Loading...

Loading...
کتب
۹۴ احادیث
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے ازہر بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن عون نے، ان سے شمامہ بن انس نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک درزی غلام کے پاس تشریف لے گئے، پھر آپ کی خدمت میں ( پکا ہوا ) کدو پیش کیا گیا اور آپ اسے ( رغبت کے ساتھ ) کھانے لگے۔ اسی وقت سے میں بھی کدو پسند کرتا ہوں کیونکہ میں نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔
حدثنا عمرو بن علي، حدثنا ازهر بن سعد، عن ابن عون، عن ثمامة بن انس، عن انس، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتى مولى له خياطا، فاتي بدباء، فجعل ياكله، فلم ازل احبه منذ رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم ياكله
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جماعت انصار میں ایک صاحب تھے جنہیں ابوشعیب کہا جاتا تھا۔ ان کے پاس ایک غلام تھا جو گوشت بیچتا تھا۔ ابوشعیب رضی اللہ عنہ نے ان غلام سے کہا کہ تم میری طرف سے کھانا تیار کر دو۔ میں چاہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمیت پانچ آدمیوں کی دعوت کروں۔ چنانچہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چار دوسرے آدمیوں کے ساتھ بلا کر لائے۔ ان کے ساتھ ایک صاحب بھی چلنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم پانچ آدمیوں کی تم نے دعوت کی ہے مگر یہ صاحب بھی ہمارے ساتھ آ گئے ہیں، اگر چاہو تو انہیں اجازت دو اور اگر چاہو منع کر دو۔ ابوشعیب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے انہیں بھی اجازت دے دی۔ محمد بن یوسف نے بیان کیا کہ میں نے محمد بن اسماعیل سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ جب لوگ دستر خوان پر بیٹھے ہوں تو انہیں اس کی اجازت نہیں ہے کہ ایک دستر خوان والے دوسرے دستر خوان والوں کو اپنے دستر خوان سے اٹھا کر کوئی چیز دیں۔ البتہ ایک ہی دستر خوان پر ان کے شرکاء کو اس میں سے کوئی چیز دینے نہ دینے کا اختیار ہے۔
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن ابي مسعود الانصاري، قال كان من الانصار رجل يقال له ابو شعيب، وكان له غلام لحام فقال اصنع لي طعاما ادعو رسول الله صلى الله عليه وسلم خامس خمسة، فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم خامس خمسة، فتبعهم رجل فقال النبي صلى الله عليه وسلم " انك دعوتنا خامس خمسة وهذا رجل قد تبعنا، فان شيت اذنت له، وان شيت تركته ". قال بل اذنت له. قال محمد بن يوسف سمعت محمد بن اسماعيل يقول اذا كان القوم على المايدة ليس لهم ان يناولوا من مايدة الى مايدة اخرى ولكن يناول بعضهم بعضا في تلك المايدة او يدع
مجھ سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا، انہوں نے نضر سے سنا، انہیں ابن عون نے خبر دی، کہا کہ مجھے ثمامہ بن عبداللہ بن انس نے خبر دی اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نوعمر تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ایک درزی غلام کے پاس تشریف لے گئے۔ وہ ایک پیالہ لایا جس میں کھانا تھا اور اوپر کدو کے قتلے تھے۔ آپ کدو تلاش کرنے لگے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب میں نے یہ دیکھا تو کدو کے قتلے آپ کے سامنے جمع کر کے رکھنے لگا۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ( پیالہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھنے کے بعد ) غلام اپنے کام میں لگ گیا۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اسی وقت سے میں کدو پسند کرنے لگا، جب میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل دیکھا۔
حدثني عبد الله بن منير، سمع النضر، اخبرنا ابن عون، قال اخبرني ثمامة بن عبد الله بن انس، عن انس رضى الله عنه قال كنت غلاما امشي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فدخل رسول الله صلى الله عليه وسلم على غلام له خياط، فاتاه بقصعة فيها طعام وعليه دباء، فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم يتتبع الدباء قال فلما رايت ذلك جعلت اجمعه بين يديه قال فاقبل الغلام على عمله. قال انس لا ازال احب الدباء بعد ما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم صنع ما صنع
