Loading...

Loading...
کتب
۱۰۵ احادیث
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواحمد زبیری نے بیان کیا، ان سے عمر بن سعید بن ابی حسین نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی بیماری نہیں اتاری جس کی دوا بھی نازل نہ کی ہو۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا ابو احمد الزبيري، حدثنا عمر بن سعيد بن ابي حسين، قال حدثني عطاء بن ابي رباح، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما انزل الله داء الا انزل له شفاء
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، ان سے خالد بن ذکوان نے اور ان سے ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوات میں شریک ہوتی تھیں اور مسلمان مجاہد کو پانی پلاتی، ان کی خدمت کرتیں اور مقتولین اور مجروحین کو مدینہ منورہ لایا کرتیں تھیں۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا بشر بن المفضل، عن خالد بن ذكوان، عن ربيع بنت معوذ ابن عفراء، قالت كنا نغزو مع رسول الله صلى الله عليه وسلم نسقي القوم، ونخدمهم، ونرد القتلى والجرحى الى المدينة
ہم سے حسین نے بیان کیا، کہا ہم سے احمد بن منیع نے بیان کیا، کہا ہم سے مروان بن شجاع نے بیان کیا، ان سے سالم افطس نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ شفاء تین چیزوں میں ہے۔ شہد کے شربت میں، پچھنا لگوانے میں اور آگ سے داغنے میں لیکن میں امت کو آگ سے داغ کر علاج کرنے سے منع کرتا ہوں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس حدیث کو مرفوعاً نقل کیا ہے اور القمی نے روایت کیا، ان سے لیث نے، ان سے مجاہد نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہد اور پچھنا لگوانے کے بارے میں بیان کیا۔
حدثني الحسين، حدثنا احمد بن منيع، حدثنا مروان بن شجاع، حدثنا سالم الافطس، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال " الشفاء في ثلاثة شربة عسل، وشرطة محجم، وكية نار، وانهى امتي عن الكى ". رفع الحديث ورواه القمي عن ليث عن مجاهد عن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم في العسل والحجم
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو سریج بن یونس ابوحارث نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے مروان بن شجاع نے بیان کیا، ان سے سالم افطس نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شفاء تین چیزوں میں ہے پچھنا لگوانے میں، شہد پینے میں اور آگ سے داغنے میں مگر میں اپنی امت کو آگ سے داغنے سے منع کرتا ہوں۔
حدثني محمد بن عبد الرحيم، اخبرنا سريج بن يونس ابو الحارث، حدثنا مروان بن شجاع، عن سالم الافطس، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الشفاء في ثلاثة شرطة محجم، او شربة عسل، او كية بنار، وانهى امتي عن الكى
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ہشام نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شیرینی اور شہد پسند تھا۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا ابو اسامة، قال اخبرني هشام، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يعجبه الحلواء والعسل
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن غسیل نے بیان کیا، ان سے عاصم بن عمیر بن قتادہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہاری دواؤں میں کسی میں بھلائی ہے یا یہ کہا کہ تمہاری ( ان ) دواؤں میں بھلائی ہے۔ تو پچھنا لگوانے یا شہد پینے اور آگ سے داغنے میں ہے اگر وہ مرض کے مطابق ہو اور میں آگ سے داغنے کو پسند نہیں کرتا ہوں۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا عبد الرحمن بن الغسيل، عن عاصم بن عمر بن قتادة، قال سمعت جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " ان كان في شىء من ادويتكم او يكون في شىء من ادويتكم خير ففي شرطة محجم، او شربة عسل، او لذعة بنار توافق الداء، وما احب ان اكتوي
