Loading...

Loading...
کتب
۱۸۷ احادیث
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے، انہوں نے نافع اور عبداللہ بن دینار اور زید بن اسلم سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ اس کی طرف قیامت کے دن نظر رحمت نہیں کرے گا جو اپنا کپڑا تکبر و غرور سے زمین پر گھسیٹ کر چلتا ہے۔“
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن نافع، وعبد الله بن دينار، وزيد بن اسلم، يخبرونه عن ابن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا ينظر الله الى من جر ثوبه خيلاء
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے، ان سے سالم بن عبداللہ نے اور ان سے ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص تکبر کی وجہ سے تہبند گھسیٹتا ہوا چلے گا تو اللہ پاک اس کی طرف قیامت کے دن نظر بھی نہیں کرے گا۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے تہمد کا ایک حصہ کبھی لٹک جاتا ہے مگر یہ کہ خاص طور سے اس کا خیال رکھا کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو ایسا تکبر سے کرتے ہیں۔“
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا موسى بن عقبة، عن سالم بن عبد الله، عن ابيه رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من جر ثوبه خيلاء لم ينظر الله اليه يوم القيامة ". قال ابو بكر يا رسول الله ان احد شقى ازاري يسترخي، الا ان اتعاهد ذلك منه. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لست ممن يصنعه خيلاء
مجھ سے بیکندی محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالاعلیٰ نے خبر دی، انہیں یونس نے، انہیں امام حسن بصری نے اور ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سورج گرہن ہوا تو ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ جلدی میں کپڑا گھسیٹتے ہوئے مسجد میں تشریف لائے لوگ بھی جمع ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھائی، گرہن ختم ہو گیا، تب آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ”سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں اس لیے جب تم ان نشانیوں میں سے کوئی نشانی دیکھو تو نماز پڑھو اور اللہ سے دعا کرو یہاں تک کہ وہ ختم ہو جائے۔“
حدثني محمد، اخبرنا عبد الاعلى، عن يونس، عن الحسن، عن ابي بكرة رضى الله عنه قال خسفت الشمس ونحن عند النبي صلى الله عليه وسلم فقام يجر ثوبه مستعجلا، حتى اتى المسجد وثاب الناس فصلى ركعتين، فجلي عنها، ثم اقبل علينا وقال " ان الشمس والقمر ايتان من ايات الله، فاذا رايتم منها شييا فصلوا وادعوا الله حتى يكشفها
مجھ سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن شمیل نے خبر دی، کہا ہم کو عمر بن ابی زائدہ نے خبر دی، کہا ہم کو عون بن ابی جحیفہ نے خبر دی، ان سے ان کے والد ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے دیکھا کہ بلال رضی اللہ عنہ ایک نیزہ لے کر آئے اور اسے زمین میں گاڑ دیا پھر نماز کے لیے تکبیر کہی گئی۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جوڑا پہنے ہوئے باہر تشریف لائے جسے آپ نے سمیٹ رکھا تھا۔ پھر آپ نے نیزہ کے سامنے کھڑے ہو کر دو رکعت نماز عید پڑھائی اور میں نے دیکھا کہ انسان اور جانور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نیزہ کے باہر کی طرف سے گزر رہے تھے۔
حدثني اسحاق، اخبرنا ابن شميل، اخبرنا عمر بن ابي زايدة، اخبرنا عون بن ابي جحيفة، عن ابيه ابي جحيفة، قال فرايت بلالا جاء بعنزة فركزها، ثم اقام الصلاة، فرايت رسول الله صلى الله عليه وسلم خرج في حلة مشمرا، فصلى ركعتين الى العنزة، ورايت الناس والدواب يمرون بين يديه من وراء العنزة
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید بن ابی سعید مقبری نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے لٹکا ہو وہ جہنم میں ہو گا۔“
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما اسفل من الكعبين من الازار ففي النار
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابوالزناد نے، انہیں اعرج نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص اپنا تہمد غرور کی وجہ سے گھسیٹتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف دیکھے گا نہیں۔“
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا ينظر الله يوم القيامة الى من جر ازاره بطرا
