Loading...

Loading...
کتب
۱۰۵ احادیث
حدثنا اسماعيل، قال حدثني سليمان، عن علقمة، انه سمع عبد الرحمن الاعرج، انه سمع عبد الله ابن بحينة، يحدث ان رسول الله صلى الله عليه وسلم احتجم بلحى جمل من طريق مكة، وهو محرم، في وسط راسه. وقال الانصاري اخبرنا هشام بن حسان، حدثنا عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم احتجم في راسه
حدثنا اسماعيل، قال حدثني سليمان، عن علقمة، انه سمع عبد الرحمن الاعرج، انه سمع عبد الله ابن بحينة، يحدث ان رسول الله صلى الله عليه وسلم احتجم بلحى جمل من طريق مكة، وهو محرم، في وسط راسه. وقال الانصاري اخبرنا هشام بن حسان، حدثنا عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم احتجم في راسه
حدثني محمد بن بشار، حدثنا ابن ابي عدي، عن هشام، عن عكرمة، عن ابن عباس، احتجم النبي صلى الله عليه وسلم في راسه وهو محرم من وجع كان به بماء يقال له لحى جمل. وقال محمد بن سواء اخبرنا هشام، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم احتجم وهو محرم في راسه من شقيقة كانت به
حدثني محمد بن بشار، حدثنا ابن ابي عدي، عن هشام، عن عكرمة، عن ابن عباس، احتجم النبي صلى الله عليه وسلم في راسه وهو محرم من وجع كان به بماء يقال له لحى جمل. وقال محمد بن سواء اخبرنا هشام، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم احتجم وهو محرم في راسه من شقيقة كانت به
ہم سے اسماعیل بن ابان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن غسیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عاصم بن عمر نے بیان کیا، ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہاری دوائیوں میں کوئی بھلائی ہے تو شہد کے شربت میں ہے اور پچھنا لگوانے میں ہے اور آگ سے داغنے میں ہے لیکن میں آگ سے داغ کر علاج کو پسند نہیں کرتا۔
حدثنا اسماعيل بن ابان، حدثنا ابن الغسيل، قال حدثني عاصم بن عمر، عن جابر بن عبد الله، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " ان كان في شىء من ادويتكم خير ففي شربة عسل او شرطة محجم او لذعة من نار، وما احب ان اكتوي
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے مجاہد سے سنا، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے اور ان سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے میں ایک ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور جوویں میرے سر سے گر رہی تھی ( اور میں احرام باندھے ہوئے تھا ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ سر کی یہ جوویں تمہیں تکلیف پہنچاتی ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ فرمایا کہ پھر سر منڈوا لے اور ( کفارہ کے طور پر ) تین دن کے روزے رکھ یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا یا ایک قربانی کر دے۔ ایوب نے کہا کہ مجھے یاد نہیں کہ ( ان تین چیزوں میں سے ) کس کا ذکر سب سے پہلے کیا تھا۔
حدثنا مسدد، حدثنا حماد، عن ايوب، قال سمعت مجاهدا، عن ابن ابي ليلى، عن كعب، هو ابن عجرة قال اتى على النبي صلى الله عليه وسلم زمن الحديبية، وانا اوقد تحت برمة، والقمل يتناثر عن راسي فقال " ايوذيك هوامك ". قلت نعم. قال " فاحلق وصم ثلاثة ايام، او اطعم ستة، او انسك نسيكة ". قال ايوب لا ادري بايتهن بدا
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن سلیمان بن غسیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عاصم بن عمر بن قتادہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہاری دواؤں میں شفاء ہے تو پچھنا لگوانے اور آگ سے داغنے میں ہے لیکن آگ سے داغ کر علاج کو میں پسند نہیں کرتا۔
حدثنا ابو الوليد، هشام بن عبد الملك حدثنا عبد الرحمن بن سليمان بن الغسيل، حدثنا عاصم بن عمر بن قتادة، قال سمعت جابرا، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان كان في شىء من ادويتكم شفاء ففي شرطة محجم او لذعة بنار، وما احب ان اكتوي
