Loading...

Loading...
کتب
۴۹ احادیث
ہم سے عبداللہ بن عثمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو شعبہ بن حجاج نے خبر دی، ان سے محمد بن منکدر نے بیان کیا، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائے اور میں بیمار تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور وضو کیا، پھر اپنے وضو کے پانی سے مجھ پر چھینٹا ڈالا تو مجھے ہوش آ گیا۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری بہنیں ہیں؟ اس پر میراث کی آیت نازل ہوئی۔
حدثنا عبد الله بن عثمان، اخبرنا عبد الله، اخبرنا شعبة، عن محمد بن المنكدر، قال سمعت جابرا رضى الله عنه قال دخل على النبي صلى الله عليه وسلم وانا مريض، فدعا بوضوء فتوضا، ثم نضح على من وضويه فافقت فقلت يا رسول الله انما لي اخوات. فنزلت اية الفرايض
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے اسرائیل نے، ان سے ابواسحاق نے، ان سے براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آخری آیت ( میراث کی ) سورۃ نساء کے آخر کی آیتیں نازل ہوئیں «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» کہ ”آپ سے فتویٰ پوچھتے ہیں، کہہ دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے۔“
حدثنا عبيد الله بن موسى، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن البراء رضى الله عنه قال اخر اية نزلت خاتمة سورة النساء {يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة}
ہم سے محمود نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو اسرائیل نے خبر دی، انہیں ابوحصین نے، انہیں ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں مسلمانوں کا خود ان کی ذات سے بھی زیادہ ولی ہوں۔ پس جو شخص مر جائے اور مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا حق ہے اور جس نے بیوی بچے چھوڑے ہوں یا قرض ہو، تو میں ان کا ولی ہوں، ان کے لیے مجھ سے مانگا جائے۔“
حدثنا محمود، اخبرنا عبيد الله، عن اسراييل، عن ابي حصين، عن ابي صالح، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انا اولى بالمومنين من انفسهم، فمن مات وترك مالا فماله لموالي العصبة، ومن ترك كلا او ضياعا، فانا وليه فلادعى له ". لكل: العيال
ہم سے امیہ بن بسطام نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے روح نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن طاؤس نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میراث اس کے وارثوں تک پہنچا دو اور جو کچھ اس میں سے بچ رہے وہ قریبی عزیز مرد کا حق ہے۔“
حدثنا امية بن بسطام، حدثنا يزيد بن زريع، عن روح، عن عبد الله بن طاوس، عن ابيه، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الحقوا الفرايض باهلها، فما تركت الفرايض فلاولى رجل ذكر
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابواسامہ سے پوچھا کیا آپ سے ادریس نے بیان کیا تھا، ان سے طلحہ نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے «ولكل جعلنا موالي» اور «والذين عقدت أيمانكم» کے متعلق بتلایا کہ مہاجرین جب مدینہ آئے تو ذوی الارحام کے علاوہ انصار و مہاجرین بھی ایک دوسرے کی وراثت پاتے تھے۔ اس بھائی چارگی کی وجہ سے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان کرائی تھی، پھر جب آیت «جعلنا موالي» نازل ہوئی تو فرمایا کہ اس نے «والذين عقدت أيمانكم» کو منسوخ کر دیا۔
حدثني اسحاق بن ابراهيم، قال قلت لابي اسامة حدثكم ادريس، حدثنا طلحة، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، {ولكل جعلنا موالي} {والذين عقدت ايمانكم} قال كان المهاجرون حين قدموا المدينة يرث الانصاري المهاجري دون ذوي رحمه للاخوة التي اخى النبي صلى الله عليه وسلم بينهم فلما نزلت {جعلنا موالي} قال نسختها {والذين عقدت ايمانكم}
مجھ سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں لعان کیا اور اس کے بچہ کو اپنا بچہ ماننے سے انکار کر دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے درمیان جدائی کرا دی اور بچہ عورت کو دے دیا۔
