Loading...

Loading...
کتب
۹۴ احادیث
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوصفوان عبداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم کو یونس نے خبر دی، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عطاء نے بیان کیا کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے لہسن یا پیاز کھائی ہو تو اسے چاہئے کہ ہم سے دور رہے، یا یہ فرمایا کہ ہماری مسجد سے دور رہے۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا ابو صفوان عبد الله بن سعيد، اخبرنا يونس، عن ابن شهاب، قال حدثني عطاء، ان جابر بن عبد الله رضى الله عنهما زعم عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اكل ثوما او بصلا فليعتزلنا، او ليعتزل مسجدنا
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا انہیں ابوسلمہ نے خبر دی، کہا کہ مجھے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام مرالظہران پر تھے، ہم پیلو توڑ رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو خوب کالا ہو وہ توڑو کیونکہ وہ زیادہ لذیذ ہوتا ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا آپ نے بکریاں چرائی ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اور کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔
حدثنا سعيد بن عفير، حدثنا ابن وهب، عن يونس، عن ابن شهاب، قال اخبرني ابو سلمة، قال اخبرني جابر بن عبد الله، قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بمر الظهران نجني الكباث فقال " عليكم بالاسود منه، فانه ايطب ". فقال اكنت ترعى الغنم قال " نعم، وهل من نبي الا رعاها
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، انہوں نے یحییٰ بن سعید سے سنا، انہوں نے بشیر بن یسار سے، ان سے سوید بن نعمان نے، کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر روانہ ہوئے۔ جب ہم مقام صہبا پر پہنچے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا طلب فرمایا۔ کھانے میں ستو کے سوا اور کوئی چیز نہیں لائی گئی، پھر ہم نے کھانا کھایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کلی کر کے نماز کے لیے کھڑے ہو گئے، ہم نے بھی کلی کی۔
حدثنا علي، حدثنا سفيان، سمعت يحيى بن سعيد، عن بشير بن يسار، عن سويد بن النعمان، قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم الى خيبر، فلما كنا بالصهباء دعا بطعام فما اتي الا بسويق، فاكلنا فقام الى الصلاة، فتمضمض ومضمضنا
یحییٰ نے بیان کیا کہ میں نے بشیر سے سنا، انہوں نے بیان کیا ہم سے سوید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے جب ہم مقام صہبا پر پہنچے۔ یحییٰ نے کہا کہ یہ جگہ خیبر سے ایک منزل کی دوری پر ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا طلب فرمایا لیکن ستو کے سوا اور کوئی چیز نہیں لائی گئی۔ ہم نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھایا پھر آپ نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی اور نیا وضو نہیں کیا اور سفیان نے کہا گویا کہ تم یہ حدیث یحییٰ ہی سے سن رہے ہو۔
قال يحيى سمعت بشيرا، يقول حدثنا سويد، خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم الى خيبر، فلما كنا بالصهباء قال يحيى وهى من خيبر على روحة دعا بطعام فما اتي الا بسويق، فلكناه فاكلنا معه، ثم دعا بماء فمضمض ومضمضنا معه، ثم صلى بنا المغرب ولم يتوضا. وقال سفيان كانك تسمعه من يحيى
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے عطاء نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی شخص کھانا کھائے تو ہاتھ چاٹنے یا کسی کو چٹانے سے پہلے ہاتھ نہ پونچھے۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، عن عطاء، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا اكل احدكم فلا يمسح يده حتى يلعقها او يلعقها
