Loading...

Loading...
کتب
۹۴ احادیث
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یعقوب نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے بیان کیا کہ میں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی میدہ کھایا تھا؟ انہوں نے کہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی بنایا اس وقت سے وفات تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میدہ دیکھا بھی نہیں تھا۔ میں نے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آپ کے پاس چھلنیاں تھیں۔ کہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی بنایا اس وقت سے آپ کی وفات تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھلنی دیکھی بھی نہیں۔ بیان کیا کہ میں نے پوچھا آپ لوگ پھر بغیر چھنا ہوا جَو کس طرح کھاتے تھے؟ بتلایا ہم اسے پیس لیتے تھے پھر اسے پھونکتے تھے جو کچھ اڑنا ہوتا اڑ جاتا اور جو باقی رہ جاتا اسے گوندھ لیتے ( اور پکا کر ) کھا لیتے تھے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا يعقوب، عن ابي حازم، قال سالت سهل بن سعد فقلت هل اكل رسول الله صلى الله عليه وسلم النقي فقال سهل ما راى رسول الله صلى الله عليه وسلم النقي من حين ابتعثه الله حتى قبضه الله. قال فقلت هل كانت لكم في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم مناخل قال ما راى رسول الله صلى الله عليه وسلم منخلا من حين ابتعثه الله حتى قبضه. قال قلت كيف كنتم تاكلون الشعير غير منخول قال كنا نطحنه وننفخه، فيطير ما طار وما بقي ثريناه فاكلناه
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہیں روح بن عبادہ نے خبر دی، ان سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے سعید بن مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ وہ کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جن کے سامنے بھنی ہوئی بکری رکھی تھی۔ انہوں نے ان کو کھانے پر بلایا لیکن انہوں نے کھانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہو گئے اور آپ نے کبھی جَو کی روٹی بھی آسودہ ہو کر نہیں کھائی۔
حدثني اسحاق بن ابراهيم، اخبرنا روح بن عبادة، حدثنا ابن ابي ذيب، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة رضى الله عنه انه مر بقوم بين ايديهم شاة مصلية، فدعوه فابى ان ياكل قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم من الدنيا ولم يشبع من الخبز الشعير
ہم سے عبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا، کہا ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، ان سے یونس بن ابی الفرات نے، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی میز پر کھانا نہیں کھایا اور نہ تشتری میں دو چار قسم کی چیزیں رکھ کر کھائیں اور نہ کبھی چپاتی کھائی۔ میں نے قتادہ سے پوچھا، پھر آپ کس چیز پر کھانا کھاتے تھے؟ بتلایا کہ سفرہ ( چمڑے کے دستر خوان ) پر۔
حدثنا عبد الله بن ابي الاسود، حدثنا معاذ، حدثني ابي، عن يونس، عن قتادة، عن انس بن مالك، قال ما اكل النبي صلى الله عليه وسلم على خوان، ولا في سكرجة، ولا خبز له مرقق. قلت لقتادة على ما ياكلون قال على السفر
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے اسود بن یزید نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ مدینہ ہجرت کرنے کے بعد آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی برابر تین دن تک گیہوں کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی یہاں تک کہ آپ دنیا سے تشریف لے گئے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة رضى الله عنها قالت ما شبع ال محمد صلى الله عليه وسلم منذ قدم المدينة من طعام البر ثلاث ليال تباعا، حتى قبض
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل بن خالد نے، ان سے ابن شہاب زہری نے، ان سے عروہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ جب کسی گھر میں کسی کی وفات ہو جاتی اور اس کی وجہ سے عورتیں جمع ہوتیں اور پھر وہ چلی جاتیں۔ صرف گھر والے اور خاص خاص عورتیں رہ جاتیں تو آپ ہانڈی میں تلبینہ پکانے کا حکم دیتیں۔ وہ پکایا جاتا پھر ثرید بنایا جاتا اور تلبینہ اس پر ڈالا جاتا۔ پھر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتیں کہ اسے کھاؤ کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ تلبینہ مریض کے دل کو تسکین دیتا ہے اور اس کا غم دور کرتا ہے۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم انها كانت اذا مات الميت من اهلها فاجتمع لذلك النساء، ثم تفرقن، الا اهلها وخاصتها، امرت ببرمة من تلبينة فطبخت، ثم صنع ثريد فصبت التلبينة عليها ثم قالت كلن منها فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " التلبينة مجمة لفواد المريض، تذهب ببعض الحزن
