Loading...

Loading...
کتب
۴۹ احادیث
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عدی نے، ان سے ابوحازم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے مال چھوڑا ( اپنی موت کے بعد ) وہ اس کے وارثوں کا ہے اور جس نے قرض چھوڑا ہے وہ ہمارے ذمہ ہے۔“
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، عن عدي، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من ترك مالا فلورثته، ومن ترك كلا فالينا
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے علی بن حسین نے بیان کیا، ان سے عمر بن عثمان نے بیان کیا اور ان سے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مسلمان باپ کافر بیٹے کا وارث نہیں ہوتا اور نہ کافر بیٹا مسلمان باپ کا۔“
حدثنا ابو عاصم، عن ابن جريج، عن ابن شهاب، عن علي بن حسين، عن عمرو بن عثمان، عن اسامة بن زيد رضى الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يرث المسلم الكافر، ولا الكافر المسلم
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہا کا ایک لڑکے کے بارے میں جھگڑا ہوا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا لڑکا ہے، اس نے مجھے وصیت کی تھی کہ یہ اس کا لڑکا ہے آپ اس کی مشابہت اس میں دیکھئیے اور عبد بن زمعہ نے کہا کہ میرا بھائی ہے یا رسول اللہ! میرے والد کے بستر پر ان کی لونڈی سے پیدا ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکے کی صورت دیکھی تو اس کی عتبہ کے ساتھ صاف مشابہت واضح تھی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عبد! لڑکا بستر والے کا ہوتا ہے اور زانی کے حصہ میں پتھر ہیں اور اے سودہ بنت زمعہ! ( ام المؤمنین رضی اللہ عنہا ) اس لڑکے سے پردہ کیا کر چنانچہ پھر اس لڑکے نے ام المؤمنین کو نہیں دیکھا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها انها قالت اختصم سعد بن ابي وقاص وعبد بن زمعة في غلام فقال سعد هذا يا رسول الله ابن اخي عتبة بن ابي وقاص عهد الى انه ابنه، انظر الى شبهه. وقال عبد بن زمعة هذا اخي يا رسول الله، ولد على فراش ابي من وليدته. فنظر رسول الله صلى الله عليه وسلم الى شبهه فراى شبها بينا بعتبة فقال " هو لك يا عبد، الولد للفراش وللعاهر الحجر، واحتجبي منه يا سودة بنت زمعة ". قالت فلم ير سودة قط
حدثنا مسدد، حدثنا خالد هو ابن عبد الله حدثنا خالد، عن ابي عثمان، عن سعد رضى الله عنه قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " من ادعى الى غير ابيه، وهو يعلم انه غير ابيه، فالجنة عليه حرام ". فذكرته لابي بكرة فقال وانا سمعته اذناى، ووعاه، قلبي من رسول الله صلى الله عليه وسلم
حدثنا مسدد، حدثنا خالد هو ابن عبد الله حدثنا خالد، عن ابي عثمان، عن سعد رضى الله عنه قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " من ادعى الى غير ابيه، وهو يعلم انه غير ابيه، فالجنة عليه حرام ". فذكرته لابي بكرة فقال وانا سمعته اذناى، ووعاه، قلبي من رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے اصبغ بن الفرج نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ کو عمرو نے خبر دی، انہیں جعفر بن ربیعہ نے، انہیں عراک نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اپنے باپ کا کوئی انکار نہ کرے کیونکہ جو اپنے باپ سے منہ موڑتا ہے ( اور اپنے کو دوسرے کا بیٹا ظاہر کرتا ہے تو ) یہ کفر ہے۔“
حدثنا اصبغ بن الفرج، حدثنا ابن وهب، اخبرني عمرو، عن جعفر بن ربيعة، عن عراك، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا ترغبوا عن ابايكم، فمن رغب عن ابيه فهو كفر
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا کہ ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دو عورتیں تھیں اور ان کے ساتھ ان کے دو بچے بھی تھے، پھر بھیڑیا آیا اور ایک بچے کو اٹھا کر لے گیا اس نے اپنی ساتھی عورت سے کہا کہ بھیڑیا تیرے بچے کو لے گیا ہے، دوسری عورت نے کہا کہ وہ تو تیرا بچہ لے گیا ہے۔ وہ دونوں عورتیں اپنا مقدمہ داؤد علیہ السلام کے پاس لائیں تو آپ نے فیصلہ بڑی کے حق میں کر دیا۔ وہ دونوں نکل کر سلیمان بن داؤد علیہما السلام کے پاس گئیں اور انہیں واقعہ کی اطلاع دی۔ سلیمان علیہ السلام نے کہا کہ چھری لاؤ میں لڑکے کے دو ٹکڑے کر کے دونوں کو ایک ایک دوں گا۔ اس پر چھوٹی عورت بول اٹھی کہ ایسا نہ کیجئے آپ پر اللہ رحم کرے، یہ بڑی ہی کا لڑکا ہے لیکن آپ علیہ السلام نے فیصلہ چھوٹی عورت کے حق میں کیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ واللہ! میں نے «سكين» چھری کا لفظ سب سے پہلی مرتبہ ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ) اس دن سنا تھا اور ہم اس کے لیے ( اپنے قبیلہ میں ) «مدية.» کا لفظ بولتے تھے۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، قال حدثنا ابو الزناد، عن عبد الرحمن، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " كانت امراتان معهما ابناهما، جاء الذيب فذهب بابن احداهما فقالت لصاحبتها انما ذهب بابنك. وقالت الاخرى انما ذهب بابنك. فتحاكمتا الى داود عليه السلام فقضى به للكبرى، فخرجتا على سليمان بن داود عليهما السلام فاخبرتاه فقال ايتوني بالسكين اشقه بينهما. فقالت الصغرى لا تفعل يرحمك الله. هو ابنها. فقضى به للصغرى ". قال ابو هريرة والله ان سمعت بالسكين قط الا يوميذ، وما كنا نقول الا المدية
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں ایک مرتبہ بہت خوش خوش تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ چمک رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم نے نہیں دیکھا، مجزز ( ایک قیافہ شناس ) نے ابھی ابھی زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے ( صرف پاؤں دیکھے ) اور کہا کہ یہ پاؤں ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں۔“
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها قالت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل على مسرورا تبرق اسارير وجهه فقال " الم ترى ان مجززا نظر انفا الى زيد بن حارثة واسامة بن زيد، فقال ان هذه الاقدام بعضها من بعض
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے عروہ نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش تھے اور فرمایا ”عائشہ! تم نے دیکھا نہیں، مجزز مدلجی آیا اور اس نے اسامہ اور زید ( رضی اللہ عنہما ) کو دیکھا، دونوں کے جسم پر ایک چادر تھی، جس نے دونوں کے سروں کو ڈھک لیا تھا اور ان کے صرف پاؤں کھلے ہوئے تھے تو اس نے کہا کہ یہ پاؤں ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں۔“
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، قالت دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم وهو مسرور فقال " يا عايشة الم ترى ان مجززا المدلجي دخل فراى اسامة وزيدا وعليهما قطيفة، قد غطيا رءوسهما وبدت اقدامهما، فقال ان هذه الاقدام بعضها من بعض