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے محمد بن فلیح نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے، ان سے سعید بن الحارث نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ سعید بن الحارث نے جابر رضی اللہ عنہ سے ایسی چیز کے ( کھانے کے بعد ) جو آگ پر رکھی ہو وضو کے متعلق پوچھا ( کہ کیا ایسی چیز کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟ ) تو انہوں نے کہا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہمیں اس طرح کا کھانا ( جو پکا ہوا ہوتا ) بہت کم میسر آتا تھا اور اگر میسر آ بھی جاتا تھا تو سوا ہماری ہتھیلیوں بازوؤں اور پاؤں کے کوئی رومال نہیں ہوتا تھا ( اور ہم انہیں سے اپنے ہاتھ صاف کر کے ) نماز پڑھ لیتے تھے اور وضو۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر، قال حدثني محمد بن فليح، قال حدثني ابي، عن سعيد بن الحارث، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما انه ساله عن الوضوء مما مست النار، فقال لا قد كنا زمان النبي صلى الله عليه وسلم لا نجد مثل ذلك من الطعام الا قليلا، فاذا نحن وجدناه لم يكن لنا مناديل، الا اكفنا وسواعدنا واقدامنا، ثم نصلي ولا نتوضا
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ثور نے، ان سے خالد بن معدان نے اور ان سے ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے جب کھانا اٹھایا جاتا تو آپ یہ دعا پڑھتے «الحمد لله كثيرا طيبا مباركا فيه، غير مكفي، ولا مودع ولا مستغنى عنه، ربنا» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے، بہت زیادہ پاکیزہ برکت والی، ہم اس کھانے کا حق پوری طرح ادا نہ کر سکے اور یہ ہمیشہ کے لیے رخصت نہیں کیا گیا ہے ( اور یہ اس لیے کہا تاکہ ) اس سے ہم کو بےپرواہی کا خیال نہ ہو، اے ہمارے رب!۔“
حدثنا ابو نعيم، حدثنا سفيان، عن ثور، عن خالد بن معدان، عن ابي امامة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا رفع مايدته قال " الحمد لله كثيرا طيبا مباركا فيه، غير مكفي، ولا مودع ولا مستغنى عنه، ربنا
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے ثور بن یزید نے بیان کیا، ان سے خالد بن معدان نے اور ان سے ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کھانے سے فارغ ہوتے اور ایک مرتبہ بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا دستر خوان اٹھاتے یہ دعا پڑھتے «الحمد لله الذي كفانا وأروانا، غير مكفي، ولا مكفور، وقال مرة الحمد لله ربنا، غير مكفي، ولا مودع، ولا مستغنى، ربنا .» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہماری کفایت کی اور ہمیں سیراب کیا۔ ہم اس کھانے کا حق پوری طرح ادا نہ کر سکے ورنہ ہم اس نعمت کے منکر نہیں ہیں۔ اور ایک مرتبہ فرمایا ”تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں اے ہمارے رب! اس کا حق ادا نہیں کر سکے اور نہ یہ ہمیشہ کے لیے رخصت کیا گیا ہے۔ ( یہ اس لیے کہا تاکہ ) اس سے ہم کو بے نیازی کا خیال نہ ہو۔ اے ہمارے رب!“۔
حدثنا ابو عاصم، عن ثور بن يزيد، عن خالد بن معدان، عن ابي امامة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا فرغ من طعامه وقال مرة اذا رفع مايدته قال " الحمد لله الذي كفانا واروانا، غير مكفي، ولا مكفور وقال مرة الحمد لله ربنا، غير مكفي، ولا مودع ولا مستغنى، ربنا
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد نے، وہ زیاد کے صاحبزادے ہیں، کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں کسی شخص کا خادم اس کا کھانا لائے تو اگر وہ اسے اپنے ساتھ نہیں بٹھا سکتا تو کم از کم ایک یا دو لقمہ اس کھانے میں سے اسے کھلا دے ( کیونکہ ) اس نے ( پکاتے وقت ) اس کی گرمی اور تیاری کی مشقت برداشت کی ہے۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن محمد هو ابن زياد قال سمعت ابا هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا اتى احدكم خادمه بطعامه، فان لم يجلسه معه فليناوله اكلة او اكلتين، او لقمة او لقمتين، فانه ولي حره وعلاجه