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن مرہ جملی نے بیان کیا، ان سے مرہ ہمدانی نے، ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مردوں میں تو بہت سے کامل ہوئے لیکن عورتوں میں مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ کے سوا اور کوئی کامل نہیں ہوا اور عائشہ کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید کی فضیلت ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن عمرو بن مرة الجملي، عن مرة الهمداني، عن ابي موسى الاشعري، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال كمل من الرجال كثير، ولم يكمل من النساء الا مريم بنت عمران واسية امراة فرعون، وفضل عايشة على النساء كفضل الثريد على ساير الطعام
ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے ابوطوالہ نے اور ان سے انس نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں پر عائشہ کی فضیلت ایسی ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید کی فضیلت ہے۔
حدثنا عمرو بن عون، حدثنا خالد بن عبد الله، عن ابي طوالة، عن انس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال فضل عايشة على النساء كفضل الثريد على ساير الطعام
ہم سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا، انہوں نے ابوحاتم اشہل ابن حاتم سے سنا، ان سے ابن عون نے بیان کیا، ان سے شمامہ بن انس نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے ایک غلام کے پاس گیا جو درزی تھے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک پیالہ پیش کیا جس میں ثرید تھا۔ بیان کیا کہ پھر وہ اپنے کام میں لگ گئے۔ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے کدو تلاش کرنے لگے کہا کہ پھر میں بھی اس میں سے کدو تلاش کر کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھنے لگا۔ بیان کیا کہ اس کے بعد سے میں بھی کدو بہت پسند کرتا ہوں۔
حدثنا عبد الله بن منير، سمع ابا حاتم الاشهل بن حاتم، حدثنا ابن عون، عن ثمامة بن انس، عن انس رضى الله عنه قال دخلت مع النبي صلى الله عليه وسلم على غلام له خياط، فقدم اليه قصعة فيها ثريد قال واقبل على عمله قال فجعل النبي صلى الله عليه وسلم يتتبع الدباء قال فجعلت اتتبعه فاضعه بين يديه قال فما زلت بعد احب الدباء
ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا کہ ہم انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کی روٹی پکانے والا ان کے پاس ہی کھڑا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کھاؤ۔ میں نہیں جانتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی پتلی روٹی ( چپاتی ) دیکھی ہو۔ یہاں تک کہ آپ اللہ سے جا ملے اور نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مسلم بھنی ہوئی بکری دیکھی۔
حدثنا هدبة بن خالد، حدثنا همام بن يحيى، عن قتادة، قال كنا ناتي انس بن مالك رضى الله عنه وخبازه قايم قال كلوا فما اعلم النبي صلى الله عليه وسلم راى رغيفا مرققا حتى لحق بالله، ولا راى شاة سميطا بعينه قط
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں جعفر بن عمر بن امیہ ضمری نے، انہیں ان کے والد نے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بکری کے شانہ میں سے گوشت کاٹ رہے تھے، پھر آپ نے اس میں سے کھایا۔ پھر آپ کو نماز کے لیے بلایا گیا تو آپ کھڑے ہو گئے اور چھری ڈال دی اور نماز پڑھی لیکن نیا وضو نہیں کیا۔
حدثنا محمد بن مقاتل، اخبرنا عبد الله، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن جعفر بن عمرو بن امية الضمري، عن ابيه، قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يحتز من كتف شاة، فاكل منها، فدعي الى الصلاة، فقام فطرح السكين فصلى، ولم يتوضا
