Loading...

Loading...
کتب
۶۶ احادیث
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، ان سے ایوب نے، ان سے عکرمہ نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے ایسا خواب بیان کیا جو اس نے دیکھا نہ ہو تو اسے دو جَو کے دو دانوں کو قیامت کے دن جوڑنے کے لیے کہا جائے گا اور وہ اسے ہرگز نہیں کر سکے گا ( اس لیے مار کھاتا رہے گا ) اور جو شخص دوسرے لوگوں کی بات سننے کے لیے کان لگائے جو اسے پسند نہیں کرتے یا اس سے بھاگتے ہیں تو قیامت کے دن اس کے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے گا اور جو کوئی تصویر بنائے گا اسے عذاب دیا جائے گا اور اس پر زور دیا جائے گا کہ اس میں روح بھی ڈالے جو وہ نہیں کر سکے گا۔ اور سفیان نے کہا کہ ہم سے ایوب نے یہ حدیث موصولاً بیان کی اور قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے ابوعوانہ نے، ان سے قتادہ نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ جو اپنے خواب کے سلسلے میں جھوٹ بولے۔ اور شعبہ نے کہا، ان سے ابوہاشم الرمانی نے، انہوں نے عکرمہ سے سنا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ( کا قول موقوفاً ) جو شخص مورت بنائے، جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے، جو شخص کان لگا کر دوسروں کی باتیں سنے۔ ہم سے اسحاق واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد طحان نے بیان کیا، ان سے خالد حذاء نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جو کسی کی بات کان لگا کر سننے کے پیچھے لگا اور جس نے غلط خواب بیان کیا اور جس نے تصویر بنائی ( ایسی ہی حدیث نقل کی موقوفاً ابن عباس سے ) خالد حذاء کے ساتھ اس حدیث کو ہشام بن حسان فردوسی نے بھی عکرمہ سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے موقوفاً روایت کیا۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من تحلم بحلم لم يره، كلف ان يعقد بين شعيرتين، ولن يفعل، ومن استمع الى حديث قوم وهم له كارهون او يفرون منه، صب في اذنه الانك يوم القيامة، ومن صور صورة، عذب وكلف ان ينفخ فيها، وليس بنافخ ". قال سفيان وصله لنا ايوب. وقال قتيبة حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن عكرمة، عن ابي هريرة، قوله من كذب في روياه. وقال شعبة عن ابي هاشم الرماني سمعت عكرمة قال ابو هريرة قوله من صور، ومن تحلم، ومن استمع. حدثني اسحاق حدثنا خالد عن خالد عن عكرمة عن ابن عباس قال " من استمع، ومن تحلم، ومن صور ". نحوه. تابعه هشام عن عكرمة عن ابن عباس قوله
ہم سے علی بن مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سب سے بدترین جھوٹ یہ ہے کہ انسان خواب میں ایسی چیز کو دیکھنے کا دعویٰ کرے جو اس کی آنکھوں نے نہ دیکھی ہو۔“
حدثنا علي بن مسلم، حدثنا عبد الصمد، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار، مولى ابن عمر عن ابيه، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من افرى الفرى ان يري عينيه ما لم تر
