Loading...

Loading...
کتب
۱۸۷ احادیث
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے اسحاق بن سعید نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے سعید بن فلاں یعنی عمرو بن سعید بن عاص نے اور ان سے ام خالد بنت خالد رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کچھ کپڑے لائے گئے جس میں ایک چھوٹی کالی کملی بھی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا کیا خیال ہے یہ چادر کسے دی جائے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خاموش رہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ام خالد کو میرے پاس بلا لاؤ۔ انہیں گود میں اٹھا کر لایا گیا ( کیونکہ بچی تھیں ) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چادر اپنے ہاتھ میں لی اور انہیں پہنایا اور دعا دی کہ جیتی رہو۔ اس چادر میں ہرے اور زرد نقش و نگار تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ام خالد! یہ نقش و نگار ”سناہ“ ہیں۔ ”سناہ“ حبشی زبان میں خوب اچھے کے معنی میں آتا ہے۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا اسحاق بن سعيد، عن ابيه، سعيد بن فلان هو عمرو بن سعيد بن العاص عن ام خالد بنت خالد، اتي النبي صلى الله عليه وسلم بثياب فيها خميصة سوداء صغيرة فقال " من ترون نكسو هذه ". فسكت القوم قال " ايتوني بام خالد ". فاتي بها تحمل فاخذ الخميصة بيده فالبسها وقال " ابلي واخلقي ". وكان فيها علم اخضر او اصفر فقال " يا ام خالد هذا سناه ". وسناه بالحبشية حسن
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے ابن عون نے، ان سے محمد نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ام سلیم رضی اللہ عنہا کے یہاں بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ انس اس بچہ کو دیکھتے رہو کوئی چیز اس کے پیٹ میں نہ جائے اور جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھ لاؤ تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا جوٹھا اس کے منہ میں ڈالیں۔ چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک باغ میں تھے اور آپ کے جسم پر قبیلہ بنی حریث کی بنی ہوئی چادر ( «خميصة حريثية» ) تھی اور آپ اس سواری پر نشان لگا رہے تھے جس پر آپ فتح مکہ کے موقع پر سوار تھے۔
حدثني محمد بن المثنى، قال حدثني ابن ابي عدي، عن ابن عون، عن محمد، عن انس رضى الله عنه قال لما ولدت ام سليم قالت لي يا انس انظر هذا الغلام فلا يصيبن شييا حتى تغدو به الى النبي صلى الله عليه وسلم يحنكه. فغدوت به، فاذا هو في حايط وعليه خميصة حريثية، وهو يسم الظهر الذي قدم عليه في الفتح
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب بن عبدالمجید ثقفی نے، کہا ہم کو ایوب سختیانی نے خبر دی، انہیں عکرمہ نے اور انہیں رفاعہ رضی اللہ عنہ نے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی۔ پھر ان سے عبدالرحمٰن بن زبیر قرظی رضی اللہ عنہ نے نکاح کر لیا تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ وہ خاتون سبز اوڑھنی اورڑھے ہوئے تھیں، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے ( اپنے شوہر کی ) شکایت کی اور اپنے جسم پر سبز نشانات ( چوٹ کے ) دکھائے پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ( جیسا کہ عادت ہے ) عکرمہ نے بیان کیا کہ عورتیں آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرتی ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ) کہا کہ کسی ایمان والی عورت کا میں نے اس سے زیادہ برا حال نہیں دیکھا ان کا جسم ان کے کپڑے سے بھی زیادہ برا ہو گیا ہے۔ بیان کیا کہ ان کے شوہر نے بھی سن لیا تھا کہ ( ان کی ) بیوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی ہے چنانچہ وہ بھی آ گئے اور ان کے ساتھ ان کے دو بچے ان سے پہلی بیوی کے تھے۔ ان کی بیوی نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے ان سے کوئی اور شکایت نہیں البتہ ان کے ساتھ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں جس سے میرا کچھ نہیں ہوتا۔ انہوں نے اپنے کپڑے کا پلو پکڑ کر اشارہ کیا ( یعنی ان کے شوہر کمزور ہیں ) اس پر ان کے شوہر نے کہا: یا رسول اللہ! واللہ یہ جھوٹ بولتی ہے میں تو اس کو ( جماع کے وقت ) چمڑے کی طرح ادھیڑ کر رکھ دیتا ہوں مگر یہ شریر ہے، یہ مجھے پسند نہیں کرتی اور رفاعہ کے یہاں دوبارہ جانا چاہتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اگر یہ بات ہے تو تمہارے لیے وہ ( رفاعہ ) اس وقت تک حلال نہیں ہو گا جب تک یہ ( عبدالرحمٰن دوسرے شوہر ) تمہارا مزا نہ چکھ لیں۔ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن کے ساتھ دو بچے بھی دیکھے تو دریافت فرمایا کیا یہ تمہارے بچے ہیں؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا، اس وجہ سے تم یہ باتیں سوچتی ہو۔ اللہ کی قسم یہ بچے ان سے اتنے ہی مشابہ ہیں جتنا کہ کوا کوے سے مشابہ ہوتا ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الوهاب، اخبرنا ايوب، عن عكرمة، ان رفاعة، طلق امراته، فتزوجها عبد الرحمن بن الزبير القرظي، قالت عايشة وعليها خمار اخضر. فشكت اليها، وارتها خضرة بجلدها، فلما جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم والنساء ينصر بعضهن بعضا قالت عايشة ما رايت مثل ما يلقى المومنات، لجلدها اشد خضرة من ثوبها. قال وسمع انها قد اتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فجاء ومعه ابنان له من غيرها. قالت والله ما لي اليه من ذنب، الا ان ما معه ليس باغنى عني من هذه. واخذت هدبة من ثوبها، فقال كذبت والله يا رسول الله، اني لانفضها نفض الاديم، ولكنها ناشز تريد رفاعة. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فان كان ذلك لم تحلي له او لم تصلحي له حتى يذوق من عسيلتك ". قال وابصر معه ابنين فقال " بنوك هولاء ". قال نعم. قال " هذا الذي تزعمين ما تزعمين، فوالله لهم اشبه به من الغراب بالغراب
ہم سے اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے بیان کیا، کہا ہم کو محمد بن بشر نے خبر دی، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جنگ احد کے موقع پر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں بائیں دو آدمیوں کو ( جو فرشتے تھے ) دیکھا وہ سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے میں نے انہیں نہ اس سے پہلے دیکھا اور نہ اس کے بعد کبھی دیکھا۔
حدثنا اسحاق بن ابراهيم الحنظلي، اخبرنا محمد بن بشر، حدثنا مسعر، عن سعد بن ابراهيم، عن ابيه، عن سعد، قال رايت بشمال النبي صلى الله عليه وسلم وبيمينه رجلين عليهما ثياب بيض يوم احد، ما رايتهما قبل ولا بعد
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے حسین نے، ان سے عبداللہ بن بریدہ نے، ان سے یحییٰ بن یعمر نے بیان کیا، ان سے ابو اسود دیلی نے بیان کیا اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کے جسم مبارک پر سفید کپڑا تھا اور آپ سو رہے تھے پھر دوبارہ حاضر ہوا تو آپ بیدار ہو چکے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس بندہ نے بھی کلمہ «لا إله إلا الله» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کو مان لیا اور پھر اسی پر وہ مرا تو جنت میں جائے گا۔ میں نے عرض کیا چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو، میں نے پھر عرض کیا چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو۔ فرمایا چاہے اس نے زنا کیا ہو، چاہے اس نے چوری کی ہو۔ میں نے ( حیرت کی وجہ سے پھر ) عرض کیا چاہے اس زنا کیا ہو یا اس نے چوری کی ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چاہے اس نے زنا کیا ہو چاہے اس نے چوری کی ہو۔ ابوذر کی ناک خاک آلود ہو۔ ابوذر رضی اللہ عنہ بعد میں جب بھی یہ حدیث بیان کرتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ابوذر کے «على رغم» ( «وإن رغم أنف أبي ذر.» ) ضرور بیان کرتے۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا یہ صورت کہ ( صرف کلمہ سے جنت میں داخل ہو گا ) یہ اس وقت ہو گی جب موت کے وقت یا اس سے پہلے ( گناہوں سے ) توبہ کی اور کہا کہ «لا إله إلا الله» اس کی مغفرت ہو جائے گی۔
