Loading...

Loading...
کتب
۲۷ احادیث
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا مجھ کو سلیمان اعمش نے خبر دی، کہا کہ میں نے زید بن وہب سے سنا، ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان سنایا اور آپ سچوں کے سچے تھے اور آپ کی سچائی کی زبردست گواہی دی گئی۔ فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص پہلے اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفہ ہی رکھا جاتا ہے۔ پھر اتنی ہی مدت میں «علقة» یعنی خون کی پھٹکی ( بستہ خون ) بنتا ہے پھر اتنے ہی عرصہ میں «مضغة» ( یعنی گوشت کا لوتھڑا ) پھر چار ماہ بعد اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجتا ہے اور اس کے بارے میں ( ماں کے پیٹ ہی میں ) چار باتوں کے لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ اس کی روزی کا، اس کی موت کا، اس کا کہ وہ بدبخت ہے یا نیک بخت۔ پس واللہ، تم میں سے ایک شخص دوزخ والوں کے سے کام کرتا رہتا ہے اور جب اس کے اور دوزخ کے درمیان صرف ایک بالشت کا فاصلہ یا ایک ہاتھ کا فاصلہ باقی رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر اس پر غالب آتی ہے اور وہ جنت والوں کے سے کام کرنے لگتا ہے اور جنت میں جاتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص جنت والوں کے سے کام کرتا رہتا ہے اور جب اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ باقی رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر اس پر غالب آتی ہے اور وہ دوزخ والوں کے کام کرنے لگتا ہے اور دوزخ میں جاتا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ آدم بن ابی ایاس نے اپنی روایت میں یوں کہا کہ جب ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے۔
حدثنا ابو الوليد، هشام بن عبد الملك حدثنا شعبة، انباني سليمان الاعمش، قال سمعت زيد بن وهب، عن عبد الله، قال حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو الصادق المصدوق قال " ان احدكم يجمع في بطن امه اربعين يوما، ثم علقة مثل ذلك، ثم يكون مضغة مثل ذلك، ثم يبعث الله ملكا فيومر باربع برزقه، واجله، وشقي، او سعيد، فوالله ان احدكم او الرجل يعمل بعمل اهل النار، حتى ما يكون بينه وبينها غير باع او ذراع، فيسبق عليه الكتاب، فيعمل بعمل اهل الجنة، فيدخلها، وان الرجل ليعمل بعمل اهل الجنة، حتى ما يكون بينه وبينها غير ذراع او ذراعين، فيسبق عليه الكتاب، فيعمل بعمل اهل النار، فيدخلها ". قال ادم الا ذراع
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن ابوبکر بن انس نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ نے رحم مادر پر ایک فرشتہ مقرر کر دیا ہے اور وہ کہتا رہتا ہے کہ اے رب! یہ «نطفة» قرار پایا ہے۔ اے رب! اب «علقة» یعنی جما ہوا خون بن گیا ہے۔ اے رب! اب «مضغة.» ( گوشت کا لوتھڑا ) بن گیا ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کی پیدائش پوری کرے تو وہ پوچھتا ہے اے رب لڑکا ہے یا لڑکی؟ نیک ہے یا برا؟ اس کی روزی کیا ہو گی؟ اس کی موت کب ہو گی؟ اسی طرح یہ سب باتیں ماں کے پیٹ ہی میں لکھ دی جاتی ہیں، دنیا میں اسی کے مطابق ظاہر ہوتا ہے۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد، عن عبيد الله بن ابي بكر بن انس، عن انس بن مالك رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " وكل الله بالرحم ملكا فيقول اى رب نطفة، اى رب علقة، اى رب مضغة. فاذا اراد الله ان يقضي خلقها قال اى رب ذكر ام انثى اشقي ام سعيد فما الرزق فما الاجل فيكتب كذلك في بطن امه
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید رشک نے بیان کیا، انہوں نے مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے سنا، وہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے، انہوں نے کہا کہ ایک صاحب نے ( یعنی خود انہوں نے ) عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا جنت کے لوگ جہنمیوں میں سے پہچانے جا چکے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں“ انہوں نے کہا کہ پھر عمل کرنے والے کیوں عمل کریں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر شخص وہی عمل کرتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے یا جس کے لیے اسے سہولت دی گئی ہے۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا يزيد الرشك، قال سمعت مطرف بن عبد الله بن الشخير، يحدث عن عمران بن حصين، قال قال رجل يا رسول الله ايعرف اهل الجنة من اهل النار قال " نعم ". قال فلم يعمل العاملون قال "كل يعمل لما خلق له او لما يسر له
