Loading...

Loading...
کتب
۱۸۷ احادیث
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم کو اشعث بن سلیم نے کہا کہ میں نے معاویہ بن سوید بن مقرن سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں سے روکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سونے کی انگوٹھی سے یا راوی نے کہا کہ سونے کے چھلے سے، ریشم سے، استبرق سے، دیبا سے، سرخ میثرہ سے، قسی سے اور چاندی کے برتن سے منع فرمایا تھا اور ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات چیزوں یعنی بیمار کی مزاج پرسی کرنے، جنازہ کے پیچھے چلنے، چھینکنے والے کا جواب دینے، سلام کے جواب دینے، دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرنے، ( کسی بات پر ) قسم کھا لینے والے قسم پوری کرانے اور مظلوم کی مدد کرنے کا حکم فرمایا تھا۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا اشعث بن سليم، قال سمعت معاوية بن سويد بن مقرن، قال سمعت البراء بن عازب رضى الله عنهما يقول نهانا النبي صلى الله عليه وسلم عن سبع نهى عن خاتم الذهب او قال حلقة الذهب وعن الحرير، والاستبرق، والديباج، والميثرة الحمراء، والقسي، وانية الفضة، وامرنا بسبع بعيادة المريض، واتباع الجنايز، وتشميت العاطس، ورد السلام، واجابة الداعي، وابرار المقسم، ونصر المظلوم
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے نضر بن انس نے، ان سے بشیر بن نہیک نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی کے پہننے سے مردوں کو منع فرمایا تھا۔ اور عمرو نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں قتادہ نے، انہوں نے نضر سے سنا اور انہوں نے بشیر سے سنا، آگے اسی طرح روایت بیان کی۔
حدثني محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن النضر بن انس، عن بشير بن نهيك، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم انه نهى عن خاتم الذهب. وقال عمرو اخبرنا شعبة عن قتادة سمع النضر سمع بشيرا مثله
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی جانب رکھا پھر کچھ دوسرے لوگوں نے بھی اسی طرح کی انگوٹھیاں بنوا لیں۔ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھینک دیا اور چاندی کی انگوٹھی بنوا لی۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال حدثني نافع، عن عبد الله رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتخذ خاتما من ذهب، وجعل فصه مما يلي كفه، فاتخذه الناس، فرمى به، واتخذ خاتما من ورق او فضة
ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے یا چاندی کی انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی طرف رکھا اور اس پر «محمد رسول الله.» کے الفاظ کھدوائے پھر دوسرے لوگوں نے بھی اسی طرح کی انگوٹھیاں بنوا لیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ کچھ دوسرے لوگوں نے بھی اس طرح کی انگوٹھیاں بنوا لی تو آپ نے اسے پھینک دیا اور فرمایا کہ اب میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا۔ پھر آپ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی اور دوسرے لوگوں نے بھی چاندی کی انگوٹھیاں بنوا لیں۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس انگوٹھی کو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پہنا پھر عمر رضی اللہ عنہ اور پھر عثمان نے پہنا۔ آخر عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں وہ انگوٹھی اریس کے کنویں میں گر گئی۔
حدثنا يوسف بن موسى، حدثنا ابو اسامة، حدثنا عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتخذ خاتما من ذهب او فضة، وجعل فصه مما يلي كفه، ونقش فيه محمد رسول الله. فاتخذ الناس مثله، فلما راهم قد اتخذوها رمى به، وقال " لا البسه ابدا ". ثم اتخذ خاتما من فضة، فاتخذ الناس خواتيم الفضة. قال ابن عمر فلبس الخاتم بعد النبي صلى الله عليه وسلم ابو بكر ثم عمر ثم عثمان، حتى وقع من عثمان في بير اريس
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( حرمت سے پہلے ) سونے کی انگوٹھی پہنتے تھے پھر حرمت کا حکم آنے پر آپ نے اسے پھینک دیا اور فرمایا کہ میں اب سے کبھی نہیں پہنوں گا اور لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن عبد الله بن دينار، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يلبس خاتما من ذهب فنبذه فقال " لا البسه ابدا ". فنبذ الناس خواتيمهم
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے انہوں نے کہا کہ مجھ سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک دن چاندی کی انگوٹھی دیکھی پھر دوسرے لوگوں نے بھی چاندی کی انگوٹھیاں بنوانی شروع کر دیں اور پہننے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگوٹھی پھینک دی اور دوسرے لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دی۔ اس روایت کی متابعت ابراہیم بن سعد، زیاد اور شعیب نے زہری سے کی ہے اور ابن مسافر نے زہری سے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ «خاتما من ورق.» بیان کیا۔