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن زیاد نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی یا ( یہ بیان کیا کہ ) ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( بنی اسرائیل میں ) ایک شخص ایک جوڑا پہن کر کبر و غرور میں سر مست، سر کے بالوں میں کنگھی کئے ہوئے اکڑ کر اتراتا جا رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اب وہ قیامت تک اس میں تڑپتا رہے گا یا دھنستا رہے گا۔“
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا محمد بن زياد، قال سمعت ابا هريرة، يقول قال النبي او قال ابو القاسم صلى الله عليه وسلم " بينما رجل يمشي في حلة، تعجبه نفسه مرجل جمته، اذ خسف الله به، فهو يتجلل الى يوم القيامة
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن خالد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سالم بن عبداللہ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایک شخص غرور میں اپنا تہمد گھسیٹتا ہوا چل رہا تھا کہ اسے زمین میں دھنسا دیا گیا اور وہ اسی طرح قیامت تک زمین میں دھنستا ہی رہے گا۔“ اس کی متابعت یونس نے زہری سے کی ہے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، اسے مرفوعاً نہیں بیان کیا۔
حدثنا سعيد بن عفير، قال حدثني الليث، قال حدثني عبد الرحمن بن خالد، عن ابن شهاب، عن سالم بن عبد الله، ان اباه، حدثه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " بينا رجل يجر ازاره، خسف به، فهو يتجلل في الارض الى يوم القيامة ". تابعه يونس عن الزهري. ولم يرفعه شعيب عن الزهري. حدثني عبد الله بن محمد، حدثنا وهب بن جرير، اخبرنا ابي، عن عمه، جرير بن زيد قال كنت مع سالم بن عبد الله بن عمر على باب داره فقال سمعت ابا هريرة، سمع النبي صلى الله عليه وسلم نحوه
ہم سے مطر بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم سے شبابہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے محارب بن دثار قاضی سے ملاقات کی، وہ گھوڑے پر سوار تھے اور مکان عدالت میں آ رہے تھے جس میں وہ فیصلہ کیا کرتے تھے۔ میں نے ان سے یہی حدیث پوچھی تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو آپ اپنا کپڑا غرور کی وجہ سے گھسیٹتا ہوا چلے گا، قیامت کے دن اس کی طرف اللہ تعالیٰ نظر نہیں کرے گا۔“ ( شعبہ نے کہا کہ ) میں نے محارب سے پوچھا کیا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے تہمد کا ذکر کیا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ تہمد یا قمیص کسی کی انہوں نے تخصیص نہیں کی تھی۔ محارب کے ساتھ اس حدیث کو جبلہ بن سحیم اور زید بن اسلم اور زید بن عبداللہ نے بھی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اور لیث نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسی ہی روایت کی اور نافع کے ساتھ اس کو موسیٰ بن عقبہ اور عمر بن محمد اور قدامہ بن موسیٰ نے بھی سالم سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اس میں یوں ہے کہ جو شخص اپنا کپڑا ( ازراہ تکبر ) لٹکائے۔
حدثنا مطر بن الفضل، حدثنا شبابة، حدثنا شعبة، قال لقيت محارب بن دثار على فرس وهو ياتي مكانه الذي يقضي فيه فسالته عن هذا الحديث فحدثني فقال سمعت عبد الله بن عمر رضى الله عنهما يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من جر ثوبه مخيلة، لم ينظر الله اليه يوم القيامة ". فقلت لمحارب اذكر ازاره قال ما خص ازارا ولا قميصا. تابعه جبلة بن سحيم وزيد بن اسلم وزيد بن عبد الله عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم. وقال الليث عن نافع عن ابن عمر مثله. وتابعه موسى بن عقبة وعمر بن محمد وقدامة بن موسى عن سالم عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم " من جر ثوبه
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے کہا کہ مجھ کو عروہ بن زبیر اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رفاعہ قرظی رضی اللہ عنہ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں۔ میں بھی بیٹھی ہوئی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود تھے۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میں رفاعہ کے نکاح میں تھی لیکن انہوں نے مجھے تین طلاق دے دی ہیں۔ ( مغلظہ ) ۔ اس کے بعد میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر رضی اللہ عنہ سے نکاح کر لیا اور اللہ کی قسم کہ ان کے ساتھ یا رسول اللہ! صرف اس جھالر جیسا ہے۔ انہوں نے اپنی چادر کے جھالر کو اپنے ہاتھ میں لے کر اشارہ کیا۔ خالد بن سعید رضی اللہ عنہ جو دروازے پر کھڑے تھے اور انہیں ابھی اندر آنے کی اجازت نہیں ہوئی تھی، اس نے بھی ان کی بات سنی۔ بیان کیا کہ خالد رضی اللہ عنہ ( وہیں سے ) بولے۔ ابوبکر! آپ اس عورت کو روکتے نہیں کہ کس طرح کی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھول کر بیان کرتی ہے لیکن اللہ کی قسم اس بات پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تبسم اور بڑھ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ غالباً تم دوبارہ رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو؟ لیکن ایسا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ ( تمہارے دوسرے شوہر عبدالرحمٰن بن زبیر ) تمہارا مزا نہ چکھ لیں اور تم ان کا مزا نہ چکھ لو پھر بعد میں یہی قانون بن گیا۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، اخبرني عروة بن الزبير، ان عايشة رضى الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت جاءت امراة رفاعة القرظي رسول الله صلى الله عليه وسلم وانا جالسة وعنده ابو بكر فقالت يا رسول الله اني كنت تحت رفاعة فطلقني فبت طلاقي، فتزوجت بعده عبد الرحمن بن الزبير، وانه والله ما معه يا رسول الله الا مثل هذه الهدبة. واخذت هدبة من جلبابها، فسمع خالد بن سعيد قولها وهو بالباب لم يوذن له، قالت فقال خالد يا ابا بكر الا تنهى هذه عما تجهر به عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فلا والله ما يزيد رسول الله صلى الله عليه وسلم على التبسم، فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم " لعلك تريدين ان ترجعي الى رفاعة، لا، حتى يذوق عسيلتك وتذوقي عسيلته ". فصار سنة بعد
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو یونس نے، انہیں زہری نے، انہیں علی بن حسین نے خبر دی، انہیں حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ( کہ حمزہ رضی اللہ عنہ نے حرمت شراب سے پہلے شراب کے نشہ میں جب ان کی اونٹنی ذبح کر دی اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر اس کی شکایت کی تو ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر منگوائی اور اسے اوڑھ کر تشریف لے چلنے لگے۔ میں اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے پیچھے تھے۔ آخر آپ اس گھر میں پہنچے جس میں حمزہ رضی اللہ عنہ تھے، آپ نے اندر آنے کی اجازت مانگی اور انہوں نے آپ حضرات کو اجازت دی۔
حدثنا عبدان، اخبرنا عبد الله، اخبرنا يونس، عن الزهري، اخبرني علي بن حسين، ان حسين بن علي، اخبره ان عليا رضى الله عنه قال فدعا النبي صلى الله عليه وسلم بردايه، ثم انطلق يمشي، واتبعته انا وزيد بن حارثة، حتى جاء البيت الذي فيه حمزة، فاستاذن فاذنوا لهم
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ ایک صاحب نے عرض کیا: یا رسول اللہ! محرم کس طرح کا کپڑا پہنے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ محرم قمیص، پاجامہ، برنس ( ٹوپی یا سر پر پہننے کی کوئی چیز ) اور موزے نہیں پہنے گا البتہ اگر اسے چپل نہ ملیں تو موزوں ہی کو ٹخنوں تک کاٹ کر پہن لے وہ ہی جوتی کی طرح ہو جائیں گے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حماد، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما ان رجلا، قال يا رسول الله ما يلبس المحرم من الثياب فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لا يلبس المحرم القميص، ولا السراويل، ولا البرنس، ولا الخفين، الا ان لا يجد النعلين، فليلبس ما هو اسفل من الكعبين
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن عیینہ نے خبر دی، انہیں عمرو نے اور انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی ( منافق ) کے پاس جب اسے قبر میں داخل کیا جا چکا تھا تشریف لائے پھر آپ کے حکم سے اس کی لاش نکالی گئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں پر اسے رکھا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر دم کرتے ہوئے اپنی قمیص پہنائی اور اللہ ہی خوب جاننے والا ہے۔
حدثنا عبد الله بن محمد، اخبرنا ابن عيينة، عن عمرو، سمع جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال اتى النبي صلى الله عليه وسلم عبد الله بن ابى بعد ما ادخل قبره، فامر به فاخرج، ووضع على ركبتيه، ونفث عليه من ريقه، والبسه قميصه، والله اعلم