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کو خوب معلوم ہے کہ وہ ( بڑے ہو کر ) کیا عمل کرتے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن ابي بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال سيل النبي صلى الله عليه وسلم عن اولاد المشركين فقال " الله اعلم بما كانوا عاملين
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے عطا بن یزید نے خبر دی، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن يونس، عن ابن شهاب، قال واخبرني عطاء بن يزيد، انه سمع ابا هريرة، يقول سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذراري المشركين فقال {الله اعلم بما كانوا عاملين}
حدثني اسحاق، اخبرنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن همام، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من مولود الا يولد على الفطرة، فابواه يهودانه وينصرانه، كما تنتجون البهيمة، هل تجدون فيها من جدعاء حتى تكونوا انتم تجدعونها ". قالوا يا رسول الله افرايت من يموت وهو صغير قال {الله اعلم بما كانوا عاملين}
حدثني اسحاق، اخبرنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن همام، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من مولود الا يولد على الفطرة، فابواه يهودانه وينصرانه، كما تنتجون البهيمة، هل تجدون فيها من جدعاء حتى تكونوا انتم تجدعونها ". قالوا يا رسول الله افرايت من يموت وهو صغير قال {الله اعلم بما كانوا عاملين}
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابوالزناد نے، انہیں اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی عورت اپنی کسی ( دینی ) بہن کی طلاق کا مطالبہ ( شوہر سے ) نہ کرے کہ اس کے گھر کو اپنے ہی لیے خاص کر لینا چاہے۔ بلکہ اسے نکاح ( دوسری عورت کی موجودگی میں بھی ) کر لینا چاہئے کیونکہ اسے اتنا ہی ملے گا جتنا اس کے مقدر میں ہو گا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تسال المراة طلاق اختها لتستفرغ صحفتها، ولتنكح، فان لها ما قدر لها
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے عاصم نے، ان سے ابوعثمان نے اور ان سے اسامہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیوں میں سے ایک کا بلاوا آیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سعد، ابی بن کعب اور معاذ رضی اللہ عنہم موجود تھے۔ بلانے والے نے آ کر کہا کہ ان کا بچہ ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نواسہ ) نزع کی حالت میں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہلا بھیجا کہ اللہ ہی کا ہے جو وہ لیتا ہے، اس لیے وہ صبر کریں اور اللہ سے اجر کی امید رکھیں۔
حدثنا مالك بن اسماعيل، حدثنا اسراييل، عن عاصم، عن ابي عثمان، عن اسامة، قال كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم اذ جاءه رسول احدى بناته وعنده سعد وابى بن كعب ومعاذ ان ابنها يجود بنفسه. فبعث اليها " لله ما اخذ، ولله ما اعطى، كل باجل، فلتصبر ولتحتسب
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو یونس نے خبر دی، انہیں زہری نے کہا کہ ہم کو عبداللہ بن محیریز جمحی نے خبر دی، انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ قبیلہ انصار کا ایک آدمی آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم لونڈیوں سے ہمبستری کرتے ہیں اور مال سے محبت کرتے ہیں۔ آپ کا عزل کے بارے میں کیا خیال ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا تم ایسا کرتے ہو، تمہارے لیے کچھ قباحت نہیں اگر تم ایسا نہ کرو، کیونکہ جس جان کی بھی پیدائش اللہ نے لکھ دی ہے وہ ضرور پیدا ہو کر رہے گی۔
حدثنا حبان بن موسى، اخبرنا عبد الله، اخبرنا يونس، عن الزهري، قال اخبرني عبد الله بن محيريز الجمحي، ان ابا سعيد الخدري، اخبره انه، بينما هو جالس عند النبي صلى الله عليه وسلم جاء رجل من الانصار فقال يا رسول الله انا نصيب سبيا ونحب المال، كيف ترى في العزل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اوانكم تفعلون ذلك، لا عليكم ان لا تفعلوا، فانه ليست نسمة كتب الله ان تخرج الا هي كاينة