حدثني يحيى بن قزعة، حدثنا مالك، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما ان رجلا، لاعن امراته في زمن النبي صلى الله عليه وسلم وانتفى من ولدها ففرق النبي صلى الله عليه وسلم بينهما، والحق الولد بالمراة
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ عتبہ اپنے بھائی سعد رضی اللہ عنہ کو وصیت کر گیا تھا کہ زمعہ کی کنیز کا لڑکا میرا ہے اور اسے اپنی پرورش میں لے لینا۔ فتح مکہ کے سال سعد رضی اللہ عنہ نے اسے لینا چاہا اور کہا کہ میرے بھائی کا لڑکا ہے اور اس نے مجھے اس کے بارے میں وصیت کی تھی۔ اس پر عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ یہ میرا بھائی ہے اور میرے باپ کی لونڈی کا لڑکا ہے، اس کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ آخر یہ دونوں یہ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تو سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ!، یہ میرے بھائی کا لڑکا ہے اس نے اس کے بارے میں مجھے وصیت کی تھی۔ عبد بن زمعہ نے کہا کہ یہ میرا بھائی ہے، میرے باپ کی باندی کا لڑکا اور باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عبد بن زمعہ! یہ تمہارے پاس رہے گا، لڑکا بستر کا حق ہے اور زانی کے حصہ میں پتھر ہیں۔ پھر سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ اس لڑکے سے پردہ کیا کر کیونکہ عتبہ کے ساتھ اس کی شباہت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھ لی تھی۔ چنانچہ پھر اس لڑکے نے ام المؤمنین کو اپنی وفات تک نہیں دیکھا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها قالت كان عتبة عهد الى اخيه سعد ان ابن وليدة زمعة مني، فاقبضه اليك. فلما كان عام الفتح اخذه سعد فقال ابن اخي عهد الى فيه. فقام عبد بن زمعة فقال اخي وابن وليدة ابي، ولد على فراشه. فتساوقا الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال سعد يا رسول الله ابن اخي قد كان عهد الى فيه. فقال عبد بن زمعة اخي وابن وليدة ابي، ولد على فراشه. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " هو لك يا عبد بن زمعة، الولد للفراش وللعاهر الحجر ". ثم قال لسودة بنت زمعة " احتجبي منه ". لما راى من شبهه بعتبة، فما راها حتى لقي الله
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن زیاد نے بیان کیا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لڑکا بستر والے کا حق ہوتا ہے۔“
حدثنا مسدد، عن يحيى، عن شعبة، عن محمد بن زياد، انه سمع ابا هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الولد لصاحب الفراش
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے بریرہ رضی اللہ عنہ کو خریدنا چاہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں خرید لے، ولاء تو اس کے ساتھ قائم ہوتی ہے جو آزاد کر دے اور بریرہ رضی اللہ عنہ کو ایک بکری ملی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ان کے لیے صدقہ تھی لیکن ہمارے لیے ہدیہ ہے۔ حکم نے بیان کیا کہ ان کے شوہر آزاد تھے۔ حکم کا قول مرسل منقول ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے انہیں غلام دیکھا تھا۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن الحكم، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت اشتريت بريرة فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اشتريها، فان الولاء لمن اعتق ". واهدي لها شاة فقال " هو لها صدقة، ولنا هدية ". قال الحكم وكان زوجها حرا، وقول الحكم مرسل. وقال ابن عباس رايته عبدا
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ولاء اسی کے ساتھ قائم ہوتی ہے جو آزاد کر دے۔“
حدثنا اسماعيل بن عبد الله، قال حدثني مالك، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " انما الولاء لمن اعتق
