحات کی صورت میں ) دی۔
حدثني محمد بن العلاء، حدثنا ابو اسامة، عن بريد، عن جده ابي بردة، عن ابي موسى، اراه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " رايت في المنام اني اهاجر من مكة الى ارض بها نخل، فذهب وهلي الى انها اليمامة او هجر، فاذا هي المدينة يثرب، ورايت فيها بقرا والله خير، فاذا هم المومنون يوم احد، واذا الخير ما جاء الله من الخير وثواب الصدق الذي اتانا الله به بعد يوم بدر
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم الحنظلی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، ان سے ہمام بن منبہ نے بیان کیا کہ یہ وہ حدیث ہے جو ہم سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہم سب امتوں سے آخری امت ( وقت کے اعتبار سے ) اور سب امتوں سے پہلی امت ( جنت میں داخلہ کے اعتبار سے ) ہیں۔“
حدثني اسحاق بن ابراهيم الحنظلي، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن همام بن منبه، قال هذا ما حدثنا به ابو هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " نحن الاخرون السابقون ". وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بينا انا نايم اذ اوتيت خزاين الارض، فوضع في يدى سواران من ذهب، فكبرا على واهماني، فاوحي الى ان انفخهما، فنفختهما فطارا، فاولتهما الكذابين اللذين انا بينهما صاحب صنعاء وصاحب اليمامة
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم الحنظلی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، ان سے ہمام بن منبہ نے بیان کیا کہ یہ وہ حدیث ہے جو ہم سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہم سب امتوں سے آخری امت ( وقت کے اعتبار سے ) اور سب امتوں سے پہلی امت ( جنت میں داخلہ کے اعتبار سے ) ہیں۔“
حدثني اسحاق بن ابراهيم الحنظلي، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن همام بن منبه، قال هذا ما حدثنا به ابو هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " نحن الاخرون السابقون ". وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بينا انا نايم اذ اوتيت خزاين الارض، فوضع في يدى سواران من ذهب، فكبرا على واهماني، فاوحي الى ان انفخهما، فنفختهما فطارا، فاولتهما الكذابين اللذين انا بينهما صاحب صنعاء وصاحب اليمامة
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ان سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے اپنے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے دیکھا جیسے ایک سیاہ عورت پراگندہ بال، مدینہ سے نکلی اور مہیعہ میں جا کر کھڑی ہو گئی۔ مہیعہ حجفہ کو کہتے ہیں۔ میں نے اس کی یہ تعبیر لی کہ مدینہ کی وبا حجفہ نامی بستی میں چلی گئی۔
حدثنا اسماعيل بن عبد الله، حدثني اخي عبد الحميد، عن سليمان بن بلال، عن موسى بن عقبة، عن سالم بن عبد الله، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " رايت كان امراة سوداء ثايرة الراس، خرجت من المدينة، حتى قامت بمهيعة وهى الجحفة فاولت ان وباء المدينة نقل اليها
ہم سے ابوبکر المقدمی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا ‘ ان سے موسیٰ نے بیان کیا، ان سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ میں خواب کے سلسلے میں کہ ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) ”میں نے ایک پراگندہ بال، سیاہ عورت دیکھی کہ وہ مدینہ سے نکل کر مہیعہ چلی گئی۔ میں نے اس کی تعبیر لی کہ مدینہ کی وبا مهيعۃ منتقل ہو گئی ہے۔“ مہیعہ یعنی الجحفۃ کو کہتے ہیں۔
حدثنا محمد بن ابي بكر المقدمي، حدثنا فضيل بن سليمان، حدثنا موسى، حدثني سالم بن عبد الله، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما في رويا النبي صلى الله عليه وسلم في المدينة " رايت امراة سوداء ثايرة الراس، خرجت من المدينة، حتى نزلت بمهيعة، فتاولتها ان وباء المدينة نقل الى مهيعة، وهى الجحفة
مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے ابوبکر بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے سلیمان نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے سالم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں نے ایک پراگندہ بال، کالی عورت دیکھی جو مدینہ سے نکلی اور مہیعہ میں جا کر ٹھہر گئی۔ میں نے اس کی تعبیر یہ لی کہ مدینہ کی وبا مہیعہ یعنی منتقل ہو گئی۔“
حدثنا ابراهيم بن المنذر، حدثني ابو بكر بن ابي اويس، حدثني سليمان، عن موسى بن عقبة، عن سالم، عن ابيه، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " رايت امراة سوداء ثايرة الراس، خرجت من المدينة، حتى قامت بمهيعة فاولت ان وباء المدينة نقل الى مهيعة، وهى الجحفة
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے برید بن عبداللہ ابن ابی بردہ نے بیان کیا، ان سے ان کے دادا ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے مجھ کو یقین ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ میں نے ایک تلوار ہلائی تو وہ بیچ سے ٹوٹ گئی۔ اس کی تعبیر احد کی جنگ میں مسلمانوں کے شہید ہونے کی صورت میں سامنے آئی پھر دوبارہ میں نے اسے ہلایا تو وہ پہلے سے بھی اچھی شکل میں ہو گئی۔ اس کی تعبیر فتح اور مسلمانوں کے اتفاق و اجتماع کی صورت میں سامنے آئی۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابو اسامة، عن بريد بن عبد الله بن ابي بردة، عن جده ابي بردة، عن ابي موسى، اراه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " رايت في رويا اني هززت سيفا فانقطع صدره، فاذا هو ما اصيب من المومنين يوم احد، ثم هززته اخرى، فعاد احسن ما كان، فاذا هو ما جاء الله به من الفتح، واجتماع المومنين