Loading...

Loading...
کتب
۱۰۵ احادیث
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو عتاب بن بشیر نے خبر دی، انہیں اسحاق نے، ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھ کو عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی کہ ام قیس بنت محصن جو پہلے پہل ہجرت کرنے والی عورتوں میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی اور وہ عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں، خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے بیٹے کو لے کر حاضر ہوئیں۔ انہوں نے اس بچے کا کوا گرنے میں تالو دبا کر علاج کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو کہ تم اپنی اولاد کو اس طرح تالو دبا کر تکلیف پہنچاتی ہو عود ہندی ( کوٹ ) اس میں استعمال کرو کیونکہ اس میں سات بیماریوں کے لیے شفاء ہے جن میں سے ایک نمونیہ بھی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد عود ہندی سے «كست» تھی جسے «قسط» بھی کہتے ہیں یہ بھی ایک لغت ہے۔
حدثني محمد، اخبرنا عتاب بن بشير، عن اسحاق، عن الزهري، قال اخبرني عبيد الله بن عبد الله، ان ام قيس بنت محصن،، وكانت، من المهاجرات الاول اللاتي بايعن رسول الله صلى الله عليه وسلم وهى اخت عكاشة بن محصن اخبرته انها اتت رسول الله صلى الله عليه وسلم بابن لها قد علقت عليه من العذرة فقال " اتقوا الله، على ما تدغرون اولادكم بهذه الاعلاق عليكم بهذا العود الهندي، فان فيه سبعة اشفية، منها ذات الجنب ". يريد الكست يعني القسط، قال وهى لغة
حدثنا عارم، حدثنا حماد، قال قري على ايوب من كتب ابي قلابة، منه ما حدث به ومنه ما قري عليه، وكان هذا في الكتاب عن انس ان ابا طلحة وانس بن النضر كوياه، وكواه ابو طلحة بيده. وقال عباد بن منصور عن ايوب، عن ابي قلابة، عن انس بن مالك، قال اذن رسول الله صلى الله عليه وسلم لاهل بيت من الانصار ان يرقوا من الحمة والاذن. قال انس كويت من ذات الجنب ورسول الله صلى الله عليه وسلم حى، وشهدني ابو طلحة وانس بن النضر وزيد بن ثابت، وابو طلحة كواني
حدثنا عارم، حدثنا حماد، قال قري على ايوب من كتب ابي قلابة، منه ما حدث به ومنه ما قري عليه، وكان هذا في الكتاب عن انس ان ابا طلحة وانس بن النضر كوياه، وكواه ابو طلحة بيده. وقال عباد بن منصور عن ايوب، عن ابي قلابة، عن انس بن مالك، قال اذن رسول الله صلى الله عليه وسلم لاهل بيت من الانصار ان يرقوا من الحمة والاذن. قال انس كويت من ذات الجنب ورسول الله صلى الله عليه وسلم حى، وشهدني ابو طلحة وانس بن النضر وزيد بن ثابت، وابو طلحة كواني
حدثنا عارم، حدثنا حماد، قال قري على ايوب من كتب ابي قلابة، منه ما حدث به ومنه ما قري عليه، وكان هذا في الكتاب عن انس ان ابا طلحة وانس بن النضر كوياه، وكواه ابو طلحة بيده. وقال عباد بن منصور عن ايوب، عن ابي قلابة، عن انس بن مالك، قال اذن رسول الله صلى الله عليه وسلم لاهل بيت من الانصار ان يرقوا من الحمة والاذن. قال انس كويت من ذات الجنب ورسول الله صلى الله عليه وسلم حى، وشهدني ابو طلحة وانس بن النضر وزيد بن ثابت، وابو طلحة كواني
مجھ سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے بیان کیا، اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر ( احد کے دن ) خود ٹوٹ گیا آپ کا مبارک چہرہ خون آلود ہو گیا اور سامنے کے دانت ٹوٹ گئے تو علی رضی اللہ عنہ ڈھال بھربھر کر پانی لاتے تھے اور فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے چہرہ مبارک سے خون دھو رہی تھیں۔ پھر جب فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ خون پانی سے بھی زیادہ آ رہا ہے تو انہوں نے ایک بوریا جلا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخموں پر لگایا اور اس سے خون رکا۔