ہم سے سعید بن ربیع نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدربہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوسلمہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں ( برے ) خواب دیکھتا تھا اور اس کی وجہ سے بیمار پڑ جاتا تھا۔ آخر میں نے قتادہ رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے بیان کیا کہ میں بھی خواب دیکھتا اور میں بھی بیمار پڑ جاتا۔ آخر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں پس جب کوئی اچھے خواب دیکھے تو اس کا ذکر صرف اسی سے کرے جو اسے عزیز ہو اور جب برا خواب دیکھے تو اللہ کی اس کے شر سے پناہ مانگے اور شیطان کے شر سے اور تین مرتبہ تھوتھو کر دے اور اس کا کسی سے ذکر نہ کرے پس وہ اسے ہرگز کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا۔
حدثنا سعيد بن الربيع، حدثنا شعبة، عن عبد ربه بن سعيد، قال سمعت ابا سلمة، يقول لقد كنت ارى الرويا فتمرضني حتى سمعت ابا قتادة يقول وانا كنت لارى الرويا تمرضني، حتى سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " الرويا الحسنة من الله، فاذا راى احدكم ما يحب فلا يحدث به الا من يحب، واذا راى ما يكره فليتعوذ بالله من شرها، ومن شر الشيطان وليتفل ثلاثا ولا يحدث بها احدا فانها لن تضره
ہم سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے ابن ابی حازم اور دراوردی نے بیان کیا، ان سے یزید نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن خباب نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص خواب دیکھے جسے وہ پسند کرتا ہو تو وہ اللہ کی طرف سے ہوتا ہے اور اس پر اسے اللہ کی تعریف کرنا چاہئیے اور اسے بیان بھی کرنا چاہئیے اور جب کوئی خواب ایسا دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہو تو وہ شیطان کی طرف سے ہے اور اسے چاہئیے کہ اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے اور اس کا ذکر کسی سے نہ کرے، کیونکہ وہ اسے ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔
حدثنا ابراهيم بن حمزة، حدثني ابن ابي حازم، والدراوردي، عن يزيد، عن عبد الله بن خباب، عن ابي سعيد الخدري، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا راى احدكم الرويا يحبها، فانها من الله، فليحمد الله عليها، وليحدث بها، واذا راى غير ذلك مما يكره، فانما هي من الشيطان، فليستعذ من شرها، ولا يذكرها لاحد، فانها لن تضره
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ رات میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک ابر کا ٹکڑا ہے جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا ہے میں دیکھتا ہوں کہ لوگ انہیں اپنے ہاتھوں میں لے رہے ہیں۔ کوئی زیادہ اور کوئی کم اور ایک رسی ہے جو زمین سے آسمان تک لٹکی ہوئی ہے۔ میں نے دیکھا کہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آ کر اسے پکڑ اور اوپر چڑھ گئے پھر ایک دوسرے صاحب نے بھی اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر چڑھ گئے پھر ایک تیسرے صاحب نے پکڑا اور وہ بھی چڑھ گئے پھر چوتھے صاحب نے پکڑا اور وہ بھی اس کے ذریعہ چڑھ گئے۔ پھر وہ رسی ٹوٹ گئی، پھر جڑ گئی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ مجھے اجازت دیجئیے میں اس کی تعبیر بیان کر دوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیان کرو۔ انہوں نے کہا سایہ سے مراد دین اسلام ہے اور شہد اور گھی ٹپک رہا تھا وہ قرآن مجید کی شیرینی ہے اور بعض قرآن کو زیادہ حاصل کرنے والے ہیں، بعض کم اور آسمان سے زمین تک کی رسی سے مراد وہ سچا طریق ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قائم ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پکڑے ہوئے ہیں یہاں تک کہ اس کے ذریعہ اللہ آپ کو اٹھا لے گا پھر آپ کے بعد ایک دوسرے صاحب آپ کے خلیفہ اول اسے پکڑیں گے وہ بھی مرتے دم تک اس پر قائم رہیں گے۔ پھر تیسرے صاحب پکڑیں گے ان کا بھی یہی حال ہو گا۔ پھر چوتھے صاحب پکڑیں گے تو ان کا معاملہ خلافت کا کٹ جائے گا وہ بھی اوپر چڑھ جائیں گے۔ یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں مجھے بتائیے کیا میں نے جو تعبیر دی ہے وہ غلط ہے یا صحیح۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض حصہ کی صحیح تعبیر دی ہے اور بعض کی غلط۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: پس واللہ! آپ میری غلطی کو ظاہر فرما دیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قسم نہ کھاؤ۔
حدثني يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن يونس، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، ان ابن عباس رضى الله عنهما كان يحدث ان رجلا اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال اني رايت الليلة في المنام ظلة تنطف السمن والعسل، فارى الناس يتكففون منها فالمستكثر والمستقل، واذا سبب واصل من الارض الى السماء، فاراك اخذت به فعلوت، ثم اخذ به رجل اخر فعلا به، ثم اخذ به رجل اخر فعلا به ثم اخذ به رجل اخر فانقطع ثم وصل. فقال ابو بكر يا رسول الله بابي انت والله لتدعني فاعبرها. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اعبر ". قال اما الظلة فالاسلام، واما الذي ينطف من العسل والسمن فالقران حلاوته تنطف، فالمستكثر من القران والمستقل، واما السبب الواصل من السماء الى الارض فالحق الذي انت عليه تاخذ به فيعليك الله، ثم ياخذ به رجل من بعدك فيعلو به، ثم ياخذ رجل اخر فيعلو به، ثم ياخذه رجل اخر فينقطع به ثم يوصل له فيعلو به، فاخبرني يا رسول الله بابي انت اصبت ام اخطات. قال النبي صلى الله عليه وسلم " اصبت بعضا واخطات بعضا ". قال فوالله لتحدثني بالذي اخطات. قال " لا تقسم
مجھ سے ابوہشام مؤمل بن ہشام نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے، انہوں نے کہا ہم سے عوف نے، ان سے ابورجاء نے، ان سے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو باتیں صحابہ سے اکثر کیا کرتے تھے ان میں یہ بھی تھی کہ تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے۔ بیان کیا کہ پھر جو چاہتا اپنا خواب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صبح کو فرمایا کہ رات میرے پاس دو آنے والے آئے اور انہوں نے مجھے اٹھایا اور مجھ سے کہا کہ ہمارے ساتھ چلو میں ان کے ساتھ چل دیا۔ پھر ہم ایک لیٹے ہوئے شخص کے پاس آئے جس کے پاس ایک دوسرا شخص پتھر لیے کھڑا تھا اور اس کے سر پر پتھر پھینک کر مارتا تو اس کا سر اس سے پھٹ جاتا، پتھر لڑھک کر دور چلا جاتا، لیکن وہ شخص پتھر کے پیچھے جاتا اور اسے اٹھا لاتا اور اس لیٹے ہوئے شخص تک پہنچنے سے پہلے ہی اس کا سر ٹھیک ہو جاتا جیسا کہ پہلے تھا۔ کھڑا شخص پھر اسی طرح پتھر اس پر مارتا اور وہی صورتیں پیش آتیں جو پہلے پیش آئیں تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے ان دونوں سے پوچھا سبحان اللہ یہ دونوں کون ہیں؟ فرمایا کہ مجھ سے انہوں نے کہا کہ آگے بڑھو، آگے بڑھو۔ فرمایا کہ پھر ہم آگے بڑھے اور ایک ایسے شخص کے پاس پہنچے جو پیٹھ کے بل لیٹا ہوا تھا اور ایک دوسرا شخص اس کے پاس لوہے کا آنکڑا لیے کھڑا تھا اور یہ اس کے چہرہ کے ایک طرف آتا اور اس کے ایک جبڑے کو گدی تک چیرتا اور اس کی ناک کو گدی تک چیرتا اور اس کی آنکھ کو گدی تک چیرتا۔ ( عوف نے ) بیان کیا کہ بعض دفعہ ابورجاء ( راوی حدیث ) نے «فيشق» کہا، ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) بیان کیا کہ پھر وہ دوسری جانب جاتا ادھر بھی اسی طرح چیرتا جس طرح اس نے پہلی جانب کیا تھا۔ وہ ابھی دوسری جانب سے فارغ بھی نہ ہوتا تھا کہ پہلی جانب اپنی پہلی صحیح حالت میں لوٹ آتی۔ پھر دوبارہ وہ اسی طرح کرتا جس طرح اس نے پہلی مرتبہ کیا تھا۔ ( اس طرح برابر ہو رہا ہے ) فرمایا کہ میں نے کہا سبحان اللہ! یہ دونوں کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ آگے چلو، ( ابھی کچھ نہ پوچھو ) چنانچہ ہم آگے چلے پھر ہم ایک تنور جیسی چیز پر آئے۔ راوی نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ آپ کہا کرتے تھے کہ اس میں شور و آواز تھی۔ کہا کہ پھر ہم نے اس میں جھانکا تو اس کے اندر کچھ ننگے مرد اور عورتیں تھیں اور ان کے نیچے سے آگ کی لپٹ آتی تھی جب آگ انہیں اپنی لپیٹ میں لیتی تو وہ چلانے لگتے۔ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا کہ میں نے ان سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چلو آگے چلو۔ فرمایا کہ ہم آگے بڑھے اور ایک نہر پر آئے۔ میرا خیال ہے کہ آپ نے کہا کہ وہ خون کی طرح سرخ تھی اور اس نہر میں ایک شخص تیر رہا تھا اور نہر کے کنارے ایک دوسرا شخص تھا جس نے اپنے پاس بہت سے پتھر جمع کر رکھے تھے اور یہ تیرنے والا تیرتا ہوا جب اس شخص کے پاس پہنچتا جس نے پتھر جمع کر رکھے تھے تو یہ اپنا منہ کھول دیتا اور کنارے کا شخص اس کے منہ میں پتھر ڈال دیتا وہ پھر تیرنے لگتا اور پھر اس کے پاس لوٹ کر آتا اور جب بھی اس کے پاس آتا تو اپنا منہ پھیلا دیتا اور یہ اس کے منہ میں پتھر ڈال دیتا۔ فرمایا کہ میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ فرمایا کہ انہوں نے کہا کہ چلو آگے چلو۔ فرمایا کہ پھر ہم آگے بڑھے اور ایک نہایت بدصورت آدمی کے پاس پہنچے جتنے بدصورت تم نے دیکھے ہوں گے ان میں سب سے زیادہ بدصورت۔ اس کے پاس آگ جل رہی تھی اور وہ اسے جلا رہا تھا اور اس کے چاروں طرف دوڑتا تھا ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا کہ میں نے ان سے کہا کہ یہ کیا ہے؟ فرمایا کہ انہوں نے مجھ سے کہا چلو آگے چلو۔ ہم آگے بڑھے اور ایک ایسے باغ میں پہنچے جو ہرا بھرا تھا اور اس میں موسم بہار کے سب پھول تھے۔ اس باغ کے درمیان میں بہت لمبا ایک شخص تھا، اتنا لمبا تھا کہ میرے لیے اس کا سر دیکھنا دشوار تھا کہ وہ آسمان سے باتیں کرتا تھا اور اس شخص کے چاروں طرف سے بہت سے بچے تھے کہ اتنے کبھی نہیں دیکھے تھے ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا کہ میں نے پوچھا یہ کون ہے یہ بچے کون ہیں؟ فرمایا کہ انہوں نے مجھ سے کہا کہ چلو آگے چلو فرمایا کہ پھر ہم آگے بڑھے اور ایک عظیم الشان باغ تک پہنچے، میں نے اتنا بڑا اور خوبصورت باغ کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ان دونوں نے کہا کہ اس پر چڑھئیے ہم اس پر چڑھے تو ایک ایسا شہر دکھائی دیا جو اس طرح بنا تھا کہ اس کی ایک اینٹ سونے کی تھی اور ایک اینٹ چاندی کی۔ ہم شہر کے دروازے پر آئے تو ہم نے اسے کھلوایا۔ وہ ہمارے لیے کھولا گیا اور ہم اس میں داخل ہوئے۔ ہم نے اس میں ایسے لوگوں سے ملاقات کی جن کے جسم کا نصف حصہ تو نہایت خوبصورت تھا اور دوسرا نصف نہایت بدصورت۔ ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا کہ دونوں ساتھیوں نے ان لوگوں سے کہا کہ جاؤ اور اس نہر میں کود جاؤ۔ ایک نہر سامنے بہہ رہی تھی اس کا پانی انتہائی سفید تھا وہ لوگ گئے اور اس میں کود گئے اور پھر ہمارے پاس لوٹ کر آئے تو ان کا پہلا عیب جا چکا تھا اور اب وہ نہایت خوبصورت ہو گئے تھے ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا کہ ان دونوں نے کہا کہ یہ جنت عدن ہے اور یہ آپ کی منزل ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا کہ میری نظر اوپر کی طرف اٹھی تو سفید بادل کی طرح ایک محل اوپر نظر آیا فرمایا کہ انہوں نے مجھ سے کہا کہ یہ آپ کی منزل ہے۔ فرمایا کہ میں نے ان سے کہا اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے۔ مجھے اس میں داخل ہونے دو۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تو آپ نہیں جا سکتے لیکن ہاں آپ اس میں ضرور جائیں گے۔ فرمایا کہ میں نے ان سے کہا کہ آج رات میں نے عجیب و غریب چیزیں دیکھی ہیں۔ یہ چیزیں کیا تھیں جو میں نے دیکھی ہیں۔ فرمایا کہ انہوں نے مجھ سے کہا ہم آپ کو بتائیں گے۔ پہلا شخص جس کے پاس آپ گئے تھے اور جس کا سر پتھر سے کچلا جا رہا تھا یہ وہ شخص ہے جو قرآن سیکھتا تھا اور پھر اسے چھوڑ دیتا اور فرض نماز کو چھوڑ کر سو جاتا اور وہ شخص جس کے پاس آپ گئے اور جس کا جبڑا گدی تک اور ناک گدی تک اور آنکھ گدی تک چیری جا رہی تھی۔ یہ وہ شخص ہے جو صبح اپنے گھر سے نکلتا اور جھوٹی خبر تراشتا، جو دنیا میں پھیل جاتی اور وہ ننگے مرد اور عورتیں جو تنور میں آپ نے دیکھے وہ زنا کار مرد اور عورتیں تھیں وہ شخص جس کے پاس آپ اس حال میں گئے کہ وہ نہر میں تیر رہا تھا اور اس کے منہ میں پتھر دیا جاتا تھا وہ سود کھانے والا ہے اور وہ شخص جو بدصورت ہے اور جہنم کی آگ بھڑکا رہا ہے اور اس کے چاروں طرف چل پھر رہا ہے وہ جہنم کا داروغہ مالک نامی ہے اور وہ لمبا شخص جو باغ میں نظر آیا وہ ابراہیم علیہ السلام ہیں اور جو بچے ان کے چاروں طرف ہیں تو وہ بچے ہیں جو ( بچپن ہی میں ) فطرت پر مر گئے ہیں۔ بیان کیا کہ اس پر بعض مسلمانوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا مشرکین کے بچے بھی ان میں داخل ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں مشرکین کے بچے بھی ( ان میں داخل ہیں ) اب رہے وہ لوگ جن کا آدھا جسم خوبصورت اور آدھا بدصورت تھا تو یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اچھے عمل کے ساتھ برے عمل بھی کئے اللہ تعالیٰ نے ان کے گناہوں کو بخش دیا۔
حدثني مومل بن هشام ابو هشام، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، حدثنا عوف، حدثنا ابو رجاء، حدثنا سمرة بن جندب رضى الله عنه قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم مما يكثر ان يقول لاصحابه " هل راى احد منكم من رويا ". قال فيقص عليه من شاء الله ان يقص، وانه قال ذات غداة " انه اتاني الليلة اتيان، وانهما ابتعثاني، وانهما قالا لي انطلق. واني انطلقت معهما، وانا اتينا على رجل مضطجع، واذا اخر قايم عليه بصخرة، واذا هو يهوي بالصخرة لراسه، فيثلغ راسه فيتهدهد الحجر ها هنا، فيتبع الحجر فياخذه، فلا يرجع اليه حتى يصح راسه كما كان، ثم يعود عليه، فيفعل به مثل ما فعل المرة الاولى. قال قلت لهما سبحان الله ما