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کبھی نہیں کیا۔ صرف ایک سال اس کا حکم دیا تھا جس سال قحط پڑا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا تھا ( اس حکم کے ذریعہ ) کہ جو مال والے ہیں وہ ( گوشت محفوظ کرنے کے بجائے ) محتاجوں کو کھلا دیں اور ہم بکری کے پائے محفوظ رکھ لیتے تھے اور اسے پندرہ پندرہ دن بعد کھاتے تھے۔ ان سے پوچھا گیا کہ ایسا کرنے کے لیے کیا مجبوری تھی؟ اس پر ام المؤمنین رضی اللہ عنہا ہنس پڑیں اور فرمایا آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سالن کے ساتھ گیہوں کی روٹی تین دن تک برابر کبھی نہیں کھائی یہاں تک کہ آپ اللہ سے جا ملے۔ اور ابن کثیر نے بیان کیا کہ ہمیں سفیان نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے یہی حدیث بیان کی۔
حدثنا خلاد بن يحيى، حدثنا سفيان، عن عبد الرحمن بن عابس، عن ابيه، قال قلت لعايشة انهى النبي صلى الله عليه وسلم ان توكل لحوم الاضاحي فوق ثلاث قالت ما فعله الا في عام جاع الناس فيه، فاراد ان يطعم الغني الفقير، وان كنا لنرفع الكراع فناكله بعد خمس عشرة. قيل ما اضطركم اليه فضحكت قالت ما شبع ال محمد صلى الله عليه وسلم من خبز بر مادوم ثلاثة ايام حتى لحق بالله. وقال ابن كثير اخبرنا سفيان حدثنا عبد الرحمن بن عابس بهذا
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عمرو نے، ان سے عطاء نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ (مکہ مکرمہ سے حج کی) ( مکہ مکرمہ سے حج کی ) قربانی کا گوشت ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مدینہ منورہ لاتے تھے۔ اس کی متابعت محمد نے کی ابن عیینہ کے واسطہ سے اور ابن جریج نے بیان کیا کہ میں نے عطاء سے پوچھا کیا جابر رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا تھا کہ یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ آ گئے؟ انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ نہیں کہا تھا۔
حدثني عبد الله بن محمد، حدثنا سفيان، عن عمرو، عن عطاء، عن جابر، قال كنا نتزود لحوم الهدى على عهد النبي صلى الله عليه وسلم الى المدينة. تابعه محمد عن ابن عيينة. وقال ابن جريج قلت لعطاء اقال حتى جينا المدينة قال لا
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے مطلب بن عبداللہ بن حنطب کے غلام عمرو بن ابی عمرو نے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اپنے یہاں کے بچوں میں کوئی بچہ تلاش کر لاؤ جو میرے کام کر دیا کرے۔ چنانچہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مجھے اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھا کر لائے۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی، جب بھی آپ کہیں پڑاؤ کرتے خدمت کرتا۔ میں سنا کرتا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت یہ دعا پڑھا کرتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن، والعجز والكسل، والبخل والجبن وضلع الدين، وغلبة الرجال» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں غم سے، رنج سے، عجز سے، سستی سے، بخل سے، بزدلی سے، قرض کے بوجھ سے اور لوگوں کے غلبہ سے۔“ ( انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ) پھر میں اس وقت سے برابر آپ کی خدمت کرتا رہا۔ یہاں تک کہ ہم خیبر سے واپس ہوئے اور صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا بھی ساتھ تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پسند فرمایا تھا۔ میں دیکھتا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اپنی سواری پر پیچھے کپڑے سے پردہ کیا اور پھر انہیں وہاں بٹھایا۔ آخر جب مقام صہبا میں پہنچے تو آپ نے دستر خوان پر حیس ( کھجور، پنیر اور گھی وغیرہ کا ملیدہ ) بنایا پھر مجھے بھیجا اور میں نے لوگوں کو بلا لایا، پھر سب لوگوں نے اسے کھایا۔ یہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کی دعوت ولیمہ تھی۔ پھر آپ روانہ ہوئے اور جب احد دکھائی دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔ اس کے بعد جب مدینہ نظر آیا تو فرمایا کہ اے اللہ! میں اس کے دونوں پہاڑوں کے درمیانی علاقے کو اسی طرح حرمت والا علاقہ بناتا ہوں جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا شہر بنایا تھا۔ اے اللہ! اس کے رہنے والوں کو برکت عطا فرما۔ ان کے مد میں اور ان کے صاع میں برکت فرما۔