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک بن انس نے، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ایک درزی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے کی دعوت دی جو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار کیا تھا۔ میں بھی آپ کے ساتھ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جَو کی روٹی اور شوربہ پیش کیا گیا۔ جس میں کدو اور خشک گوشت کے ٹکڑے تھے۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیالے میں چاروں طرف کدو تلاش کر رہے تھے، اسی دن سے میں بھی کدو پسند کرنے لگا۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، انه سمع انس بن مالك، ان خياطا، دعا النبي صلى الله عليه وسلم لطعام صنعه، فذهبت مع النبي صلى الله عليه وسلم فقرب خبز شعير ومرقا فيه دباء وقديد، فرايت النبي صلى الله عليه وسلم يتتبع الدباء من حوالى القصعة، فلم ازل احب الدباء بعد يوميذ
ہم سے حکیم ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک بن انس نے، ان سے اسحاق بن عبداللہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شوربہ لایا گیا۔ اس میں کدو اور سوکھے گوشت کے ٹکڑے تھے، پھر میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے کدو کے قتلے تلاش کر کر کے کھا رہے تھے۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا مالك بن انس، عن اسحاق بن عبد الله، عن انس رضى الله عنه قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم اتي بمرقة فيها دباء وقديد، فرايته يتتبع الدباء ياكلها
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کبھی نہیں کیا کہ تین دن سے زیادہ گوشت قربانی والا رکھنے سے منع فرمایا ہو۔ صرف اس سال یہ حکم دیا تھا جس سال قحط کی وجہ سے لوگ فاقے میں مبتلا تھے۔ مقصد یہ تھا کہ جو لوگ غنی ہیں وہ گوشت محتاجوں کو کھلائیں ( اور جمع کر کے نہ رکھیں ) اور ہم تو بکری کے پائے محفوظ کر کے رکھ لیتے تھے اور پندرہ دن بعد تک ( کھاتے تھے ) اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی سالن کے ساتھ گیہوں کی روٹی تین دن تک برابر سیر ہو کر نہیں کھائی۔
حدثنا قبيصة، حدثنا سفيان، عن عبد الرحمن بن عابس، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت ما فعله الا في عام جاع الناس، اراد ان يطعم الغني الفقير، وان كنا لنرفع الكراع بعد خمس عشرة، وما شبع ال محمد صلى الله عليه وسلم من خبز بر مادوم ثلاثا
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ایک درزی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے کی دعوت دی جو اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار کیا تھا۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس دعوت میں گیا۔ انہوں نے آپ کی خدمت میں جَو کی روٹی اور شوربہ، جس میں کدو اور خشک کیا ہوا گوشت تھا، پیش کیا۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیالہ میں چاروں طرف کدو تلاش کر رہے ہیں۔ اسی دن سے میں بھی کدو پسند کرنے لگا۔ شمامہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کدو کے قتلے ( تلاش کر کر کے ) اکٹھے کرنے لگا۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، انه سمع انس بن مالك، يقول ان خياطا دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم لطعام صنعه قال انس فذهبت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم الى ذلك الطعام، فقرب الى رسول الله صلى الله عليه وسلم خبزا من شعير ومرقا فيه دباء وقديد قال انس فرايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يتتبع الدباء من حول الصحفة، فلم ازل احب الدباء من يوميذ. وقال ثمامة عن انس، فجعلت اجمع الدباء بين يديه
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تازہ کھجور ککڑی کے ساتھ کھاتے دیکھا ہے۔
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، قال حدثني ابراهيم بن سعد، عن ابيه، عن عبد الله بن جعفر بن ابي طالب رضى الله عنهما قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم ياكل الرطب بالقثاء