حدثني يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن يونس، عن ابن شهاب، قال حدثني انس بن مالك رضى الله عنه انه راى في يد رسول الله صلى الله عليه وسلم خاتما من ورق يوما واحدا، ثم ان الناس اصطنعوا الخواتيم من ورق ولبسوها، فطرح رسول الله صلى الله عليه وسلم خاتمه، فطرح الناس خواتيمهم. تابعه ابراهيم بن سعد وزياد وشعيب عن الزهري. وقال ابن مسافر عن الزهري ارى خاتما من ورق
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو یزید بن زریع نے خبر دی، کہا ہم کو حمید نے خبر دی، کہا انہوں نے کہ انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی بنوائی تھی؟ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات عشاء کی نماز آدھی رات میں پڑھائی۔ پھر چہرہ مبارک ہماری طرف کیا، جیسے اب بھی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں۔ فرمایا کہ بہت سے لوگ نماز پڑھ کر سو چکے ہوں گے لیکن تم اس وقت بھی نماز میں ہو جب تک تم نماز کا انتظار کرتے رہے ہو۔
حدثنا عبدان، اخبرنا يزيد بن زريع، اخبرنا حميد، قال سيل انس هل اتخذ النبي صلى الله عليه وسلم خاتما قال اخر ليلة صلاة العشاء الى شطر الليل، ثم اقبل علينا بوجهه، فكاني انظر الى وبيص خاتمه. قال " ان الناس قد صلوا وناموا، وانكم لم تزالوا في صلاة ما انتظرتموها
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معتمر نے خبر دی، کہا کہ میں نے حمید سے سنا، وہ انس رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ بھی اسی کا تھا اور یحییٰ بن ایوب نے بیان کیا کہ مجھ سے حمید نے بیان کیا، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح بیان کیا۔
حدثنا اسحاق، اخبرنا معتمر، قال سمعت حميدا، يحدث عن انس رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم كان خاتمه من فضة وكان فصه منه. وقال يحيى بن ايوب حدثني حميد سمع انسا عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور انہوں نے سہل رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی کہ میں اپنے آپ کو ہبہ کرنے آئی ہوں، دیر تک وہ عورت کھڑی رہی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا اور پھر سر جھکا لیا جب دیر تک وہ وہیں کھڑی رہیں تو ایک صاحب نے اٹھ کر عرض کیا: اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی ضرورت نہیں ہے تو ان کا نکاح مجھ سے کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تمہارے پاس کوئی چیز ہے جو مہر میں انہیں دے سکو، انہوں نے کہا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھ لو۔ وہ گئے اور واپس آ کر عرض کیا کہ واللہ! مجھے کچھ نہیں ملا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ تلاش کرو، لوہے کی ایک انگوٹھی ہی سہی۔ وہ گئے اور واپس آ کر عرض کیا کہ وہ مجھے لوہے کی ایک انگوٹھی بھی نہیں ملی۔ وہ ایک تہمد پہنے ہوئے تھے اور ان کے جسم پر ( کرتے کی جگہ ) چادر بھی نہیں تھی۔ انہوں نے عرض کیا کہ میں انہیں اپنا تہمد مہر میں دے دوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہارا تہمد یہ پہن لیں گی تو تمہارے لیے کچھ باقی نہیں رہے گا۔ اور اگر تم اسے پہن لو گے تو ان کے لیے کچھ نہیں رہے گا۔ وہ صاحب اس کے بعد ایک طرف بیٹھ گئے پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جاتے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا اور فرمایا تمہیں قرآن کتنا یاد ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ فلاں فلاں سورتیں۔ انہوں نے سورتوں کو شمار کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جا میں نے اس عورت کو تمہارے نکاح میں اس قرآن کے عوض میں دے دیا جو تمہیں یاد ہے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، عن ابيه، انه سمع سهلا، يقول جاءت امراة الى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت جيت اهب نفسي. فقامت طويلا فنظر وصوب، فلما طال مقامها فقال رجل زوجنيها، ان لم تكن لك بها حاجة. قال " عندك شىء تصدقها ". قال لا. قال " انظر ". فذهب ثم رجع فقال والله ان وجدت شييا. قال " اذهب فالتمس ولو خاتما من حديد ". فذهب ثم رجع قال لا والله ولا خاتما من حديد. وعليه ازار ما عليه رداء. فقال اصدقها ازاري فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ازارك ان لبسته لم يكن عليك منه شىء، وان لبسته لم يكن عليها منه شىء ". فتنحى الرجل فجلس فراه النبي صلى الله عليه وسلم موليا فامر به فدعي فقال " ما معك من القران ". قال سورة كذا وكذا لسور عددها. قال " قد ملكتكها بما معك من القران
ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عجم کے کچھ لوگوں ( شاہان عجم ) کے پاس خط لکھنا چاہا تو آپ سے کہا گیا کہ عجم کے لوگ کوئی خط اس وقت تک نہیں قبول کرتے جب تک اس پر مہر لگی ہوئی نہ ہو۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی۔ جس پر یہ کندہ تھا «محمد رسول الله» ۔ گویا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی یا آپ کی ہتھیلی میں اس کی چمک دیکھ رہا ہوں۔
حدثنا عبد الاعلى، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن انس بن مالك رضى الله عنه ان نبي الله صلى الله عليه وسلم اراد ان يكتب الى رهط او اناس من الاعاجم، فقيل له انهم لا يقبلون كتابا الا عليه خاتم، فاتخذ النبي صلى الله عليه وسلم خاتما من فضة نقشه محمد رسول الله فكاني بوبيص او ببصيص الخاتم في اصبع النبي صلى الله عليه وسلم او في كفه
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن نمیر نے خبر دی، انہیں عبیداللہ عمری نے، انہیں نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی۔ وہ انگوٹھی آپ کے ہاتھ میں، اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں، اس کے بعد عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہتی تھی لیکن ان کے زمانہ میں وہ اریس کے کنویں میں گر گئی اس کا نقش «محمد رسول الله» تھا۔
حدثني محمد بن سلام، اخبرنا عبد الله بن نمير، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال اتخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم خاتما من ورق، وكان في يده، ثم كان بعد في يد ابي بكر، ثم كان بعد في يد عمر، ثم كان بعد في يد عثمان، حتى وقع بعد في بير اريس، نقشه محمد رسول الله
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انگوٹھی بنوائی اور فرمایا کہ ہم نے ایک انگوٹھی بنوائی ہے اس پر لفظ ( «محمد رسول الله» ) کندہ کرایا ہے اس لیے انگوٹھی پر کوئی شخص یہ نقش نہ کندہ کرائے۔ انس نے بیان کیا کہ جیسے اس انگوٹھی کی چمک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چھنگلیاں میں اب بھی میں دیکھ رہا ہوں۔
حدثنا ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، حدثنا عبد العزيز بن صهيب، عن انس رضى الله عنه قال صنع النبي صلى الله عليه وسلم خاتما قال " انا اتخذنا خاتما، ونقشنا فيه نقشا، فلا ينقش عليه احد ". قال فاني لارى بريقه في خنصره
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روم ( کے بادشاہ کو ) خط لکھانا چاہا تو آپ سے کہا گیا کہ اگر آپ کے خط پر مہر نہ ہوئی تو وہ خط نہیں پڑھتے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اس پر لفظ «محمد رسول الله» کندہ کرایا۔ جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں اس کی سفیدی اب بھی میں دیکھ رہا ہوں۔
حدثنا ادم بن ابي اياس، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال لما اراد النبي صلى الله عليه وسلم ان يكتب الى الروم قيل له انهم لن يقرءوا كتابك اذا لم يكن مختوما. فاتخذ خاتما من فضة، ونقشه محمد رسول الله. فكانما انظر الى بياضه في يده
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ایک سونے کی انگوٹھی بنوائی اور پہننے میں آپ اس کا رنگ اندر کی طرف رکھتے تھے۔ آپ کی دیکھا دیکھی لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنا لیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور اللہ کی حمد و ثنا کی اور فرمایا میں نے بھی سونے کی انگوٹھی بنوائی تھی۔ ( حرمت نازل ہونے کے بعد ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب میں اسے نہیں پہنوں گا۔ پھر آپ نے وہ انگوٹھی پھینک دی اور لوگوں نے بھی اپنی سونے کی انگوٹھیوں کو پھینک دیا۔ جویریہ نے بیان کیا کہ مجھے یہی یاد ہے کہ نافع نے ”داہنے ہاتھ میں“ بیان کیا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا جويرية، عن نافع، ان عبد الله، حدثه ان النبي صلى الله عليه وسلم اصطنع خاتما من ذهب، جعل فصه في بطن كفه اذا لبسه، فاصطنع الناس خواتيم من ذهب، فرقي المنبر، فحمد الله واثنى عليه فقال " اني كنت اصطنعته، واني لا البسه ". فنبذه فنبذ الناس. قال جويرية ولا احسبه الا قال في يده اليمنى
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن صہیب نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس میں یہ نقش کھدوایا «محمد رسول الله» اور لوگوں سے کہہ دیا کہ میں نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوا کر اس پر «محمد رسول الله» نقش کروایا ہے۔ اس لیے اب کوئی شخص یہ نقش اپنی انگوٹھی پر نہ کھدوائے۔