حدثنا ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، عن الحسين، عن عبد الله بن بريدة، عن يحيى بن يعمر، حدثه ان ابا الاسود الديلي حدثه ان ابا ذر رضى الله عنه حدثه قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم وعليه ثوب ابيض وهو نايم، ثم اتيته وقد استيقظ فقال " ما من عبد قال لا اله الا الله. ثم مات على ذلك، الا دخل الجنة ". قلت وان زنى وان سرق قال " وان زنى وان سرق ". قلت وان زنى وان سرق قال " وان زنى وان سرق ". قلت وان زنى وان سرق قال " وان زنى وان سرق على رغم انف ابي ذر ". وكان ابو ذر اذا حدث بهذا قال وان رغم انف ابي ذر. قال ابو عبد الله هذا عند الموت او قبله، اذا تاب وندم وقال لا اله الا الله. غفر له
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، کہا ہم سے قتادہ نے، کہا کہ میں نے ابوعثمان نہدی سے سنا کہ ہمارے پاس عمر رضی اللہ عنہ کا مکتوب ( خط ) آیا ہم اس وقت عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہ کے ساتھ آذر بائیجان میں تھے ( اس میں لکھا تھا ) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم کے استعمال سے ( مردوں کو ) منع کیا ہے سوا اتنے کے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھے کے قریب کی اپنی دونوں انگلیوں کے اشارے سے اس کی مقدار بتائی۔ ابوعثمان نہدی نے بیان کیا کہ ہماری سمجھ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اس سے ( کپڑے وغیرہ ریشم کے ) پھول بوٹے بنانے سے تھی۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا قتادة، قال سمعت ابا عثمان النهدي، اتانا كتاب عمر ونحن مع عتبة بن فرقد باذربيجان ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن الحرير، الا هكذا، واشار باصبعيه اللتين تليان الابهام قال فيما علمنا انه يعني الاعلام
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، ان سے عاصم نے بیان، ان سے ابوعثمان نے بیان کیا کہ ہمیں عمر رضی اللہ عنہ نے لکھا اس وقت ہم آذر بائیجان میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم پہننے سے منع فرمایا تھا سوا اتنے کے اور اس کی وضاحت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو انگلیوں کے اشارے سے کی تھی۔ زہیر ( راوی حدیث ) نے بیچ کی اور شہادت کی انگلیاں اٹھا کر بتایا۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا عاصم، عن ابي عثمان، قال كتب الينا عمر ونحن باذربيجان ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن لبس الحرير الا هكذا، وصف لنا النبي صلى الله عليه وسلم اصبعيه. ورفع زهير الوسطى والسبابة
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے تیمی نے بیان کیا اور ان سے ابوعثمان نے بیان کیا کہ ہم عتبہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دنیا میں ریشم جو شخص بھی پہنے گا اسے آخرت میں نہیں پہنایا جائے گا۔“
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن التيمي، عن ابي عثمان، قال كنا مع عتبة فكتب اليه عمر رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يلبس الحرير في الدنيا، الا لم يلبس في الاخرة منه ". حدثنا الحسن بن عمر، حدثنا معتمر، حدثنا ابي، حدثنا ابو عثمان،، واشار ابو عثمان، باصبعيه المسبحة والوسطى
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے، ان سے ابن ابی لیلیٰ نے بیان کیا کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے۔ انہوں نے پانی مانگا۔ ایک دیہاتی چاندی کے برتن میں پانی لایا۔ انہوں نے اسے پھینک دیا اور کہا کہ میں نے صرف اسے اس لیے پھینکا ہے کہ میں اس شخص کو منع کر چکا ہوں ( کہ چاندی کے برتن میں مجھے کھانا اور پانی نہ دیا کرو ) لیکن وہ نہیں مانا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سونا، چاندی، ریشم اور دیبا ان ( کفار ) کے لیے دنیا میں ہے اور تمہارے ( مسلمانوں ) کے لیے آخرت میں۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن الحكم، عن ابن ابي ليلى، قال كان حذيفة بالمداين فاستسقى، فاتاه دهقان بماء في اناء من فضة فرماه به وقال اني لم ارمه الا اني نهيته فلم ينته قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الذهب والفضة والحرير والديباج هي لهم في الدنيا، ولكم في الاخرة