ہم سے موسیٰ بن مسعود نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابووائل نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک خطبہ دیا اور قیامت تک کوئی ( دینی ) چیز ایسی نہیں چھوڑی جس کا بیان نہ کیا ہو، جسے یاد رکھنا تھا اس نے یاد رکھا اور جسے بھولنا تھا وہ بھول گیا، جب میں ان کی کوئی چیز دیکھتا ہوں جسے میں بھول چکا ہوں تو اس طرح اسے پہچان لیتا ہوں جس طرح وہ شخص جس کی کوئی چیز گم ہو گئی ہو کہ جب وہ اسے دیکھتا ہے تو فوراً پہچان لیتا ہے۔
حدثنا موسى بن مسعود، حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن حذيفة رضى الله عنه قال لقد خطبنا النبي صلى الله عليه وسلم خطبة، ما ترك فيها شييا الى قيام الساعة الا ذكره، علمه من علمه، وجهله من جهله، ان كنت لارى الشىء قد نسيت، فاعرف ما يعرف الرجل اذا غاب عنه فراه فعرفه
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ نے، ان سے اعمش نے، ان سے سعد بن عبیدہ نے، ان سے ابوعبدالرحمٰن سلمی نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ زمین کرید رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اسی اثناء میں ) فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص کا جہنم کا یا جنت کا ٹھکانا لکھا جا چکا ہے، ایک مسلمان نے اس پر عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر کیوں نہ ہم اس پر بھروسہ کر لیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں عمل کرو کیونکہ ہر شخص ( اپنی تقدیر کے مطابق ) عمل کی آسانی پاتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «فأما من أعطى واتقى» الآیہ پس جس نے راہ للہ دیا اور تقویٰ اختیار کیا… الخ۔
حدثنا عبدان، عن ابي حمزة، عن الاعمش، عن سعد بن عبيدة، عن ابي عبد الرحمن السلمي، عن علي رضى الله عنه قال كنا جلوسا مع النبي صلى الله عليه وسلم ومعه عود ينكت في الارض وقال " ما منكم من احد الا قد كتب مقعده من النار او من الجنة ". فقال رجل من القوم الا نتكل يا رسول الله قال " لا اعملوا فكل ميسر " ثم قرا {فاما من اعطى واتقى} الاية
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی لڑائی میں موجود تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے بارے میں جو آپ کے ساتھ شریک جہاد تھا اور اسلام کا دعویدار تھا فرمایا کہ یہ جہنمی ہے۔ جب جنگ ہونے لگی تو اس شخص نے بہت جم کر لڑائی میں حصہ لیا اور بہت زیادہ زخمی ہو گیا پھر بھی وہ ثابت قدم رہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی نے آ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! اس شخص کے بارے میں آپ کو معلوم ہے جس کے بارے میں ابھی آپ نے فرمایا تھا کہ وہ جہنمی ہے وہ تو اللہ کے راستے میں بہت جم کر لڑا ہے اور بہت زیادہ زخمی ہو گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اب بھی یہی فرمایا کہ وہ جہنمی ہے۔ ممکن تھا کہ بعض مسلمان شبہ میں پڑ جاتے لیکن اس عرصہ میں اس شخص نے زخموں کی تاب نہ لا کر اپنا ترکش کھولا اور اس میں سے ایک تیر نکال کر اپنے آپ کو ذبح کر لیا۔ پھر بہت سے مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوڑتے ہوئے پہنچے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے آپ کی بات سچ کر دکھائی۔ اس شخص نے اپنے آپ کو ہلاک کر کے اپنی جان خود ہی ختم کر ڈالی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر فرمایا کہ اے بلال! اٹھو اور لوگوں میں اعلان کر دو کہ جنت میں صرف مومن ہی داخل ہو گا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اس دین کی خدمت و مدد بےدین آدمی سے بھی کراتا ہے۔
حدثنا حبان بن موسى، اخبرنا عبد الله، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال شهدنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم خيبر فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لرجل ممن معه يدعي الاسلام " هذا من اهل النار ". فلما حضر القتال قاتل الرجل من اشد القتال، وكثرت به الجراح فاثبتته، فجاء رجل من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله ارايت الذي تحدثت انه من اهل النار قد قاتل في سبيل الله من اشد القتال، فكثرت به الجراح. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اما انه من اهل النار ". فكاد بعض المسلمين يرتاب فبينما هو على ذلك اذ وجد الرجل الم الجراح فاهوى بيده الى كنانته، فانتزع منها سهما فانتحر بها، فاشتد رجال من المسلمين الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا يا رسول الله صدق الله حديثك، قد انتحر فلان فقتل نفسه. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا بلال قم فاذن، لا يدخل الجنة الا مومن، وان الله ليويد هذا الدين بالرجل الفاجر