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو یحییٰ بن سعید نے خبر دی، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا، کہا مجھ کو نافع نے خبر دی، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن ابی کی وفات ہوئی تو اس کے لڑکے ( عبداللہ ) جو مخلص اور اکابر صحابہ میں تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اپنی قمیص مجھے عطا فرمایئے تاکہ میں اپنے باپ کو اس کا کفن دوں اور آپ ان کی نماز جنازہ پڑھا دیں اور ان کے لیے دعائے مغفرت کریں چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص انہیں عطا فرمائی اور فرمایا کہ نہلا دھلا کر مجھے اطلاع دینا۔ چنانچہ جب نہلا دھلا لیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تاکہ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں لیکن عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو پکڑ لیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافقین پر نماز جنازہ پڑھنے سے منع نہیں فرمایا ہے؟ اور فرمایا ہے «استغفر لهم أو لا تستغفر لهم إن تستغفر لهم سبعين مرة فلن يغفر الله لهم» کہ ”ان کے لیے مغفرت کی دعا کرو یا مغفرت کی دعا نہ کرو اگر تم ستر مرتبہ بھی ان کے لیے مغفرت کی دعا کرو گے تب بھی اللہ انہیں ہرگز نہیں بخشے گا۔“ پھر یہ آیت نازل ہوئی «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا» کہ ”اور ان میں سے کسی پر بھی جو مر گیا ہو ہرگز نماز نہ پڑھئیے۔“ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھنی چھوڑ دی۔
حدثنا صدقة، اخبرنا يحيى بن سعيد، عن عبيد الله، قال اخبرني نافع، عن عبد الله، قال لما توفي عبد الله بن ابى جاء ابنه الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله اعطني قميصك اكفنه فيه، وصل عليه، واستغفر له، فاعطاه قميصه، وقال " اذا فرغت فاذنا ". فلما فرغ اذنه، فجاء ليصلي عليه، فجذبه عمر فقال اليس قد نهاك الله ان تصلي على المنافقين فقال {استغفر لهم او لا تستغفر لهم ان تستغفر لهم سبعين مرة فلن يغفر الله لهم}. فنزلت {ولا تصل على احد منهم مات ابدا} فترك الصلاة عليهم
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعامر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن نافع نے بیان کیا، ان سے امام حسن بصری نے، ان سے طاؤس نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بخیل اور صدقہ دینے والے کی مثال بیان کیا کہ دو آدمیوں جیسی ہے جو لوہے کے جبے ہاتھ، سینہ اور حلق تک پہنے ہوئے ہیں۔ صدقہ دینے والا جب بھی صدقہ کرتا ہے تو اس کے جبہ میں کشادگی ہو جاتی ہے اور وہ اس کی انگلیوں تک بڑھ جاتا ہے اور قدم کے نشانات کو ڈھک لیتا ہے اور بخیل جب بھی کبھی صدقہ کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا جبہ اسے اور چمٹ جاتا ہے اور ہر حلقہ اپنی جگہ پر جم جاتا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح اپنی مبارک انگلیوں سے اپنے گریبان کی طرف اشارہ کر کے بتا رہے تھے کہ تم دیکھو گے کہ وہ اس میں وسعت پیدا کرنا چاہے گا لیکن وسعت پیدا نہیں ہو گی۔ اس کی متابعت ابن طاؤس نے اپنے والد سے کی ہے اور ابوالزناد نے اعرج سے کی ”دو جبوں“ کے ذکر کے ساتھ اور حنظلہ نے بیان کیا کہ میں نے طاؤس سے سنا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا «جبتان.» اور جعفر نے اعرج کے واسطہ سے «جبتان.» کا لفظ بیان کیا ہے۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا ابو عامر، حدثنا ابراهيم بن نافع، عن الحسن، عن طاوس، عن ابي هريرة، قال ضرب رسول الله صلى الله عليه وسلم مثل البخيل والمتصدق، كمثل رجلين عليهما جبتان من حديد، قد اضطرت ايديهما الى ثديهما وتراقيهما، فجعل المتصدق كلما تصدق بصدقة انبسطت عنه حتى تغشى انامله وتعفو اثره، وجعل البخيل كلما هم بصدقة قلصت، واخذت كل حلقة بمكانها. قال ابو هريرة فانا رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول باصبعه هكذا في جيبه، فلو رايته يوسعها ولا تتوسع. تابعه ابن طاوس عن ابيه وابو الزناد عن الاعرج في الجبتين. وقال حنظلة سمعت طاوسا سمعت ابا هريرة يقول جبتان. وقال جعفر عن الاعرج جبتان
ہم سے قیس بن حفص نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوالضحیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے مسروق نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے باہر تشریف لے گئے پھر واپس آئے تو میں پانی لے کر حاضر تھا۔ آپ نے وضو کیا آپ شامی جبہ پہنے ہوئے تھے، آپ نے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنا چہرہ دھویا پھر اپنی آستینیں چڑھانے لگے لیکن وہ تنگ تھی اس لیے آپ نے اپنے ہاتھ جبہ کے نیچے سے نکالے اور انہیں دھویا اور سر پر اور موزوں پر مسح کیا۔
