Loading...

Loading...
کتب
۶۶ احادیث
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے جایا کرتے تھے، وہ عبادہ بن صامت کے نکاح میں تھیں۔ ایک دن آپ ان کے یہاں گئے تو انہوں نے آپ کے سامنے کھانے کی چیز پیش کی اور آپ کا سر جھاڑنے لگیں۔ اس عرصہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے پھر بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، انه سمع انس بن مالك، يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يدخل على ام حرام بنت ملحان، وكانت تحت عبادة بن الصامت، فدخل عليها يوما فاطعمته، وجعلت تفلي راسه، فنام رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم استيقظ وهو يضحك. قالت فقلت ما يضحكك يا رسول الله قال " ناس من امتي عرضوا على، غزاة في سبيل الله، يركبون ثبج هذا البحر، ملوكا على الاسرة او مثل الملوك على الاسرة ". شك اسحاق. قالت فقلت يا رسول الله ادع الله ان يجعلني منهم، فدعا لها رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم وضع راسه ثم استيقظ وهو يضحك. فقلت ما يضحكك يا رسول الله قال " ناس من امتي عرضوا على، غزاة في سبيل الله ". كما قال في الاولى. قالت فقلت يا رسول الله ادع الله ان يجعلني منهم. قال " انت من الاولين ". فركبت البحر في زمان معاوية بن ابي سفيان فصرعت عن دابتها حين خرجت من البحر، فهلكت
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، انہیں خارجہ بن ثابت نے خبر دی ‘ انہیں ام علاء رضی اللہ عنہا نے جو ایک انصاری عورت تھیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی خبر دی کہ انہوں نے مہاجرین کے ساتھ سلسلہ اخوت قائم کرنے کے لیے قرعہ اندازی کی تو ہمارا قرعہ عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے نام نکلا۔ پھر ہم نے انہیں اپنے گھر میں ٹھہرایا۔ اس کے بعد انہیں ایک بیماری ہو گئی جس میں ان کی وفات ہو گئی۔ جب ان کی وفات ہو گئی تو انہیں غسل دیا گیا اور ان کے کپڑوں کا کفن دیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ میں نے کہا ابوالسائب ( عثمان رضی اللہ عنہ ) تم پر اللہ کی رحمت ہو، تمہارے متعلق میری گواہی ہے کہ تمہیں اللہ نے عزت بخشی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اللہ نے انہیں عزت بخشی ہے۔ میں نے عرض کیا، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ! پھر اللہ کسے عزت بخشے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جہاں تک ان کا تعلق ہے تو یقینی چیز ( موت ) ان پر آ چکی ہے اور اللہ کی قسم میں بھی ان کے لیے بھلائی کی امید رکھتا ہوں اور اللہ کی قسم میں رسول اللہ ہونے کے باوجود حتمی طور پر نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ انہوں نے اس کے بعد کہا کہ اللہ کی قسم اس کے بعد میں کبھی کسی کی برات نہیں کروں گی۔
حدثنا سعيد بن عفير، حدثني الليث، حدثني عقيل، عن ابن شهاب، اخبرني خارجة بن زيد بن ثابت، ان ام العلاء امراة من الانصار بايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم اخبرته انهم اقتسموا المهاجرين قرعة. قالت فطار لنا عثمان بن مظعون، وانزلناه في ابياتنا، فوجع وجعه الذي توفي فيه، فلما توفي غسل وكفن في اثوابه دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت رحمة الله عليك ابا السايب، فشهادتي عليك لقد اكرمك الله. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " وما يدريك ان الله اكرمه ". فقلت بابي انت يا رسول الله فمن يكرمه الله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما هو فوالله لقد جاءه اليقين، والله اني لارجو له الخير، ووالله ما ادري وانا رسول الله ماذا يفعل بي ". فقالت والله لا ازكي بعده احدا ابدا
