Loading...

Loading...
کتب
۱۸۷ احادیث
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے عبید بن حنین نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں عمر رضی اللہ عنہ سے ان عورتوں کے بارے میں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملہ میں اتفاق کر لیا تھا، پوچھنے کا ارادہ کرتا رہا لیکن ان کا رعب سامنے آ جاتا تھا۔ ایک دن ( مکہ کے راستہ میں ) ایک منزل پر قیام کیا اور پیلو کے درختوں میں ( وہ قضائے حاجت کے لیے ) تشریف لے گئے۔ جب قضائے حاجت سے فارغ ہو کر واپس تشریف لائے تو میں نے پوچھا انہوں نے بتلایا کہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما ہیں پھر کہا کہ جاہلیت میں ہم عورتوں کو کوئی حیثیت نہیں دیتے تھے۔ جب اسلام آیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کا ذکر کیا ( اور ان کے حقوق ) مردوں پر بتائے تب ہم نے جانا کہ ان کے بھی ہم پر کچھ حقوق ہیں لیکن اب بھی ہم اپنے معاملات میں ان کا دخیل بننا پسند نہیں کرتے تھے۔ میرے اور میری بیوی میں کچھ گفتگو ہو گئی اور اس نے تیز و تند جواب مجھے دیا تو میں نے اس سے کہا اچھا اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی۔ اس نے کہا تم مجھے یہ کہتے ہو اور تمہاری بیٹی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تکلیف پہنچاتی ہے۔ میں ( اپنی بیٹی ام المؤمنین ) حفصہ کے پاس آیا اور اس سے کہا میں تجھے تنبیہ کرتا ہوں کہ اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف پہنچانے کے معاملہ میں سب سے پہلے میں ہی حفصہ کے یہاں گیا پھر میں ام سلمہ کے پاس آیا اور ان سے بھی یہی بات کہی لیکن انہوں نے کہا کہ حیرت ہے تم پر عمر! تم ہمارے معاملات میں دخیل ہو گئے ہو۔ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ازواج کے معاملات میں دخل دینا باقی تھا۔ ( سو اب وہ بھی شروع کر دیا ) انہوں نے میری بات رد کر دی۔ قبیلہ انصار کے ایک صحابی تھے جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں موجود نہ ہوتے اور میں حاضر ہوتا تو تمام خبریں ان سے آ کر بیان کرتا تھا اور جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے غیر حاضر ہوتا اور وہ موجود ہوتے تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق تمام خبریں مجھے آ کر سناتے تھے۔ آپ کے چاروں طرف جتنے ( بادشاہ وغیرہ ) تھے ان سب سے آپ کے تعلقات ٹھیک تھے۔ صرف شام کے ملک غسان کا ہمیں خوف رہتا تھا کہ وہ کہیں ہم پر حملہ نہ کر دے۔ میں نے جو ہوش و حواس درست کئے تو وہی انصاری صحابی تھے اور کہہ رہے تھے کہ ایک حادثہ ہو گیا۔ میں نے کہا کیا بات ہوئی۔ کیا غسان چڑھ آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بھی بڑا حادثہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی۔ میں جب ( مدینہ ) حاضر ہوا تو تمام ازواج کے حجروں سے رونے کی آواز آ رہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانہ پر چلے گئے تھے اور بالا خانہ کے دروازہ پر ایک نوجوان پہرے دار موجود تھا میں نے اس کے پاس پہنچ کر اس سے کہا کہ میرے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر حاضر ہونے کی اجازت مانگ لو پھر میں اندر گیا تو آپ ایک چٹائی پر تشریف رکھتے تھے جس کے نشانات آپ کے پہلو پر پڑے ہوئے تھے اور آپ کے سر کے نیچے ایک چھوٹا سا چمڑے کا تکیہ تھا۔ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ چند کچی کھالیں لٹک رہی تھیں اور ببول کے پتے تھے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ان باتوں کا ذکر کیا جو میں نے حفصہ اور ام سلمہ سے کہی تھیں اور وہ بھی جو ام سلمہ نے میری بات رد کرتے ہوئے کہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر مسکرا دیئے۔ آپ نے اس بالا خانہ میں انتیس دن تک قیام کیا پھر آپ وہاں سے نیچے اتر آئے۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد، عن يحيى بن سعيد، عن عبيد بن حنين، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال لبثت سنة وانا اريد ان اسال عمر عن المراتين اللتين تظاهرتا على النبي صلى الله عليه وسلم فجعلت اهابه، فنزل يوما منزلا فدخل الاراك، فلما خرج سالته فقال عايشة وحفصة ثم قال كنا في الجاهلية لا نعد النساء شييا، فلما جاء الاسلام وذكرهن الله، راينا لهن بذلك علينا حقا، من غير ان ندخلهن في شىء من امورنا، وكان بيني وبين امراتي كلام فاغلظت لي فقلت لها وانك لهناك. قالت تقول هذا لي وابنتك توذي النبي صلى الله عليه وسلم فاتيت حفصة فقلت لها اني احذرك ان تعصي الله ورسوله. وتقدمت اليها في اذاه، فاتيت ام سلمة فقلت لها. فقالت اعجب منك يا عمر قد دخلت في امورنا، فلم يبق الا ان تدخل بين رسول الله صلى الله عليه وسلم وازواجه، فرددت، وكان رجل من الانصار اذا غاب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم وشهدته اتيته بما يكون، واذا غبت عن رسول الله صلى الله عليه وسلم وشهد اتاني بما يكون من رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان من حول رسول الله صلى الله عليه وسلم قد استقام له، فلم يبق الا ملك غسان بالشام، كنا نخاف ان ياتينا، فما شعرت الا بالانصاري وهو يقول انه قد حدث امر. قلت له وما هو اجاء الغساني قال اعظم من ذاك، طلق رسول الله صلى الله عليه وسلم نساءه. فجيت فاذا البكاء من حجرها كلها، واذا النبي صلى الله عليه وسلم قد صعد في مشربة له، وعلى باب المشربة وصيف فاتيته فقلت استاذن لي. فدخلت فاذا النبي صلى الله عليه وسلم على حصير قد اثر في جنبه، وتحت راسه مرفقة من ادم، حشوها ليف، واذا اهب معلقة وقرظ، فذكرت الذي قلت لحفصة وام سلمة، والذي ردت على ام سلمة، فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم فلبث تسعا وعشرين ليلة، ثم نزل
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن یوسف صنعانی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو معمر بن راشد نے خبر دی، انہیں زہری نے خبر دی، انہیں ہندہ بنت حارث نے خبر دی اور ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت بیدار ہوئے اور کہا اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، کیسی کیسی بلائیں اس رات میں نازل ہو رہی ہیں اور کیا کیا رحمتیں اس کے خزانوں سے اتر رہی ہیں۔ کوئی ہے جو ان حجرہ والیوں کو بیدار کر دے۔ دیکھو بہت سی دنیا میں پہننے اوڑھنے والیاں آخرت میں ننگی ہوں گی۔ زہری نے بیان کیا کہ ہندہ اپنی آستینوں میں انگلیوں کے درمیان گھنڈیاں لگاتی تھیں، تاکہ صرف انگلیاں کھلیں اس سے آگے نہ کھلے۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا هشام، اخبرنا معمر، عن الزهري، اخبرتني هند بنت الحارث، عن ام سلمة، قالت استيقظ النبي صلى الله عليه وسلم من الليل وهو يقول " لا اله الا الله، ماذا انزل الليلة من الفتنة، ماذا انزل من الخزاين، من يوقظ صواحب الحجرات، كم من كاسية في الدنيا عارية يوم القيامة ". قال الزهري وكانت هند لها ازرار في كميها بين اصابعها
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے اسحاق بن سعید بن عمرو بن سعید بن عاص نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ام خالد بنت خالد رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ کپڑے آئے جن میں ایک کالی چادر بھی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا کیا خیال ہے، کسے یہ چادر دی جائے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خاموش رہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ام خالد کو بلا لاؤ۔ چنانچہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا اور مجھے وہ چادر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے عنایت فرمائی اور فرمایا دیر تک جیتی رہو، دو مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ پھر آپ اس چادر کے نقش و نگار کو دیکھنے لگے اور اپنے ہاتھ سے میری طرف اشارہ کر کے فرمایا ام خالد! «سنا . والسنا» یہ حبشی زبان کا لفظ ہے یعنی واہ کیا زیب دیتی ہے۔ اسحاق بن سعید نے بیان کیا کہ مجھ سے میرے گھر کی ایک عورت نے بیان کیا کہا کہ انہوں نے وہ چادر ام خالد رضی اللہ عنہا کے پاس دیکھی تھی۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا اسحاق بن سعيد بن عمرو بن سعيد بن العاص، قال حدثني ابي قال، حدثتني ام خالد بنت خالد، قالت اتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بثياب فيها خميصة سوداء قال " من ترون نكسوها هذه الخميصة ". فاسكت القوم. قال " ايتوني بام خالد ". فاتي بي النبي صلى الله عليه وسلم فالبسها بيده وقال " ابلي واخلقي ". مرتين فجعل ينظر الى علم الخميصة، ويشير بيده الى ويقول " يا ام خالد هذا سنا ". والسنا بلسان الحبشية الحسن. قال اسحاق حدثتني امراة من اهلي انها راته على ام خالد