ہم سے عیاش بن الولید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے، کہا ہم سے سعید نے، ان سے قتادہ نے، ان سے ابوالمتوکل نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صاحب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرا بھائی پیٹ کی تکلیف میں مبتلا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں شہد پلا پھر دوسری مرتبہ وہی صحابی حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس مرتبہ بھی شہد پلانے کے لیے کہا وہ پھر تیسری مرتبہ آیا اور عرض کیا کہ ( حکم کے مطابق ) میں نے عمل کیا ( لیکن شفاء نہیں ہوئی ) ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سچا ہے اور تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے، انہیں پھر شہد پلا۔ چنانچہ انہوں نے شہد پھر پلایا اور اسی سے وہ تندرست ہو گیا۔
حدثنا عياش بن الوليد، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن ابي المتوكل، عن ابي سعيد، ان رجلا، اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال اخي يشتكي بطنه. فقال " اسقه عسلا ". ثم اتى الثانية فقال " اسقه عسلا ". ثم اتاه فقال فعلت. فقال " صدق الله، وكذب بطن اخيك، اسقه عسلا ". فسقاه فبرا
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سلام بن مسکین ابوالروح بصریٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ثابت نے بیان کیا ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ کچھ لوگوں کو بیماری تھی، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہمیں قیام کی جگہ عنایت فرما دیں اور ہمارے کھانے کا انتظام کر دیں پھر جب وہ لوگ تندرست ہو گئے تو انہوں نے کہا کہ مدینہ کی آب و ہوا خراب ہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام حرہ میں اونٹوں کے ساتھ ان کے قیام کا انتظام کر دیا اور فرمایا کہ ان کا دودھ پیو جب وہ تندرست ہو گئے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہانک کر لے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے آدمی دوڑائے اور وہ پکڑے گئے ( جیسا کہ انہوں نے چرواہے کے ساتھ کیا تھا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ویسا ہی کیا ان کے ہاتھ پاؤں کٹوا دیئے اور ان کی آنکھوں میں سلائی پھروا دی۔ میں نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا کہ زبان سے زمین چاٹتا تھا اور اسی حالت میں وہ مر گیا۔ سلام نے بیان کیا کہ مجھے معلوم ہوا کہ حجاج نے انس رضی اللہ عنہ سے کہا تم مجھ سے وہ سب سے سخت سزا بیان کرو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو دی ہو تو انہوں نے یہی واقعہ بیان کیا جب امام حسن بصری تک یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا کاش وہ یہ حدیث حجاج سے نہ بیان کرتے۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا سلام بن مسكين، حدثنا ثابت، عن انس، ان ناسا، كان بهم سقم قالوا يا رسول الله اونا واطعمنا فلما صحوا قالوا ان المدينة وخمة. فانزلهم الحرة في ذود له فقال " اشربوا البانها ". فلما صحوا قتلوا راعي النبي صلى الله عليه وسلم واستاقوا ذوده، فبعث في اثارهم، فقطع ايديهم وارجلهم، وسمر اعينهم، فرايت الرجل منهم يكدم الارض بلسانه حتى يموت. قال سلام فبلغني ان الحجاج قال لانس حدثني باشد عقوبة عاقبه النبي صلى الله عليه وسلم فحدثه بهذا. فبلغ الحسن فقال وددت انه لم يحدثه بهذا
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ ( عرینہ کے ) کچھ لوگوں کو مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہیں آئی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ وہ آپ ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) کے چرواہے کے ہاں چلے جائیں یعنی اونٹوں میں اور ان کا دودھ اور پیشاب پئیں۔ چنانچہ وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کے پاس چلے گئے اور اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیا جب وہ تندرست ہو گئے تو انہوں نے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہانک کر لے گئے۔ آپ کو جب اس کا علم ہوا تو آپ نے انہیں تلاش کرنے کے لیے لوگوں کو بھیجا جب انہیں لایا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان کے بھی ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیئے گئے اور ان کی آنکھوں میں سلائی پھیر دی گئی ( جیسا کہ انہوں نے چرواہے کے ساتھ کیا تھا ) ۔ قتادہ نے بیان کیا کہ مجھ سے محمد بن سیرین نے بیان کیا کہ یہ حدود کے نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا همام، عن قتادة، عن انس رضى الله عنه ان ناسا، اجتووا في المدينة فامرهم النبي صلى الله عليه وسلم ان يلحقوا براعيه يعني الابل فيشربوا من البانها وابوالها، فلحقوا براعيه فشربوا من البانها وابوالها، حتى صلحت ابدانهم فقتلوا الراعي وساقوا الابل، فبلغ النبي صلى الله عليه وسلم فبعث في طلبهم، فجيء بهم فقطع ايديهم وارجلهم، وسمر اعينهم. قال قتادة فحدثني محمد بن سيرين ان ذلك كان قبل ان تنزل الحدود
ہم سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ان سے منصور نے بیان کیا، ان سے خالد بن سعد نے بیان کیا کہ ہم باہر گئے ہوئے تھے اور ہمارے ساتھ غالب بن ابجر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ وہ راستہ میں بیمار پڑ گئے پھر جب ہم مدینہ واپس آئے اس وقت بھی وہ بیمار ہی تھے۔ ابن ابی عتیق ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے اور ہم سے کہا کہ انہیں یہ کالے دانے ( کلونجی ) استعمال کراؤ، اس کے پانچ یا سات دانے لے کر پیس لو اور پھر زیتون کے تیل میں ملا کر ( ناک کے ) اس طرف اور اس طرف اسے قطرہ قطرہ کر کے ٹپکاؤ۔ کیونکہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کلونجی ہر بیماری کی دوا ہے سوا «سام» کے۔ میں نے عرض کیا «سام» کیا ہے؟ فرمایا کہ موت ہے۔
حدثنا عبد الله بن ابي شيبة، حدثنا عبيد الله، حدثنا اسراييل، عن منصور، عن خالد بن سعد، قال خرجنا ومعنا غالب بن ابجر فمرض في الطريق، فقدمنا المدينة وهو مريض، فعاده ابن ابي عتيق فقال لنا عليكم بهذه الحبيبة السوداء، فخذوا منها خمسا او سبعا فاسحقوها، ثم اقطروها في انفه بقطرات زيت في هذا الجانب وفي هذا الجانب، فان عايشة حدثتني انها سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " ان هذه الحبة السوداء شفاء من كل داء الا من السام ". قلت وما السام قال الموت
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے ابوسلمہ اور سعید بن مسیب نے خبر دی اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سیاہ دانوں میں ہر بیماری سے شفاء ہے سوا «سام» کے۔ ابن شہاب نے کہا کہ «سام» موت ہے اور سیاہ دانہ کلونجی کو کہتے ہیں۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، قال اخبرني ابو سلمة، وسعيد بن المسيب، ان ابا هريرة، اخبرهما انه، سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " في الحبة السوداء شفاء من كل داء الا السام ". قال ابن شهاب والسام الموت، والحبة السوداء الشونيز
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہیں یونس بن یزید نے خبر دی، انہیں عقیل نے، انہیں ابن شہاب نے، انہیں عروہ نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیمار کے لیے اور میت کے سوگواروں کے لیے تلبینہ ( روا، دودھ اور شہد ملا کر دلیہ ) پکانے کا حکم دیتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تلبینہ مریض کے دل کو سکون پہنچاتا ہے اور غم کو دور کرتا ہے ( کیونکہ اسے پینے کے بعد عموماً نیند آ جاتی ہے یہ زود ہضم بھی ہے ) ۔
حدثنا حبان بن موسى، اخبرنا عبد الله، اخبرنا يونس بن يزيد، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها انها كانت تامر بالتلبين للمريض وللمحزون على الهالك، وكانت تقول اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان التلبينة تجم فواد المريض، وتذهب ببعض الحزن
ہم سے فروہ بن ابی مغراء نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ وہ تلبینہ پکانے کا حکم دیتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ اگرچہ وہ ( مریض کو ) ناپسند ہوتا ہے لیکن وہ اس کو فائدہ دیتا ہے۔