حدثنا قيس بن حفص، حدثنا عبد الواحد، حدثنا الاعمش، قال حدثني ابو الضحى، قال حدثني مسروق، قال حدثني المغيرة بن شعبة، قال انطلق النبي صلى الله عليه وسلم لحاجته ثم اقبل، فتلقيته بماء، فتوضا وعليه جبة شامية، فمضمض واستنشق وغسل وجهه، فذهب يخرج يديه من كميه فكانا ضيقين، فاخرج يديه من تحت الجبة، فغسلهما ومسح براسه وعلى خفيه
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا نے بیان کیا، ان سے عامر نے، ان سے عروہ بن مغیرہ نے اور ان سے ان کے والد مغیرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں ایک رات سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا آپ نے دریافت فرمایا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اترے اور چلتے رہے یہاں تک کہ رات کی تاریکی میں آپ چھپ گئے پھر واپس تشریف لائے تو میں نے برتن کا پانی آپ کو استعمال کرایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ دھویا، ہاتھ دھوئے آپ اون کا جبہ پہنے ہوئے تھے جس کی آستین چڑھانی آپ کے لیے دشوار تھی چنانچہ آپ نے اپنے ہاتھ جبہ کے نیچے سے نکالے اور بازوؤں کو ( کہنیوں تک ) دھویا۔ پھر سر پر مسح کیا پھر میں بڑھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے موزے اتار دوں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رہنے دو میں نے طہارت کے بعد انہیں پہنا تھا چنانچہ آپ نے ان پر مسح کیا۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا زكرياء، عن عامر، عن عروة بن المغيرة، عن ابيه رضى الله عنه قال كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم ذات ليلة في سفر فقال " امعك ماء ". قلت نعم. فنزل عن راحلته، فمشى حتى توارى عني في سواد الليل، ثم جاء فافرغت عليه الاداوة، فغسل وجهه ويديه، وعليه جبة من صوف، فلم يستطع ان يخرج ذراعيه منها حتى اخرجهما من اسفل الجبة، فغسل ذراعيه، ثم مسح براسه، ثم اهويت لانزع خفيه فقال " دعهما، فاني ادخلتهما طاهرتين، فمسح عليهما
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند قبائیں تقسیم کیں اور مخرمہ رضی اللہ عنہ کو کچھ نہیں دیا تو مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا بیٹے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلو چنانچہ میں اپنے والد کو ساتھ لے کر چلا، انہوں نے مجھ سے کہا کہ اندر جاؤ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا ذکر کر دو۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مخرمہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا تو آپ باہر تشریف لائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں قباؤں میں سے ایک قباء لیے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ میں نے تمہارے ہی لیے رکھ چھوڑی تھی۔ مسور نے بیان کیا کہ مخرمہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مخرمہ خوش ہو گئے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن ابن ابي مليكة، عن المسور بن مخرمة، قال قسم رسول الله صلى الله عليه وسلم اقبية، ولم يعط مخرمة شييا فقال مخرمة يا بنى انطلق بنا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فانطلقت معه فقال ادخل فادعه لي. قال فدعوته له، فخرج اليه وعليه قباء منها فقال " خبات هذا لك ". قال فنظر اليه فقال رضي مخرمة
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب نے، ان سے ابوالخیر نے اور ان سے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشم کی فروج ( قباء ) ہدیہ میں دی گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہنا ( ریشم کا مردوں کے لیے حرمت کے حکم سے پہلے ) اور اسی کو پہنے ہوئے نماز پڑھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بڑی تیزی کے ساتھ اتار ڈالا جیسے آپ اس سے ناگواری محسوس کرتے ہوں پھر فرمایا کہ یہ متقیوں کے لیے مناسب نہیں ہے۔ اس روایت کی متابعت عبداللہ بن یوسف نے کی ان سے لیث نے اور عبداللہ بن یوسف کے علاوہ دوسروں نے کہا کہ «فروج حرير.» ۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن ابي الخير، عن عقبة بن عامر رضى الله عنه انه قال اهدي لرسول الله صلى الله عليه وسلم فروج حرير، فلبسه، ثم صلى فيه، ثم انصرف فنزعه نزعا شديدا كالكاره له ثم قال " لا ينبغي هذا للمتقين ". تابعه عبد الله بن يوسف عن الليث، وقال غيره فروج حرير
اور کہا مجھ سے مسدد نے اور کہا ہم سے معتمر نے کہ میں نے اپنے باپ سے سنا، کہا انہوں نے کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ پر ریشمی زرد ٹوپی کو دیکھا۔
وقال لي مسدد حدثنا معتمر، سمعت ابي قال، رايت على انس برنسا اصفر من خز