Loading...

Loading...
کتب
۱۸۷ احادیث
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، انہیں عبدالرحمٰن بن اسود نے، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے عمدہ خوشبو لگایا کرتی تھی، یہاں تک کہ خوشبو کی چمک میں آپ کے سر اور آپ کی داڑھی میں دیکھتی تھی۔
حدثنا اسحاق بن نصر، حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا اسراييل، عن ابي اسحاق، عن عبد الرحمن بن الاسود، عن ابيه، عن عايشة، قالت كنت اطيب النبي صلى الله عليه وسلم باطيب ما يجد، حتى اجد وبيص الطيب في راسه ولحيته
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صاحب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیوار کے ایک سوراخ سے گھر کے اندر دیکھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنا سر کنگھے سے کھجلا رہے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم جھانک رہے ہو تو میں تمہاری آنکھ پھوڑ دیتا ارے اذن ( اجازت ) لینا تو اس کے لیے ہے کہ آدمی کی نظر ( کسی کے ) ستر پر نہ پڑے۔
حدثنا ادم بن ابي اياس، حدثنا ابن ابي ذيب، عن الزهري، عن سهل بن سعد، ان رجلا، اطلع من جحر في دار النبي صلى الله عليه وسلم والنبي صلى الله عليه وسلم يحك راسه بالمدرى فقال " لو علمت انك تنظر لطعنت بها في عينك، انما جعل الاذن من قبل الابصار
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے خبر دی، انہیں عروہ بن زبیر نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں حالت حیض کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں کنگھا کرتی تھی۔ ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسی طرح یہ حدیث بیان کی۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير، عن عايشة رضى الله عنها قالت كنت ارجل راس رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا حايض. حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة، مثله
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اشعث بن سلیم نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر کام میں جہاں تک ممکن ہوتا داہنی طرف سے شروع کرنے کو پسند فرماتے تھے، کنگھا کرنے اور وضو کرنے میں بھی۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، عن اشعث بن سليم، عن ابيه، عن مسروق، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه كان يعجبه التيمن ما استطاع في ترجله ووضويه
مجھ سے عبداللہ بن محمد ہمدانی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف صنعانی نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سعید بن المسیب نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ) ابن آدم کا ہر عمل اس کا ہے سوا روزہ کے کہ یہ میرا ہے اور میں خود اس کا بدلہ دوں گا اور روزہ دار کے منہ کے خوشبو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی بڑھ کر ہے۔“
حدثني عبد الله بن محمد، حدثنا هشام، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن ابن المسيب، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " كل عمل ابن ادم له، الا الصوم فانه لي، وانا اجزي به، ولخلوف فم الصايم اطيب عند الله من ريح المسك
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے عثمان بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام کے وقت عمدہ سے عمدہ خوشبو جو مل سکتی تھی، وہ لگاتی۔
حدثنا موسى، حدثنا وهيب، حدثنا هشام، عن عثمان بن عروة، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت كنت اطيب النبي صلى الله عليه وسلم عند احرامه باطيب ما اجد
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عروہ بن ثابت انصاری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ثمامہ بن عبداللہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ ( جب ان کو ) خوشبو ( ہدیہ کی جاتی تو ) آپ وہ واپس نہیں کیا کرتے تھے اور کہتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی خوشبو کو واپس نہیں فرمایا کرتے تھے۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا عزرة بن ثابت الانصاري، قال حدثني ثمامة بن عبد الله، عن انس رضى الله عنه انه كان لا يرد الطيب، وزعم ان النبي صلى الله عليه وسلم كان لا يرد الطيب
ہم سے عثمان بن ہشیم نے بیان کیا یا محمد بن یحییٰ دیلی نے، انہیں عثمان بن ہشیم نے (امام بخاری رحمہ اللہ کو شک ہے) ان سے ابن جریج نے انہوں نے کہا مجھ کو عمر بن عبداللہ بن عروہ بن شہر نے خبر دی، انہوں نے عروہ اور قاسم دونوں سے سنا، وہ دونوں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کرتے تھے کہ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر احرام کھولنے اور احرام باندھنے کے وقت اپنے ہاتھ سے ذریرہ ( ایک قسم کی مرکب ) خوشبو لگائی تھی۔
حدثنا عثمان بن الهيثم، او محمد عنه عن ابن جريج، اخبرني عمر بن عبد الله بن عروة، سمع عروة، والقاسم، يخبران عن عايشة، قالت طيبت رسول الله صلى الله عليه وسلم بيدى بذريرة في حجة الوداع، للحل والاحرام
