Loading...

Loading...
کتب
۱۸۷ احادیث
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عدی بن ثابت نے خبر دی، کہا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن دو رکعتیں پڑھائیں نہ اس کے پہلے کوئی نماز پڑھی اور نہ اس کے بعد پھر آپ عورتوں کی طرف تشریف لائے، آپ کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ نے عورتوں کو صدقہ کا حکم فرمایا تو وہ اپنی بالیاں بلال رضی اللہ عنہ کی جھولی میں ڈالنے لگیں۔
حدثنا حجاج بن منهال، حدثنا شعبة، قال اخبرني عدي، قال سمعت سعيدا، عن ابن عباس رضى الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى يوم العيد ركعتين، لم يصل قبلها ولا بعدها ثم اتى النساء ومعه بلال فامرهن بالصدقة، فجعلت المراة تلقي قرطها
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے بیان کیا، کہا ہم کو یحییٰ بن آدم نے خبر دی، کہا ہم سے ورقاء بن عمر نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن ابی یزید نے، ان سے نافع بن جبیر نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں مدینہ کے بازاروں میں سے ایک بازار میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوئے تو میں پھر آپ کے ساتھ واپس ہوا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بچہ کہاں ہے۔ یہ آپ نے تین مرتبہ فرمایا۔ حسن بن علی کو بلاؤ۔ حسن بن علی رضی اللہ عنہما آ رہے تھے اور ان کی گردن میں ( خوشبودار لونگ وغیرہ کا ) ہار پڑا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس طرح پھیلایا کہ ( آپ حسن رضی اللہ عنہ کو گلے سے لگانے کے لیے ) اور حسن رضی اللہ عنہ نے بھی اپنا ہاتھ پھیلایا اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لپٹ گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت کر اور ان سے بھی محبت کر جو اس سے محبت رکھیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے بعد کوئی شخص بھی حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے زیادہ مجھے پیارا نہیں تھا۔
حدثني اسحاق بن ابراهيم الحنظلي، اخبرنا يحيى بن ادم، حدثنا ورقاء بن عمر، عن عبيد الله بن ابي يزيد، عن نافع بن جبير، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سوق من اسواق المدينة فانصرف فانصرفت فقال " اين لكع ثلاثا ادع الحسن بن علي ". فقام الحسن بن علي يمشي وفي عنقه السخاب، فقال النبي صلى الله عليه وسلم بيده هكذا، فقال الحسن بيده، هكذا فالتزمه فقال " اللهم اني احبه، فاحبه، واحب من يحبه ". قال ابو هريرة فما كان احد احب الى من الحسن بن علي بعد ما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما قال
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت بھیجی جو عورتوں جیسا چال چلن اختیار کریں اور ان عورتوں پر لعنت بھیجی جو مردوں جیسا چال چلن اختیار کریں۔ غندر کے ساتھ اس حدیث کو عمرو بن مرزوق نے بھی شعبہ سے روایت کیا۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم المتشبهين من الرجال بالنساء، والمتشبهات من النساء بالرجال. تابعه عمرو اخبرنا شعبة
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخنث مردوں پر اور مردوں کی چال چلن اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت بھیجی اور فرمایا کہ ان زنانہ بننے والے مردوں کو اپنے گھروں سے باہر نکال دو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں ہیجڑے کو نکالا تھا اور عمر رضی اللہ عنہ نے فلاں ہیجڑے کو نکالا تھا۔
حدثنا معاذ بن فضالة، حدثنا هشام، عن يحيى، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال لعن النبي صلى الله عليه وسلم المخنثين من الرجال، والمترجلات من النساء وقال " اخرجوهم من بيوتكم ". قال فاخرج النبي صلى الله عليه وسلم فلانا، واخرج عمر فلانا
