Loading...

Loading...
کتب
۱۸۷ احادیث
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم کو حبان نے خبر دی، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم کے بال مونڈھوں تک پہنچتے تھے۔
حدثنا اسحاق، اخبرنا حبان، حدثنا همام، حدثنا قتادة، حدثنا انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يضرب شعره منكبيه
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ( سر کے ) بال مونڈھوں تک پہنچتے تھے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا همام، عن قتادة، عن انس، كان يضرب شعر النبي صلى الله عليه وسلم منكبيه
مجھ سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب بن جریر نے، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ آپ کے بال درمیانہ تھے، نہ بالکل سیدھے لٹکے ہوئے اور نہ گھونگھریالے اور وہ کانوں اور مونڈھوں کے بیچ تک تھے۔
حدثني عمرو بن علي، حدثنا وهب بن جرير، قال حدثني ابي، عن قتادة، قال سالت انس بن مالك رضى الله عنه عن شعر، رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال كان شعر رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا، ليس بالسبط، ولا الجعد، بين اذنيه وعاتقه
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ بھرے ہوئے تھے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ جیسا ( خوبصورت کوئی آدمی ) نہیں دیکھا آپ کے سر کے بال میانہ تھے نہ گھونگھریالے اور نہ بالکل سیدھے لٹکے ہوئے۔
حدثنا مسلم، حدثنا جرير، عن قتادة، عن انس، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم ضخم اليدين، لم ار بعده مثله، وكان شعر النبي صلى الله عليه وسلم رجلا، لا جعد، ولا سبط
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کی، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ اور پاؤں بھرے ہوئے تھے۔ چہرہ حسین و جمیل تھا، میں نے آپ جیسا خوبصورت کوئی نہ پہلے دیکھا اور نہ بعد میں، آپ کی ہتھیلیاں کشادہ تھیں۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا جرير بن حازم، عن قتادة، عن انس رضى الله عنه قال كان النبي صلى الله عليه وسلم ضخم اليدين والقدمين حسن الوجه، لم ار بعده ولا قبله مثله، وكان بسط الكفين
حدثني عمرو بن علي، حدثنا معاذ بن هاني، حدثنا همام، حدثنا قتادة، عن انس بن مالك،. او عن رجل، عن ابي هريرة، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم ضخم القدمين، حسن الوجه، لم ار بعده مثله
حدثني عمرو بن علي، حدثنا معاذ بن هاني، حدثنا همام، حدثنا قتادة، عن انس بن مالك،. او عن رجل، عن ابي هريرة، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم ضخم القدمين، حسن الوجه، لم ار بعده مثله
اور ہشام نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم اور ہتھیلیاں بھری ہوئی اور گداز تھیں۔
وقال هشام عن معمر، عن قتادة، عن انس، كان النبي صلى الله عليه وسلم شثن القدمين والكفين
وقال ابو هلال حدثنا قتادة، عن انس،. او جابر بن عبد الله كان النبي صلى الله عليه وسلم ضخم الكفين والقدمين، لم ار بعده شبها له
وقال ابو هلال حدثنا قتادة، عن انس،. او جابر بن عبد الله كان النبي صلى الله عليه وسلم ضخم الكفين والقدمين، لم ار بعده شبها له
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے ابن عون نے اور ان سے مجاہد نے بیان کیا کہ ہم ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ لوگوں نے دجال کا ذکر کیا اور کسی نے کہا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لفظ ”کافر“ لکھا ہو گا۔ اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے میں نے تو نہیں سنا البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ اگر تمہیں ابراہیم علیہ السلام کو دیکھنا ہو تو اپنے صاحب ( خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) کو دیکھو ( کہ آپ بالکل ان کے ہم شکل ہیں ) اور موسیٰ علیہ السلام گندمی رنگ کے ہیں بال گھونگھریالے جیسے اس وقت بھی میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ اس نالے وادی ازرق نامی میں لبیک کہتے ہوئے اتر رہے ہیں ان کے سرخ اونٹ کی نکیل کی رسی کھجور کی چھال کی ہے۔
حدثنا محمد بن المثنى، قال حدثني ابن ابي عدي، عن ابن عون، عن مجاهد، قال كنا عند ابن عباس رضى الله عنهما فذكروا الدجال فقال انه مكتوب بين عينيه كافر. وقال ابن عباس لم اسمعه قال ذاك ولكنه قال " اما ابراهيم فانظروا الى صاحبكم، واما موسى فرجل ادم جعد، على جمل احمر مخطوم بخلبة، كاني انظر اليه اذ انحدر في الوادي يلبي