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی اور انہیں زہری نے یہی حدیث بیان کی اور بیان کیا کہ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ) میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس کا مجھے رنج ہوا۔ ( کہ عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق کوئی بات یقین کے ساتھ معلوم نہیں ہے ) چنانچہ میں سو گئی اور میں نے خواب میں دیکھا کہ عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے ایک جاری چشمہ ہے۔ میں نے اس کی اطلاع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ان کا نیک عمل ہے۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، بهذا وقال " ما ادري ما يفعل به ". قالت واحزنني فنمت، فرايت لعثمان عينا تجري، فاخبرت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ذلك عمله
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی اور آپ کے شہسواروں میں سے تھے انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے شیطان کی طرف سے پس تم میں جو کوئی برا خواب دیکھے جو اسے ناپسند ہو تو اس چاہئے کہ اپنی بائیں طرف تھوکے اور اس سے اللہ کی پناہ مانگے وہ اسے ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة، ان ابا قتادة الانصاري وكان من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وفرسانه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " الرويا من الله، والحلم من الشيطان، فاذا حلم احدكم الحلم يكرهه فليبصق عن يساره وليستعذ بالله منه، فلن يضره
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو یونس نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں حمزہ بن عبداللہ نے خبر دی، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا اور میں نے اس کا دودھ پیا۔ یہاں تک کہ اس کی سیرابی کا اثر میں نے اپنے ناخنوں میں ظاہر ہوتا دیکھا، اس کے بعد میں نے اس کا بچا ہوا دے دیا۔ آپ کا اشارہ عمر رضی اللہ عنہ کی طرف تھا صحابہ نے پوچھا: آپ نے اس کی تعبیر کیا کی یا رسول اللہ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علم۔
حدثنا عبدان، اخبرنا عبد الله، اخبرنا يونس، عن الزهري، اخبرني حمزة بن عبد الله، ان ابن عمر، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " بينا انا نايم اتيت بقدح لبن، فشربت منه، حتى اني لارى الري يخرج من اظفاري، ثم اعطيت فضلي ". يعني عمر. قالوا فما اولته يا رسول الله قال " العلم
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ان سے میرے والد ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے حمزہ بن عبداللہ بن عمر نے بیان کیا اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا اور میں نے اس میں سے پیا، یہاں تک کہ میں نے سیرابی کا اثر اپنے اطراف میں نمایاں دیکھا۔ پھر میں نے اس کا بچا ہوا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیا جو صحابہ وہاں موجود تھے، انہوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! آپ نے اس کی تعبیر کیا کی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علم مراد ہے۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا ابي، عن صالح، عن ابن شهاب، حدثني حمزة بن عبد الله بن عمر، انه سمع عبد الله بن عمر رضى الله عنهما يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بينا انا نايم اتيت بقدح لبن، فشربت منه، حتى اني لارى الري يخرج من اطرافي، فاعطيت فضلي عمر بن الخطاب ". فقال من حوله فما اولت ذلك يا رسول الله قال " العلم
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے ابوامامہ بن سہل نے بیان کیا، انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے دیکھا کہ لوگ میرے سامنے پیش کئے جا رہے ہیں وہ قمیص پہنے ہوئے ہیں۔ ان میں بعض کی قمیص تو صرف سینے تک کی ہے اور بعض کی اس سے بڑی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو ان کی قمیص زمین سے گھسٹ رہی تھی۔ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دین۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثني ابي، عن صالح، عن ابن شهاب، قال حدثني ابو امامة بن سهل، انه سمع ابا سعيد الخدري، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بينما انا نايم رايت الناس يعرضون على، وعليهم قمص، منها ما يبلغ الثدى، ومنها ما يبلغ دون ذلك، ومر على عمر بن الخطاب وعليه قميص يجره ". قالوا ما اولت يا رسول الله قال " الدين