حدثنا قتيبة، حدثنا اسماعيل بن جعفر، عن عمرو بن ابي عمرو، مولى المطلب بن عبد الله بن حنطب انه سمع انس بن مالك، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لابي طلحة " التمس غلاما من غلمانكم يخدمني ". فخرج بي ابو طلحة، يردفني وراءه، فكنت اخدم رسول الله صلى الله عليه وسلم كلما نزل، فكنت اسمعه يكثر ان يقول " اللهم اني اعوذ بك من الهم والحزن، والعجز والكسل، والبخل والجبن وضلع الدين، وغلبة الرجال ". فلم ازل اخدمه حتى اقبلنا من خيبر، واقبل بصفية بنت حيى قد حازها، فكنت اراه يحوي وراءه بعباءة او بكساء، ثم يردفها وراءه، حتى اذا كنا بالصهباء صنع حيسا في نطع، ثم ارسلني فدعوت رجالا فاكلوا، وكان ذلك بناءه بها، ثم اقبل حتى اذا بدا له احد قال " هذا جبل يحبنا ونحبه ". فلما اشرف على المدينة قال " اللهم اني احرم ما بين جبليها مثل ما حرم به ابراهيم مكة، اللهم بارك لهم في مدهم وصاعهم
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سیف بن ابی سلیمان نے، کہا کہ میں نے مجاہد سے سنا، کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے بیان کیا کہ یہ لوگ حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں موجود تھے۔ انہوں نے پانی مانگا تو ایک مجوسی نے ان کو پانی ( چاندی کے پیالے میں ) لا کر دیا۔ جب اس نے پیالہ ان کے ہاتھ میں دیا تو انہوں نے پیالہ کو اس پر پھینک کر مارا اور کہا اگر میں نے اسے بارہا اس سے منع نہ کیا ہوتا ( کہ چاندی سونے کے برتن میں مجھے کچھ نہ دیا کرو ) آگے وہ یہ فرمانا چاہتے تھے کہ تو میں اس سے یہ معاملہ نہ کرتا لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ریشم و دیبا نہ پہنو اور نہ سونے چاندی کے برتن میں کچھ پیو اور نہ ان کی پلیٹوں میں کچھ کھاؤ کیونکہ یہ چیزیں ان ( کفار کے لیے ) دنیا میں ہیں اور ہمارے لیے آخرت میں ہیں۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا سيف بن ابي سليمان، قال سمعت مجاهدا، يقول حدثني عبد الرحمن بن ابي ليلى، انهم كانوا عند حذيفة فاستسقى فسقاه مجوسي. فلما وضع القدح في يده رماه به وقال لولا اني نهيته غير مرة ولا مرتين. كانه يقول لم افعل هذا، ولكني سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " لا تلبسوا الحرير ولا الديباج ولا تشربوا في انية الذهب والفضة، ولا تاكلوا في صحافها، فانها لهم في الدنيا ولنا في الاخرة
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس مومن کی مثال جو قرآن پڑھتا ہو سنگترے جیسی ہے جس کی خوشبو بھی پاکیزہ ہے اور مزہ بھی پاکیزہ ہے اور اس مومن کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا کھجور جیسی ہے جس میں کوئی خوشبو نہیں ہوتی لیکن مزہ میٹھا ہوتا ہے اور منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہو، ریحانہ ( پھول ) جیسی ہے جس کی خوشبو تو اچھی ہوتی ہے لیکن مزہ کڑوا ہوتا ہے اور جو منافق قرآن بھی نہیں پڑھتا اس کی مثال اندرائن جیسی ہے جس میں کوئی خوشبو نہیں ہوتی اور جس کا مزہ بھی کڑوا ہوتا ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن انس، عن ابي موسى الاشعري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "مثل المومن الذي يقرا القران كمثل الاترجة، ريحها طيب وطعمها طيب، ومثل المومن الذي لا يقرا القران كمثل التمرة لا ريح لها وطعمها حلو، ومثل المنافق الذي يقرا القران مثل الريحانة، ريحها طيب وطعمها مر، ومثل المنافق الذي لا يقرا القران كمثل الحنظلة، ليس لها ريح وطعمها مر
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں پر عائشہ کی فضیلت ایسی ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید کی فضیلت ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا خالد، حدثنا عبد الله بن عبد الرحمن، عن انس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " فضل عايشة على النساء كفضل الثريد على ساير الطعام
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک نے بیان کیا، ان سے سمی نے، ان سے صالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سفر عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، جو انسان کو سونے اور کھانے سے روک دیتا ہے۔ پس جب کسی شخص کی سفری ضرورت حسب منشا پوری ہو جائے تو اسے جلد ہی گھر واپس آ جانا چاہیئے۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا مالك، عن سمى، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " السفر قطعة من العذاب، يمنع احدكم نومه وطعامه، فاذا قضى نهمته من وجهه فليعجل الى اهله