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوغسان نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ ایک شخص جو مسلمانوں کی طرف سے بڑی بہادری سے لڑ رہا تھا اور اس غزوہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور فرمایا کہ جو کسی جہنمی شخص کو دیکھنا چاہتا ہے وہ اس شخص کو دیکھ لے چنانچہ وہ شخص جب اسی طرح لڑنے میں مصروف تھا اور مشرکین کو اپنی بہادری کی وجہ سے سخت تر تکالیف میں مبتلا کر رہا تھا تو ایک مسلمان اس کے پیچھے پیچھے چلا، آخر وہ شخص زخمی ہو گیا اور جلدی سے مر جانا چاہا، اس لیے اس نے اپنی تلوار کی دھار اپنے سینے پر لگا لی اور تلوار اس کے شانوں کو پار کرتی ہوئی نکل گئی۔ اس کے بعد پیچھا کرنے والا شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوڑتا ہوا حاضر ہوا اور عرض کیا، میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بات کیا ہے؟ ان صاحب نے کہا کہ آپ نے فلاں شخص کے بارے میں فرمایا تھا کہ جو کسی جہنمی کو دیکھنا چاہتا ہے وہ اس شخص کو دیکھ لے حالانکہ وہ شخص مسلمانوں کی طرف سے بڑی بہادری سے لڑ رہا تھا۔ میں سمجھا کہ وہ اس حالت میں نہیں مرے گا۔ لیکن جب وہ زخمی ہو گیا تو جلدی سے مر جانے کی خواہش میں اس نے خودکشی کر لی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ دوزخیوں کے سے کام کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ جنتی ہوتا ہے ( اسی طرح دوسرا بندہ ) جنتیوں کے کام کرتا رہتا ہے حالانکہ وہ دوزخی ہوتا ہے، بلاشبہ عملوں کا اعتبار خاتمہ پر ہے۔
حدثنا سعيد بن ابي مريم، حدثنا ابو غسان، حدثني ابو حازم، عن سهل، ان رجلا، من اعظم المسلمين غناء عن المسلمين في غزوة غزاها مع النبي صلى الله عليه وسلم فنظر النبي صلى الله عليه وسلم فقال " من احب ان ينظر الى الرجل من اهل النار فلينظر الى هذا ". فاتبعه رجل من القوم، وهو على تلك الحال من اشد الناس على المشركين، حتى جرح فاستعجل الموت، فجعل ذبابة سيفه بين ثدييه حتى خرج من بين كتفيه فاقبل الرجل الى النبي صلى الله عليه وسلم مسرعا فقال اشهد انك رسول الله. فقال " وما ذاك ". قال قلت لفلان " من احب ان ينظر الى رجل من اهل النار فلينظر اليه ". وكان من اعظمنا غناء عن المسلمين، فعرفت انه لا يموت على ذلك فلما جرح استعجل الموت فقتل نفسه. فقال النبي صلى الله عليه وسلم عند ذلك " ان العبد ليعمل عمل اهل النار، وانه من اهل الجنة، ويعمل عمل اهل الجنة، وانه من اهل النار، وانما الاعمال بالخواتيم
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے منصور بن معتمر نے، ان سے عبداللہ بن مرہ نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر ماننے سے منع کیا تھا اور فرمایا تھا کہ نذر کسی چیز کو نہیں لوٹاتی، نذر صرف بخیل کے دل سے پیسہ نکالتی ہے۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا سفيان، عن منصور، عن عبد الله بن مرة، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن النذر قال " انه لا يرد شييا، وانما يستخرج به من البخيل
ہم سے بشر بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ہمام بن منبہ نے، انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نذر ( منت ) انسان کو کوئی چیز نہیں دیتی جو میں ( رب ) نے اس کی تقدیر میں نہ لکھی ہو بلکہ وہ تقدیر دیتی ہے جو میں ( رب ) نے اس کے لیے مقرر کر دی ہے، البتہ اس کے ذریعہ میں بخیل کا مال نکلوا لیتا ہوں۔
حدثنا بشر بن محمد، اخبرنا عبد الله، اخبرنا معمر، عن همام بن منبه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا ياتي ابن ادم النذر بشىء لم يكن قد قدرته، ولكن يلقيه القدر وقد قدرته له، استخرج به من البخيل