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا مجھ سے عقیل نے بیان کیا، کہا ان سے ابن شہاب نے، کہا مجھ کو ابوامامہ بن سہل نے خبر دی اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہوا تھا کہ میں نے لوگوں کو اپنے سامنے پیش ہوتے دیکھا۔ وہ قمیص پہنے ہوئے تھے، ان میں بعض کی قمیص تو سینے تک کی تھی اور بعض کی اس سے بڑی تھی اور میرے سامنے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پیش کئے گئے تو ان کی قمیص ( زمین سے ) گھسٹ رہی تھی۔ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ نے اس کی تعبیر کیا کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دین اس کی تعبیر ہے۔
حدثنا سعيد بن عفير، حدثني الليث، حدثني عقيل، عن ابن شهاب، اخبرني ابو امامة بن سهل، عن ابي سعيد الخدري رضى الله عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " بينا انا نايم رايت الناس عرضوا على، وعليهم قمص، فمنها ما يبلغ الثدى، ومنها ما يبلغ دون ذلك، وعرض على عمر بن الخطاب وعليه قميص يجتره ". قالوا فما اولته يا رسول الله قال " الدين
ہم سے عبداللہ بن محمد الجعفی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حرمی بن عمارہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے قرہ بن خالد نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے بیان کیا، ان سے قیس بن عباد نے بیان کیا کہ میں ایک حلقہ میں بیٹھا تھا جس میں سعد بن مالک اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے تھے۔ وہاں سے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ گزرے تو لوگوں نے کہا کہ یہ اہل جنت میں سے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ وہ اس طرح کی بات کہہ رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا، سبحان اللہ ان کے لیے مناسب نہیں کہ وہ ایسی بات کہیں جس کا انہیں علم نہیں ہے۔ میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک ستون ایک ہرے بھرے باغ میں نصب کیا ہوا ہے اس ستون کے اوپر کے سرے پر ایک حلقہ ( «عروة» ) لگا ہوا تھا اور نیچے «منصف» تھا۔ «منصف» سے مراد خادم ہے پھر کہا گیا کہ اس پر چڑھ جاؤ میں چڑھ گیا اور میں نے حلقہ پکڑ لیا، پھر میں نے اس کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ کا جب انتقال ہو گیا تو وہ «العروة الوثقى» کو پکڑے ہوئے ہوں گے۔
حدثنا عبد الله بن محمد الجعفي، حدثنا حرمي بن عمارة، حدثنا قرة بن خالد، عن محمد بن سيرين، قال قال قيس بن عباد كنت في حلقة فيها سعد بن مالك وابن عمر فمر عبد الله بن سلام فقالوا هذا رجل من اهل الجنة. فقلت له انهم قالوا كذا وكذا. قال سبحان الله ما كان ينبغي لهم ان يقولوا ما ليس لهم به علم، انما رايت كانما عمود وضع في روضة خضراء، فنصب فيها وفي راسها عروة وفي اسفلها منصف والمنصف الوصيف فقيل ارقه. فرقيت حتى اخذت بالعروة. فقصصتها على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يموت عبد الله وهو اخذ بالعروة الوثقى
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مجھے تم خواب میں دو مرتبہ دکھائی گئیں۔ ایک شخص تمہیں ریشم کے ایک ٹکڑے میں اٹھائے لیے جا رہا تھا، اس نے مجھ سے کہا کہ یہ آپ کی بیوی ہیں، ان کے ( چہرے سے ) پردہ ہٹاؤ۔ میں نے پردہ اٹھایا کہ وہ تمہیں تھیں۔ میں نے سوچا کہ اگر یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے تو وہ خود ہی انجام تک پہنچائے گا۔“
حدثنا عبيد بن اسماعيل، حدثنا ابو اسامة، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اريتك في المنام مرتين، اذا رجل يحملك في سرقة حرير فيقول هذه امراتك. فاكشفها فاذا هي انت فاقول ان يكن هذا من عند الله يمضه
ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم سے شادی کرنے سے پہلے مجھے تم دو مرتبہ دیکھائی گئیں، میں نے دیکھا کہ ایک فرشتہ تمہیں ریشم کے ایک ٹکڑے میں اٹھائے ہوئے ہے۔ میں نے اس سے کہا کہ کھولو اس نے کھولا تو وہ تم تھیں۔ میں نے کہا کہ اگر یہ اللہ کے پاس سے ہے تو وہ خود ہی اسے انجام تک پہنچائے گا۔ پھر میں نے تمہیں دیکھا کہ فرشتہ تمہیں ریشم کے ایک ٹکڑے میں اٹھائے ہوئے ہے۔ میں نے کہا کہ کھولو! اس نے کھولا تو اس میں تم تھیں، پھر میں نے کہا کہ یہ تو اللہ کی طرف سے ہے جو ضرور پورا ہو گا۔“