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے، ان سے ربیعہ نے، انہوں نے قاسم بن محمد سے سنا، آپ نے بیان کیا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شریعت کی تین سنتیں قائم ہوئیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں ( ان کے مالکوں سے ) خرید کر آزاد کرنا چاہا تو ان کے مالکوں نے کہا کہ ولاء کا تعلق ہم سے ہی قائم ہو گا۔ ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ) میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم یہ شرط لگا بھی لو جب بھی ولاء اسی کے ساتھ قائم ہو گا جو آزاد کرے گا۔ پھر بیان کیا کہ بریرہ آزاد کی گئیں اور انہیں اختیار دیا گیا کہ اگر وہ چاہیں تو اپنے شوہر کے ساتھ رہیں یا ان سے الگ ہو جائیں اور تیسری بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے، چولھے پر ہانڈی پک رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوپہر کا کھانا طلب فرمایا تو روٹی اور گھر میں موجود سالن پیش کیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا میں نے گوشت ( پکتے ہوئے ) نہیں دیکھا ہے؟ عرض کیا کہ دیکھا ہے یا رسول اللہ! لیکن وہ گوشت تو بریرہ کو صدقہ میں ملا ہے، انہوں نے ہمیں ہدیہ کے طور پر دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کے لیے وہ صدقہ ہے لیکن ہمارے لیے ہدیہ ہے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا اسماعيل بن جعفر، عن ربيعة، انه سمع القاسم بن محمد، يقول كان في بريرة ثلاث سنن، ارادت عايشة ان تشتريها فتعتقها، فقال اهلها، ولنا الولاء، فذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " لو شيت شرطتيه لهم، فانما الولاء لمن اعتق ". قال واعتقت فخيرت في ان تقر تحت زوجها او تفارقه، ودخل رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما بيت عايشة وعلى النار برمة تفور، فدعا بالغداء فاتي بخبز وادم من ادم البيت فقال " الم ار لحما ". قالوا بلى يا رسول الله، ولكنه لحم تصدق به على بريرة، فاهدته لنا. فقال" هو صدقة عليها، وهدية لنا
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے بیان کیا، ان سے ابواسامہ نے، ان سے ہشام نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میٹھی چیز اور شہد پسند فرمایا کرتے تھے۔
حدثني اسحاق بن ابراهيم الحنظلي، عن ابي اسامة، عن هشام، قال اخبرني ابي، عن عايشة رضى الله عنها قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحب الحلواء والعسل
ہم سے عبدالرحمٰن بن شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ابن ابی الفدیک نے خبر دی، انہیں ابن ابی ذئب نے، انہیں مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں پیٹ بھرنے کے بعد ہر وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی رہا کرتا تھا۔ اس وقت میں روٹی نہیں کھاتا تھا۔ نہ ریشم پہنتا تھا، نہ فلاں اور فلانی میری خدمت کرتے تھے ( بھوک کی شدت کی وجہ سے بعض اوقات ) میں اپنے پیٹ پر کنکریاں لگا لیتا اور کبھی میں کسی سے کوئی آیت پڑھنے کے لیے کہتا حالانکہ وہ مجھے یاد ہوتی۔ مقصد صرف یہ ہوتا کہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائے اور کھانا کھلا دے اور مسکینوں کے لیے سب سے بہترین شخص جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے، ہمیں اپنے گھر ساتھ لے جاتے اور جو کچھ بھی گھر میں ہوتا کھلا دیتے تھے۔ کبھی تو ایسا ہوتا کہ گھی کا ڈبہ نکال کر لاتے اور اس میں کچھ نہ ہوتا۔ ہم اسے پھاڑ کر اس میں جو کچھ لگا ہوتا چاٹ لیتے تھے۔
حدثنا عبد الرحمن بن شيبة، قال اخبرني ابن ابي الفديك، عن ابن ابي ذيب، عن المقبري، عن ابي هريرة، قال كنت الزم النبي صلى الله عليه وسلم لشبع بطني حين لا اكل الخمير، ولا البس الحرير، ولا يخدمني فلان ولا فلانة، والصق بطني بالحصباء، واستقري الرجل الاية وهى معي كى ينقلب بي فيطعمني، وخير الناس للمساكين جعفر بن ابي طالب، ينقلب بنا فيطعمنا ما كان في بيته، حتى ان كان ليخرج الينا العكة ليس فيها شىء، فنشتقها فنلعق ما فيها