Loading...

Loading...
کتب
۱۸۷ احادیث
مجھ سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی، انہیں منصور نے، انہیں ابراہیم نخعی نے، انہیں علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے گودنے والیوں پر اور گدوانے والیوں پر اور چہرے کے بال اکھاڑنے والیوں پر اور خوبصورتی پیدا کرنے کے لیے سامنے کے دانتوں کے درمیان کشادگی کرنے والیوں پر جو اللہ کی پیدائش میں تبدیلی کرتی ہیں، لعنت بھیجی ہے پھر میں کیوں نہ ان پر لعنت بھیجوں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے اور وہ اللہ کی کتاب میں موجود ہے۔
حدثني محمد بن مقاتل، اخبرنا عبد الله، اخبرنا سفيان، عن منصور، عن ابراهيم، عن علقمة، عن ابن مسعود رضى الله عنه قال لعن الله الواشمات، والمستوشمات، والمتنمصات والمتفلجات للحسن، المغيرات خلق الله، ما لي لا العن من لعنه رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو في كتاب الله
مجھ سے یحییٰ بن ابی بشیر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نظر لگ جانا حق ہے“ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گودنے سے منع فرمایا۔
حدثني يحيى، حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن همام، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " العين حق ". ونهى عن الوشم
حدثني ابن بشار، حدثنا ابن مهدي، حدثنا سفيان، قال ذكرت لعبد الرحمن بن عابس حديث منصور عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله،، فقال سمعته من ام يعقوب، عن عبد الله، مثل حديث منصور
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عون بن ابی حجیفہ نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد (ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ) کو دیکھا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خون کی قیمت، کتے کی قیمت کھانے سے منع فرمایا اور سود لینے والے اور دینے والے، گودنے والی اور گودانے والی ( پر لعنت بھیجی ) ۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن عون بن ابي جحيفة، قال رايت ابي فقال ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن ثمن الدم، وثمن الكلب، واكل الربا وموكله، والواشمة والمستوشمة
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے عمارہ نے، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت لائی گئی جو گودنے کا کام کرتی تھی۔ عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے ( اور اس وقت موجود صحابہ سے ) کہا میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کسی نے کچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گودنے کے متعلق سنا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے کھڑے ہو کر عرض کیا: امیرالمؤمنین! میں نے سنا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا سنا ہے؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ گودنے کا کام نہ کرو اور نہ گدواؤ۔
حدثنا زهير بن حرب، حدثنا جرير، عن عمارة، عن ابي زرعة، عن ابي هريرة، قال اتي عمر بامراة تشم فقام فقال انشدكم بالله من سمع من النبي صلى الله عليه وسلم في الوشم فقال ابو هريرة فقمت فقلت يا امير المومنين انا سمعت. قال ما سمعت قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " لا تشمن ولا تستوشمن
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ نے خبر دی، کہا مجھ کو خبر دی نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصنوعی بال لگانے والی اور لگوانے والی اور گودنے والی اور گدوانے والی پر لعنت بھیجی ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن عبيد الله، اخبرني نافع، عن ابن عمر، قال لعن النبي صلى الله عليه وسلم الواصلة والمستوصلة، والواشمة والمستوشمة
