احادیث
#6749
صحیح بخاری - Laws of Inheritance
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ عتبہ اپنے بھائی سعد رضی اللہ عنہ کو وصیت کر گیا تھا کہ زمعہ کی کنیز کا لڑکا میرا ہے اور اسے اپنی پرورش میں لے لینا۔ فتح مکہ کے سال سعد رضی اللہ عنہ نے اسے لینا چاہا اور کہا کہ میرے بھائی کا لڑکا ہے اور اس نے مجھے اس کے بارے میں وصیت کی تھی۔ اس پر عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ یہ میرا بھائی ہے اور میرے باپ کی لونڈی کا لڑکا ہے، اس کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ آخر یہ دونوں یہ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تو سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ!، یہ میرے بھائی کا لڑکا ہے اس نے اس کے بارے میں مجھے وصیت کی تھی۔ عبد بن زمعہ نے کہا کہ یہ میرا بھائی ہے، میرے باپ کی باندی کا لڑکا اور باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عبد بن زمعہ! یہ تمہارے پاس رہے گا، لڑکا بستر کا حق ہے اور زانی کے حصہ میں پتھر ہیں۔ پھر سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ اس لڑکے سے پردہ کیا کر کیونکہ عتبہ کے ساتھ اس کی شباہت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھ لی تھی۔ چنانچہ پھر اس لڑکے نے ام المؤمنین کو اپنی وفات تک نہیں دیکھا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها قالت كان عتبة عهد الى اخيه سعد ان ابن وليدة زمعة مني، فاقبضه اليك. فلما كان عام الفتح اخذه سعد فقال ابن اخي عهد الى فيه. فقام عبد بن زمعة فقال اخي وابن وليدة ابي، ولد على فراشه. فتساوقا الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال سعد يا رسول الله ابن اخي قد كان عهد الى فيه. فقال عبد بن زمعة اخي وابن وليدة ابي، ولد على فراشه. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " هو لك يا عبد بن زمعة، الولد للفراش وللعاهر الحجر ". ثم قال لسودة بنت زمعة " احتجبي منه ". لما راى من شبهه بعتبة، فما راها حتى لقي الله
Metadata
- Edition
- صحیح بخاری
- Book
- Laws of Inheritance
- Hadith Index
- #6749
- Book Index
- 26
Grades
- -