مجھ سے ابوالحسن محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو خالد حذاء نے خبر دی، انہیں ابوعثمان نہدی نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے اور جب بھی ہم کسی بلندی پر چڑھتے یا کسی نشیبی علاقہ میں اترتے تو تکبیر بلند آواز سے کہتے۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے قریب آئے اور فرمایا ”اے لوگو! اپنے آپ پر رحم کرو، کیونکہ تم کسی بہرے یا غیر موجود کو نہیں پکارتے بلکہ تم اس ذات کو پکارتے ہو جو بہت زیادہ سننے والا بڑا دیکھنے والا ہے۔“ پھر فرمایا: اے عبداللہ بن قیس! ( ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ) کیا میں تمہیں ایک کلمہ نہ سکھا دوں جو جنت کے خزانوں میں سے ہے۔ ( وہ کلمہ ہے ) «لا حول ولا قوة إلا بالله» یعنی طاقت و قوت اللہ کے سوا اور کسی کے پاس نہیں۔
حدثني محمد بن مقاتل ابو الحسن، اخبرنا عبد الله، اخبرنا خالد الحذاء، عن ابي عثمان النهدي، عن ابي موسى، قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزاة فجعلنا لا نصعد شرفا، ولا نعلو شرفا، ولا نهبط في واد، الا رفعنا اصواتنا بالتكبير قال فدنا منا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " يا ايها الناس اربعوا على انفسكم فانكم لا تدعون اصم ولا غايبا انما تدعون سميعا بصيرا ". ثم قال " يا عبد الله بن قيس، الا اعلمك كلمة هي من كنوز الجنة، لا حول ولا قوة الا بالله
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو یونس نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابوسلمہ نے بیان کیا، ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب بھی کوئی شخص حاکم ہوتا ہے تو اس کے صلاح کار اور مشیر دو طرح کے ہوتے ہیں ایک تو وہ جو اسے نیکی اور بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور اس پر ابھارتے رہتے ہیں اور دوسرے وہ جو اسے برائی کا حکم دیتے ہیں اور اس پر اسے ابھارتے رہتے ہیں اور معصوم وہ ہے جسے اللہ محفوظ رکھے۔“
حدثنا عبدان، اخبرنا عبد الله، اخبرنا يونس، عن الزهري، قال حدثني ابو سلمة، عن ابي سعيد الخدري، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما استخلف خليفة الا له بطانتان بطانة تامره بالخير وتحضه عليه، وبطانة تامره بالشر وتحضه عليه، والمعصوم من عصم الله
مجھ سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ابن طاؤس نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ یہ جو «لمم» کا لفظ قرآن میں آیا ہے تو میں «لمم» کے مشابہ اس بات سے زیادہ کوئی بات نہیں جانتا جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے زنا کا کوئی نہ کوئی حصہ لکھ دیا ہے جس سے اسے لامحالہ گزرنا ہے، پس آنکھ کا زنا ( غیرمحرم کو ) دیکھنا ہے، زبان کا زنا غیرمحرم سے گفتگو کرنا ہے، دل کا زنا خواہش اور شہوت ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق کر دیتی ہے یا اسے جھٹلا دیتی ہے۔ اور شبابہ نے بیان کیا کہ ہم سے ورقاء نے بیان کیا، ان سے ابن طاؤس نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر اس حدیث کو نقل کیا۔
حدثني محمود بن غيلان، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن ابن طاوس، عن ابيه، عن ابن عباس، قال ما رايت شييا اشبه باللمم مما قال ابو هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم " ان الله كتب على ابن ادم حظه من الزنا، ادرك ذلك لا محالة، فزنا العين النظر، وزنا اللسان المنطق، والنفس تمنى وتشتهي، والفرج يصدق ذلك، ويكذبه ". وقال شبابة حدثنا ورقاء، عن ابن طاوس، عن ابيه، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت «وما جعلنا الرؤيا التي أريناك إلا فتنة للناس» ”اور وہ رؤیا جو ہم نے تمہیں دکھایا ہے اسے ہم نے صرف لوگوں کے لیے آزمائش بنایا ہے۔“ کے متعلق کہا کہ اس سے مراد آنکھ کا دیکھنا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس معراج کی رات دکھایا گیا تھا۔ جب آپ کو بیت المقدس تک رات کو لے جایا گیا تھا، کہا کہ قرآن مجید میں «الشجرة الملعونة» سے مراد «زقوم.» کا درخت ہے۔
حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا عمرو، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما {وما جعلنا الرويا التي اريناك الا فتنة للناس} قال هي رويا عين اريها رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة اسري به الى بيت المقدس. قال {والشجرة الملعونة في القران} قال هي شجرة الزقوم