Loading...

Loading...
کتب
۹۴ احادیث
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ہم سے سے عبدالصمد بن عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، ان سے واقد بن محمد نے، ان سے نافع نے بیان کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اس وقت تک کھانا نہیں کھاتے تھے، جب تک ان کے ساتھ کھانے کے لیے کوئی مسکین نہ لایا جاتا۔ ایک مرتبہ میں ان کے ساتھ کھانے کے لیے ایک شخص کو لایا کہ اس نے بہت زیادہ کھانا کھایا۔ بعد میں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ آئندہ اس شخص کو میرے ساتھ کھانے کے لیے نہ لانا۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ مومن ایک آنت میں کھاتا اور کافر ساتوں آنتیں بھر لیتا ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الصمد، حدثنا شعبة، عن واقد بن محمد، عن نافع، قال كان ابن عمر لا ياكل حتى يوتى بمسكين ياكل معه، فادخلت رجلا ياكل معه فاكل كثيرا فقال يا نافع لا تدخل هذا على سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " المومن ياكل في معى واحد والكافر ياكل في سبعة امعاء
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدہ بن سلیمان نے خبر دی، انہیں عبیداللہ عمری نے خبر دی، انہیں نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر یا منافق ( عبدہ نے کہا کہ ) مجھے یقین نہیں کہ ان میں سے کس کے متعلق عبیداللہ نے بیان کیا کہ وہ ساتوں آنتیں بھر لیتا ہے اور ابن بکیر نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حدیث کی طرح بیان فرمایا۔
حدثنا محمد بن سلام، اخبرنا عبدة، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان المومن ياكل في معى واحد، وان الكافر او المنافق فلا ادري ايهما قال عبيد الله ياكل في سبعة امعاء ". وقال ابن بكير حدثنا مالك، عن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم بمثله
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے کہ ابونہیک بڑے کھانے والے تھے۔ ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کافر ساتوں آنتوں میں کھاتا ہے۔ ابونہیک نے اس پر عرض کیا کہ میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہوں۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن عمرو، قال كان ابو نهيك رجلا اكولا فقال له ابن عمر ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الكافر ياكل في سبعة امعاء ". فقال فانا اومن بالله ورسوله
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر ساتوں آنتوں میں کھاتا ہے۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ياكل المسلم في معى واحد، والكافر ياكل في سبعة امعاء
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عدی بن ثابت نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صاحب بہت زیادہ کھانا کھایا کرتے تھے، پھر وہ اسلام لائے تو کم کھانے لگے۔ اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر ساتوں آنتوں میں کھاتا ہے۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن عدي بن ثابت، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، ان رجلا، كان ياكل اكلا كثيرا، فاسلم فكان ياكل اكلا قليلا، فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال " ان المومن ياكل في معى واحد، والكافر ياكل في سبعة امعاء
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے مسعر نے بیان کیا، ان سے علی ابن الاقمر نے کہ میں نے ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا مسعر، عن علي بن الاقمر، سمعت ابا جحيفة، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا اكل متكيا