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن یزید نے بیان کیا، ان سے عباس جریری نے اور ان سے ابوعثمان نے بیان کیا کہ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے یہاں سات دن تک مہمان رہا، وہ اور ان کی بیوی اور ان کے خادم نے رات میں ( جاگنے کی ) باری مقرر کر رکھی تھی۔ رات کے ایک تہائی حصہ میں ایک صاحب نماز پڑھتے رہے پھر وہ دوسرے کو جگا دیتے اور میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں ایک مرتبہ کھجور تقسیم کی اور مجھے بھی سات کھجوریں دیں، ایک ان میں خراب تھی۔
حدثنا مسدد، حدثنا حماد بن زيد، عن عباس الجريري، عن ابي عثمان، قال تضيفت ابا هريرة سبعا، فكان هو وامراته وخادمه يعتقبون الليل اثلاثا، يصلي هذا، ثم يوقظ هذا. وسمعته يقول قسم رسول الله صلى الله عليه وسلم بين اصحابه تمرا، فاصابني سبع تمرات احداهن حشفة
حدثنا محمد بن الصباح، حدثنا اسماعيل بن زكرياء، عن عاصم، عن ابي عثمان، عن ابي هريرة رضى الله عنه قسم النبي صلى الله عليه وسلم بيننا تمرا فاصابني منه خمس اربع تمرات وحشفة، ثم رايت الحشفة هي اشدهن لضرسي
اور محمد بن یوسف نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے منصور ابن صفیہ نے، ان سے ان کی والدہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور ہم پانی اور کھجور ہی سے ( اکثر دنوں میں ) پیٹ بھرتے رہے۔
وقال محمد بن يوسف عن سفيان، عن منصور ابن صفية، حدثتني امي، عن عايشة رضى الله عنها قالت توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد شبعنا من الاسودين التمر والماء
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوغسان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا، ان سے ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن ابی ربیعہ نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مدینہ میں ایک یہودی تھا اور وہ مجھے قرض اس شرط پر دیا کرتا تھا کہ میری کھجوریں تیار ہونے کے وقت لے لے گا۔ جابر رضی اللہ عنہ کی ایک زمین بئررومہ کے راستہ میں تھی۔ ایک سال کھجور کے باغ میں پھل نہیں آئے۔ پھل چنے جانے کا جب وقت آیا تو وہ یہودی میرے پاس آیا لیکن میں نے تو باغ سے کچھ بھی نہیں توڑا تھا۔ اس لیے میں آئندہ سال کے لیے مہلت مانگنے لگا لیکن اس نے مہلت دینے سے انکار کیا۔ اس کی خبر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی تو آپ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ چلو، یہودی سے جابر رضی اللہ عنہ کے لیے ہم مہلت مانگیں گے۔ چنانچہ یہ سب میرے باغ میں تشریف لائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس یہودی سے گفتگو فرماتے رہے لیکن وہ یہی کہتا رہا کہ ابوالقاسم میں مہلت نہیں دے سکتا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو آپ کھڑے ہو گئے اور کھجور کے باغ میں چاروں طرف پھرے پھر تشریف لائے اور اس سے گفتگو کی لیکن اس نے اب بھی انکار کیا پھر میں کھڑا ہوا اور تھوڑی سی تازہ کھجور لا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تناول فرمایا پھر فرمایا جابر! تمہاری جھونپڑی کہاں ہے؟ میں نے آپ کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس میں میرے لیے کچھ فرش بچھا دو۔ میں نے بچھا دیا تو آپ داخل ہوئے اور آرام فرمایا پھر بیدار ہوئے تو میں ایک مٹھی اور کھجور لایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے بھی تناول فرمایا پھر آپ کھڑے ہوئے اور یہودی سے گفتگو فرمائی۔ اس نے اب بھی انکار کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ باغ میں کھڑے ہوئے پھر فرمایا کہ جابر! جاؤ اب پھل توڑو اور قرض ادا کر دو۔ آپ کھجوروں کے توڑے جانے کی جگہ کھڑے ہو گئے اور میں نے باغ میں سے اتنی کھجوریں توڑ لیں جن سے میں نے قرض ادا کر دیا اور اس میں سے کھجوریں بچ بھی گئی پھر میں وہاں سے نکلا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ خوشخبری سنائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ اس حدیث میں جو «عروش» کا لفظ ہے «عروش» اور «عريش» عمارت کی چھت کو کہتے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ( سورۃ الانعام میں لفظ ) «معروشات» سے مراد انگور وغیرہ کی ٹٹیاں ہیں۔ دوسری آیت ( سورۃ البقرہ ) «عروشها خاویة علی» یعنی اپنی چھتوں پر گرے ہوئے۔