حدثني سعيد بن عفير، حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن القاري، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد الساعدي، قال لما كسرت على راس رسول الله صلى الله عليه وسلم البيضة، وادمي وجهه، وكسرت رباعيته، وكان علي يختلف بالماء في المجن، وجاءت فاطمة تغسل عن وجهه الدم، فلما رات فاطمة عليها السلام الدم يزيد على الماء كثرة عمدت الى حصير فاحرقتها والصقتها على جرح رسول الله صلى الله عليه وسلم فرقا الدم
مجھ سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بخار جہنم کی بھاپ میں سے ہے پس اس کی گرمی کو پانی سے بجھاؤ۔“ نافع نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ( کو جب بخار آتا تو ) یوں دعا کرتے کہ ”اللہ! ہم سے اس عذاب کو دور کر دے۔“
حدثني يحيى بن سليمان، حدثني ابن وهب، قال حدثني مالك، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الحمى من فيح جهنم فاطفيوها بالماء ". قال نافع وكان عبد الله يقول اكشف عنا الرجز
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے فاطمہ بنت منذر نے بیان کیا کہ اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما کے ہاں جب کوئی بخار میں مبتلا عورت لائی جاتی تھی تو وہ اس کے لیے دعا کرتیں اور اس کے گریبان میں پانی ڈالتیں وہ بیان کرتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا کہ بخار کو پانی سے ٹھنڈا کریں۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن هشام، عن فاطمة بنت المنذر، ان اسماء بنت ابي بكر رضى الله عنهما كانت اذا اتيت بالمراة قد حمت تدعو لها، اخذت الماء فصبته بينها وبين جيبها قالت وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يامرنا ان نبردها بالماء
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، کہا کہ میرے والد نے مجھ کو خبر دی اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بخار جہنم کی بھاپ میں سے ہے اس لیے اسے پانی سے ٹھنڈا کرو۔“
حدثني محمد بن المثنى، حدثنا يحيى، حدثنا هشام، اخبرني ابي، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الحمى من فيح جهنم فابردوها بالماء
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالاحوص نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن مسروق نے بیان کیا، ان سے عبایہ بن رفاعہ نے، ان سے ان کے دادا رافع بن خدیج نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بخار جہنم کی بھاپ میں سے ہے پس اسے پانی سے ٹھنڈا کر لیا کرو۔
حدثنا مسدد، حدثنا ابو الاحوص، حدثنا سعيد بن مسروق، عن عباية بن رفاعة، عن جده، رافع بن خديج قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " الحمى من فوح جهنم، فابردوها بالماء
ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قبیلہ عکل اور عرینہ کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام کے بارے میں گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ اے اللہ کے نبی! ہم مویشی والے ہیں ہم لوگ اہل مدینہ کی طرح کاشتکار نہیں ہیں۔ مدینہ کی آب و ہوا انہیں موافق نہیں آئی تھی، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے چند اونٹوں اور ایک چرواہے کا حکم دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ لوگ ان اونٹوں کے ساتھ باہر چلے جائیں اور ان کا دودھ اور پیشاب پئیں۔ وہ لوگ چلے گئے لیکن حرہ کے نزدیک پہنچ کر وہ اسلام سے مرتد ہو گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر ڈالا اور اونٹوں کو لے کر بھاگ پڑے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر ملی تو آپ نے ان کی تلاش میں آدمی دوڑائے پھر آپ نے ان کے متعلق حکم دیا اور ان کی آنکھوں میں سلائی پھیر دی گئی، ان کے ہاتھ کاٹ دئیے گئے اور حرہ کے کنارے انہیں چھوڑ دیا گیا، وہ اسی حالت میں مر گئے۔