ہم سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے عامر شعبی نے اور ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نظر بد اور زہریلے جانور کے کاٹ کھانے کے سوا اور کسی چیز پر جھاڑ پھونک صحیح نہیں۔ ( حصین نے بیان کیا کہ ) پھر میں نے اس کا ذکر سعید بن جبیر سے کیا تو انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے سامنے تمام امتیں پیش کی گئیں ایک ایک، دو دو نبی اور ان کے ساتھ ان کے ماننے والے گزرتے رہے اور بعض نبی ایسے بھی تھے کہ ان کے ساتھ کوئی نہیں تھا آخر میرے سامنے ایک بڑی بھاری جماعت آئی۔ میں نے پوچھا یہ کون ہیں، کیا یہ میری امت کے لوگ ہیں؟ کہا گیا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم ہے پھر کہا گیا کہ کناروں کی طرف دیکھو میں نے دیکھا کہ ایک بہت ہی عظیم جماعت ہے جو کناروں پر چھائی ہوئی ہے پھر مجھ سے کہا گیا کہ ادھر دیکھو، ادھر دیکھو آسمان کے مختلف کناروں میں میں نے دیکھا کہ جماعت ہے جو تمام افق پر چھائی ہوئی ہے۔ کہا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے اور اس میں سے ستر ہزار حساب کے بغیر جنت میں داخل کر دیئے جائیں گے۔ اس کے بعد آپ ( اپنے حجرہ میں ) تشریف لے گئے اور کچھ تفصیل نہیں فرمائی لوگ ان جنتیوں کے بارے میں بحث کرنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں اور اس کے رسول کی اتباع کی ہے، اس لیے ہم ہی ( صحابہ ) وہ لوگ ہیں یا ہماری وہ اولاد ہیں جو اسلام میں پیدا ہوئے کیونکہ ہم جاہلیت میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ باتیں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جو جھاڑ پھونک نہیں کراتے، فال نہیں دیکھتے اور داغ کر علاج نہیں کرتے بلکہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اس پر عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں بھی ان میں سے ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں۔ اس کے بعد دوسرے صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں بھی ان میں ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عکاشہ تم سے بازی لے گئے۔
حدثنا عمران بن ميسرة، حدثنا ابن فضيل، حدثنا حصين، عن عامر، عن عمران بن حصين رضى الله عنهما قال لا رقية الا من عين او حمة. فذكرته لسعيد بن جبير فقال حدثنا ابن عباس قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " عرضت على الامم، فجعل النبي والنبيان يمرون معهم الرهط، والنبي ليس معه احد، حتى رفع لي سواد عظيم، قلت ما هذا امتي هذه قيل هذا موسى وقومه. قيل انظر الى الافق. فاذا سواد يملا الافق، ثم قيل لي انظر ها هنا وها هنا في افاق السماء فاذا سواد قد ملا الافق قيل هذه امتك ويدخل الجنة من هولاء سبعون الفا بغير حساب، ثم دخل ولم يبين لهم فافاض القوم وقالوا نحن الذين امنا بالله، واتبعنا رسوله، فنحن هم او اولادنا الذين ولدوا في الاسلام فانا ولدنا في الجاهلية. فبلغ النبي صلى الله عليه وسلم فخرج فقال هم الذين لا يسترقون، ولا يتطيرون، ولا يكتوون وعلى ربهم يتوكلون ". فقال عكاشة بن محصن امنهم انا يا رسول الله قال " نعم ". فقام اخر فقال امنهم انا قال " سبقك عكاشة
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعیدقطان نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا کہ مجھ سے حمید بن نافع نے بیان کیا، ان سے زینب رضی اللہ عنہا نے اور ان سے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہ ایک عورت کے شوہر کا انتقال ہو گیا ( زمانہ عدت میں ) اس عورت کی آنکھ دکھنے لگی تو لوگوں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سرمہ کا ذکر کیا اور یہ کہ ( اگر سرمہ آنکھ میں نہ لگایا تو ) ان کی آنکھ کے متعلق خطرہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( زمانہ جاہلیت میں ) عدت گزارنے والی تم عورتوں کے اپنے گھر میں سب سے بدتر کپڑے میں پڑا رہنا پڑتا تھا یا ( آپ نے یہ فرمایا کہ ) اپنے کپڑوں میں گھر کے سب سے بدتر حصہ میں پڑا رہنا پڑتا تھا پھر جب کوئی کتا گزرتا تو اس پر وہ مینگنی پھینک کر مارتی ( تب عدت سے باہر ہوتی ) پس چار مہینے دس دن تک سرمہ نہ لگاؤ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن شعبة، قال حدثني حميد بن نافع، عن زينب، عن ام سلمة رضى الله عنها ان امراة توفي زوجها فاشتكت عينها، فذكروها للنبي صلى الله عليه وسلم وذكروا له الكحل، وانه يخاف على عينها، فقال " لقد كانت احداكن تمكث في بيتها في شر احلاسها او في احلاسها في شر بيتها فاذا مر كلب رمت بعرة، فلا، اربعة اشهر وعشرا