حدثنا سعيد بن ابي مريم، حدثنا ابو غسان، قال حدثني ابو حازم، عن ابراهيم بن عبد الرحمن بن عبد الله بن ابي ربيعة، عن جابر بن عبد الله، رضى الله عنهما قال كان بالمدينة يهودي وكان يسلفني في تمري الى الجداد، وكانت لجابر الارض التي بطريق رومة فجلست، فخلا عاما فجاءني اليهودي عند الجداد، ولم اجد منها شييا، فجعلت استنظره الى قابل فيابى، فاخبر بذلك النبي صلى الله عليه وسلم فقال لاصحابه " امشوا نستنظر لجابر من اليهودي ". فجاءوني في نخلي فجعل النبي صلى الله عليه وسلم يكلم اليهودي فيقول ابا القاسم لا انظره. فلما راى النبي صلى الله عليه وسلم قام فطاف في النخل، ثم جاءه فكلمه فابى فقمت فجيت بقليل رطب فوضعته بين يدى النبي صلى الله عليه وسلم فاكل ثم قال " اين عريشك يا جابر ". فاخبرته فقال " افرش لي فيه ". ففرشته فدخل فرقد، ثم استيقظ فجيته بقبضة اخرى فاكل منها، ثم قام فكلم اليهودي فابى عليه فقام في الرطاب في النخل الثانية ثم قال " يا جابر جد واقض ". فوقف في الجداد فجددت منها ما قضيته وفضل منه فخرجت حتى جيت النبي صلى الله عليه وسلم فبشرته فقال " اشهد اني رسول الله ". عروش وعريش بناء وقال ابن عباس معروشات ما يعرش من الكروم وغير ذلك يقال عروشها ابنيتها
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے مجاہد نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ کھجور کے درخت کا گابھہ لایا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض درخت ایسے ہوتے ہیں جن کی برکت مسلمان کی برکت کی طرح ہوتی ہے۔ میں نے خیال کیا کہ آپ کا اشارہ کھجور کے درخت کی طرف ہے۔ میں نے سوچا کہ کہہ دوں کہ وہ درخت کھجور کا ہوتا ہے، یا رسول اللہ! لیکن پھر جو میں نے مڑ کر دیکھا تو مجلس میں میرے علاوہ نو آدمی اور تھے اور میں ان میں سب سے چھوٹا تھا۔ اس لیے میں خاموش رہا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ درخت کھجور کا ہے۔
حدثنا عمر بن حفص بن غياث، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، قال حدثني مجاهد، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما قال بينا نحن عند النبي صلى الله عليه وسلم جلوس اذ اتي بجمار نخلة فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ان من الشجر لما بركته كبركة المسلم ". فظننت انه يعني النخلة، فاردت ان اقول هي النخلة يا رسول الله. ثم التفت فاذا انا عاشر عشرة انا احدثهم فسكت، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " هي النخلة
ہم سے جمعہ بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے مروان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ہاشم بن ہاشم نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو عامر بن سعد نے خبر دی اور ان سے ان کے والد سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ہر دن صبح کے وقت سات عجوہ کھجوریں کھا لیں، اسے اس دن نہ زہر نقصان پہنچا سکے گا اور نہ جادو۔
حدثنا جمعة بن عبد الله، حدثنا مروان، اخبرنا هاشم بن هاشم، اخبرنا عامر بن سعد، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من تصبح كل يوم سبع تمرات عجوة لم يضره في ذلك اليوم سم ولا سحر
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جبلہ بن سحیم نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ( جب وہ حجاز کے خلیفہ تھے ) ایک سال قحط کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے راشن میں ہمیں کھانے کے لیے کھجوریں دیں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس سے گزرتے اور ہم کھجور کھاتے ہوتے تو وہ فرماتے کہ دو کھجوروں کو ایک ساتھ ملا کر نہ کھاؤ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو کھجوروں کو ایک ساتھ ملا کر کھانے سے منع کیا ہے۔ پھر فرمایا سوا اس صورت کے جب اس کو کھانے والا شخص اپنے ساتھی سے ( جو کھانے میں شریک ہے ) اس کی اجازت لے لے۔ شعبہ نے بیان کیا کہ اجازت والا ٹکڑا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا جبلة بن سحيم، قال اصابنا عام سنة مع ابن الزبير فرزقنا تمرا، فكان عبد الله بن عمر يمر بنا ونحن ناكل ويقول لا تقارنوا فان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن القران. ثم يقول الا ان يستاذن الرجل اخاه. قال شعبة الاذن من قول ابن عمر
مجھ سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجور کو ککڑی کے ساتھ کھاتے ہوئے دیکھا۔