حدثنا عبد الاعلى بن حماد، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا سعيد، حدثنا قتادة، ان انس بن مالك، حدثهم ان ناسا او رجالا من عكل وعرينة قدموا على رسول الله صلى الله عليه وسلم وتكلموا بالاسلام وقالوا يا نبي الله انا كنا اهل ضرع، ولم نكن اهل ريف، واستوخموا المدينة فامر لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم بذود وبراع وامرهم، ان يخرجوا فيه فيشربوا من البانها وابوالها، فانطلقوا حتى كانوا ناحية الحرة، كفروا بعد اسلامهم، وقتلوا راعي رسول الله صلى الله عليه وسلم واستاقوا الذود فبلغ النبي صلى الله عليه وسلم فبعث الطلب في اثارهم، وامر بهم فسمروا اعينهم وقطعوا ايديهم وتركوا في ناحية الحرة حتى ماتوا على حالهم
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے کہا کہ مجھے حبیب بن ابی ثابت نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابراہیم بن سعد سے سنا، کہا کہ میں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ سعد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم سن لو کہ کسی جگہ طاعون کی وبا پھیل رہی ہے تو وہاں مت جاؤ لیکن جب کسی جگہ یہ وبا پھوٹ پڑے اور تم وہیں موجود ہو تو اس جگہ سے نکلو بھی مت۔ ( حبیب بن ابی ثابت نے بیان کیا کہ میں نے ابراہیم بن سعد سے ) کہا تم نے خود یہ حدیث اسامہ رضی اللہ عنہ سے سنی ہے کہ انہوں نے سعد رضی اللہ عنہ سے بیان کیا اور انہوں نے اس کا انکار نہیں کیا؟ فرمایا کہ ہاں۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، قال اخبرني حبيب بن ابي ثابت، قال سمعت ابراهيم بن سعد، قال سمعت اسامة بن زيد، يحدث سعدا عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا سمعتم بالطاعون بارض فلا تدخلوها، واذا وقع بارض وانتم بها فلا تخرجوا منها ". فقلت انت سمعته يحدث سعدا ولا ينكره قال نعم
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عبدالحمید بن عبدالرحمٰن بن زید بن خطاب نے، انہیں عبداللہ بن عبداللہ بن حارث بن نوفل نے اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شام تشریف لے جا رہے تھے جب آپ مقام سرغ پر پہنچے تو آپ کی ملاقات فوجوں کے امراء ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ اور آپ کے ساتھیوں سے ہوئی۔ ان لوگوں نے امیرالمؤمنین کو بتایا کہ طاعون کی وبا شام میں پھوٹ پڑی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرے پاس مہاجرین اولین کو بلا لاؤ۔ آپ انہیں بلا لائے تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے مشورہ کیا اور انہیں بتایا کہ شام میں طاعون کی وبا پھوٹ پڑی ہے، مہاجرین اولین کی رائیں مختلف ہو گئیں۔ بعض لوگوں نے کہا کہ صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کی باقی ماندہ جماعت آپ کے ساتھ ہے اور یہ مناسب نہیں ہے کہ آپ انہیں اس وبا میں ڈال دیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اچھا اب آپ لوگ تشریف لے جائیں پھر فرمایا کہ انصار کو بلاؤ۔ میں انصار کو بلا کر لایا آپ نے ان سے بھی مشورہ کیا اور انہوں نے بھی مہاجرین کی طرح اختلاف کیا کوئی کہنے لگا چلو، کوئی کہنے لگا لوٹ جاؤ۔ امیرالمؤمنین نے فرمایا کہ اب آپ لوگ بھی تشریف لے جائیں پھر فرمایا کہ یہاں پر جو قریش کے بڑے بوڑھے ہیں جو فتح مکہ کے وقت اسلام قبول کر کے مدینہ آئے تھے انہیں بلا لاؤ، میں انہیں بلا کر لایا۔ ان لوگوں میں کوئی اختلاف رائے پیدا نہیں ہوا سب نے کہا کہ ہمارا خیال ہے کہ آپ لوگوں کو ساتھ لے کر واپس لوٹ چلیں اور وبائی ملک میں لوگوں کو نہ لے کر جائیں۔ یہ سنتے ہی عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں میں اعلان کرا دیا کہ میں صبح کو اونٹ پر سوار ہو کر واپس مدینہ منورہ لوٹ جاؤں گا تم لوگ بھی واپس چلو۔ صبح کو ایسا ہی ہوا ابوعبیدہ ابن جراح رضی اللہ عنہ نے کہا کیا اللہ کی تقدیر سے فرار اختیار کیا جائے گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کاش! یہ بات کسی اور نے کہی ہوتی ہاں ہم اللہ کی تقدیر سے فرار اختیار کر رہے ہیں لیکن اللہ ہی کی تقدیر کی طرف۔ کیا تمہارے پاس اونٹ ہوں اور تم انہیں لے کر کسی ایسی وادی میں جاؤ جس کے دو کنارے ہوں ایک سرسبز شاداب اور دوسرا خشک۔ کیا یہ واقعہ نہیں کہ اگر تم سرسبز کنارے پر چراؤ گے تو وہ بھی اللہ کی تقدیر سے ہو گا۔ اور خشک کنارے پر چراؤ گے تو وہ بھی اللہ کی تقدیر سے ہی ہو گا۔ بیان کیا کہ پھر عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ آ گئے وہ اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے اس وقت موجود نہیں تھے انہوں نے بتایا کہ میرے پاس مسئلہ سے متعلق ایک علم ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم کسی سر زمین میں ( وبا کے متعلق ) سنو تو وہاں نہ جاؤ اور جب ایسی جگہ وبا آ جائے جہاں تم خود موجود ہو تو وہاں سے مت نکلو۔ راوی نے بیان کیا کہ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کی حمد کی اور پھر واپس ہو گئے۔
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عبداللہ بن عامر نے کہ عمر رضی اللہ عنہ شام کے لیے روانہ ہوئے جب مقام سرغ میں پہنچے تو آپ کو خبر ملی کہ شام میں طاعون کی وبا پھوٹ پڑی ہے۔ پھر عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم وبا کے متعلق سنو کہ وہ کسی جگہ ہے تو وہاں نہ جاؤ اور جب کسی ایسی جگہ وبا پھوٹ پڑے جہاں تم موجود ہو تو وہاں سے بھی مت بھاگو ( وبا میں طاعون، ہیضہ وغیرہ سب داخل ہیں ) ۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن عبد الله بن عامر، ان عمر، خرج الى الشام، فلما كان بسرغ بلغه ان الوباء قد وقع بالشام، فاخبره عبد الرحمن بن عوف ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا سمعتم به بارض فلا تقدموا عليه واذا وقع بارض وانتم بها فلا تخرجوا فرارا منه
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نعیم مجمر نے اور انہوں نے کہا ہم سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مدینہ منورہ میں دجال داخل نہیں ہو سکے گا اور نہ طاعون آ سکے گا۔“
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن نعيم المجمر، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا يدخل المدينة المسيح ولا الطاعون
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم نے بیان کیا، کہا مجھ سے حفصہ بنت سیرین نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یحییٰ بن سیرین کا کس بیماری میں انتقال ہوا تھا۔ میں نے کہا کہ طاعون میں، بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ طاعون ہر مسلمان کے لیے شہادت ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا عبد الواحد، حدثنا عاصم، حدثتني حفصة بنت سيرين، قالت قال لي انس بن مالك رضى الله عنه يحيى بما مات قلت من الطاعون. قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الطاعون شهادة لكل مسلم
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے سمی نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پیٹ کی بیماری میں یعنی ہیضہ سے مرنے والا شہید ہے اور طاعون کی بیماری میں مرنے والا شہید ہے۔
حدثنا ابو عاصم، عن مالك، عن سمى، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " المبطون شهيد، والمطعون شهيد