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، انہیں عروہ نے خبر دی، انہیں زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی اور انہیں ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف رکھتے تھے۔ گھر میں ایک مخنث بھی تھا، اس نے ام سلمہ رضی اللہ عنہما کے بھائی عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا عبداللہ! اگر کل تمہیں طائف پر فتح حاصل ہو جائے تو میں تمہیں بنت غیلان ( بادیہ نامی ) کو دکھلاؤں گا وہ جب سامنے آتی ہے تو ( اس کے موٹاپے کی وجہ سے ) چار سلوٹیں دکھائی دیتی ہیں اور جب پیٹھ پھیرتی ہے تو آٹھ سلوٹیں دکھائی دیتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب یہ شخص تم لوگوں کے پاس نہ آیا کرے۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ سامنے سے چار سلوٹوں کا مطلب یہ ہے کہ ( موٹے ہونے کی وجہ سے ) اس کے پیٹ میں چار سلوٹیں پڑی ہوئی ہیں اور جب وہ سامنے آتی ہے تو وہ دکھائی دیتی ہیں اور آٹھ سلوٹوں سے پیچھے پھرتی ہے کا مفہوم ہے ( آگے کی ) ان چاروں سلوٹوں کے کنارے کیونکہ یہ دونوں پہلوؤں کو گھیرے ہوئے ہوتے ہیں اور پھر وہ مل جاتی ہیں اور حدیث میں «بثمان» کا لفظ ہے حالانکہ از روئے قائدہ نحو کے «بثمانية.» ہونا تھا کیونکہ مراد آٹھ اطراف یعنی کنارے ہیں اور «لأطراف»، «طرف» کی جمع ہے اور «طرف» کا لفظ مذکر ہے۔ مگر چونکہ «لأطراف» کا لفظ مذکور نہ تھا اس لیے «بثمان» بھی کہنا درست ہوا۔
حدثنا مالك بن اسماعيل، حدثنا زهير، حدثنا هشام بن عروة، ان عروة، اخبره ان زينب ابنة ابي سلمة اخبرته ان ام سلمة اخبرتها ان النبي صلى الله عليه وسلم كان عندها وفي البيت مخنث، فقال لعبد الله اخي ام سلمة يا عبد الله ان فتح لكم غدا الطايف، فاني ادلك على بنت غيلان، فانها تقبل باربع وتدبر بثمان. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لا يدخلن هولاء عليكن ". قال ابو عبد الله تقبل باربع وتدبر بثمان يعني اربع عكن بطنها، فهى تقبل بهن، وقوله وتدبر بثمان. يعني اطراف هذه العكن الاربع، لانها محيطة بالجنبين حتى لحقت وانما قال بثمان. ولم يقل بثمانية. وواحد الاطراف وهو ذكر، لانه لم يقل ثمانية اطراف
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے حنظلہ بن ابی ہانی نے، ان سے نافع نے بیان کیا، (امام بخاری رحمہ اللہ نے) کہا کہ اس حدیث کو ہمارے اصحاب نے مکی سے روایت کیا، انہوں نے بحوالہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مونچھ کے بال کتروانا پیدائشی سنت ہے۔“
حدثنا المكي بن ابراهيم، عن حنظلة، عن نافع، قال اصحابنا عن المكي، عن ابن عمر رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من الفطرة قص الشارب
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ زہری نے ہم سے بیان کیا (سفیان نے کہا) ہم سے زہری نے سعید بن مسیب سے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے) روایت کیا کہ پانچ چیزیں ( فرمایا کہ ) پانچ چیزیں ختنہ کرانا، موئے زیر ناف مونڈنا، بغل کے بال نوچنا، ناخن ترشوانا اور مونچھ کم کرانا پیدائشی سنتوں میں سے ہیں۔
حدثنا علي، حدثنا سفيان، قال الزهري حدثنا عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، رواية " الفطرة خمس او خمس من الفطرة الختان، والاستحداد، ونتف الابط، وتقليم الاظفار، وقص الشارب
ہم سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسحاق بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے حنظلہ سے سنا، انہوں نے نافع سے بیان کیا اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”موئے زیر ناف مونڈنا، ناخن ترشوانا اور مونچھ کترانا پیدائشی سنتیں ہیں۔“
حدثنا احمد بن ابي رجاء، حدثنا اسحاق بن سليمان، قال سمعت حنظلة، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من الفطرة حلق العانة، وتقليم الاظفار، وقص الشارب
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پانچ چیزیں ختنہ کرانا، زیر ناف مونڈنا، مونچھ کترانا، ناخن ترشوانا اور بغل کے بال نوچنا پیدائشی سنتیں ہیں۔“
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا ابراهيم بن سعد، حدثنا ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة رضى الله عنه سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " الفطرة خمس الختان، والاستحداد، وقص الشارب، وتقليم الاظفار، ونتف الاباط