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابوقیس نے، ان سے ہزیل نے انہوں نے عبداللہ سے نقل کیا، انہوں نے فرمایا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا مسلمان سائبہ نہیں بناتے اور دور جاہلیت میں مشرکین سائبہ بناتے تھے۔
حدثنا قبيصة بن عقبة، حدثنا سفيان، عن ابي قيس، عن هزيل، عن عبد الله، قال ان اهل الاسلام لا يسيبون، وان اهل الجاهلية كانوا يسيبون
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ بریرہ کو انہوں نے آزاد کرنے کے لیے خریدنا چاہا لیکن ان کے نائکوں نے اپنے ولاء کی شرط لگا دی عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا یا رسول اللہ! میں نے آزاد کرنے کے لیے بریرہ کو خریدنا چاہا لیکن ان کے مالکوں نے اپنے لیے ان کی ولاء کی شرط لگا دی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں آزاد کر دے، ولاء تو آزاد کرنے والے کے ساتھ قائم ہوتی ہے۔ بیان کیا کہ پھر میں نے انہیں خریدا اور آزاد کر دیا اور میں نے بریرہ کو اختیار دیا ( کہ چاہیں تو شوہر کے ساتھ رہ سکتی ہیں ورنہ علیحدہ بھی ہو سکتی ہیں ) تو انہوں نے شوہر سے علیحدگی کو پسند کیا اور کہا کہ مجھے اتنا اتنا مال بھی دیا جائے تو میں پہلے شوہر کے ساتھ نہیں رہوں گی۔ اسود نے بیان کیا کہ ان کے شوہر آزاد تھے۔ اسود کا قول منقطع ہے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول صحیح ہے کہ میں نے انہیں غلام دیکھا۔
حدثنا موسى، حدثنا ابو عوانة، عن منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، ان عايشة رضى الله عنها اشترت بريرة، لتعتقها، واشترط اهلها ولاءها فقالت يا رسول الله اني اشتريت بريرة لاعتقها، وان اهلها يشترطون ولاءها. فقال " اعتقيها فانما الولاء لمن اعتق ". او قال " اعطى الثمن ". قال فاشترتها فاعتقتها. قال وخيرت فاختارت نفسها وقالت لو اعطيت كذا وكذا ما كنت معه. قال الاسود وكان زوجها حرا. قول الاسود منقطع، وقول ابن عباس رايته عبدا. اصح
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ ہمارے پاس کوئی کتاب نہیں ہے جسے ہم پڑھیں، سوا اللہ کی کتاب قرآن کے اور اس کے علاوہ یہ صحیفہ بھی ہے۔ بیان کیا کہ پھر وہ صحیفہ نکالا تو اس میں زخموں ( کے قصاص ) اور اونٹوں کی زکوٰۃ کے مسائل تھے۔ راوی نے بیان کیا کہ اس میں یہ بھی تھا کے عیر سے ثور تک مدینہ حرم ہے جس نے اس دین میں کوئی نئی بات پیدا کی یا نئی بات کرنے والے کو پناہ دی تو اس پر اللہ اور فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہے اور قیامت کے دن اس کا کوئی نیک عمل مقبول نہ ہو گا اور جس نے اپنے مالکوں کی اجازت کے بغیر دوسرے لوگوں سے مولات قائم کر لی تو اس پر فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہے، قیامت کے دن اس کا کوئی نیک عمل مقبول نہ ہو گا اور مسلمانوں کا ذمہ ( قول و قرار، کسی کو پناہ دینا وغیرہ ) ایک ہے۔ ایک ادنی مسلمان کے پناہ دینے کو بھی قائم رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ پس جس نے کسی مسلمان کی دی ہوئی پناہ کو توڑا، اس پر اللہ کی، فرشتوں اور انسانوں سب کی لعنت ہے قیامت کے دن اس کا کوئی نیک عمل قبول نہیں کیا جائے گا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا جرير، عن الاعمش، عن ابراهيم التيمي، عن ابيه، قال قال علي رضى الله عنه ما عندنا كتاب نقروه الا كتاب الله، غير هذه الصحيفة. قال فاخرجها فاذا فيها اشياء من الجراحات واسنان الابل. قال وفيها المدينة حرم ما بين عير الى ثور، فمن احدث فيها حدثا، او اوى محدثا، فعليه لعنة الله والملايكة والناس اجمعين، لا يقبل منه يوم القيامة صرف ولا عدل، ومن والى قوما بغير اذن مواليه، فعليه لعنة الله والملايكة والناس اجمعين، لا يقبل منه يوم القيامة صرف ولا عدل، وذمة المسلمين واحدة، يسعى بها ادناهم فمن اخفر مسلما فعليه لعنة الله والملايكة والناس اجمعين، لا يقبل منه يوم القيامة صرف ولا عدل
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کے تعلق کو بیچنے، اس کو ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا سفيان، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن بيع الولاء وعن هبته