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے کہا کہ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ جو شخص سر کے بالوں کو گوند لے ( وہ حج یا عمرے سے فارغ ہو کر سر منڈائے ) اور جیسے احرام میں بالوں کو جما لیتے ہیں غیر احرام میں نہ جماؤ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے میں نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بال جماتے دیکھا۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني سالم بن عبد الله، ان عبد الله بن عمر، قال سمعت عمر رضى الله عنه يقول من ضفر فليحلق، ولا تشبهوا بالتلبيد. وكان ابن عمر يقول لقد رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم ملبدا
مجھ سے حبان بن موسیٰ اور احمد بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو یونس نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سالم نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بال جما لیے تھے اور احرام کے وقت یوں آپ لبیک کہہ رہے تھے «لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك، إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» ان کلمات کے اوپر اور کچھ آپ نہیں بڑھاتے تھے۔
حدثني حبان بن موسى، واحمد بن محمد، قالا اخبرنا عبد الله، اخبرنا يونس، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يهل ملبدا يقول " لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك، ان الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك ". لا يزيد على هولاء الكلمات
مجھ سے اسماعیل بن ابن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا بات ہے کہ لوگ عمرہ کر کے احرام کھول چکے ہیں حالانکہ آپ نے احرام نہیں کھولا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیونکہ میں نے اپنے سر کے بال جما لیے ہیں اور اپنی ہدی ( قربانی کے جانور ) کے گلے میں قلادہ ڈال دیا ہے۔ اس لیے جب تک میری قربانی کا نحر نہ ہو لے میں احرام نہیں کھول سکتا۔
حدثني اسماعيل، قال حدثني مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، عن حفصة رضى الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت قلت يا رسول الله ما شان الناس حلوا بعمرة، ولم تحلل انت من عمرتك قال " اني لبدت راسي، وقلدت هديي، فلا احل حتى انحر
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شہاب نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر کسی مسئلہ میں کوئی حکم معلوم نہ ہوتا تو آپ اس میں اہل کتاب کے عمل کو اپناتے تھے۔ اہل کتاب اپنے سر کے بال لٹکائے رکھتے اور مشرکین مانگ نکالتے تھے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ( اہل کتاب کی موافقت میں ) پہلے سر کے بال پیشانی کی طرف لٹکاتے لیکن بعد میں آپ بیچ میں سے مانگ نکالنے لگے۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا ابراهيم بن سعد، حدثنا ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يحب موافقة اهل الكتاب فيما لم يومر فيه، وكان اهل الكتاب يسدلون اشعارهم، وكان المشركون يفرقون رءوسهم، فسدل النبي صلى الله عليه وسلم ناصيته، ثم فرق بعد
ہم سے ابوالولید اور عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، ان دونوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم بن عتیبہ نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے اسود نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا جیسے میں اب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں احرام کی حالت میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں۔ عبداللہ بن رجاء نے ( اپنی روایت میں ) «مفرق النبي صلى الله عليه وسلم.» ( واحد کے صیغہ کے ساتھ ) بیان کیا یعنی مانگوں کی جگہ صرف لفظ مانگ استعمال کیا۔