هذان قال قالا لي انطلق قال فانطلقنا فاتينا على رجل مستلق لقفاه، واذا اخر قايم عليه بكلوب من حديد، واذا هو ياتي احد شقى وجهه فيشرشر شدقه الى قفاه، ومنخره الى قفاه وعينه الى قفاه قال وربما قال ابو رجاء فيشق قال ثم يتحول الى الجانب الاخر، فيفعل به مثل ما فعل بالجانب الاول، فما يفرغ من ذلك الجانب حتى يصح ذلك الجانب كما كان، ثم يعود عليه فيفعل مثل ما فعل المرة الاولى. قال قلت سبحان الله ما هذان قال قالا لي انطلق. فانطلقنا فاتينا على مثل التنور قال فاحسب انه كان يقول فاذا فيه لغط واصوات قال فاطلعنا فيه، فاذا فيه رجال ونساء عراة، واذا هم ياتيهم لهب من اسفل منهم، فاذا اتاهم ذلك اللهب ضوضوا قال قلت لهما ما هولاء قال قالا لي انطلق انطلق. قال فانطلقنا فاتينا على نهر حسبت انه كان يقول احمر مثل الدم، واذا في النهر رجل سابح يسبح، واذا على شط النهر رجل قد جمع عنده حجارة كثيرة، واذا ذلك السابح يسبح ما يسبح، ثم ياتي ذلك الذي قد جمع عنده الحجارة فيفغر له فاه فيلقمه حجرا فينطلق يسبح، ثم يرجع اليه، كلما رجع اليه فغر له فاه فالقمه حجرا قال قلت لهما ما هذان قال قالا لي انطلق انطلق. قال فانطلقنا فاتينا على رجل كريه المراة كاكره ما انت راء رجلا مراة، واذا عنده نار يحشها ويسعى حولها قال قلت لهما ما هذا قال قالا لي انطلق انطلق. فانطلقنا فاتينا على روضة معتمة فيها من كل نور الربيع، واذا بين ظهرى الروضة رجل طويل لا اكاد ارى راسه طولا في السماء، واذا حول الرجل من اكثر ولدان رايتهم قط قال قلت لهما ما هذا ما هولاء قال قالا لي انطلق انطلق. قال فانطلقنا فانتهينا الى روضة عظيمة لم ار روضة قط اعظم منها ولا احسن. قال قالا لي ارق فيها. قال فارتقينا فيها فانتهينا الى مدينة مبنية بلبن ذهب ولبن فضة، فاتينا باب المدينة فاستفتحنا ففتح لنا، فدخلناها فتلقانا فيها رجال شطر من خلقهم كاحسن ما انت راء، وشطر كاقبح ما انت راء قال قالا لهم اذهبوا فقعوا في ذلك النهر. قال واذا نهر معترض يجري كان ماءه المحض في البياض، فذهبوا فوقعوا فيه، ثم رجعوا الينا قد ذهب ذلك السوء عنهم، فصاروا في احسن صورة قال قالا لي هذه جنة عدن، وهذاك منزلك. قال فسما بصري صعدا، فاذا قصر مثل الربابة البيضاء قال قالا هذاك منزلك. قال قلت لهما بارك الله فيكما، ذراني فادخله. قالا اما الان فلا وانت داخله. قال قلت لهما فاني قد رايت منذ الليلة عجبا، فما هذا الذي رايت قال قالا لي اما انا سنخبرك، اما الرجل الاول الذي اتيت عليه يثلغ راسه بالحجر، فانه الرجل ياخذ القران فيرفضه وينام عن الصلاة المكتوبة، واما الرجل الذي اتيت عليه يشرشر شدقه الى قفاه، ومنخره الى قفاه، وعينه الى قفاه، فانه الرجل يغدو من بيته فيكذب الكذبة تبلغ الافاق، واما الرجال والنساء العراة الذين في مثل بناء التنور فانهم الزناة والزواني. واما الرجل الذي اتيت عليه يسبح في النهر ويلقم الحجر، فانه اكل الربا، واما الرجل الكريه المراة الذي عند النار يحشها ويسعى حولها، فانه مالك خازن جهنم، واما الرجل الطويل الذي في الروضة فانه ابراهيم صلى الله عليه وسلم واما الولدان الذين حوله فكل مولود مات على الفطرة ". قال فقال بعض المسلمين يا رسول الله واولاد المشركين فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " واولاد المشركين. واما القوم الذين كانوا شطر منهم حسنا وشطر منهم قبيحا، فانهم قوم خلطوا عملا صالحا واخر سييا، تجاوز الله عنهم