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی مرد زعفران کے رنگ کا استعمال کرے۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الوارث، عن عبد العزيز، عن انس، قال نهى النبي صلى الله عليه وسلم ان يتزعفر الرجل
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا تھا کہ کوئی محرم ورس یا زعفران سے رنگا ہوا کپڑا پہنے۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا سفيان، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال نهى النبي صلى الله عليه وسلم ان يلبس المحرم ثوبا مصبوغا بورس او بزعفران
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے اور انہوں نے براء رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میانہ قد تھے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سرخ جوڑے میں دیکھا آپ سے زیادہ خوبصورت کوئی چیز میں نے نہیں دیکھی۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، سمع البراء رضى الله عنه يقول كان النبي صلى الله عليه وسلم مربوعا، وقد رايته في حلة حمراء ما رايت شييا احسن منه
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے اشعث نے، ان سے معاویہ بن سوید بن مقرن نے اور ان سے براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات چیزوں کا حکم دیا تھا۔ بیمار کی عیادت کا، جنازہ کے پیچھے چلنے کا، چھینکنے والے کا جواب ( یرحمک اللہ سے ) دینے کا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ریشم، دیبا، قسی، استبرق اور سرخ زین پوشوں کے استعمال سے بھی منع فرمایا تھا۔
حدثنا قبيصة، حدثنا سفيان، عن اشعث، عن معاوية بن سويد بن مقرن، عن البراء رضى الله عنه قال امرنا النبي صلى الله عليه وسلم بسبع عيادة المريض، واتباع الجنايز، وتشميت العاطس، ونهانا عن لبس الحرير، والديباج، والقسي، والاستبرق، ومياثر الحمر
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی مسلمہ نے، انہوں نے کہا میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہاں۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد، عن سعيد ابي مسلمة، قال سالت انسا اكان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي في نعليه قال نعم
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے مقبری نے، ان سے عبید بن جریج نے کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ میں آپ کو چار ایسی چیزیں کرتے دیکھتا ہوں جو میں نے آپ کے کسی ساتھی کو کرتے نہیں دیکھا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ابن جریج! وہ کیا چیزیں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ ( خانہ کعبہ کے ) کسی کونے کو طواف میں ہاتھ نہیں لگاتے صرف دو ارکان یمانی ( یعنی صرف رکن یمانی اور حجر اسود ) کو چھوتے ہیں اور میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ صاف زین کے چمڑے کا جوتا پہنتے ہیں اور میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اپنا کپڑا زرد رنگ سے رنگتے ہیں یا زرد خضاب لگاتے ہیں اور میں نے آپ کو دیکھا کہ جب مکہ میں ہوتے ہیں تو سب لوگ تو ذی الحجہ کا چاند دیکھ کر احرام باندھ لیتے ہیں لیکن آپ احرام نہیں باندھتے بلکہ ترویہ کے دن ( 8 ذی الحجہ کو ) کو احرام باندھتے ہیں۔ ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ خانہ کعبہ کے ارکان کے متعلق جو تم نے کہا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ صرف حجر اسود اور رکن یمانی کو چھوتے دیکھا۔ صاف تری کے چمڑے کے جوتوں کے متعلق جو تم نے پوچھا تو میں نے دیکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی چمڑے کا جوتا پہنتے تھے جس میں بال نہیں ہوتے تھے اور آپ اس کو پہنے ہوئے وضو کرتے تھے اس لیے میں بھی پسند کرتا ہوں کہ ایسا ہی جوتا استعمال کروں۔ زرد رنگ کے متعلق تم نے جو کہا ہے تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے خضاب کرتے یا کپڑے رنگتے دیکھا ہے اس لیے میں بھی اس زرد رنگ کو پسند کرتا ہوں اور رہا احرام باندھنے کا مسئلہ تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اسی وقت احرام باندھتے جب اونٹ پر سوار ہو کر جانے لگتے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن سعيد المقبري، عن عبيد بن جريج، انه قال لعبد الله بن عمر رضى الله عنهما رايتك تصنع اربعا لم ار احدا من اصحابك يصنعها. قال ما هي يا ابن جريج قال رايتك لا تمس من الاركان الا اليمانيين، ورايتك تلبس النعال السبتية، ورايتك تصبغ بالصفرة، ورايتك اذا كنت بمكة اهل الناس اذا راوا الهلال، ولم تهل انت حتى كان يوم التروية. فقال له عبد الله بن عمر اما الاركان فاني لم ار رسول الله صلى الله عليه وسلم يمس الا اليمانيين، واما النعال السبتية فاني رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يلبس النعال التي ليس فيها شعر ويتوضا فيها فانا احب ان البسها، واما الصفرة فاني رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصبغ بها، فانا احب ان اصبغ بها واما الاهلال فاني لم ار رسول الله صلى الله عليه وسلم يهل حتى تنبعث به راحلته