حدثنا محمد، اخبرنا ابو معاوية، اخبرنا هشام، عن ابيه، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اريتك قبل ان اتزوجك مرتين، رايت الملك يحملك في سرقة من حرير فقلت له اكشف. فكشف فاذا هي انت، فقلت ان يكن هذا من عند الله يمضه. ثم اريتك يحملك في سرقة من حرير فقلت اكشف. فكشف فاذا هي انت فقلت ان يك هذا من عند الله يمضه
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں سعید بن مسیب نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں «جوامع الكلم» کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہوں اور میری مدد رعب کے ذریعہ کی گئی ہے اور میں سویا ہوا تھا کہ زمین کے خزانوں کی کنجیاں میرے پاس لائی گئیں اور میرے ہاتھ میں انہیں رکھ دیا گیا اور محمد نے بیان کیا کہ مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ «جوامع الكلم» سے مراد یہ ہے کہ بہت سے امور جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کتابوں میں لکھے ہوئے تھے، ان کو اللہ تعالیٰ نے ایک یا دو امور یا اسی جیسے میں جمع کر دیا ہے۔
حدثنا سعيد بن عفير، حدثنا الليث، حدثني عقيل، عن ابن شهاب، اخبرني سعيد بن المسيب، ان ابا هريرة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " بعثت بجوامع الكلم، ونصرت بالرعب، وبينا انا نايم اتيت بمفاتيح خزاين الارض، فوضعت في يدي ". قال محمد وبلغني ان جوامع الكلم ان الله يجمع الامور الكثيرة التي كانت تكتب في الكتب قبله في الامر الواحد والامرين. او نحو ذلك
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ازہر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عون نے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ اور مجھ سے خلیفہ نے بیان کیا، ان سے معاذ نے بیان کیا، ان سے ابن عون نے بیان کیا، ان سے محمد نے، ان سے قیس بن عباد نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے ( خواب ) دیکھا کہ گویا میں ایک باغ میں ہوں اور باغ کے بیچ میں ایک ستون ہے جس کے اوپر کے سرے پر ایک حلقہ ہے۔ کہا گیا کہ اس پر چڑھ جاؤ۔ میں نے کہا کہ میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ پھر میرے پاس خادم آیا اور اس نے میرے کپڑے چڑھا دئیے پھر میں اوپر چڑھ گیا اور میں نے حلقہ پکڑ لیا، ابھی میں اسے پکڑے ہی ہوئے تھا کہ آنکھ کھل گئی۔ پھر میں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ باغ اسلام کا باغ تھا اور وہ ستون اسلام کا ستون تھا اور وہ حلقہ «عروة الوثقى» تھا، تم ہمیشہ اسلام پر مضبوطی سے جمے رہو گے یہاں تک کہ تمہاری وفات ہو جائے گی۔
حدثني عبد الله بن محمد، حدثنا ازهر، عن ابن عون، ح وحدثني خليفة، حدثنا معاذ، حدثنا ابن عون، عن محمد، حدثنا قيس بن عباد، عن عبد الله بن سلام، قال رايت كاني في روضة، وسط الروضة عمود في اعلى العمود عروة، فقيل لي ارقه. قلت لا استطيع. فاتاني وصيف فرفع ثيابي فرقيت، فاستمسكت بالعروة، فانتبهت وانا مستمسك بها، فقصصتها على النبي صلى الله عليه وسلم فقال " تلك الروضة روضة الاسلام، وذلك العمود عمود الاسلام، وتلك العروة عروة الوثقى، لا تزال مستمسكا بالاسلام حتى تموت
حدثنا معلى بن اسد، حدثنا وهيب، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال رايت في المنام كان في يدي سرقة من حرير لا اهوي بها الى مكان في الجنة الا طارت بي اليه، فقصصتها على حفصة. فقصتها حفصة على النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ان اخاك رجل صالح ". او قال " ان عبد الله رجل صالح
حدثنا معلى بن اسد، حدثنا وهيب، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال رايت في المنام كان في يدي سرقة من حرير لا اهوي بها الى مكان في الجنة الا طارت بي اليه، فقصصتها على حفصة. فقصتها حفصة على النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ان اخاك رجل صالح ". او قال " ان عبد الله رجل صالح