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو حبان نے خبر دی، کہا ہم سے داؤد بن ابی الفرت نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن بریدہ نے، ان سے یحییٰ بن عمر نے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے طاعون کے متعلق پوچھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک عذاب تھا اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا اس پر اس کو بھیجتا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے اسے مومنین ( امت محمدیہ کے لیے ) رحمت بنا دیا اب کوئی بھی اللہ کا بندہ اگر صبر کے ساتھ اس شہر میں ٹھہرا رہے جہاں طاعون پھوٹ پڑا ہو اور یقین رکھتا ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے لکھ دیا ہے اس کے سوا اس کو اور کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا اور پھر طاعون میں اس کا انتقال ہو جائے تو اسے شہید جیسا ثواب ملے گا۔ حبان بن حلال کے ساتھ اس حدیث کو نضر بن شمیل نے بھی داؤد سے روایت کیا ہے۔
حدثنا اسحاق، اخبرنا حبان، حدثنا داود بن ابي الفرات، حدثنا عبد الله بن بريدة، عن يحيى بن يعمر، عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم انها اخبرتنا انها سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الطاعون فاخبرها نبي الله صلى الله عليه وسلم " انه كان عذابا يبعثه الله على من يشاء، فجعله الله رحمة للمومنين، فليس من عبد يقع الطاعون فيمكث في بلده صابرا، يعلم انه لن يصيبه الا ما كتب الله له، الا كان له مثل اجر الشهيد ". تابعه النضر عن داود
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں زہری نے، انہیں عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض الوفات میں اپنے اوپر معوذات ( سورۃ الاخلاص، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس ) کا دم کیا کرتے تھے۔ پھر جب آپ کے لیے دشوار ہو گیا تو میں ان کا دم آپ پر کیا کرتی تھی اور برکت کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ آپ کے جسم مبارک پر بھی پھیر لیتی تھی۔ پھر میں نے اس کے متعلق پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح دم کرتے تھے، انہوں نے بتایا کہ اپنے ہاتھ پر دم کر کے ہاتھ کو چہرے پر پھیرا کرتے تھے۔
حدثني ابراهيم بن موسى، اخبرنا هشام، عن معمر، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها ان النبي صلى الله عليه وسلم كان ينفث على نفسه في المرض الذي مات فيه بالمعوذات، فلما ثقل كنت انفث عليه بهن، وامسح بيد نفسه لبركتها. فسالت الزهري كيف ينفث قال كان ينفث على يديه، ثم يمسح بهما وجهه
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے، ان سے شعبہ نے، ان سے ابوبشر نے، ان سے ابوالمتوکل نے، ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ در حالت سفر عرب کے ایک قبیلہ پر گزرے۔ قبیلہ والوں نے ان کی ضیافت نہیں کی کچھ دیر بعد اس قبیلہ کے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا، اب قبیلہ والوں نے ان صحابہ سے کہا کہ آپ لوگوں کے پاس کوئی دوا یا کوئی جھاڑنے والا ہے۔ صحابہ نے کہا کہ تم لوگوں نے ہمیں مہمان نہیں بنایا اور اب ہم اس وقت تک دم نہیں کریں گے جب تک تم ہمارے لیے اس کی مزدوری نہ مقرر کر دو۔ چنانچہ ان لوگوں نے چند بکریاں دینی منظور کر لیں پھر ( ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ) سورۃ فاتحہ پڑھنے لگے اور اس پر دم کرنے میں منہ کا تھوک بھی اس جگہ پر ڈالنے لگے۔ اس سے وہ شخص اچھا ہو گیا۔ چنانچہ قبیلہ والے بکریاں لے کر آئے لیکن صحابہ نے کہا کہ جب تک ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ پوچھ لیں یہ بکریاں نہیں لے سکتے پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ مسکرائے اور فرمایا تمہیں کیسے معلوم ہو گیا تھا کہ سورۃ فاتحہ سے دم بھی کیا جا سکتا ہے، ان بکریوں کو لے لو اور اس میں میرا بھی حصہ لگاؤ۔
حدثني محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن ابي بشر، عن ابي المتوكل، عن ابي سعيد الخدري رضى الله عنه ان ناسا من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم اتوا على حى من احياء العرب فلم يقروهم، فبينما هم كذلك اذ لدغ سيد اوليك فقالوا هل معكم من دواء او راق فقالوا انكم لم تقرونا، ولا نفعل حتى تجعلوا لنا جعلا. فجعلوا لهم قطيعا من الشاء، فجعل يقرا بام القران، ويجمع بزاقه، ويتفل، فبرا، فاتوا بالشاء، فقالوا لا ناخذه حتى نسال النبي صلى الله عليه وسلم فسالوه فضحك وقال " وما ادراك انها رقية، خذوها، واضربوا لي بسهم