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں عبداللہ بن دینار نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کو زعفران یا ورس سے رنگا ہوا کپڑا پہننے سے منع فرمایا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جسے جوتے نہ ملیں وہ موزے ہی پہن لیں لیکن ان کو ٹخنے کے نیچے تک کاٹ دیں۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يلبس المحرم ثوبا مصبوغا بزعفران او ورس، وقال " من لم يجد نعلين فليلبس خفين، وليقطعهما اسفل من الكعبين
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے جابر بن زید نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے پاس احرام باندھنے کے لیے تہبند نہ ہو وہ پاجامہ پہن لے ( اس کا کاٹنا ضروری نہیں ہے ) اور جس کے پاس جوتے نہ ہوں وہ موزے ہی پہن لے لیکن ٹخنوں کے نیچے تک ان کو کاٹ ڈالے ( جیسا کہ پچھلی حدیث میں ہے ) ۔
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، عن جابر بن زيد، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " من لم يكن له ازار فليلبس السراويل، ومن لم يكن له نعلان فليلبس خفين
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے اشعث بن سلیم نے خبر دی کہ میں نے اپنے والد سے سنا، وہ مسروق سے بیان کرتے تھے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طہارت میں کنگھا کرنے میں اور جوتا پہننے میں داہنی طرف سے شروع کرنے کو پسند فرماتے تھے۔
حدثنا حجاج بن منهال، حدثنا شعبة، قال اخبرني اشعث بن سليم، سمعت ابي يحدث، عن مسروق، عن عايشة رضى الله عنها قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يحب التيمن في طهوره وترجله وتنعله
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص جوتا پہنے تو دائیں طرف سے شروع کرے اور جب اتارے تو بائیں طرف سے اتارے تاکہ داہنی جانب پہننے میں اول ہو اور اتارنے میں آخر ہو۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا انتعل احدكم فليبدا باليمين واذا نزع فليبدا بالشمال، لتكن اليمنى اولهما تنعل واخرهما تنزع
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں کوئی شخص صرف ایک پاؤں میں جوتا پہن کر نہ چلے یا دونوں پاؤں ننگا رکھے یا دونوں میں جوتا پہنے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يمشي احدكم في نعل واحدة ليحفهما جميعا، او لينعلهما جميعا
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چپل میں دو تسمے تھے۔
حدثنا حجاج بن منهال، حدثنا همام، عن قتادة، حدثنا انس رضى الله عنه ان نعل، النبي صلى الله عليه وسلم كان لها قبالان
مجھ سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں عیسیٰ بن طہمان نے خبر دی، بیان کیا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ دو جوتے لے کر ہمارے پاس باہر آئے جس میں دو تسمے لگے ہوئے تھے۔ ثابت بنانی نے کہا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے ہیں۔
حدثني محمد، اخبرنا عبد الله، اخبرنا عيسى بن طهمان، قال خرج الينا انس بن مالك بنعلين لهما قبالان، فقال ثابت البناني هذه نعل النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمر بن ابی زائدہ نے بیان کیا، ان سے عون بن ابی جحیفہ نے اور ان سے ان کے والد وہب بن عبداللہ سوائی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں ( حجۃ الوداع کے موقع پر ) خدمت نبوی میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم چمڑے کے ایک سرخ خیمہ میں تشریف رکھے ہوئے تھے اور میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا پانی لیے ہوئے ہیں اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے پانی کو لے لینے میں ایک دوسرے کے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر کسی کو کچھ پانی مل جاتا ہے تو وہ اسے اپنے بدن پر لگا لیتا ہے اور جسے کچھ نہیں ملتا وہ اپنے ساتھی کے ہاتھ کی تری ہی کو لگانے کی کوشش کرتا ہے۔