ہم سے عبداللہ بن صباح نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا میں نے عوف سے سنا، ان سے محمد بن سیرین نے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب قیامت قریب ہو گی تو مومن کا خواب جھوٹا نہیں ہو گا اور مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔“ محمد بن سیرین رحمہ اللہ ( جو کہ علم تعبیر کے بہت بڑے عالم تھے ) نے کہا کہ نبوت کا حصہ جھوٹ نہیں ہو سکتا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ خواب تین طرح کے ہیں۔ دل کے خیالات، شیطان کا ڈرانا اور اللہ کی طرف سے خوشخبری۔ پس اگر کوئی شخص خواب میں بری چیز دیکھتا ہے تو اسے چاہئیے کہ اس کا ذکر کسی سے نہ کرے اور کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگے۔ محمد بن سیرین نے کہا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ خواب میں طوق کو ناپسند کرتے تھے اور قید دیکھنے کو اچھا سمجھتے تھے اور کہا گیا ہے کہ قید سے مراد دین میں ثابت قدمی ہے۔ اور قتادہ، یونس، ہشام اور ابوہلال نے ابن سیرین سے نقل کیا ہے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اور بعض نے یہ ساری روایت حدیث میں شمار کی ہے لیکن عوف کی روایت زیادہ واضح ہے اور یونس نے کہا کہ قید کے بارے میں روایت کو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہی سمجھتا ہوں۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ طوق ہمیشہ گردنوں ہی میں ہوتے ہیں۔
حدثنا عبد الله بن صباح، حدثنا معتمر، سمعت عوفا، حدثنا محمد بن سيرين، انه سمع ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اقترب الزمان لم تكد تكذب رويا المومن، ورويا المومن جزء من ستة واربعين جزءا من النبوة. " قال محمد وانا اقول هذه قال وكان يقال الرويا ثلاث حديث النفس، وتخويف الشيطان، وبشرى من الله، فمن راى شييا يكرهه فلا يقصه على احد، وليقم فليصل. قال وكان يكره الغل في النوم، وكان يعجبهم القيد، ويقال القيد ثبات في الدين. وروى قتادة ويونس وهشام وابو هلال عن ابن سيرين عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم وادرجه بعضهم كله في الحديث، وحديث عوف ابين. وقال يونس لا احسبه الا عن النبي صلى الله عليه وسلم في القيد. قال ابو عبد الله لا تكون الاغلال الا في الاعناق
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں خارجہ بن زید بن ثابت نے اور ان سے ام علاء رضی اللہ عنہا نے بیان کیا جو انہیں کی ایک خاتون ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔ انہوں نے بیان کیا کہ جب انصار نے مہاجرین کے قیام کے لیے قرعہ اندازی کی تو عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا نام ہمارے یہاں ٹھہرنے کے لیے نکلا۔ پھر وہ بیمار پڑ گئے، ہم نے ان کی تیمارداری کی لیکن ان کی وفات ہو گئی۔ پھر ہم نے انہیں ان کے کپڑوں میں لپیٹ دیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے تو میں نے کہا: ابوالسائب! تم پر اللہ کی رحمتیں ہوں، میری گواہی ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے عزت بخشی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا؟ میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم مجھے معلوم نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد فرمایا کہ جہاں تک ان کا تعلق ہے تو یقینی بات ( موت ) ان تک پہنچ چکی ہے اور میں اللہ سے ان کے لیے خیر کی امید رکھتا ہوں لیکن اللہ کی قسم میں رسول اللہ ہوں اور اس کے باوجود مجھے معلوم نہیں کہ میرے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا۔ ام العلاء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ واللہ! اس کے بعد میں کسی انسان کی پاکی نہیں بیان کروں گی۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے خواب میں ایک جاری چشمہ دیکھا تھا۔ چنانچہ میں نے حاضر ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ان کا نیک عمل ہے جس کا ثواب ان کے لیے جاری ہے۔