ہم سے محمد بن منہال نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے، انہوں نے کہا ہم سے عمر بن محمد بن زید نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم مشرکین کے خلاف کرو، داڑھی چھوڑ دو اور مونچھیں کترواؤ۔“ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی ( ہاتھ سے ) پکڑ لیتے اور ( مٹھی ) سے جو بال زیادہ ہوتے انہیں کتروا دیتے۔
حدثنا محمد بن منهال، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا عمر بن محمد بن زيد، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " خالفوا المشركين، وفروا اللحى، واحفوا الشوارب ". وكان ابن عمر اذا حج او اعتمر قبض على لحيته، فما فضل اخذه
مجھ سے محمد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا ہمیں عبدہ نے خبر دی، انہیں عبیداللہ بن عمر نے خبر دی، انہیں نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مونچھیں خوب کتروایا لیا کرو اور داڑھی کو بڑھاؤ۔“
حدثني محمد، اخبرنا عبدة، اخبرنا عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انهكوا الشوارب، واعفوا اللحى
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے محمد بن سیرین نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خضاب استعمال کیا تھا؟ بولے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال ہی بہت کم سفید ہوئے تھے۔
حدثنا معلى بن اسد، حدثنا وهيب، عن ايوب، عن محمد بن سيرين، قال سالت انسا اخضب النبي صلى الله عليه وسلم قال لم يبلغ الشيب الا قليلا
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت نے بیان کیا کہ انس رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خضاب کے متعلق سوال کیا گیا تو احول نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خضاب کی نوبت ہی نہیں آئی تھی اگر میں آپ کی داڑھی کے سفید بال گننا چاہتا تو گن سکتا تھا۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد، عن ثابت، قال سيل انس عن خضاب النبي، صلى الله عليه وسلم فقال انه لم يبلغ ما يخضب، لو شيت ان اعد شمطاته في لحيته
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے عثمان بن عبداللہ بن وہب نے بیان کیا کہ میرے گھر والوں نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس پانی کا ایک پیالہ لے کر بھیجا ( راوی حدیث ) اسرائیل راوی نے تین انگلیاں بند کر لیں یعنی وہ اتنی چھوٹی پیالی تھی اس پیالی میں بالوں کا ایک گچھا تھا جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں میں سے کچھ بال تھے۔ عثمان نے کہا جب کسی شخص کو نظر لگ جاتی یا اور کوئی بیماری ہوتی تو وہ اپنا پانی کا برتن بی بی ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیج دیتا۔ ( وہ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال ڈبو دیتیں ) عثمان نے کہا کہ میں نے نلکی کو دیکھا ( جس میں موئے مبارک رکھے ہوئے تھے ) تو سرخ سرخ بال دکھائی دیئے۔
حدثنا مالك بن اسماعيل، حدثنا اسراييل، عن عثمان بن عبد الله بن موهب، قال ارسلني اهلي الى ام سلمة بقدح من ماء وقبض اسراييل ثلاث اصابع من فضة فيه شعر من شعر النبي صلى الله عليه وسلم وكان اذا اصاب الانسان عين او شىء بعث اليها مخضبه، فاطلعت في الجلجل فرايت شعرات حمرا
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سلام بن ابی مطیع نے بیان کیا، ان سے عثمان بن عبداللہ بن موہب نے کہ میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند بال نکال کر دکھائے جن پر خضاب لگا ہوا تھا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا سلام، عن عثمان بن عبد الله بن موهب، قال دخلت على ام سلمة فاخرجت الينا شعرا من شعر النبي صلى الله عليه وسلم مخضوبا
اور ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، ان سے نصیر بن ابی الاشعث نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن موہب نے کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بال دکھایا جو سرخ تھا۔
وقال لنا ابو نعيم حدثنا نصير بن ابي الاشعث، عن ابن موهب، ان ام سلمة، ارته شعر النبي صلى الله عليه وسلم احمر
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم سے زہری نے بیان کیا ان سے ابوسلمہ اور سلیمان بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہود و نصاریٰ خضاب نہیں لگاتے تم ان کے خلاف کرو یعنی خضاب لگایا کرو۔
حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا الزهري، عن ابي سلمة، وسليمان بن يسار، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال النبي صلى الله عليه وسلم " ان اليهود والنصارى لا يصبغون فخالفوهم
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک بن انس نے بیان کیا، ان سے ربیعہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے ان سے سنا کہ وہ بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت لمبے نہیں تھے اور نہ آپ چھوٹے قد کے ہی تھے ( بلکہ آپ کا بیچ والا قد تھا ) نہ آپ بالکل سفید بھورے تھے اور نہ گندم گوں ہی تھے، آپ کے بال گھونگھریالے الجھے ہوئے نہیں تھے اور نہ بالکل سیدھے لٹکے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو چالیس سال کی عمر میں رسول بنایا دس سال آپ نے ( نبوت کے بعد ) مکہ مکرمہ میں قیام کیا اور دس سال مدینہ منورہ میں اور تقریباً ساٹھ سال کی عمر میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دی۔ وفات کے وقت آپ کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہیں تھے۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك بن انس، عن ربيعة بن ابي عبد الرحمن، عن انس بن مالك رضى الله عنه انه سمعه يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ليس بالطويل الباين، ولا بالقصير، وليس بالابيض الامهق، وليس بالادم، وليس بالجعد القطط، ولا بالسبط، بعثه الله على راس اربعين سنة، فاقام بمكة عشر سنين، وبالمدينة عشر سنين، وتوفاه الله على راس ستين سنة، وليس في راسه ولحيته عشرون شعرة بيضاء
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے، ان سے ابواسحاق نے، کہا میں براء رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کہا کہ میں نے سرخ حلہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی کو خوبصورت نہیں دیکھا ( امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ) مجھ سے میرے بعض اصحاب نے امام مالک رحمہ اللہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بال شانہ مبارک کے قریب تک تھے۔ ابواسحاق نے بیان کیا کہ میں نے براء رضی اللہ عنہ کو ایک مرتبہ سے زیادہ یہ حدیث بیان کرتے سنا جب بھی وہ یہ حدیث بیان کرتے تو مسکراتے۔ اس روایت کی متابعت شعبہ نے کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال آپ کے کانوں کی لو تک تھے۔
حدثنا مالك بن اسماعيل، حدثنا اسراييل، عن ابي اسحاق، سمعت البراء، يقول ما رايت احدا احسن في حلة حمراء من النبي صلى الله عليه وسلم. قال بعض اصحابي عن مالك ان جمته لتضرب قريبا من منكبيه. قال ابو اسحاق سمعته يحدثه غير مرة، ما حدث به قط الا ضحك. تابعه شعبة شعره يبلغ شحمة اذنيه
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات کعبہ کے پاس مجھے دیکھایا گیا، میں نے دیکھا کہ ایک صاحب ہیں گندمی رنگ، گندمی رنگ کے لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت، ان کے شانوں تک لمبے لمبے بال ہیں ایسے بال والے لوگوں میں سب سے زیادہ خوبصورت، انہوں نے بالوں میں کنگھا کر رکھا ہے اور اس کی وجہ سے سر سے پانی ٹپک رہا ہے۔ دو آدمیوں کا سہارا لیے ہوئے ہیں یا دو آدمیوں کے شانوں کا سہارا لیے ہوئے ہیں اور خانہ کعبہ کا طواف کر رہے ہیں، میں نے پوچھا کہ یہ کون بزرگ ہیں تو مجھے بتایا گیا کہ یہ عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام ہیں پھر اچانک میں نے ایک الجھے ہوئے گھونگھریالے بال والے شخص کو دیکھا، دائیں آنکھ سے کانا تھا گویا انگور ہے جو ابھرا ہوا ہے۔ میں نے پوچھا یہ کانا کون ہے؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ مسیح دجال ہے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اراني الليلة عند الكعبة، فرايت رجلا ادم كاحسن ما انت راء من ادم الرجال، له لمة كاحسن ما انت راء من اللمم، قد رجلها، فهى تقطر ماء متكيا على رجلين، او على عواتق رجلين، يطوف بالبيت فسالت من هذا فقيل المسيح ابن مريم. واذا انا برجل جعد، قطط، اعور العين اليمنى كانها عنبة طافية، فسالت من هذا فقيل المسيح الدجال