مجھ سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم کو جریر نے خبر دی، انہیں منصور نے، انہیں علی ابن الاقمر نے اور ان سے ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی سے جو آپ کے پاس موجود تھے فرمایا کہ میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا۔
حدثني عثمان بن ابي شيبة، اخبرنا جرير، عن منصور، عن علي بن الاقمر، عن ابي جحيفة، قال كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال لرجل عنده " لا اكل وانا متكي
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں ابوامامہ بن سہل نے اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھنا ہوا ساہنہ پیش کیا گیا تو آپ اسے کھانے کے لیے متوجہ ہوئے۔ اسی وقت آپ کو بتایا گیا کہ یہ ساہنہ ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ روک لیا۔ خالد رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا یہ حرام ہے؟ فرمایا کہ نہیں لیکن چونکہ یہ میرے ملک میں نہیں ہوتا اس لیے طبیعت اسے گوارا نہیں کرتی۔ پھر خالد رضی اللہ عنہ نے اسے کھایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے۔ امام مالک نے ابن شہاب سے «ضب محنوذ.» ( یعنی بھنا ہوا ساہنہ «ضب مشوی» کی جگہ «محنوذ.» نقل کیا، دونوں لفظوں کا ایک معنی ہے ) ۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا هشام بن يوسف، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن ابي امامة بن سهل، عن ابن عباس، عن خالد بن الوليد، قال اتي النبي صلى الله عليه وسلم بضب مشوي، فاهوى اليه لياكل فقيل له انه ضب، فامسك يده، فقال خالد احرام هو قال " لا، ولكنه لا يكون بارض قومي، فاجدني اعافه ". فاكل خالد ورسول الله صلى الله عليه وسلم ينظر. قال مالك عن ابن شهاب بضب محنوذ
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، ان سے امام لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں محمود بن ربیع انصاری نے خبر دی کہ عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے اور قبیلہ انصار کے ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے بدر کی لڑائی میں شرکت کی تھی۔ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میری بصارت کمزور ہے اور میں اپنی قوم کو نماز پڑھاتا ہوں۔ برسات میں وادی جو میرے اور ان کے درمیان حائل ہے۔ بہنے لگتی ہے اور میرے لیے ان کی مسجد میں جانا اور ان میں نماز پڑھنا ممکن نہیں رہتا۔ اس لیے یا رسول اللہ! میری یہ خواہش ہے کہ آپ میرے گھر تشریف لے چلیں اور میرے گھر میں آپ نماز پڑھیں تاکہ میں اسی جگہ کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان شاءاللہ میں جلد ہی ایسا کروں گا۔ عتبان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ چاشت کے وقت جب سورج کچھ بلند ہو گیا تشریف لائے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر آنے کی اجازت چاہی۔ میں نے آپ کو اجازت دے دی۔ آپ بیٹھے نہیں بلکہ گھر میں داخل ہو گئے اور دریافت فرمایا کہ اپنے گھر میں کس جگہ تم پسند کرتے ہو کہ میں نماز پڑھوں؟ میں نے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں کھڑے ہو گئے اور ( نماز کے لیے ) تکبیر کہی۔ ہم نے بھی ( آپ کے پیچھے ) صف بنا لی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خزیرہ ( حریرہ کی ایک قسم ) کے لیے جو آپ کے لیے ہم نے بنایا تھا روک لیا۔ گھر میں قبیلہ کے بہت سے لوگ آ آ کر جمع ہو گئے۔ ان میں سے ایک صاحب نے کہا مالک بن دخشن کہاں ہیں؟ اس پر کسی نے کہا کہ وہ تو منافق ہے اللہ اور اس کے رسول سے اسے محبت نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ نہ کہو، کیا تم نہیں دیکھتے کہ انہوں نے اقرار کیا ہے کہ «لا إله إلا الله» یعنی اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور اس سے ان کا مقصد صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ ان صحابی نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ راوی نے بیان کیا کہ ہم نے عرض کیا ( یا رسول اللہ! ) لیکن ہم ان کی توجہ اور ان کا لگاؤ منافقین کے ساتھ ہی دیکھتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیکن اللہ نے دوزخ کی آگ کو اس شخص پر حرام کر دیا ہے جس نے کلمہ «لا إله إلا الله» کا اقرار کر لیا ہو اور اس سے اس کا مقصد اللہ کی خوشنودی ہو۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ پھر میں نے حصین بن محمد انصاری سے جو بنی سالم کے ایک فرد اور ان کے سردار تھے۔ محمود کی حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اس کی تصدیق کی۔
حدثني يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، قال اخبرني محمود بن الربيع الانصاري، ان عتبان بن مالك وكان من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ممن شهد بدرا من الانصار انه اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله اني انكرت بصري وانا اصلي لقومي، فاذا كانت الامطار سال الوادي الذي بيني وبينهم، لم استطع ان اتي مسجدهم فاصلي لهم، فوددت يا رسول الله انك تاتي فتصلي في بيتي، فاتخذه مصلى. فقال " سافعل ان شاء الله ". قال عتبان فغدا رسول الله صلى الله عليه وسلم وابو بكر حين ارتفع النهار، فاستاذن النبي صلى الله عليه وسلم فاذنت له فلم يجلس حتى دخل البيت، ثم قال لي " اين تحب ان اصلي من بيتك ". فاشرت الى ناحية من البيت فقام النبي صلى الله عليه وسلم فكبر، فصففنا، فصلى ركعتين، ثم سلم وحبسناه على خزير صنعناه، فثاب في البيت رجال من اهل الدار ذوو عدد فاجتمعوا، فقال قايل منهم اين مالك بن الدخشن فقال بعضهم ذلك منافق لا يحب الله ورسوله. قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا تقل، الا تراه قال لا اله الا الله. يريد بذلك وجه الله ". قال الله ورسوله اعلم. قال قلنا فانا نرى وجهه ونصيحته الى المنافقين. فقال " فان الله حرم على النار من قال لا اله الا الله. يبتغي بذلك وجه الله ". قال ابن شهاب ثم سالت الحصين بن محمد الانصاري احد بني سالم وكان من سراتهم عن حديث محمود فصدقه
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کی، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میری خالہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ساہنہ کا گوشت، پنیر اور دودھ ہدیتاً پیش کیا تو ساہنہ کا گوشت آپ کے دستر خوان پر رکھا گیا اور اگر ساہنہ حرام ہوتا تو آپ کے دستر خوان پر نہیں رکھا جا سکتا تھا لیکن آپ نے دودھ پیا اور پنیر کھایا۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا شعبة، عن ابي بشر، عن سعيد، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال اهدت خالتي الى النبي صلى الله عليه وسلم ضبابا واقطا ولبنا، فوضع الضب على مايدته، فلو كان حراما لم يوضع وشرب اللبن، واكل الاقط
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمیں جمعہ کے دن بڑی خوشی رہتی تھی۔ ہماری ایک بوڑھی خاتون تھیں وہ چقندر کی جڑیں لے کر اپنی ہانڈی میں پکاتی تھیں، اوپر سے کچھ دانے جَو کے اس میں ڈال دیتی تھیں۔ ہم جمعہ کی نماز پڑھ کر ان کی ملاقات کو جاتے تو وہ ہمارے سامنے یہ کھانا رکھتی تھیں۔ جمعہ کے دن ہمیں بڑی خوشی اسی وجہ سے رہتی تھی۔ ہم نماز جمعہ کے بعد ہی کھانا کھایا کرتے تھے۔ اللہ کی قسم! نہ اس میں چربی ہوتی تھی نہ گھی اور جب بھی ہم مزے سے اس کو کھاتے۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد، قال ان كنا لنفرح بيوم الجمعة، كانت لنا عجوز تاخذ اصول السلق، فتجعله في قدر لها، فتجعل فيه حبات من شعير، اذا صلينا زرناها فقربته الينا، وكنا نفرح بيوم الجمعة من اجل ذلك، وما كنا نتغدى ولا نقيل الا بعد الجمعة، والله ما فيه شحم ولا ودك
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شانے کی ہڈی کا گوشت کھایا، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( نماز کے لیے نیا ) وضو نہیں کیا اور ( اسی سند سے ) ۔
حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب، حدثنا حماد، حدثنا ايوب، عن محمد، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال تعرق رسول الله صلى الله عليه وسلم كتفا، ثم قام فصلى، ولم يتوضا
ایوب اور عاصم سے روایت ہے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پکتی ہوئی ہنڈیا میں سے ادھ کچی بوٹی نکالی اور اسے کھایا پھر نماز پڑھائی اور نیا وضو نہیں کیا۔
وعن ايوب، وعاصم، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال انتشل النبي صلى الله عليه وسلم عرقا من قدر فاكل، ثم صلى، ولم يتوضا
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عثمان ابن عمر نے بیان کیا، ان سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے ابوحازم سلمہ بن دینار مدنی نے، کہا ہم سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف نکلے ( صلح حدیبیہ کے موقع پر ) دوسری سند ( حدیث دیکھیں)
حدثني محمد بن المثنى، قال حدثني عثمان بن عمر، حدثنا فليح، حدثنا ابو حازم المدني، حدثنا عبد الله بن ابي قتادة، عن ابيه، قال خرجنا مع النبي صلى الله عليه وسلم نحو مكة
اور مجھ سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ابی قتادہ اسلمی نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ کے ساتھ مکہ کے راستہ میں ایک منزل پر بیٹھا ہوا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے آگے پڑاؤ کیا تھا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم احرام کی حالت میں تھے لیکن میں احرام میں نہیں تھا۔ لوگوں نے ایک گورخر کو دیکھا۔ میں اس وقت اپنا جوتا ٹانکنے میں مصروف تھا۔ ان لوگوں نے مجھے اس گورخر کے متعلق بتایا کچھ نہیں لیکن چاہتے تھے کہ میں کسی طرح دیکھ لوں۔ چنانچہ میں متوجہ ہوا اور میں نے اسے دیکھ لیا، پھر میں گھوڑے کے پاس گیا اور اسے زین پہنا کر اس پر سوار ہو گیا لیکن کوڑا اور نیزہ بھول گیا تھا۔ میں نے ان لوگوں سے کہا کہ کوڑا اور نیزہ مجھے دے دو۔ انہوں نے کہا کہ نہیں اللہ کی قسم! ہم تمہاری شکار کے معاملہ میں کوئی مدد نہیں کریں گے۔ ( کیونکہ ہم محرم ہیں ) میں غصہ ہو گیا اور میں نے اتر کر خود یہ دونوں چیزیں اٹھائیں پھر سوار ہو کر اس پر حملہ کیا اور ذبح کر لیا۔ جب وہ ٹھنڈا ہو گیا تو میں اسے ساتھ لایا پھر پکا کر میں نے اور سب نے کھایا لیکن بعد میں انہیں شبہ ہوا کہ احرام کی حالت میں اس ( شکار کا گوشت ) کھانا کیسا ہے؟ پھر ہم روانہ ہوئے اور میں نے اس کا گوشت چھپا کر رکھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ہم نے آپ سے اس کے متعلق پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، تمہارے پاس کچھ بچا ہوا بھی ہے؟ میں نے وہی دست پیش کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے کھایا۔ یہاں تک کہ اس کا گوشت آپ نے اپنے دانتوں سے کھینچ کھینچ کر کھایا اور آپ احرام میں تھے۔ محمد بن جعفر نے بیان کیا کہ مجھ سے زید بن اسلم نے یہ واقعہ بیان کیا، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے اسی طرح سارا واقعہ بیان کیا۔
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا محمد بن جعفر، عن ابي حازم، عن عبد الله بن ابي قتادة السلمي، عن ابيه، انه قال كنت يوما جالسا مع رجال من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم في منزل في طريق مكة، ورسول الله صلى الله عليه وسلم نازل امامنا، والقوم محرمون وانا غير محرم، فابصروا حمارا وحشيا وانا مشغول اخصف نعلي، فلم يوذنوني له، واحبوا لو اني ابصرته، فالتفت فابصرته فقمت الى الفرس فاسرجته. ثم ركبت ونسيت السوط والرمح فقلت لهم ناولوني السوط والرمح. فقالوا لا والله لا نعينك عليه بشىء. فغضبت فنزلت فاخذتهما، ثم ركبت فشددت على الحمار فعقرته، ثم جيت به وقد مات فوقعوا فيه ياكلونه، ثم انهم شكوا في اكلهم اياه وهم حرم، فرحنا وخبات العضد معي، فادركنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فسالناه عن ذلك فقال " معكم منه شىء ". فناولته العضد فاكلها حتى تعرقها، وهو محرم. قال ابن جعفر وحدثني زيد بن اسلم عن عطاء بن يسار عن ابي قتادة مثله