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے منصور بن معتمر نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ اللہ تعالیٰ نے حسن کے لیے گودنے والیوں، گدوانے والیوں پر اور چہرے کے بال اکھاڑنے والیوں پر اور دانتوں کے درمیان کشادگی پیدا کرنے والیوں پر، جو اللہ کی خلقت کو بدلیں ان سب پر لعنت بھیجی ہے، میں بھی کیوں نہ ان لوگوں پر لعنت کروں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور اس کی دلیل کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لعنت خود قرآن مجید میں موجود ہے۔ آیت «وما آتاكم الرسول فخذوه» ہے۔
حدثنا عثمان، حدثنا جرير، عن منصور، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، لعن الله الواشمات، والمستوشمات، والمتنمصات والمتفلجات للحسن، المغيرات خلق الله تعالى، مالي لا العن من لعن النبي صلى الله عليه وسلم وهو في كتاب الله {وما اتاكم الرسول فخذوه}
ہم سے اسماعیل بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف اور انہوں نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے حج کے سال میں سنا وہ مدینہ منورہ میں منبر پر یہ فرما رہے تھے انہوں نے بالوں کی ایک چوٹی جو ان کے چوکیدار کے ہاتھ میں تھی لے کر کہا کہاں ہیں تمہارے علماء میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ اس طرح بال بنانے سے منع فرما رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ بنی اسرائیل اس وقت تباہ ہو گئے جب ان کی عورتوں نے اس طرح اپنے بال سنوارنے شروع کر دیئے۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن ابن شهاب، عن حميد بن عبد الرحمن بن عوف، انه سمع معاوية بن ابي سفيان، عام حج وهو على المنبر، وهو يقول وتناول قصة من شعر كانت بيد حرسي اين علماوكم سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهى عن مثل هذه ويقول " انما هلكت بنو اسراييل حين اتخذ هذه نساوهم
اور ابن ابی شیبہ نے بیان کیا، ان سے یونس بن محمد نے بیان کیا، ان سے فلیح نے بیان کیا، ان سے زید بن اسلم نے، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سر کے قدرتی بالوں میں مصنوعی بال لگانے والیوں پر اور لگوانے والیوں پر اور گودنے والیوں پر اور گدوانے والیوں پر اللہ نے لعنت بھیجی ہے۔“
وقال ابن ابي شيبة حدثنا يونس بن محمد، حدثنا فليح، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لعن الله الواصلة والمستوصلة، والواشمة والمستوشمة
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا کہ میں نے حسن بن مسلم بن نیاق سے سنا، وہ صفیہ بنت شیبہ سے بیان کرتے تھے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ انصار کی ایک لڑکی نے شادی کی۔ اس کے بعد وہ بیمار ہو گئی اور اس کے سر کے بال جھڑ گئے، اس کے گھر والوں نے چاہا کہ اس کے بالوں میں مصنوعی بال لگا دیں۔ اس لیے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مصنوعی بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی دونوں پر لعنت بھیجی ہے۔ شعبہ کے ساتھ اس حدیث کو محمد بن اسحاق نے بھی ابان بن صالح سے، انہوں نے حسن بن مسلم سے، انہوں نے صفیہ سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، عن عمرو بن مرة، قال سمعت الحسن بن مسلم بن يناق، يحدث عن صفية بنت شيبة، عن عايشة رضى الله عنها ان جارية، من الانصار تزوجت، وانها مرضت فتمعط شعرها، فارادوا ان يصلوها فسالوا النبي صلى الله عليه وسلم فقال " لعن الله الواصلة والمستوصلة ". تابعه ابن اسحاق عن ابان بن صالح عن الحسن عن صفية عن عايشة
مجھ سے احمد بن مقدام نے بیان کیا، کہا ہم سے فضل بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے منصور بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میری والدہ صفیہ بنت شیبہ نے بیان کیا، ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا کہ میں نے اپنی لڑکی کی شادی کی ہے اس کے بعد وہ بیمار ہو گئی اور اس کے سر کے بال جھڑ گئے اور اس کا شوہر مجھ پر اس کے معاملہ میں زور دیتا ہے۔ کیا میں اس کے سر میں مصنوعی بال لگا دوں؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصنوعی بال جوڑنے والیوں اور جڑوانے والیوں کو برا کہا، ان پر لعنت بھیجی۔
حدثني احمد بن المقدام، حدثنا فضيل بن سليمان، حدثنا منصور بن عبد الرحمن، قال حدثتني امي، عن اسماء بنت ابي بكر رضى الله عنهما ان امراة، جاءت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت اني انكحت ابنتي، ثم اصابها شكوى فتمرق راسها، وزوجها يستحثني بها افاصل راسها فسب رسول الله صلى الله عليه وسلم الواصلة والمستوصلة
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کی بیوی فاطمہ نے، ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصنوعی بال لگانے والی اور لگوانے والی پر لعنت بھیجی ہے۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، عن هشام بن عروة، عن امراته، فاطمة عن اسماء بنت ابي بكر، قالت لعن النبي صلى الله عليه وسلم الواصلة والمستوصلة