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا، کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، شعبہ نے بیان کیا کہ اس پر میں نے پوچھا کیا یہ روایت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے؟ عبدالعزیز نے بیان کیا کہ قطعاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مرد ریشمی لباس دنیا میں پہنے گا وہ آخرت میں اسے ہرگز نہیں پہن سکے گا۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا عبد العزيز بن صهيب، قال سمعت انس بن مالك قال شعبة فقلت اعن النبي صلى الله عليه وسلم فقال شديدا عن النبي صلى الله عليه وسلم فقال " من لبس الحرير في الدنيا فلن يلبسه في الاخرة
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت نے بیان کیا کہ میں نے ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس مرد نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں اسے نہیں پہن سکے گا۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد، عن ثابت، قال سمعت ابن الزبير، يخطب يقول قال محمد صلى الله عليه وسلم " من لبس الحرير في الدنيا لم يلبسه في الاخرة
ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں ابوذہبان خلیفہ بن کعب نے، کہا کہ میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے سنا، کہا کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس مرد نے دنیا میں ریشم پہنا وہ اسے آخرت میں نہیں پہن سکے گا۔ اور ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، ان سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے یزید نے کہ معاذ نے بیان کیا کہ مجھے ام عمرو بنت عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔
حدثنا علي بن الجعد، اخبرنا شعبة، عن ابي ذبيان، خليفة بن كعب قال سمعت ابن الزبير، يقول سمعت عمر، يقول قال النبي صلى الله عليه وسلم " من لبس الحرير في الدنيا لم يلبسه في الاخرة ". وقال لنا ابو معمر حدثنا عبد الوارث، عن يزيد، قالت معاذة اخبرتني ام عمرو بنت عبد الله، سمعت عبد الله بن الزبير، سمع عمر، سمع النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے علی مبارک نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے عمران بن حطان نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے ریشم کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو۔ بیان کی کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ مجھے ابوحفص یعنی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا میں ریشم تو وہی مرد پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔ میں نے اس پر کہا کہ سچ کہا اور ابوحفص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی جھوٹی بات نسبت نہیں کر سکتے اور عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے اور ان سے عمران نے اور پوری حدیث بیان کی۔
حدثني محمد بن بشار، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا علي بن المبارك، عن يحيى بن ابي كثير، عن عمران بن حطان، قال سالت عايشة عن الحرير، فقالت ايت ابن عباس فسله. قال فسالته فقال سل ابن عمر. قال فسالت ابن عمر فقال اخبرني ابو حفص يعني عمر بن الخطاب ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " انما يلبس الحرير في الدنيا من لا خلاق له في الاخرة ". فقلت صدق وما كذب ابو حفص على رسول الله صلى الله عليه وسلم. وقال عبد الله بن رجاء حدثنا حرب عن يحيى حدثني عمران. وقص الحديث
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا اور ان سے براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشم کا ایک کپڑا ہدیہ میں پیش ہوا تو ہم اسے چھونے لگے اور اس کی ( نرمی و ملائمت پر ) حیرت زدہ ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تمہیں اس پر حیرت ہے۔ ہم نے عرض کیا جی ہاں فرمایا، جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے بھی اچھے ہیں۔