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں جعفر بن عمرو بن امیہ ضمری نے خبر دی، انہیں ان کے والد عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اپنے ہاتھ سے بکری کے شانے کا گوشت کاٹ کر کھا رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کے لیے بلایا گیا تو آپ نے گوشت اور وہ چھری جس سے گوشت کی بوٹی کاٹ رہے تھے، ڈال دی اور نماز کے لیے کھڑے ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور آپ نے نیا وضو نہیں کیا ( کیونکہ آپ پہلے ہی وضو کئے ہوئے تھے ) ۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني جعفر بن عمرو بن امية، ان اباه، عمرو بن امية اخبره انه، راى النبي صلى الله عليه وسلم يحتز من كتف شاة في يده، فدعي الى الصلاة فالقاها والسكين التي يحتز بها، ثم قام فصلى، ولم يتوضا
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں ابوحازم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں کوئی عیب نہیں نکالا۔ اگر پسند ہوا تو کھا لیا اور اگر ناپسند ہوا تو چھوڑ دیا۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن الاعمش، عن ابي حازم، عن ابي هريرة، قال ما عاب النبي صلى الله عليه وسلم طعاما قط، ان اشتهاه اكله، وان كرهه تركه
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوغسان (محمد بن مطرف لیثی) نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں میدہ دیکھا تھا؟ انہوں نے کہا کہ نہیں، میں نے پوچھا کیا تم جَو کے آٹے کو چھانتے تھے؟ کہا نہیں، بلکہ ہم اسے صرف پھونک لیا کرتے تھے۔
حدثنا سعيد بن ابي مريم، حدثنا ابو غسان، قال حدثني ابو حازم، انه سال سهلا هل رايتم في زمان النبي صلى الله عليه وسلم النقي قال لا. فقلت فهل كنتم تنخلون الشعير قال لا ولكن كنا ننفخه
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عباس جریری نے بیان کیا، ان سے ابوعثمان نہدی نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو کھجور تقسیم کی اور ہر شخص کو سات کھجوریں دیں۔ مجھے بھی سات کھجوریں عنایت فرمائیں۔ ان میں ایک خراب تھی ( اور سخت تھی ) لیکن مجھے وہی سب سے زیادہ اچھی معلوم ہوئی کیونکہ اس کا چبانا مجھ کو مشکل ہو گیا۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد بن زيد، عن عباس الجريري، عن ابي عثمان النهدي، عن ابي هريرة، قال قسم النبي صلى الله عليه وسلم يوما بين اصحابه تمرا، فاعطى كل انسان سبع تمرات، فاعطاني سبع تمرات احداهن حشفة، فلم يكن فيهن تمرة اعجب الى منها، شدت في مضاغي
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان سات آدمیوں میں سے ساتواں پایا ( جنہوں نے اسلام سب سے پہلے قبول کیا تھا ) اس وقت ہمارے پاس کھانے کے لیے یہی کیکر کے پھل یا پتے کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ یہ کھاتے کھاتے ہم لوگوں کا پاخانہ بھی بکری کی مینگنیوں کی طرح ہو گیا تھا یا اب یہ زمانہ ہے کہ بنی اسد قبیلے کے لوگ مجھ کو شریعت کے احکام سکھلاتے ہیں۔ اگر میں ابھی تک اس حال میں ہوں کہ بنی اسد کے لوگ مجھ کو شریعت کے احکام سکھلائیں تب تو میں تباہ ہی ہو گیا میری محنت برباد ہو گئی۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا وهب بن جرير، حدثنا شعبة، عن اسماعيل، عن قيس، عن سعد، قال رايتني سابع سبعة مع النبي صلى الله عليه وسلم ما لنا طعام الا ورق الحبلة او الحبلة حتى يضع احدنا ما تضع الشاة، ثم اصبحت بنو اسد تعزرني على الاسلام، خسرت اذا وضل سعيي