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو عبیداللہ عمری نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ نے مصنوعی بال جوڑنے والیوں پر، جڑوانے والیوں پر، گودنے والیوں پر اور گدوانے والیوں پر لعنت بھیجی ہے۔“ نافع نے کہا کہ گودنا کبھی مسوڑے پر بھی گودا جاتا ہے۔
حدثني محمد بن مقاتل، اخبرنا عبد الله، اخبرنا عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لعن الله الواصلة والمستوصلة، والواشمة والمستوشمة ". قال نافع الوشم في اللثة
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا کہ میں نے سعید بن مسیب سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ آخری مرتبہ مدینہ منورہ تشریف لائے اور ہمیں خطبہ دیا۔ آپ نے بالوں کا ایک گچھا نکال کے کہا کہ یہ یہودیوں کے سوا اور کوئی نہیں کرتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے «زور.» یعنی فریبی فرمایا یعنی جو بالوں میں جوڑ لگائے تو ایسا آدمی مرد ہو یا عورت وہ مکار ہے جو اپنے مکر و فریب پر اس طور پر پردہ ڈالتا ہے۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا عمرو بن مرة، سمعت سعيد بن المسيب، قال قدم معاوية المدينة اخر قدمة قدمها، فخطبنا فاخرج كبة من شعر قال ما كنت ارى احدا يفعل هذا غير اليهود، ان النبي صلى الله عليه وسلم سماه الزور. يعني الواصلة في الشعر
ہم سے اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو جریر نے خبر دی، انہیں منصور نے، انہیں ابراہیم نخعی نے اور ان سے علقمہ نے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے خوبصورتی کے لیے گودنے والیوں، چہرے کے بال اکھاڑنے والیوں اور سامنے کے دانتوں کے درمیان کشادگی پیدا کرنے والیوں جو اللہ کی پیدائش میں تبدیلی کرتی ہیں، ان سب پر لعنت بھیجی تو ام یعقوب نے کہا کہ یہ کیا بات ہوئی۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا آخر میں کیوں نہ ان پر لعنت بھیجوں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے اور کتاب اللہ میں اس پر لعنت موجود ہے۔ ام یعقوب نے کہا کہ اللہ کی قسم! میں نے پورا قرآن مجید پڑھ ڈالا اور کہیں بھی ایسی کوئی آیت مجھے نہیں ملی۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اگر تم نے پڑھا ہوتا تو تمہیں ضرور مل جاتا کیا تم کو یہ آیت معلوم نہیں «وما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا» یعنی ”اور جو کچھ رسول تمہیں دیں اسے لے لو اور جس سے بھی تمہیں منع کریں اس سے رک جاؤ۔“
حدثنا اسحاق بن ابراهيم، اخبرنا جرير، عن منصور، عن ابراهيم، عن علقمة، قال لعن عبد الله الواشمات، والمتنمصات، والمتفلجات للحسن، المغيرات خلق الله. فقالت ام يعقوب ما هذا قال عبد الله وما لي لا العن من لعن رسول الله، وفي كتاب الله. قالت والله لقد قرات ما بين اللوحين فما وجدته. قال والله لين قراتيه لقد وجدتيه {وما اتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا}
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، ان سے عبدہ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصنوعی بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی، گودنے والی اور گدوانے والی پر لعنت بھیجی ہے۔
حدثني محمد، حدثنا عبدة، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال لعن النبي صلى الله عليه وسلم الواصلة والمستوصلة، والواشمة والمستوشمة
ہم سے امام حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہوں نے فاطمہ بنت منذر سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! میری لڑکی کو خسرے کا بخار ہو گیا اور اس سے اس کے بال جھڑ گئے۔ میں اس کی شادی بھی کر چکی ہوں تو کیا اس کے مصنوعی بال لگا دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے مصنوعی بال لگانے والی اور جس کے لگایا جائے، دونوں پر لعنت بھیجی ہے۔
حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا هشام، انه سمع فاطمة بنت المنذر، تقول سمعت اسماء، قالت سالت امراة النبي صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله ان ابنتي اصابتها الحصبة، فامرق شعرها، واني زوجتها افاصل فيه فقال " لعن الله الواصلة والموصولة
مجھ سے یونس بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے فضل بن دکین نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے صخر بن جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، یا ( راوی نے اس طرح بیان کیا کہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”گودنے والی، گدوانے والی، مصنوعی بال جوڑنے والی اور جڑوانے والی“ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب پر لعنت بھیجی ہے۔
حدثني يوسف بن موسى، حدثنا الفضل بن دكين، حدثنا صخر بن جويرية، عن نافع، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما سمعت النبي صلى الله عليه وسلم او قال النبي صلى الله عليه وسلم " الواشمة والموتشمة، والواصلة والمستوصلة ". يعني لعن النبي صلى الله عليه وسلم