اور عفان بن مسلم (امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ) نے کہا (ان کو ابونعیم نے وصل کیا) ہے کہ ہم سے سلیم بن حیان نے بیان کیا، ان سے سعید بن میناء نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چھوت لگنا، بدشگونی لینا، الو کا منحوس ہونا اور صفر کا منحوس ہونا یہ سب لغو خیالات ہیں البتہ جذامی شخص سے ایسے بھاگتا رہ جیسے کہ شیر سے بھاگتا ہے۔
وقال عفان حدثنا سليم بن حيان، حدثنا سعيد بن ميناء، قال سمعت ابا هريرة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا عدوى ولا طيرة ولا هامة ولا صفر، وفر من المجذوم كما تفر من الاسد
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالملک بن عمیر نے کہا کہ میں نے عمرو بن حریث سے سنا، کہا کہ میں نے سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھنبی «من» میں سے ہے اور اس کا پانی آنکھ کے لیے شفاء ہے۔ اسی سند سے شعبہ نے بیان کیا کہ مجھے حکم بن عتیبہ نے خبر دی، انہیں حسن بن عبداللہ عرنی نے، انہیں عمرو بن حریث نے اور انہیں سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی حدیث بیان کی، شعبہ نے کہا کہ جب حکم نے بھی مجھ سے یہ حدیث بیان کر دی تو پھر عبدالملک بن عمیر کی روایت پر مجھ کو اعتماد ہو گیا کیونکہ عبدالملک کا حافظہ آخر میں بگڑ گیا تھا شعبہ کو صرف اس کی روایت پر بھروسہ نہ رہا۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن عبد الملك، سمعت عمرو بن حريث، قال سمعت سعيد بن زيد، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " الكماة من المن، وماوها شفاء للعين ". قال شعبة واخبرني الحكم بن عتيبة عن الحسن العرني عن عمرو بن حريث عن سعيد بن زيد عن النبي صلى الله عليه وسلم. قال شعبة لما حدثني به الحكم لم انكره من حديث عبد الملك
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا سفيان، قال حدثني موسى بن ابي عايشة، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، وعايشة، ان ابا بكر رضى الله عنه قبل النبي صلى الله عليه وسلم وهو ميت. قال وقالت عايشة لددناه في مرضه، فجعل يشير الينا، ان لا تلدوني. فقلنا كراهية المريض للدواء. فلما افاق قال " الم انهكم ان تلدوني ". قلنا كراهية المريض للدواء. فقال " لا يبقى في البيت احد الا لد وانا انظر الا العباس فانه لم يشهدكم
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا سفيان، قال حدثني موسى بن ابي عايشة، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، وعايشة، ان ابا بكر رضى الله عنه قبل النبي صلى الله عليه وسلم وهو ميت. قال وقالت عايشة لددناه في مرضه، فجعل يشير الينا، ان لا تلدوني. فقلنا كراهية المريض للدواء. فلما افاق قال " الم انهكم ان تلدوني ". قلنا كراهية المريض للدواء. فقال " لا يبقى في البيت احد الا لد وانا انظر الا العباس فانه لم يشهدكم
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا سفيان، قال حدثني موسى بن ابي عايشة، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، وعايشة، ان ابا بكر رضى الله عنه قبل النبي صلى الله عليه وسلم وهو ميت. قال وقالت عايشة لددناه في مرضه، فجعل يشير الينا، ان لا تلدوني. فقلنا كراهية المريض للدواء. فلما افاق قال " الم انهكم ان تلدوني ". قلنا كراهية المريض للدواء. فقال " لا يبقى في البيت احد الا لد وانا انظر الا العباس فانه لم يشهدكم
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا سفيان، قال حدثني موسى بن ابي عايشة، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، وعايشة، ان ابا بكر رضى الله عنه قبل النبي صلى الله عليه وسلم وهو ميت. قال وقالت عايشة لددناه في مرضه، فجعل يشير الينا، ان لا تلدوني. فقلنا كراهية المريض للدواء. فلما افاق قال " الم انهكم ان تلدوني ". قلنا كراهية المريض للدواء. فقال " لا يبقى في البيت احد الا لد وانا انظر الا العباس فانه لم يشهدكم