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے سفیان بن عیینہ نے، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ گودنے والیوں پر اور گدوانے والیوں پر، بال اکھاڑنے والیوں پر اور خوبصورتی کے لیے دانتوں کے درمیان کشادگی کرنے والیوں پر جو اللہ کی پیدائش میں تبدیلی کرتی ہیں، اللہ تعالیٰ نے لعنت بھیجی ہے پھر میں بھی کیوں نہ ان پر لعنت بھیجوں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت بھیجی ہے اور وہ کتاب اللہ میں بھی موجود ہے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عبد الرحمن، عن سفيان، عن منصور، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله رضى الله عنه لعن الله الواشمات والمستوشمات، والمتنمصات والمتفلجات للحسن، المغيرات خلق الله. ما لي لا العن من لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو في كتاب الله
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اور ان سے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رحمت کے فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا مورتیں ہوں۔ اور لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید نے، ان سے ابن شہاب نے کہا کہ مجھ کو عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے سنا، پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث نقل کی ہے۔
حدثنا ادم، حدثنا ابن ابي ذيب، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابن عباس، عن ابي طلحة رضى الله عنهم قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا تدخل الملايكة بيتا فيه كلب ولا تصاوير ". وقال الليث حدثني يونس، عن ابن شهاب، اخبرني عبيد الله، سمع ابن عباس، سمعت ابا طلحة، سمعت النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے حمیدی عبداللہ بن زبیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا اور ان سے مسلم بن صبیحہ نے بیان کیا کہ ہم مسروق بن اجدع کے ساتھ یسار بن نمیر کے گھر میں تھے۔ مسروق نے ان کے گھر کے سائبان میں تصویریں دیکھیں تو کہا کہ میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کے پاس قیامت کے دن تصویر بنانے والوں کو سخت سے سخت تر عذاب ہو گا۔“
حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا الاعمش، عن مسلم، قال كنا مع مسروق في دار يسار بن نمير، فراى في صفته تماثيل فقال سمعت عبد الله قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " ان اشد الناس عذابا عند الله يوم القيامة المصورون
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو لوگ یہ مورتیں بناتے ہیں انہیں قیامت کے دن عذاب کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جس کو تم نے بنایا ہے اب اس میں جان بھی ڈالو۔“
حدثنا ابراهيم بن المنذر، حدثنا انس بن عياض، عن عبيد الله، عن نافع، ان عبد الله بن عمر رضى الله عنهما اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الذين يصنعون هذه الصور يعذبون يوم القيامة يقال لهم احيوا ما خلقتم
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، ان سے ہشام دستوائی نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے عمران بن حطان نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر میں جب بھی کوئی چیز ایسی ملتی جس پر صلیب کی مورت بنی ہو ( جیسے نصاریٰ رکھتے ہیں ) تو اس کو توڑ ڈالتے۔
حدثنا معاذ بن فضالة، حدثنا هشام، عن يحيى، عن عمران بن حطان، ان عايشة رضى الله عنها حدثته ان النبي صلى الله عليه وسلم لم يكن يترك في بيته شييا فيه تصاليب الا نقضه
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے، کہا ہم سے عمارہ نے، کہا ہم سے ابوزرعہ نے، کہا کہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ میں ( مروان بن حکم کے گھر میں ) گیا تو انہوں نے چھت پر ایک مصور کو دیکھا جو تصویر بنا رہا تھا، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ) اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو میری مخلوق کی طرح پیدا کرنے چلا ہے اگر اسے یہی گھمنڈ ہے تو اسے چاہیئے کہ ایک دانہ پیدا کرے، ایک چیونٹی پیدا کرے۔ پھر انہوں نے پانی کا ایک طشت منگوایا اور اپنے ہاتھ اس میں دھوئے۔ جب بغل دھونے لگے تو میں نے عرض کیا ابوہریرہ! کیا ( بغل تک دھونے کے بارے میں ) تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہے انہوں نے کہا میں نے جہاں تک زیور پہنا جا سکتا ہے وہاں تک دھویا ہے۔
