Loading...

Loading...
کتب
۱۸۷ احادیث
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ! محرم کس طرح کا کپڑا پہنے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( محرم کے لیے ) کہ قمیص نہ پہنو، نہ عمامے، نہ پاجامے، نہ برنس اور نہ موزے البتہ اگر کسی کو چپل نہ ملے تو وہ ( چمڑے کے ) موزوں کو ٹخنہ سے نیچے تک کاٹ کر انہیں پہن سکتا ہے اور نہ کوئی ایسا کپڑا پہنو جس میں زعفران یا ورس لگایا گیا ہو۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر، ان رجلا، قال يا رسول الله ما يلبس المحرم من الثياب قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تلبسوا القمص، ولا العمايم، ولا السراويلات، ولا البرانس، ولا الخفاف، الا احد لا يجد النعلين، فليلبس خفين، وليقطعهما اسفل من الكعبين، ولا تلبسوا من الثياب شييا مسه زعفران ولا الورس
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے عمرو نے، ان سے جابر بن زید نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( محرم کے بارے میں ) فرمایا ”جسے تہمد نہ ملے وہ پاجامہ پہنے اور جسے چپل نہ ملیں وہ موزے پہنیں۔“
حدثنا ابو نعيم، حدثنا سفيان، عن عمرو، عن جابر بن زيد، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من لم يجد ازارا فليلبس سراويل، ومن لم يجد نعلين فليلبس خفين
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب نے کھڑے ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! احرام باندھنے کے بعد ہمیں کس چیز کے پہننے کا حکم ہے؟ فرمایا کہ قمیص نہ پہنو، نہ پاجامے، نہ عمامے، نہ برنس اور نہ موزے پہنو۔ البتہ اگر کسی کے پاس چپل نہ ہوں تو وہ چمڑے کے ایسے موزے پہنے جو ٹخنوں سے نیچے ہوں اور کوئی ایسا کپڑا نہ پہنو جس میں زعفران اور ورس لگا ہوا ہو۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا جويرية، عن نافع، عن عبد الله، قال قام رجل فقال يا رسول الله ما تامرنا ان نلبس اذا احرمنا. قال " لا تلبسوا القميص، والسراويل، والعمايم والبرانس، والخفاف، الا ان يكون رجل ليس له نعلان، فليلبس الخفين اسفل من الكعبين، ولا تلبسوا شييا من الثياب مسه زعفران ولا ورس
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے زہری سے سنا، انہوں نے کہا کہ مجھے سالم نے خبر دی، انہیں ان کے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ محرم قمیص نہ پہنے , نہ عمامہ پہنے , نہ پاجامہ , نہ برنس اور نہ کوئی ایسا کپڑا پہنے جس میں زعفران اور ورس لگا ہو اور نہ موزے پہنے البتہ اگر کسی کو چپل نہ ملیں تو موزوں کو ٹخنوں کے نیچے تک کاٹ دے ( پھر پہنے ) ۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال سمعت الزهري، قال اخبرني سالم، عن ابيه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يلبس المحرم القميص، ولا العمامة، ولا السراويل، ولا البرنس، ولا ثوبا مسه زعفران، ولا ورس، ولا الخفين، الا لمن لم يجد النعلين، فان لم يجدهما فليقطعهما اسفل من الكعبين
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں زہری نے، انہیں عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بہت سے مسلمان حبشہ ہجرت کر کے چلے گئے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی ہجرت کی تیاریاں کرنے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی ٹھہر جاؤ کیونکہ مجھے بھی امید ہے کہ مجھے ( ہجرت کی ) اجازت دی جائے گی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیا آپ کو بھی امید ہے؟ میرا باپ آپ پر قربان۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں۔ چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہنے کے خیال سے رک گئے اور اپنی دو اونٹنیوں کو ببول کے پتے کھلا کر چار مہینے تک انہیں خوب تیار کرتے رہے۔ عروہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہم ایک دن دوپہر کے وقت اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سر ڈھکے ہوئے تشریف لا رہے ہیں۔ اس وقت عموماً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف نہیں لاتے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا میرے ماں باپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے وقت کسی وجہ ہی سے تشریف لا سکتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکان پر پہنچ کر اجازت چاہی اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے اور اندر داخل ہوتے ہی ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ جو لوگ تمہارے پاس اس وقت ہیں انہیں اٹھا دو۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی میرا باپ آپ پر قربان ہو یا رسول اللہ! یہ سب آپ کے گھر ہی کے افراد ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے ہجرت کی اجازت مل گئی ہے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی پھر یا رسول اللہ! مجھے رفاقت کا شرف حاصل رہے گا؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ عرض کی یا رسول اللہ! میرے باپ آپ پر قربان ہوں ان دو اونٹنیوں میں سے ایک آپ لے لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن قیمت سے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر ہم نے بہت جلدی جلدی سامان سفر تیار کیا اور سفر کا ناشتہ ایک تھیلے میں رکھا۔ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے اپنے پٹکے کے ایک ٹکڑے سے تھیلہ کے منہ کو باندھا۔ اسی وجہ سے انہیں ”ذات النطاق“ ( پٹکے والی ) کہنے لگے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ثور نامی پہاڑ کی ایک غار میں جا کر چھپ گئے اور تین دن تک اسی میں ٹھہرے رہے۔ عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہما رات آپ حضرات کے پاس ہی گزارتے تھے۔ وہ نوجوان ذہین اور سمجھدار تھے۔ صبح تڑکے میں وہاں سے چل دیتے تھے اور صبح ہوتے ہوتے مکہ کے قریش میں پہنچ جاتے تھے۔ جیسے رات میں مکہ ہی میں رہے ہوں۔ مکہ مکرمہ میں جو بات بھی ان حضرات کے خلاف ہوتی اسے محفوظ رکھتے اور جوں ہی رات کا اندھیرا چھا جاتا غار ثور میں ان حضرات کے پاس پہنچ کر تمام تفصیلات کی اطلاع دیتے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مولیٰ عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ دودھ دینے والی بکریاں چراتے تھے اور جب رات کا ایک حصہ گزر جاتا تو ان بکریوں کو غار ثور کی طرف ہانک لاتے تھے۔ آپ حضرات بکریوں کے دودھ پر رات گزارتے اور صبح کی پو پھٹتے ہی عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ وہاں سے روانہ ہو جاتے۔ ان تین راتوں میں انہوں نے ہر رات ایسا ہی کیا۔
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے زہری نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال ( مکہ مکرمہ میں ) داخل ہوئے تو آپ کے سر پر خود تھی۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا مالك، عن الزهري، عن انس رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل مكة عام الفتح وعلى راسه المغفر
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر ( یمن کے ) نجران کی بنی ہوئی موٹے حاشیے کی ایک چادر تھی۔ اتنے میں ایک دیہاتی آ گیا اور اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر کو پکڑ کر اتنی زور سے کھینچا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مونڈھے پر دیکھا کہ اس کے زور سے کھینچنے کی وجہ سے نشان پڑ گیا تھا۔ پھر اس نے کہا: اے محمد! مجھے اس مال میں سے دیئے جانے کا حکم کیجیئے جو اللہ کا مال آپ کے پاس ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے اور مسکرائے اور آپ نے اسے دیئے جانے کا حکم فرمایا۔
حدثنا اسماعيل بن عبد الله، قال حدثني مالك، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس بن مالك، قال كنت امشي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وعليه برد نجراني غليظ الحاشية، فادركه اعرابي فجبذه بردايه جبذة شديدة، حتى نظرت الى صفحة عاتق رسول الله صلى الله عليه وسلم قد اثرت بها حاشية البرد من شدة جبذته، ثم قال يا محمد مر لي من مال الله الذي عندك. فالتفت اليه رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم ضحك ثم امر له بعطاء