حدثنا ابو الوليد، وعبد الله بن رجاء، قالا حدثنا شعبة، عن الحكم، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة رضى الله عنها قالت كاني انظر الى وبيص الطيب في مفارق النبي صلى الله عليه وسلم وهو محرم. قال عبد الله في مفرق النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے فضل بن عنبسہ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشیم بن بشیر نے خبر دی، کہا ہم کو ابوالبشر جعفر نے خبر دی (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے قریبہ بن سعید نے کہا کہ ہم سے ہشیم نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے ایک رات اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کے گھر گزاری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس رات انہیں کے ہاں باری تھی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز پڑھنے کھڑے ہوئے تو میں بھی آپ کے بائیں طرف کھڑا ہو گیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر کے بالوں کی ایک لٹ پکڑی اور مجھے اپنی داہنی طرف کر دیا۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا الفضل بن عنبسة، اخبرنا هشيم، اخبرنا ابو بشر، ح وحدثنا قتيبة، حدثنا هشيم، عن ابي بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال بت ليلة عند ميمونة بنت الحارث خالتي، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم عندها في ليلتها قال فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل، فقمت عن يساره قال فاخذ بذوابتي فجعلني عن يمينه. حدثنا عمرو بن محمد، حدثنا هشيم، اخبرنا ابو بشر، بهذا، وقال بذوابتي او براسي
مجھ سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ مجھے مخلد بن یزید نے خبر دی، کہا کہ مجھے ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے عبیداللہ بن حفص نے خبر دی، انہیں عمرو بن نافع نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام نافع نے کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ نے «قزع.» سے منع فرمایا، عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں نے نافع سے پوچھا کہ «قزع.» کیا ہے؟ پھر عبیداللہ نے ہمیں اشارہ سے بتایا کہ نافع نے کہا کہ بچہ کا سر منڈاتے وقت کچھ یہاں چھوڑ دے اور کچھ بال وہاں چھوڑ دے۔ ( تو اسے «قزع.» کہتے ہیں ) اسے عبیداللہ نے پیشانی اور سر کے دونوں کناروں کی طرف اشارہ کر کے ہمیں اس کی صورت بتائی۔ عبیداللہ نے اس کی تفسیر یوں بیان کی یعنی پیشانی پر کچھ بال چھوڑ دیئے جائیں اور سر کے دونوں کونوں پر کچھ بال چھوڑ دیئے جائیں۔ پھر عبیداللہ سے پوچھا گیا کہ اس میں لڑکا اور لڑکی دونوں کا ایک ہی حکم ہے؟ فرمایا کہ مجھے معلوم نہیں۔ نافع نے صرف لڑکے کا لفظ کہا تھا۔ عبیداللہ نے بیان کیا کہ میں نے عمرو بن نافع سے دوبارہ اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ لڑکے کی کنپٹی یا گدی پر چوٹی کے بال اگر چھوڑ دیئے جائیں تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن «قزع.» یہ ہے کہ پیشانی پر بال چھوڑ دیئے جائیں اور باقی سب منڈوائے جائیں اسی طرح سر کے اس جانب میں اور اس جانب میں۔
حدثني محمد، قال اخبرني مخلد، قال اخبرني ابن جريج، قال اخبرني عبيد الله بن حفص، ان عمر بن نافع، اخبره عن نافع، مولى عبد الله انه سمع ابن عمر رضى الله عنهما يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهى عن القزع. قال عبيد الله قلت وما القزع فاشار لنا عبيد الله قال اذا حلق الصبي وترك ها هنا شعرة وها هنا وها هنا. فاشار لنا عبيد الله الى ناصيته وجانبى راسه. قيل لعبيد الله فالجارية والغلام قال لا ادري هكذا قال الصبي. قال عبيد الله وعاودته فقال اما القصة والقفا للغلام فلا باس بهما ولكن القزع ان يترك بناصيته شعر، وليس في راسه غيره، وكذلك شق راسه هذا وهذا
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن مثنیٰ بن عبداللہ بن انس بن مالک نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «قزع.» سے منع فرمایا تھا۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا عبد الله بن المثنى بن عبد الله بن انس بن مالك، حدثنا عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن القزع
مجھ سے احمد بن محمد مروزی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو یحییٰ بن سعید انصاری نے خبر دی، انہیں عبدالرحمٰن بن قاسم نے خبر دی، انہیں ان کے والد قاسم بن محمد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام میں رہنے کے لیے اپنے ہاتھ سے خوشبو لگائی میں نے اسی طرح ( دسویں تاریخ کو ) منیٰ میں طواف زیارت کرنے سے پہلے اپنے ہاتھ سے آپ کو خوشبو لگائی۔
حدثني احمد بن محمد، اخبرنا عبد الله، اخبرنا يحيى بن سعيد، اخبرنا عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، قالت طيبت النبي صلى الله عليه وسلم بيدي لحرمه، وطيبته بمنى قبل ان يفيض