حدثنا موسى، حدثنا عبد الواحد، حدثنا عمارة، حدثنا ابو زرعة، قال دخلت مع ابي هريرة دارا بالمدينة فراى اعلاها مصورا يصور، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ومن اظلم ممن ذهب يخلق كخلقي، فليخلقوا حبة، وليخلقوا ذرة ". ثم دعا بتور من ماء فغسل يديه حتى بلغ ابطه فقلت يا ابا هريرة اشىء سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم قال منتهى الحلية
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے سنا، ان دنوں مدینہ منورہ میں ان سے بڑھ کر عالم فاضل نیک کوئی آدمی نہیں تھا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد ( قاسم بن ابی بکر ) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر ( غزوہ تبوک ) سے تشریف لائے تو میں نے اپنے گھر کے سائبان پر ایک پردہ لٹکا دیا تھا، اس پر تصویریں تھیں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو اسے کھینچ کر پھینک دیا اور فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب میں وہ لوگ گرفتار ہوں گے جو اللہ کی مخلوق کی طرح خود بھی بناتے ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر میں نے پھاڑ کر اس پردہ کی ایک یا دو توشک بنا لیں۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال سمعت عبد الرحمن بن القاسم وما بالمدينة يوميذ افضل منه قال سمعت ابي قال سمعت عايشة رضى الله عنها قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم من سفر وقد سترت بقرام لي على سهوة لي فيها تماثيل، فلما راه رسول الله صلى الله عليه وسلم هتكه وقال " اشد الناس عذابا يوم القيامة الذين يضاهون بخلق الله ". قالت فجعلناه وسادة او وسادتين
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن داؤد نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے آئے اور میں نے پردہ لٹکا رکھا تھا جس میں تصویریں تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کے اتار لینے کا حکم دیا تو میں نے اسے اتار لیا۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الله بن داود، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة، قالت قدم النبي صلى الله عليه وسلم من سفر، وعلقت درنوكا فيه تماثيل، فامرني ان انزعه، فنزعته
اور میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہی برتن میں غسل جنابت کیا کرتے تھے۔
وكنت اغتسل انا والنبي، صلى الله عليه وسلم من اناء واحد
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ انہوں نے ایک گدا خریدا جس پر تصویریں تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اسے دیکھ کر ) دروازے پر کھڑے ہو گئے اور اندر تشریف نہیں لائے۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں نے جو غلطی کی ہے اس سے میں اللہ سے معافی مانگتی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ گدا کس لیے ہے؟ میں نے عرض کیا کہ آپ کے بیٹھنے اور اس پر ٹیک لگانے کے لیے ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان مورت کے بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے پیدا کیا ہے اسے زندہ بھی کر کے دکھاؤ اور فرشتے اس گھر میں نہیں داخل ہوتے جس میں مورت ہو۔
حدثنا حجاج بن منهال، حدثنا جويرية، عن نافع، عن القاسم، عن عايشة رضى الله عنها انها اشترت نمرقة فيها تصاوير، فقام النبي صلى الله عليه وسلم بالباب فلم يدخل. فقلت اتوب الى الله مما اذنبت. قال " ما هذه النمرقة ". قلت لتجلس عليها وتوسدها. قال " ان اصحاب هذه الصور يعذبون يوم القيامة، يقال لهم احيوا ما خلقتم. وان الملايكة لا تدخل بيتا فيه الصورة
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے بکیر بن عبداللہ نے، ان سے بسر بن سعید نے اور ان سے زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”فرشتے اس گھر میں نہیں داخل ہوتے جس میں تصویریں ہوں۔“ بسر نے بیان کیا کہ ( اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد ) پھر زید رضی اللہ عنہ بیمار پڑے تو ہم ان کی مزاج پرسی کے لیے گئے۔ ہم نے دیکھا کہ ان کے دروازہ پر ایک پردہ پڑا ہوا ہے جس پر تصویر ہے۔ میں نے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے ربیب عبیداللہ بن اسود سے کہا کہ زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے ہمیں اس سے پہلے ایک مرتبہ تصویروں کے متعلق حدیث سنائی تھی۔ عبیداللہ نے کہا کہ کیا تم نے سنا نہیں تھا، حدیث بیان کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ جو مورت کپڑے میں ہو وہ جائز ہے ( بشرطیکہ غیر ذی روح کی ہو ) ۔ اور عبداللہ بن وہب نے کہا، انہیں عمرو نے خبر دی وہ ابن حارث ہیں، ان سے بکیر نے بیان کیا، ان سے بسر نے بیان کیا، ان سے زید نے بیان کیا، ان سے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا جیسا کہ اوپر مذکور ہوا۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن بكير، عن بسر بن سعيد، عن زيد بن خالد، عن ابي طلحة، صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الملايكة لا تدخل بيتا فيه الصورة ". قال بسر ثم اشتكى زيد فعدناه، فاذا على بابه ستر فيه صورة فقلت لعبيد الله ربيب ميمونة زوج النبي صلى الله عليه وسلم الم يخبرنا زيد عن الصور يوم الاول. فقال عبيد الله الم تسمعه حين قال الا رقما في ثوب. وقال ابن وهب اخبرنا عمرو هو ابن الحارث حدثه بكير، حدثه بسر، حدثه زيد، حدثه ابو طلحة، عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک پردہ تھا۔ اسے انہوں نے گھر کے ایک کنارے پر لٹکا دیا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ پردہ نکال ڈال، اس کی مورت اس نماز میں میرے سامنے آتی ہیں اور دل اچاٹ ہوتا ہے۔
حدثنا عمران بن ميسرة، حدثنا عبد الوارث، حدثنا عبد العزيز بن صهيب، عن انس رضى الله عنه قال كان قرام لعايشة سترت به جانب بيتها، فقال لها النبي صلى الله عليه وسلم " اميطي عني، فانه لا تزال تصاويره تعرض لي في صلاتي
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے، کہا کہ مجھ سے عمر بن محمد نے بیان کیا، ان سے سالم نے اور ان سے ان کے والد (ابن عمر رضی اللہ عنہما) نے بیان کیا کہ ایک وقت پر جبرائیل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں آنے کا وعدہ کیا لیکن آنے میں دیر ہوئی۔ اس وقت پر نہیں آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سخت پریشان ہوئے پھر آپ باہر نکلے تو جبرائیل علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شکایت کی تو انہوں نے کہا کہ ہم ( فرشتے ) کسی ایسے گھر میں نہیں جاتے جس میں مورت یا کتا ہو۔
حدثنا يحيى بن سليمان، قال حدثني ابن وهب، قال حدثني عمر هو ابن محمد عن سالم، عن ابيه، قال وعد النبي صلى الله عليه وسلم جبريل فراث عليه حتى اشتد على النبي صلى الله عليه وسلم فخرج النبي صلى الله عليه وسلم فلقيه، فشكا اليه ما وجد، فقال له " انا لا ندخل بيتا فيه صورة ولا كلب
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے نافع نے، ان سے قاسم بن محمد نے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ انہوں نے ایک گدا خریدا جس میں مورتیں تھیں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو آپ دروازے پر کھڑے ہو گئے اور اندر نہیں آئے۔ میں آپ کے چہرے سے ناراضگی پہچان گئی۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اللہ سے اس کے رسول کے سامنے توبہ کرتی ہوں، میں نے کیا غلطی کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گدا کیسا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے ہی اسے خریدا ہے تاکہ آپ اس پر بیٹھیں اور ٹیک لگائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان مورتوں کے بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو تم نے پیدا کیا ہے اب ان میں جان بھی ڈالو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس گھر میں مورت ہوتی ہے اس میں ( رحمت کے ) فرشتے نہیں داخل ہوتے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن نافع، عن القاسم بن محمد، عن عايشة رضى الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم انها اخبرته انها اشترت نمرقة فيها تصاوير، فلما راها رسول الله صلى الله عليه وسلم قام على الباب فلم يدخل، فعرفت في وجهه الكراهية قالت يا رسول الله اتوب الى الله والى رسوله، ماذا اذنبت قال " ما بال هذه النمرقة ". فقالت اشتريتها لتقعد عليها وتوسدها. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان اصحاب هذه الصور يعذبون يوم القيامة، ويقال لهم احيوا ما خلقتم وقال ان البيت الذي فيه الصور لا تدخله الملايكة