حدثنا فروة بن ابي المغراء، حدثنا علي بن مسهر، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة، انها كانت تامر بالتلبينة وتقول هو البغيض النافع
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، ان سے عبداللہ ابن طاؤس نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا اور پچھنا لگانے والے کو اس کی مزدوری دی اور ناک میں دوا ڈلوائی۔
حدثنا معلى بن اسد، حدثنا وهيب، عن ابن طاوس، عن ابيه، عن ابن عباس رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم احتجم واعطى الحجام اجره واستعط
حدثنا صدقة بن الفضل، اخبرنا ابن عيينة، قال سمعت الزهري، عن عبيد الله، عن ام قيس بنت محصن، قالت سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " عليكم بهذا العود الهندي، فان فيه سبعة اشفية. يستعط به من العذرة، ويلد به من ذات الجنب ". ودخلت على النبي صلى الله عليه وسلم بابن لي لم ياكل الطعام فبال عليه، فدعا بماء فرش عليه
حدثنا صدقة بن الفضل، اخبرنا ابن عيينة، قال سمعت الزهري، عن عبيد الله، عن ام قيس بنت محصن، قالت سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " عليكم بهذا العود الهندي، فان فيه سبعة اشفية. يستعط به من العذرة، ويلد به من ذات الجنب ". ودخلت على النبي صلى الله عليه وسلم بابن لي لم ياكل الطعام فبال عليه، فدعا بماء فرش عليه
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایک مرتبہ ) روزہ کی حالت میں پچھنا لگوایا۔
حدثنا ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، حدثنا ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال احتجم النبي صلى الله عليه وسلم وهو صايم
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے طاؤس اور عطاء بن ابی رباح نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا جبکہ آپ احرام سے تھے۔
حدثنا مسدد، حدثنا سفيان، عن عمرو، عن طاوس، وعطاء، عن ابن عباس، قال احتجم النبي صلى الله عليه وسلم وهو محرم
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو حمید الطویل نے خبر دی اور انہیں انس رضی اللہ عنہ نے ان سے پچھنا لگوانے والے کی مزدوری کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا تھا آپ کو ابوطیبہ ( نافع یا میسرہ ) نے پچھنا لگایا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دو صاع کھجور مزدوری میں دی تھی اور آپ نے ان کے مالکوں ( بنو حارثہ ) سے گفتگو کی تو انہوں نے ان سے وصول کئے جانے والے لگان میں کمی کر دی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( خون کے دباؤ کا ) بہترین علاج جو تم کرتے ہو وہ پچھنا لگوانا ہے اور عمدہ دوا عود ہندی کا استعمال کرنا ہے اور فرمایا اپنے بچوں کو «عذرة» ( حلق کی بیماری ) میں ان کا تالو دبا کر تکلیف مت دو بلکہ «قسط» لگا دو اس سے ورم جاتا رہے گا۔
حدثنا محمد بن مقاتل، اخبرنا عبد الله، اخبرنا حميد الطويل، عن انس رضى الله عنه انه سيل عن اجر الحجام، فقال احتجم رسول الله صلى الله عليه وسلم حجمه ابو طيبة، واعطاه صاعين من طعام، وكلم مواليه فخففوا عنه، وقال " ان امثل ما تداويتم به الحجامة والقسط البحري ". وقال " لا تعذبوا صبيانكم بالغمز من العذرة، وعليكم بالقسط
ہم سے سعید بن تلید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا کہ مجھے عمرو وغیرہ نے خبر دی، ان سے بکیر نے بیان کیا، ان سے عاصم بن عمر بن قتادہ نے بیان کیا کہ جابر بن عبداللہ مقنع بن سنان تابعی کی عیادت کے لیے تشریف لائے پھر ان سے کہا کہ جب تک تم پچھنا نہ لگوا لو گے میں یہاں سے نہیں جاؤں گا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس میں شفاء ہے۔
حدثنا سعيد بن تليد، قال حدثني ابن وهب، قال اخبرني عمرو، وغيره، ان بكيرا، حدثه ان عاصم بن عمر بن قتادة حدثه ان جابر بن عبد الله رضى الله عنهما عاد المقنع ثم قال لا ابرح حتى تحتجم فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان فيه شفاء