حدثنا مسدد، حدثنا حماد، عن عبد العزيز بن صهيب، عن انس بن مالك رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتخذ خاتما من فضة، ونقش فيه، محمد رسول الله. وقال " اني اتخذت خاتما من ورق، ونقشت فيه، محمد رسول الله. فلا ينقشن احد على نقشه
مجھ سے عبداللہ انصاری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد عبداللہ بن مثنیٰ نے بیان کیا، ان سے ثمامہ بن عبداللہ بن انس نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ جب خلیفہ ہوئے تو انہوں نے مجھ کو زکوٰۃ کے مسائل لکھوا دیئے اور انگوٹھی ( مہر ) کا نقش تین سطروں میں تھا ایک سطر میں ”محمد“ دوسری سطر میں ”رسول“ اور تیسری سطر میں ”اللہ“۔
حدثني محمد بن عبد الله الانصاري، قال حدثني ابي، عن ثمامة، عن انس، ان ابا بكر رضى الله عنه لما استخلف كتب له، وكان نقش الخاتم ثلاثة اسطر. محمد سطر، ورسول سطر، والله سطر
امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے امام احمد بن حنبل نے اتنا اور روایت کیا، کہا مجھ سے محمد بن عبداللہ انصاری نے، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے، ان سے ثمامہ بن عبداللہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی وفات تک آپ کے ہاتھ میں رہی۔ آپ کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں رہی پھر جب عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کا زمانہ آیا تو وہ اریس کے کنویں پر ایک مرتبہ بیٹھے، بیان کیا کہ پھر انگوٹھی نکالی اور اسے الٹنے پلٹنے لگے کہ اتنے میں وہ ( کنویں میں ) گر گئی۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہم تین دن تک اسے ڈھونڈتے رہے اور کنویں کا سارا پانی بھی کھینچ ڈالا لیکن وہ انگوٹھی نہیں ملی۔
وزادني احمد حدثنا الانصاري، قال حدثني ابي، عن ثمامة، عن انس، قال كان خاتم النبي صلى الله عليه وسلم في يده، وفي يد ابي بكر بعده، وفي يد عمر بعد ابي بكر، فلما كان عثمان جلس على بير اريس قال فاخرج الخاتم، فجعل يعبث به فسقط قال فاختلفنا ثلاثة ايام مع عثمان فننزح البير فلم نجده
ہم سے ابوعاصم نبیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو حسن بن مسلم نے خبر دی، انہیں طاؤس نے اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ میں عیدالفطر کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی اور ابن وہب نے جریج سے یہ لفظ بڑھائے کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے مجمع کی طرف گئے ( اور صدقہ کی ترغیب دلائی ) تو عورتیں بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں چھلے دار انگوٹھیاں ڈالنے لگیں۔
حدثنا ابو عاصم، اخبرنا ابن جريج، اخبرنا الحسن بن مسلم، عن طاوس، عن ابن عباس رضى الله عنهما شهدت العيد مع النبي صلى الله عليه وسلم فصلى قبل الخطبة. وزاد ابن وهب عن ابن جريج فاتى النساء فجعلن يلقين الفتخ والخواتيم في ثوب بلال
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عدی بن ثابت نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن ( آبادی سے باہر ) گئے اور دو رکعت نماز پڑھائی آپ نے اس سے پہلے اور اس کے بعد کوئی دوسری نفل نماز نہیں پڑھی پھر آپ عورتوں کے مجمع کی طرف آئے اور انہیں صدقہ کا حکم فرمایا۔ چنانچہ عورتیں اپنی بالیاں اور خوشبو اور مشک کے ہار صدقہ میں دینے لگیں۔
حدثنا محمد بن عرعرة، حدثنا شعبة، عن عدي بن ثابت، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال خرج النبي صلى الله عليه وسلم يوم عيد فصلى ركعتين، لم يصل قبل ولا بعد، ثم اتى النساء فامرهن بالصدقة، فجعلت المراة تصدق بخرصها وسخابها
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدہ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ اسماء رضی اللہ عنہا کا ہار ( جو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے عاریت پر لیا تھا ) گم ہو گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تلاش کرنے کے لیے چند صحابہ کو بھیجا اسی دوران میں نماز کا وقت ہو گیا اور لوگ بلا وضو ( وضو کے بغیر ) تھے چونکہ پانی بھی موجود نہیں تھا، اس لیے سب نے بلا وضو نماز پڑھی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو تیمم کی آیت نازل ہوئی۔ ابن نمیر نے یہ اضافہ کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ وہ ہار انہوں نے اسماء سے عاریتاً لیا تھا۔
حدثنا اسحاق بن ابراهيم، حدثنا عبدة، حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت هلكت قلادة لاسماء، فبعث النبي صلى الله عليه وسلم في طلبها رجالا، فحضرت الصلاة وليسوا على وضوء ولم يجدوا ماء، فصلوا وهم على غير وضوء، فذكروا ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فانزل الله اية التيمم. زاد ابن نمير عن هشام عن ابيه عن عايشة استعارت من اسماء