حدثنا محمد بن عرعرة، قال حدثني عمر بن ابي زايدة، عن عون بن ابي جحيفة، عن ابيه، قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم وهو في قبة حمراء من ادم، ورايت بلالا اخذ وضوء النبي صلى الله عليه وسلم والناس يبتدرون الوضوء، فمن اصاب منه شييا تمسح به، ومن لم يصب منه شييا اخذ من بلل يد صاحبه
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی (دوسری سند) اور لیث بن سعد نے کہا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے کہا کہ مجھ سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلوایا اور انہیں لال چمڑے کے ایک خیمہ میں جمع کیا۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، اخبرني انس بن مالك، ح وقال الليث حدثني يونس، عن ابن شهاب، قال اخبرني انس بن مالك رضى الله عنه قال ارسل النبي صلى الله عليه وسلم الى الانصار، وجمعهم في قبة من ادم
مجھ سے محمد بن ابی بکر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں چٹائی کا گھیرا بنا لیتے تھے اور ان گھیرے میں نماز پڑھتے تھے اور اسی چٹائی کو دن میں بچھاتے تھے اور اس پر بیٹھتے تھے پھر لوگ ( رات کی نماز کے وقت ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہونے لگے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی اقتداء کرنے لگے جب مجمع زیادہ بڑھ گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ لوگو! عمل اتنے ہی کیا کرو جتنی کہ تم میں طاقت ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ ( اجر دینے سے ) نہیں تھکتا مگر تم ( عمل سے ) تھک جاتے ہو اور اللہ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ پسند وہ عمل ہے جسے پابندی سے ہمیشہ کیا جائے، خواہ وہ کم ہی ہو۔
حدثني محمد بن ابي بكر، حدثنا معتمر، عن عبيد الله، عن سعيد بن ابي سعيد، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن عايشة رضى الله عنها ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يحتجر حصيرا بالليل فيصلي، ويبسطه بالنهار فيجلس عليه، فجعل الناس يثوبون الى النبي صلى الله عليه وسلم فيصلون بصلاته حتى كثروا فاقبل فقال " يا ايها الناس خذوا من الاعمال ما تطيقون، فان الله لا يمل حتى تملوا، وان احب الاعمال الى الله ما دام وان قل
اور لیث بن سعد نے کہا کہ مجھ سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا، ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہ ان سے ان کے والد مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا بیٹے مجھے معلوم ہوا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قبائیں آئی ہیں اور آپ انہیں تقسیم فرما رہے ہیں۔ ہمیں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلو۔ چنانچہ ہم گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے گھر ہی میں پایا۔ والد نے مجھ سے کہا بیٹے میرا نام لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلاؤ۔ میں نے اسے بہت بڑی توہین آمیز بات سمجھا ( کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے والد کے لیے بلا کر تکلیف دوں ) چنانچہ میں نے والد صاحب سے کہا کہ میں آپ کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلاؤں! انہوں نے کہا کہ بیٹے ہاں۔ آپ کوئی جابر صفت انسان نہیں ہیں۔ چنانچہ میں نے بلایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر دیبا کی ایک قباء تھی جس میں سونے کی گھنڈیاں لگی ہوئی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مخرمہ اسے میں نے تمہارے لیے چھپا کے رکھا ہوا تھا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ قباء انہیں عنایت فرما دی۔
وقال الليث حدثني ابن ابي مليكة، عن المسور بن مخرمة، ان اباه، مخرمة قال له يا بنى انه بلغني ان النبي صلى الله عليه وسلم قدمت عليه اقبية فهو يقسمها، فاذهب بنا اليه، فذهبنا فوجدنا النبي صلى الله عليه وسلم في منزله، فقال لي يا بنى ادع لي النبي صلى الله عليه وسلم فاعظمت ذلك. فقلت ادعو لك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا بنى انه ليس بجبار. فدعوته فخرج وعليه قباء من ديباج مزرر بالذهب، فقال " يا مخرمة هذا خباناه لك ". فاعطاه اياه