حدثنا عبيد الله بن موسى، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن البراء رضى الله عنه قال اهدي للنبي صلى الله عليه وسلم ثوب حرير، فجعلنا نلمسه، ونتعجب منه، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اتعجبون من هذا ". قلنا نعم. قال " مناديل سعد بن معاذ في الجنة خير من هذا
ہم سے علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ان کے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن ابی نجیح سے سنا، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سونے اور چاندی کے برتن میں پینے اور کھانے سے منع فرمایا تھا اور ریشم اور دیباج پہننے اور اس پر بیٹھنے سے منع فرمایا تھا۔
حدثنا علي، حدثنا وهب بن جرير، حدثنا ابي قال، سمعت ابن ابي نجيح، عن مجاهد، عن ابن ابي ليلى، عن حذيفة رضى الله عنه قال نهانا النبي صلى الله عليه وسلم ان نشرب في انية الذهب والفضة، وان ناكل فيها، وعن لبس الحرير والديباج، وان نجلس عليه
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، انہیں اشعث بن ابی شعثاء نے، ان سے معاویہ بن سوید بن مقرن نے بیان کیا اور ان سے ابن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سرخ «ميثرة» اور «قسي» کے پہننے سے منع فرمایا ہے۔
حدثنا محمد بن مقاتل، اخبرنا عبد الله، اخبرنا سفيان، عن اشعث بن ابي الشعثاء، حدثنا معاوية بن سويد بن مقرن، عن ابن عازب، قال نهانا النبي صلى الله عليه وسلم عن المياثر الحمر والقسي
ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر اور عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہما کو کیونکہ انہیں خارش ہو گئی تھی، ریشم پہننے کی اجازت دی تھی۔
حدثني محمد، اخبرنا وكيع، اخبرنا شعبة، عن قتادة، عن انس، قال رخص النبي صلى الله عليه وسلم للزبير وعبد الرحمن في لبس الحرير لحكة بهما
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا (دوسری سند) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالملک بن میسرہ نے اور ان سے زید بن وہب نے کہ علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ریشمی دھاریوں والا ایک جوڑا، حلہ عنایت فرمایا۔ میں اسے پہن کر نکلا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر غصہ کے آثار دیکھے۔ چنانچہ میں نے اس کے ٹکڑے کر کے اپنی عزیز عورتوں میں بانٹ دیئے۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، ح وحدثني محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن عبد الملك بن ميسرة، عن زيد بن وهب، عن علي رضى الله عنه قال كساني النبي صلى الله عليه وسلم حلة سيراء، فخرجت فيها، فرايت الغضب في وجهه، فشققتها بين نسايي
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ریشمی دھاریوں والا ایک جوڑا فروخت ہوتے دیکھا تو عرض کیا کہ یا رسول اللہ! بہتر ہے کہ آپ اسے خرید لیں اور وفود سے ملاقات کے وقت اور جمعہ کے دن اسے زیب تن کیا کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے وہ پہنتا ہے جس کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ریشم کی دھاریوں والا ایک جوڑا حلہ بھیجا، ہدیہ کے طور پر۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا آپ نے مجھے یہ جوڑا حلہ عنایت فرمایا ہے حالانکہ میں خود آپ سے اس کے بارے میں وہ بات سن چکا ہوں جو آپ نے فرمائی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہیں یہ کپڑا اس لیے دیا ہے کہ اسے بیچ دو یا ( عورتوں وغیرہ میں سے ) کسی کو پہنا دو۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، قال حدثني جويرية، عن نافع، عن عبد الله، ان عمر رضى الله عنه راى حلة سيراء تباع فقال يا رسول الله لو ابتعتها، تلبسها للوفد اذا اتوك والجمعة. قال " انما يلبس هذه من لا خلاق له ". وان النبي صلى الله عليه وسلم بعث بعد ذلك الى عمر حلة سيراء حرير، كساها اياه فقال عمر كسوتنيها وقد سمعتك تقول فيها ما قلت فقال " انما بعثت اليك لتبيعها او تكسوها
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کو زرد دھاری دار ریشمی جوڑا پہنے دیکھا۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني انس بن مالك، انه راى على ام كلثوم عليها السلام بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم برد حرير سيراء