حدثنا عبدان، اخبرنا عبد الله، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن خارجة بن زيد بن ثابت، عن ام العلاء وهى امراة من نسايهم بايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت طار لنا عثمان بن مظعون في السكنى حين اقترعت الانصار على سكنى المهاجرين، فاشتكى فمرضناه حتى توفي، ثم جعلناه في اثوابه فدخل علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت رحمة الله عليك ابا السايب، فشهادتي عليك لقد اكرمك الله. قال " وما يدريك ". قلت لا ادري والله. قال " اما هو فقد جاءه اليقين، اني لارجو له الخير من الله، والله ما ادري وانا رسول الله ما يفعل بي ولا بكم ". قالت ام العلاء فوالله لا ازكي احدا بعده. قالت ورايت لعثمان في النوم عينا تجري، فجيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له فقال " ذاك عمله يجري له
ہم سے یعقوب بن ابراہیم بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعیب بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے صخر بن جویریہ نے بیان کیا، کہا ہم سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( خواب میں ) میں ایک کنویں سے پانی کھینچ رہا تھا کہ ابوبکر اور عمر بھی آ گئے۔ اب ابوبکر نے ڈول لے لیا اور ایک یا دو ڈول پانی کھینچا۔ ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے آمین۔ اس کے بعد عمر بن خطاب نے اسے ابوبکر کے ہاتھ سے لے لیا اور وہ ڈول ان کے ہاتھ میں بڑا ڈول بن گیا۔ میں نے عمر جیسا پانی کھینچنے میں کسی کو ماہر نہیں دیکھا۔ انہوں نے خوب پانی نکالا یہاں تک کہ لوگوں نے اونٹوں کے لیے پانی سے حوض بھر لیے۔“
حدثنا يعقوب بن ابراهيم بن كثير، حدثنا شعيب بن حرب، حدثنا صخر بن جويرية، حدثنا نافع، ان ابن عمر رضى الله عنهما حدثه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بينا انا على بير انزع منها اذ جاء ابو بكر وعمر، فاخذ ابو بكر الدلو، فنزع ذنوبا او ذنوبين، وفي نزعه ضعف، فغفر الله له، ثم اخذها ابن الخطاب من يد ابي بكر فاستحالت في يده غربا، فلم ار عبقريا من الناس يفري فريه، حتى ضرب الناس بعطن
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، ان سے سالم نے، ان سے ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے خواب کے سلسلے میں فرمایا کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ جمع ہو گئے ہیں پھر ابوبکر کھڑے ہوئے اور ایک یا دو ڈول پانی کھینچا اور ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی، اللہ ان کی مغفرت کرے۔ پھر عمر بن خطاب کھڑے ہوئے اور وہ بڑا ڈول بن گیا۔ میں نے لوگوں میں سے کسی کو اتنی مہارت کے ساتھ پانی نکالتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ لوگوں نے حوض بھر لیے۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا موسى، عن سالم، عن ابيه، عن رويا النبي، صلى الله عليه وسلم في ابي بكر وعمر قال " رايت الناس اجتمعوا فقام ابو بكر فنزع ذنوبا او ذنوبين، وفي نزعه ضعف والله يغفر له، ثم قام ابن الخطاب، فاستحالت غربا فما رايت من الناس يفري فريه، حتى ضرب الناس بعطن
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، انہیں سعید نے خبر دی، انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں سویا ہوا تھا کہ میں نے اپنے آپ کو ایک کنویں پر دیکھا۔ اس پر ایک ڈول تھا۔ جتنا اللہ نے چاہا میں نے اس میں سے پانی کھینچا، پھر اس ڈول کو ابن ابی قحافہ نے لے لیا اور انہوں نے بھی ایک یا دو ڈول کھینچنے اور ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی، اللہ ان کی مغفرت کرے پھر وہ بڑا ڈول بن گیا اور اسے عمر بن خطاب نے اٹھا لیا۔ میں نے کسی ماہر کو عمر بن خطاب کی طرح کھینچتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ انہوں نے لوگوں کے لیے اونٹوں کے حوض بھر دئیے۔ لوگوں نے اپنے اونٹوں کو سیراب کر کے اپنے تھانوں پر لے جا کر بیٹھا دیا۔“
حدثنا سعيد بن عفير، حدثني الليث، قال حدثني عقيل، عن ابن شهاب، اخبرني سعيد، ان ابا هريرة، اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " بينا انا نايم رايتني على قليب وعليها دلو، فنزعت منها ما شاء الله، ثم اخذها ابن ابي قحافة فنزع منها ذنوبا او ذنوبين، وفي نزعه ضعف والله يغفر له، ثم استحالت غربا، فاخذها عمر بن الخطاب، فلم ار عبقريا من الناس ينزع نزع عمر بن الخطاب، حتى ضرب الناس بعطن