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک عورت ایک چادر لے کر آئیں ( جو اس نے خود بنی تھی ) سہل رضی اللہ عنہ نے کہا تمہیں معلوم ہے وہ پردہ کیا تھا پھر بتلایا کہ یہ ایک اونی چادر تھی جس کے کناروں پر حاشیہ ہوتا ہے۔ ان خاتون نے حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ چادر میں نے خاص آپ کے اوڑھنے کے لیے بنی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چادر ان سے اس طرح لی گویا آپ کو اس کی ضرورت ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے تہمد کے طور پر پہن کر ہمارے پاس تشریف لائے۔ جماعت صحابہ میں سے ایک صاحب ( عبدالرحمٰن بن عوف ) نے اس چادر کو چھوا اور عرض کی یا رسول اللہ! یہ مجھے عنایت فرما دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا۔ جتنی دیر اللہ نے چاہا آپ مجلس میں بیٹھے رہے پھر تشریف لے گئے اور اس چادر کو لپیٹ کر ان صاحب کے پاس بھجوا دیا۔ صحابہ نے اس پر ان سے کہا تم نے اچھی بات نہیں کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ چادر مانگ لی۔ تمہیں معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی سائل کو محروم نہیں فرماتے۔ ان صاحب نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے تو صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اس لیے مانگی ہے کہ جب میں مروں تو یہ میرا کفن ہو۔ سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا چنانچہ وہ چادر اس صحابی کے کفن ہی میں استعمال ہوئی۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد، قال جاءت امراة ببردة قال سهل هل تدري ما البردة قال نعم هي الشملة، منسوج في حاشيتها قالت يا رسول الله اني نسجت هذه بيدي اكسوكها. فاخذها رسول الله صلى الله عليه وسلم محتاجا اليها، فخرج الينا وانها لازاره، فجسها رجل من القوم فقال يا رسول الله اكسنيها. قال " نعم ". فجلس ما شاء الله في المجلس، ثم رجع، فطواها ثم ارسل بها اليه. فقال له القوم ما احسنت، سالتها اياه وقد عرفت انه لا يرد سايلا. فقال الرجل والله ما سالتها الا لتكون كفني يوم اموت. قال سهل فكانت كفنه
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھ سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں سے جنت میں ستر ہزار کی ایک جماعت داخل ہو گی ان کے چہرے چاند کی طرح چمک رہے ہوں گے۔ عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ اپنی دھاری دار چادر سنبھالتے ہوئے اٹھے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے لیے بھی دعا کیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے انہیں میں سے بنا دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ! عکاشہ کو بھی انہیں میں سے بنا دے۔ اس کے بعد قبیلہ انصار کے ایک صحابی سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان میں سے بنا دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سے پہلے عکاشہ دعا کرا چکا۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال حدثني سعيد بن المسيب، ان ابا هريرة رضى الله عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " يدخل الجنة من امتي زمرة هي سبعون الفا، تضيء وجوههم اضاءة القمر ". فقام عكاشة بن محصن الاسدي يرفع نمرة عليه قال ادع الله لي يا رسول الله ان يجعلني منهم. فقال " اللهم اجعله منهم ". ثم قام رجل من الانصار فقال يا رسول الله ادع الله ان يجعلني منهم. فقال رسول الله " سبقك عكاشة
ہم سے عمرو بن عاصم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کس طرح کا کپڑا زیادہ پسند تھا بیان کیا کہ حبرۃ کی سبز یمنی چادر۔
حدثنا عمرو بن عاصم، حدثنا همام، عن قتادة، عن انس، قال قلت له اى الثياب كان احب الى النبي صلى الله عليه وسلم قال الحبرة
مجھ سے عبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معاذ دستوائی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام کپڑوں میں یمنی سبز چادر پہننا بہت پسند تھی۔
حدثني عبد الله بن ابي الاسود، حدثنا معاذ، قال حدثني ابي، عن قتادة، عن انس بن مالك، رضى الله عنه قال كان احب الثياب الى النبي صلى الله عليه وسلم ان يلبسها الحبرة
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہوں نے کہا کہ مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ کی نعش مبارک پر ایک سبز یمنی چادر ڈال دی گئی تھی۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني ابو سلمة بن عبد الرحمن بن عوف، ان عايشة رضى الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم اخبرته ان رسول الله صلى الله عليه وسلم حين توفي سجي ببرد حبرة
