Loading...

Loading...
کتب
۲۷ احادیث
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ ہم نے عمرو سے اس حدیث کو یاد کیا، ان سے طاؤس نے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”آدم اور موسیٰ نے مباحثہ کیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے آدم علیہ السلام سے کہا: آدم! آپ ہمارے باپ ہیں مگر آپ ہی نے ہمیں محروم کیا اور جنت سے نکالا۔ آدم علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا موسیٰ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ہم کلامی کے لیے برگزیدہ کیا اور اپنے ہاتھ سے آپ کے لیے تورات کو لکھا۔ کیا آپ مجھے ایک ایسے کام پر ملامت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے پیدا کرنے سے چالیس سال پہلے میری تقدیر میں لکھ دیا تھا۔ آخر آدم علیہ السلام بحث میں موسیٰ علیہ السلام پر غالب آئے۔ تین مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ فرمایا۔ سفیان نے اسی اسناد سے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر یہی حدیث نقل کی۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال حفظناه من عمرو عن طاوس، سمعت ابا هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " احتج ادم وموسى، فقال له موسى يا ادم انت ابونا خيبتنا واخرجتنا من الجنة. قال له ادم يا موسى اصطفاك الله بكلامه، وخط لك بيده، اتلومني على امر قدر الله على قبل ان يخلقني باربعين سنة. فحج ادم موسى، فحج ادم موسى " ثلاثا. قال سفيان حدثنا ابو الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، کہا ہم سے فلیح نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدہ بن ابی لبابہ نے بیان کیا، ان سے مغیرہ بن شعبہ کے غلام وردا نے بیان کیا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو لکھا مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ دعا لکھ کر بھیجو جو تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے بعد کرتے سنی ہے۔ چنانچہ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ کو لکھوایا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد یہ دعا کیا کرتے تھے «اللهم لا مانع لما أعطيت، ولا معطي لما منعت، ولا ينفع ذا الجد منك الجد» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اے اللہ! جو تو دینا چاہے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روکنا چاہے اسے کوئی دینے والا نہیں اور تیرے سامنے دولت والے کی دولت کچھ کام نہیں دے سکتی۔ اور ابن جریج نے کہا کہ مجھ کو عبدہ نے خبر دی اور انہیں وردا نے خبر دی، پھر اس کے بعد میں معاویہ رضی اللہ عنہ کے یہاں گیا تو میں نے دیکھا کہ وہ لوگوں کو اس دعا کے پڑھنے کا حکم دے رہے تھے۔
حدثنا محمد بن سنان، حدثنا فليح، حدثنا عبدة بن ابي لبابة، عن وراد، مولى المغيرة بن شعبة قال كتب معاوية الى المغيرة اكتب الى ما سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول خلف الصلاة. فاملى على المغيرة قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول خلف الصلاة " لا اله الا الله، وحده لا شريك له، اللهم لا مانع لما اعطيت، ولا معطي لما منعت، ولا ينفع ذا الجد منك الجد ". وقال ابن جريج اخبرني عبدة ان ورادا اخبره بهذا. ثم وفدت بعد الى معاوية فسمعته يامر الناس بذلك القول
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے سمی نے بیان کیا، ان سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ سے پناہ مانگا کرو آزمائش کی مشقت، بدبختی کی پستی، برے خاتمے اور دشمن کے ہنسنے سے۔
حدثنا مسدد، حدثنا سفيان، عن سمى، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " تعوذوا بالله من جهد البلاء، ودرك الشقاء، وسوء القضاء، وشماتة الاعداء
ہم سے ابوالحسن محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو موسیٰ بن عقبہ نے خبر دی، ان سے سالم نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اکثر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قسم کھایا کرتے تھے کہ نہیں! دلوں کو پھیرنے والے کی قسم۔
حدثنا محمد بن مقاتل ابو الحسن، اخبرنا عبد الله، اخبرنا موسى بن عقبة، عن سالم، عن عبد الله، قال كثيرا مما كان النبي صلى الله عليه وسلم يحلف (لا ومقلب القلوب)
ہم سے علی بن حفص اور بشر بن محمد نے بیان کیا، ان دونوں نے کہا کہ عبداللہ نے ہمیں خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سالم نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد سے فرمایا کہ میں نے تیرے لیے ایک بات دل میں چھپا رکھی ہے ( بتا وہ کیا ہے؟ ) اس نے کہا کہ ”دھواں“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بدبخت! اپنی حیثیت سے آگے نہ بڑھ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: آپ مجھے اجازت دیں تو میں اس کی گردن مار دوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو، اگر یہ وہی ( دجال ) ہوا تو تم اس پر قابو نہیں پا سکتے اور اگر یہ وہ نہ ہوا تو اسے قتل کرنے میں تمہارے لیے کوئی بھلائی نہیں۔
حدثنا علي بن حفص، وبشر بن محمد، قالا اخبرنا عبد الله، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال قال النبي صلى الله عليه وسلم لابن صياد " خبات لك خبييا ". قال الدخ. قال " اخسا فلن تعدو قدرك ". قال عمر ايذن لي فاضرب عنقه. قال " دعه، ان يكن هو فلا تطيقه، وان لم يكن هو فلا خير لك في قتله
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ کو نضر نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے داؤد بن ابی الفرات نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن بریدہ نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن یعمر نے بیان کیا اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے طاعون کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ عذاب تھا اور اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے اسے بھیجتا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسے مومنوں کے لیے رحمت بنا دیا، کوئی بھی بندہ اگر کسی ایسے شہر میں ہے جس میں طاعون کی وبا پھوٹی ہوئی ہے اور اس میں ٹھہرا ہے اور اس شہر سے بھاگا نہیں صبر کئے ہوئے ہے اور اس پر اجر کا امیدوار ہے اور یقین رکھتا ہے کہ اس تک صرف وہی چیز پہنچ سکتی ہے جو اللہ نے اس کی تقدیر میں لکھ دی ہے تو اسے شہید کے برابر ثواب ملے گا۔
حدثني اسحاق بن ابراهيم الحنظلي، اخبرنا النضر، حدثنا داود بن ابي الفرات، عن عبد الله بن بريدة، عن يحيى بن يعمر، ان عايشة رضى الله عنها اخبرته انها، سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الطاعون فقال " كان عذابا يبعثه الله على من يشاء، فجعله الله رحمة للمومنين، ما من عبد يكون في بلد يكون فيه، ويمكث فيه، لا يخرج من البلد، صابرا محتسبا، يعلم انه لا يصيبه الا ما كتب الله له، الا كان له مثل اجر شهيد
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو جریر نے خبر دی جو ابن حازم ہیں، انہیں ابواسحاق نے، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے غزوہ خندق کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ہمارے ساتھ مٹی اٹھا رہے تھے اور یہ کہتے جاتے تھے۔ ”واللہ، اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پا سکتے۔ نہ روزہ رکھ سکتے اور نہ نماز پڑھ سکتے۔ پس اے اللہ! ہم پر سکینت نازل فرما۔ اور جب سامنا ہو تو ہمیں ثابت قدم رکھ۔ اور مشرکین نے ہم پر زیادتی کی ہے۔ جب وہ کسی فتنہ کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم انکار کرتے ہیں۔“
حدثنا ابو النعمان، اخبرنا جرير هو ابن حازم عن ابي اسحاق، عن البراء بن عازب، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم يوم الخندق ينقل معنا التراب وهو يقول " والله لولا الله ما اهتدينا، ولا صمنا ولا صلينا، فانزلن سكينة علينا، وثبت الاقدام ان لاقينا، والمشركون قد بغوا علينا، اذا ارادوا فتنة ابينا