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، ان سے زہری نے، کہا مجھ کو عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی اور انہیں ام قیس رضی اللہ عنہا نے کہ میں اپنے ایک لڑکے کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ میں نے اس کی ناک میں بتی ڈالی تھی، اس کا حلق دبایا تھا چونکہ اس کو گلے کی بیماری ہو گئی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے بچوں کو انگلی سے حلق دبا کر کیوں تکلیف دیتی ہو یہ عود ہندی لو اس میں سات بیماریوں کی شفاء ہے ان میں ایک ذات الجنب ( پسلی کا ورم بھی ہے ) اگر حلق کی بیماری ہو تو اس کو ناک میں ڈالو اگر ذات الجنب ہو تو حلق میں ڈالو ( لدود کرو ) سفیان کہتے ہیں کہ میں نے زہری سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بیماریوں کو تو بیان کیا باقی پانچ بیماریوں کو بیان نہیں فرمایا۔ علی بن عبداللہ مدینی نے کہا میں نے سفیان سے کہا، معمر تو زہری سے یوں نقل کرتا ہے «أعلقت عنه» انہوں نے کہا کہ معمر نے یاد نہیں رکھا۔ مجھے یاد ہے زہری نے یوں کہا تھا «أعلقت عليه.» اور سفیان نے اس تحنیک کو بیان کیا جو بچہ کو پیدائش کے وقت کی جاتی ہے سفیان نے انگلی حلق میں ڈال کر اپنے کوے کو انگلی سے اٹھایا تو سفیان نے «أعلاق» کا معنی بچے کے حلق میں انگلی ڈال کر تالو کو اٹھایا انہوں نے یہ نہیں کہا «أعلقوا عنه شيئا.» ۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن الزهري، اخبرني عبيد الله، عن ام قيس، قالت دخلت بابن لي على رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد اعلقت عليه من العذرة فقال " على ما تدغرن اولادكن بهذا العلاق عليكن بهذا العود الهندي، فان فيه سبعة اشفية، منها ذات الجنب يسعط من العذرة، ويلد من ذات الجنب ". فسمعت الزهري يقول بين لنا اثنين ولم يبين لنا خمسة. قلت لسفيان فان معمرا يقول اعلقت عليه. قال لم يحفظ اعلقت عنه، حفظته من في الزهري. ووصف سفيان الغلام يحنك بالاصبع وادخل سفيان في حنكه، انما يعني رفع حنكه باصبعه، ولم يقل اعلقوا عنه شييا
ہم سے بشر بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو معمر اور یونس نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھ کو عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب ( مرض الموت میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چلنا پھرنا دشوار ہو گیا اور آپ کی تکلیف بڑھ گئی تو آپ نے بیماری کے دن میرے گھر میں گزارنے کی اجازت اپنی دوسری بیویوں سے مانگی جب اجازت مل گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو اشخاص عباس رضی اللہ عنہ اور ایک صاحب کے درمیان ان کا سہارا لے کر باہر تشریف لائے، آپ کے مبارک قدم زمین پر گھسٹ رہے تھے۔ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا تمہیں معلوم ہے وہ دوسرے صاحب کون تھے جن کا عائشہ رضی اللہ عنہا نے نام نہیں بتایا، میں نے کہا کہ نہیں کہا کہ وہ علی رضی اللہ عنہ تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ان کے حجرے میں داخل ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبکہ آپ کا مرض بڑھ گیا تھا کہ مجھ پر سات مشک ڈالو جو پانی سے لبریز ہوں۔ شاید میں لوگوں کو کچھ نصیحت کر سکوں۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہم نے ایک لگن میں بٹھایا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حفصہ رضی اللہ عنہ کا تھا اور آپ پر حکم کے مطابق مشکوں سے پانی ڈالنے لگے آخر آپ نے ہمیں اشارہ کیا کہ بس ہو چکا۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے مجمع میں گئے، انہیں نماز پڑھائی اور انہیں خطاب فرمایا۔
حدثنا بشر بن محمد، اخبرنا عبد الله، اخبرنا معمر، ويونس، قال الزهري اخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، ان عايشة رضى الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت لما ثقل رسول الله صلى الله عليه وسلم واشتد وجعه، استاذن ازواجه في ان يمرض في بيتي، فاذن، فخرج بين رجلين، تخط رجلاه في الارض بين عباس واخر. فاخبرت ابن عباس قال هل تدري من الرجل الاخر الذي لم تسم عايشة قلت لا. قال هو علي. قالت عايشة فقال النبي صلى الله عليه وسلم بعد ما دخل بيتها واشتد به وجعه " هريقوا على من سبع قرب لم تحلل اوكيتهن، لعلي اعهد الى الناس ". قالت فاجلسناه في مخضب لحفصة زوج النبي صلى الله عليه وسلم ثم طفقنا نصب عليه من تلك القرب، حتى جعل يشير الينا ان قد فعلتن. قالت وخرج الى الناس فصلى لهم وخطبهم