ہم سے سیدان بن مضارب ابو محمد باہلی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابومعشر یوسف بن یزید البراء نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبیداللہ بن اخنس ابو مالک نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ چند صحابہ ایک پانی سے گزرے جس کے پاس کے قبیلہ میں بچھو کا کاٹا ہوا ( لدیغ یا سلیم راوی کو ان دونوں الفاظ کے متعلق شبہ تھا ) ایک شخص تھا۔ قبیلہ کا ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا کیا آپ لوگوں میں کوئی دم جھاڑ کرنے والا ہے۔ ہمارے قبیلہ میں ایک شخص کو بچھو نے کاٹ لیا ہے چنانچہ صحابہ کی اس جماعت میں سے ایک صحابی اس شخص کے ساتھ گئے اور چند بکریوں کی شرط کے ساتھ اس شخص پر سورۃ فاتحہ پڑھی، اس سے وہ اچھا ہو گیا وہ صاحب شرط کے مطابق بکریاں اپنے ساتھیوں کے پاس لائے تو انہوں نے اسے قبول کر لینا پسند نہیں کیا اور کہا کہ اللہ کی کتاب پر تم نے اجرت لے لی۔ آخر جب سب لوگ مدینہ آئے تو عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ان صاحب نے اللہ کی کتاب پر اجرت لے لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جن چیزوں پر تم اجرت لے سکتے ہو ان میں سے زیادہ اس کی مستحق اللہ کی کتاب ہی ہے۔
حدثني سيدان بن مضارب ابو محمد الباهلي، حدثنا ابو معشر البصري هو صدوق يوسف بن يزيد البراء قال حدثني عبيد الله بن الاخنس ابو مالك، عن ابن ابي مليكة، عن ابن عباس، ان نفرا، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم مروا بماء فيهم لديغ او سليم فعرض لهم رجل من اهل الماء فقال هل فيكم من راق ان في الماء رجلا لديغا او سليما. فانطلق رجل منهم فقرا بفاتحة الكتاب على شاء، فبرا، فجاء بالشاء الى اصحابه فكرهوا ذلك وقالوا اخذت على كتاب الله اجرا. حتى قدموا المدينة فقالوا يا رسول الله اخذ على كتاب الله اجرا. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان احق ما اخذتم عليه اجرا كتاب الله
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن عبد الحميد بن عبد الرحمن بن زيد بن الخطاب، عن عبد الله بن عبد الله بن الحارث بن نوفل، عن عبد الله بن عباس، ان عمر بن الخطاب رضى الله عنه خرج الى الشام حتى اذا كان بسرغ لقيه امراء الاجناد ابو عبيدة بن الجراح واصحابه، فاخبروه ان الوباء قد وقع بارض الشام. قال ابن عباس فقال عمر ادع لي المهاجرين الاولين. فدعاهم فاستشارهم واخبرهم ان الوباء قد وقع بالشام فاختلفوا. فقال بعضهم قد خرجت لامر، ولا نرى ان ترجع عنه. وقال بعضهم معك بقية الناس واصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا نرى ان تقدمهم على هذا الوباء. فقال ارتفعوا عني. ثم قال ادعوا لي الانصار. فدعوتهم فاستشارهم، فسلكوا سبيل المهاجرين، واختلفوا كاختلافهم، فقال ارتفعوا عني. ثم قال ادع لي من كان ها هنا من مشيخة قريش من مهاجرة الفتح. فدعوتهم، فلم يختلف منهم عليه رجلان، فقالوا نرى ان ترجع بالناس، ولا تقدمهم على هذا الوباء، فنادى عمر في الناس، اني مصبح على ظهر، فاصبحوا عليه. قال ابو عبيدة بن الجراح افرارا من قدر الله فقال عمر لو غيرك قالها يا ابا عبيدة، نعم نفر من قدر الله الى قدر الله، ارايت لو كان لك ابل هبطت واديا له عدوتان، احداهما خصبة، والاخرى جدبة، اليس ان رعيت الخصبة رعيتها بقدر الله، وان رعيت الجدبة رعيتها بقدر الله قال فجاء عبد الرحمن بن عوف، وكان متغيبا في بعض حاجته فقال ان عندي في هذا علما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اذا سمعتم به بارض فلا تقدموا عليه، واذا وقع بارض وانتم بها فلا تخرجوا فرارا منه ". قال فحمد الله عمر ثم انصرف