حدثني يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، قال اخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، ان عايشة، وعبد الله بن عباس، رضى الله عنهم قالا لما نزل برسول الله صلى الله عليه وسلم طفق يطرح خميصة له على وجهه، فاذا اغتم كشفها عن وجهه، فقال وهو كذلك " لعنة الله على اليهود والنصارى اتخذوا قبور انبيايهم مساجد ". يحذر ما صنعوا
حدثني يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، قال اخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، ان عايشة، وعبد الله بن عباس، رضى الله عنهم قالا لما نزل برسول الله صلى الله عليه وسلم طفق يطرح خميصة له على وجهه، فاذا اغتم كشفها عن وجهه، فقال وهو كذلك " لعنة الله على اليهود والنصارى اتخذوا قبور انبيايهم مساجد ". يحذر ما صنعوا
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک نقشی چادر میں نماز پڑھی اور اس کے نقش و نگار پر نماز ہی میں ایک نظر ڈالی۔ پھر سلام پھیر کر فرمایا کہ میری یہ چادر ابوجہم کو واپس دے دو۔ اس نے ابھی مجھے میری نماز سے غافل کر دیا تھا اور ابوجہم کی سادی چادر لیتے آؤ۔ یہ ابوجہم بن حذیفہ بن غانم بنی عدی بن کعب قبیلے میں سے تھے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابراهيم بن سعد، حدثنا ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، قالت صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في خميصة له لها اعلام، فنظر الى اعلامها نظرة، فلما سلم قال " اذهبوا بخميصتي هذه الى ابي جهم، فانها الهتني انفا عن صلاتي، وايتوني بانبجانية ابي جهم بن حذيفة بن غانم من بني عدي بن كعب
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے ابوبردہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں ایک موٹی کملی ( «كساء» ) اور ایک موٹی ازار نکال کر دکھائی اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح ان ہی دو کپڑوں میں قبض ہوئی تھی۔
حدثنا مسدد، حدثنا اسماعيل، حدثنا ايوب، عن حميد بن هلال، عن ابي بردة، قال اخرجت الينا عايشة كساء وازارا غليظا فقالت قبض روح النبي صلى الله عليه وسلم في هذين
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب بن عبدالمجید ثقفی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا، ان سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے، ان سے حفص بن عاصم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا اور دو وقت نمازوں سے بھی آپ نے منع فرمایا، نماز فجر کے بعد سورج بلند ہونے تک اور عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک اور اس سے منع فرمایا کہ کوئی شخص صرف ایک کپڑا جسم پر لپیٹ کر گھٹنے اوپر اٹھا کر اس طرح بیٹھ جائے کہ اس کی شرمگاہ پر آسمان و زمین کے درمیان کوئی چیز نہ ہو اور اشتمال صماء سے منع فرمایا۔
حدثني محمد بن بشار، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا عبيد الله، عن خبيب، عن حفص بن عاصم، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن الملامسة، والمنابذة، وعن صلاتين بعد الفجر حتى ترتفع الشمس، وبعد العصر حتى تغيب، وان يحتبي بالثوب الواحد، ليس على فرجه منه شىء بينه وبين السماء، وان يشتمل الصماء
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عامر بن سعد نے خبر دی، اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے پہناوے اور دو طرح کی خرید و فروخت سے منع فرمایا۔ خرید و فروخت میں ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا۔ ملامسہ کی صورت یہ تھی کہ ایک شخص ( خریدار ) دوسرے ( بیچنے والے ) کے کپڑے کو رات یا دن میں کسی بھی وقت بس چھو دیتا ( اور دیکھے بغیر صرف چھونے سے بیع ہو جاتی ) صرف چھونا ہی کافی تھا کھول کر دیکھا نہیں جاتا تھا۔ منابذہ کی صورت یہ تھی کہ ایک شخص اپنی ملکیت کا کپڑا دوسرے کی طرف پھینکتا اور دوسرا اپنا کپڑا پھینکتا اور بغیر دیکھے اور بغیر باہمی رضا مندی کے صرف اسی سے بیع منعقد ہو جاتی اور دو کپڑے ( جن سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا انہیں میں سے ایک ) اشتمال صماء ہے۔ صماء کی صورت یہ تھی کہ اپنا کپڑا ( ایک چادر ) اپنے ایک شانے پر اس طرح ڈالا جاتا کہ ایک کنارہ سے ( شرمگاہ ) کھل جاتی اور کوئی دوسرا کپڑا وہاں نہیں ہوتا تھا۔ دوسرے پہناوے کا طریقہ یہ تھا کہ بیٹھ کر اپنے ایک کپڑے سے کمر اور پنڈلی باندھ لیتے تھے اور شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہیں ہوتا تھا۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن يونس، عن ابن شهاب، قال اخبرني عامر بن سعد، ان ابا سعيد الخدري، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن لبستين وعن بيعتين، نهى عن الملامسة والمنابذة في البيع، والملامسة لمس الرجل ثوب الاخر بيده بالليل او بالنهار، ولا يقلبه الا بذلك، والمنابذة ان ينبذ الرجل الى الرجل بثوبه، وينبذ الاخر ثوبه، ويكون ذلك بيعهما، عن غير نظر ولا تراض، واللبستين اشتمال الصماء، والصماء ان يجعل ثوبه على احد عاتقيه، فيبدو احد شقيه ليس عليه ثوب، واللبسة الاخرى احتباوه بثوبه وهو جالس، ليس على فرجه منه شىء
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے پہناوے سے منع فرمایا یہ کہ کوئی شخص ایک ہی کپڑے سے اپنی کمر اور پنڈلی کو ملا کر باندھ لے اور شرمگاہ پر کوئی دوسرا کپڑا نہ ہو اور یہ کہ کوئی شخص ایک کپڑے کو اس طرح جسم پر لپیٹے کہ ایک طرف کپڑے کا کوئی حصہ نہ ہو اور آپ نے ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن لبستين ان يحتبي الرجل في الثوب الواحد ليس على فرجه منه شىء، وان يشتمل بالثوب الواحد، ليس على احد شقيه، وعن الملامسة والمنابذة
مجھ سے محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو مخلد نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو ابن جریح نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے ابن شہاب نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں عبیداللہ بن عبداللہ نے اور انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشتمال صماء سے منع فرمایا اور اس سے بھی کہ کوئی شخص ایک کپڑے سے پنڈلی اور کمر کو ملا لے اور شرمگاہ پر کوئی دوسرا کپڑا نہ ہو۔
حدثني محمد، قال اخبرني مخلد، اخبرنا ابن جريج، قال اخبرني ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابي سعيد الخدري رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن اشتمال الصماء، وان يحتبي الرجل في ثوب واحد، ليس على فرجه منه شىء
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا هشام، عن معمر، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها قالت هاجر الى الحبشة ناس من المسلمين، وتجهز ابو بكر مهاجرا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " على رسلك، فاني ارجو ان يوذن لي ". فقال ابو بكر او ترجوه بابي انت قال " نعم ". فحبس ابو بكر نفسه على النبي صلى الله عليه وسلم لصحبته، وعلف راحلتين كانتا عنده ورق السمر اربعة اشهر. قال عروة قالت عايشة فبينا نحن يوما جلوس في بيتنا في نحر الظهيرة فقال قايل لابي بكر هذا رسول الله صلى الله عليه وسلم مقبلا متقنعا، في ساعة لم يكن ياتينا فيها. قال ابو بكر فدا له بابي وامي، والله ان جاء به في هذه الساعة الا لامر. فجاء النبي صلى الله عليه وسلم فاستاذن، فاذن له فدخل، فقال حين دخل لابي بكر " اخرج من عندك ". قال انما هم اهلك بابي انت يا رسول الله. قال " فاني قد اذن لي في الخروج ". قال فالصحبة بابي انت يا رسول الله. قال " نعم ". قال فخذ بابي انت يا رسول الله احدى راحلتى هاتين. قال النبي صلى الله عليه وسلم " بالثمن ". قالت فجهزناهما احث الجهاز، وضعنا لهما سفرة في جراب، فقطعت اسماء بنت ابي بكر قطعة من نطاقها، فاوكت به الجراب، ولذلك كانت تسمى ذات النطاق، ثم لحق النبي صلى الله عليه وسلم وابو بكر بغار في جبل يقال له ثور، فمكث فيه ثلاث ليال يبيت عندهما عبد الله بن ابي بكر، وهو غلام شاب لقن ثقف، فيرحل من عندهما سحرا، فيصبح مع قريش بمكة كبايت، فلا يسمع امرا يكادان به الا وعاه، حتى ياتيهما بخبر ذلك حين يختلط الظلام، ويرعى عليهما عامر بن فهيرة مولى ابي بكر منحة من غنم، فيريحها عليهما حين تذهب ساعة من العشاء، فيبيتان في رسلها حتى ينعق بها عامر بن فهيرة بغلس، يفعل ذلك كل ليلة من تلك الليالي الثلاث