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی کہ ام قیس بنت محصن اسدیہ نے انہیں خبر دی، ان کا تعلق قبیلہ خزیمہ کی شاخ بن اسد سے تھا وہ ان ابتدائی مہاجرات میں سے تھیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔ آپ عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں ( انہوں نے بیان کیا کہ ) وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک بیٹے کو لے کر آئیں۔ انہوں نے اپنے لڑکے کے «عذرة» کا علاج تالو دبا کر کیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، آخر تم عورتیں کیوں اپنی اولاد کو یوں تالو دبا کر تکلیف پہنچاتی ہو۔ تمہیں چاہیئے کہ اس مرض میں عود ہندی کا استعمال کیا کرو کیونکہ اس میں سات بیماریوں سے شفاء ہے۔ ان میں ایک ذات الجنب کی بیماری بھی ہے۔ ( عود ہندی سے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد «كست» تھی یہی عود ہندی ہے۔ اور یونس اور اسحاق بن راشد نے بیان کیا اور ان سے زہری نے اس روایت میں بجائے «اعلقت عليه.» کے «علقت عليه.» نقل کیا ہے۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني عبيد الله بن عبد الله، ان ام قيس بنت محصن الاسدية اسد خزيمة، وكانت من المهاجرات الاول اللاتي بايعن النبي صلى الله عليه وسلم وهى اخت عكاشة اخبرته انها اتت رسول الله صلى الله عليه وسلم بابن لها، قد اعلقت عليه من العذرة فقال النبي صلى الله عليه وسلم " على ما تدغرن اولادكن بهذا العلاق عليكم بهذا العود الهندي، فان فيه سبعة اشفية منها ذات الجنب ". يريد الكست، وهو العود الهندي. وقال يونس واسحاق بن راشد عن الزهري علقت عليه
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے ابوالمتوکل نے اور ان سے ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرے بھائی کو دست آ رہے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں شہد پلاؤ۔ انہوں نے پلایا اور پھر واپس آ کر کہا کہ میں نے انہیں شہد پلایا لیکن ان کے دستوں میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا اور تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے ( آخر شہد ہی سے اسے شفاء ہوئی ) ۔ محمد بن جعفر کے ساتھ اس حدیث کو نضر بن شمیل نے بھی شعبہ سے روایت کیا ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن ابي المتوكل، عن ابي سعيد، قال جاء رجل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال ان اخي استطلق بطنه. فقال " اسقه عسلا ". فسقاه. فقال اني سقيته فلم يزده الا استطلاقا. فقال " صدق الله وكذب بطن اخيك ". تابعه النضر عن شعبة
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن وغیرہ نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، امراض میں چھوت چھات صفر اور الو کی نحوست کی کوئی اصل نہیں اس پر ایک اعرابی بولا کہ یا رسول اللہ! پھر میرے اونٹوں کو کیا ہو گیا کہ وہ جب تک ریگستان میں رہتے ہیں تو ہرنوں کی طرح ( صاف اور خوب چکنے ) رہتے ہیں پھر ان میں ایک خارش والا اونٹ آ جاتا ہے اور ان میں گھس کر انہیں بھی خارش لگا جاتا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا لیکن یہ بتاؤ کہ پہلے اونٹ کو کس نے خارش لگائی تھی؟ اس کی روایت زہری نے ابوسلمہ اور سنان بن سنان کے واسطہ سے کی ہے۔
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن صالح، عن ابن شهاب، قال اخبرني ابو سلمة بن عبد الرحمن، وغيره، ان ابا هريرة رضى الله عنه قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا عدوى ولا صفر ولا هامة ". فقال اعرابي يا رسول الله فما بال ابلي تكون في الرمل كانها الظباء فياتي البعير الاجرب فيدخل بينها فيجربها. فقال " فمن اعدى الاول ". رواه الزهري عن ابي سلمة وسنان بن ابي سنان