حدثني اسماعيل بن عبد الله، قال حدثني ابراهيم بن سعد، عن ابيه، قال سمعت عبد الله بن جعفر، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم ياكل الرطب بالقثاء
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن طلحہ نے بیان کیا، ان سے زبید نے بیان کیا، ان سے مجاہد نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ درختوں میں ایک درخت مثل مسلمان کے ہے اور وہ کھجور کا درخت ہے۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا محمد بن طلحة، عن زبيد، عن مجاهد، قال سمعت ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال "من الشجر شجرة تكون مثل المسلم، وهى النخلة
ہم سے ابن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو ابراہیم بن سعد نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ککڑی کے ساتھ کھجور کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔
حدثنا ابن مقاتل، اخبرنا عبد الله، اخبرنا ابراهيم بن سعد، عن ابيه، عن عبد الله بن جعفر رضى الله عنهما قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم ياكل الرطب بالقثاء
سے صلت بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے، ان سے جعد ابوعثمان نے ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور (اس کی روایت حماد نے) ہشام سے بھی کی، ان سے محمد نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور سنان ابوربیعہ سے (بھی کی) اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ ان کی والدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک مد جَو لیا اور ان سے پیس کر اس کا «خطيفة» ( آٹے کو دودھ میں ملا کر پکاتے ہیں ) پکایا اور ان کے پاس جو گھی کا ڈبہ تھا اس میں اس پر سے گھی نچوڑا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ( بلانے کے لیے ) بھیجا۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیا تو آپ اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف رکھتے تھے۔ میں نے آپ کو کھانا کھانے کے لیے بلایا۔ آپ نے دریافت فرمایا اور وہ لوگ بھی جو میرے ساتھ ہیں؟ چنانچہ میں واپس آیا اور کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو فرماتے ہیں کہ جو میرے ساتھ موجود ہیں وہ بھی چلیں گے۔ اس پر ابوطلحہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ تو ایک چیز ہے جو ام سلیم نے آپ کے لیے پکائی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور کھانا آپ کے پاس لایا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دس آدمیوں کو میرے پاس اندر بلا لو۔ چنانچہ دس صحابہ داخل ہوئے اور کھانا پیٹ بھر کر کھایا پھر فرمایا دس آدمیوں کو میرے پاس اور بلا لو۔ یہ دس بھی اندر آئے اور پیٹ بھر کر کھایا پھر فرمایا اور دس آدمیوں کو بلا لو۔ اس طرح انہوں نے چالیس آدمیوں کا شمار کیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا کھایا پھر آپ کھڑے ہوئے تو میں دیکھنے لگا کہ کھانے میں سے کچھ بھی کم نہیں ہوا۔
حدثنا الصلت بن محمد، حدثنا حماد بن زيد، عن الجعد ابي عثمان، عن انس،. وعن هشام، عن محمد، عن انس،. وعن سنان ابي ربيعة، عن انس، ان ام سليم، امه عمدت الى مد من شعير، جشته وجعلت منه خطيفة، وعصرت عكة عندها، ثم بعثتني الى النبي صلى الله عليه وسلم فاتيته وهو في اصحابه فدعوته قال " ومن معي ". فجيت فقلت انه يقول، ومن معي، فخرج اليه ابو طلحة قال يا رسول الله انما هو شىء صنعته ام سليم، فدخل فجيء به وقال " ادخل على عشرة ". فدخلوا فاكلوا حتى شبعوا، ثم قال " ادخل على عشرة ". فدخلوا فاكلوا حتى شبعوا، ثم قال " ادخل على عشرة ". حتى عد اربعين، ثم اكل النبي صلى الله عليه وسلم ثم قام، فجعلت انظر هل نقص منها شىء
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز نے بیان کیا کہ انس رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لہسن کے بارے میں کچھ کہتے نہیں سنا۔ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص ( لہسن ) کھائے تو وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے۔
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الوارث، عن عبد العزيز، قال قيل لانس ما سمعت النبي صلى الله عليه وسلم في الثوم فقال " من اكل فلا يقربن مسجدنا