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک کنیز کو آزاد کرنے کے لیے خریدنا چاہا تو کنیز کے مالکوں نے کہا کہ ہم بیچ سکتے ہیں لیکن ولاء ہمارے ساتھ ہو گی۔ ام المؤمنین نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شرط کو مانع نہ بننے دو، ولاء ہمیشہ اسی کے ساتھ قائم ہوتی ہے جو آزاد کرے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، عن مالك، عن نافع، عن ابن عمر، ان عايشة ام المومنين، ارادت ان تشتري جارية تعتقها فقال اهلها نبيعكها على ان ولاءها لنا. فذكرت لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " لا يمنعك ذلك، فانما الولاء لمن اعتق
ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو جریر نے خبر دی، انہیں منصور نے، انہیں ابراہیم نے، انہیں اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے بریرہ کو خریدنا چاہا تو ان کے مالکوں نے شرط لگائی کہ ولاء ان کے ساتھ قائم ہو گی۔ میں نے اس کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں آزاد کر دو، ولاء قیمت ادا کرنے والے ہی کے ساتھ قائم ہوتی ہے۔ بیان کیا کہ پھر میں نے آزاد کر دیا۔ پھر انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا اور ان کے شوہر کے معاملہ میں اختیار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مجھے یہ یہ چیزیں بھی وہ دیدے تو میں اس کے ساتھ رات گزارنے کے لیے تیار نہیں۔ چنانچہ اس نے شوہر سے علیحدگی کو پسند کیا۔
حدثنا محمد، اخبرنا جرير، عن منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة رضى الله عنها قالت اشتريت بريرة فاشترط اهلها ولاءها، فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال " اعتقيها فان الولاء لمن اعطى الورق ". قالت فاعتقتها قالت فدعاها رسول الله صلى الله عليه وسلم فخيرها من زوجها فقالت لو اعطاني كذا وكذا ما بت عنده. فاختارت نفسها
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خریدنا چاہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یہ لوگ ولاء کی شرط لگاتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خرید لو، ولاء تو اسی کے ساتھ قائم ہوتی ہے جو آزاد کرے ( آزاد کرائے ) ۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا همام، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال ارادت عايشة ان تشتري بريرة فقالت للنبي صلى الله عليه وسلم انهم يشترطون الولاء. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اشتريها، فانما الولاء لمن اعتق
ہم سے ابن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو وکیع نے خبر دی، انہیں سفیان نے، انہیں منصور نے، انہیں ابراہیم نے، انہیں اسود نے، اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ولاء اس کے ساتھ قائم ہو گی جو قیمت دے اور احسان کرے ( آزاد کر کے)
حدثنا ابن سلام، اخبرنا وكيع، عن سفيان، عن منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة، قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الولاء لمن اعطى الورق، وولي النعمة
ہم سے آدم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے معاویہ بن قرہ اور قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی گھرانے کا غلام اسی کا ایک فرد ہوتا ہے“ «أو كما قال.» ۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا معاوية بن قرة، وقتادة، عن انس بن مالك رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " مولى القوم من انفسهم ". او كما قال
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی گھرانے کا بھانجا اس کا ایک فرد ہے۔“ ( «منهم .» یا «من أنفسهم» کے الفاظ فرمائے ) ۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن انس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ابن اخت القوم منهم ". او " من انفسهم