ہم سے عبداللہ بن ابی اسود نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے، ان سے اعمش نے، ان سے شقیق نے، اور ان سے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ جماعت انصار کے ایک صحابی ابوشعیب رضی اللہ عنہ کے نام سے مشہور تھے۔ ان کے پاس ایک غلام تھا جو گوشت بیچا کرتا تھا۔ وہ صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف رکھتے تھے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے فاقہ کا اندازہ لگا لیا۔ چنانچہ وہ اپنے گوشت فروش غلام کے پاس گئے اور کہا کہ میرے لیے پانچ آدمیوں کا کھانا تیار کر دو۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چار دوسرے آدمیوں کے ساتھ دعوت دوں گا۔ غلام نے کھانا تیار کر دیا۔ اس کے بعد ابوشعیب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے اور آپ کو کھانے کی دعوت دی۔ ان کے ساتھ ایک اور صاحب بھی چلنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوشعیب! یہ صاحب بھی ہمارے ساتھ آ گئے ہیں، اگر تم چاہو تو انہیں بھی اجازت دے دو اور اگر چاہو تو چھوڑ دو۔ انہوں نے عرض کیا نہیں بلکہ میں انہیں بھی اجازت دیتا ہوں۔
حدثنا عبد الله بن ابي الاسود، حدثنا ابو اسامة، حدثنا الاعمش، حدثنا شقيق، حدثنا ابو مسعود الانصاري، قال كان رجل من الانصار يكنى ابا شعيب، وكان له غلام لحام، فاتى النبي صلى الله عليه وسلم وهو في اصحابه، فعرف الجوع في وجه النبي صلى الله عليه وسلم فذهب الى غلامه اللحام فقال اصنع لي طعاما يكفي خمسة، لعلي ادعو النبي صلى الله عليه وسلم خامس خمسة. فصنع له طعيما، ثم اتاه فدعاه، فتبعهم رجل فقال النبي صلى الله عليه وسلم " يا ابا شعيب ان رجلا تبعنا فان شيت اذنت له، وان شيت تركته ". قال لا بل اذنت له
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے اور لیث نے بیان کیا، کہا انہوں نے کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں جعفر بن عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی، انہیں ان کے والد عمرو بن امیہ نے خبر دی کہ انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے بکری کے شانے کا گوشت کاٹ کاٹ کر کھا رہے تھے، پھر آپ کو نماز کے لیے بلایا گیا تو آپ گوشت اور چھری جس سے آپ کاٹ رہے تھے، چھوڑ کر کھڑے ہو گئے اور نماز پڑھائی اور اس نماز کے لیے نیا وضو نہیں کیا۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري،. وقال الليث حدثني يونس، عن ابن شهاب، قال اخبرني جعفر بن عمرو بن امية، ان اباه، عمرو بن امية اخبره انه، راى رسول الله صلى الله عليه وسلم يحتز من كتف شاة في يده، فدعي الى الصلاة فالقاها والسكين التي كان يحتز بها، ثم قام فصلى، ولم يتوضا
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب رات کا کھانا سامنے رکھ دیا گیا ہو اور نماز بھی کھڑی ہو گئی ہو تو پہلے کھانا کھاؤ۔ اور ایوب سے روایت ہے، ان سے نافع نے، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کے مطابق۔
حدثنا معلى بن اسد، حدثنا وهيب، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن انس بن مالك رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا وضع العشاء واقيمت الصلاة فابدءوا بالعشاء
اور ایوب سے روایت ہے، ان سے نافع نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک مرتبہ رات کا کھانا کھایا اور اس وقت آپ امام کی قرآت سن رہے تھے۔
وعن ايوب عن نافع عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه. وعن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، انه تعشى مرة وهو يسمع قراءة الامام
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب نماز کھڑی ہو چکے اور رات کا کھانا بھی سامنے ہو تو کھانا کھاؤ۔ وہیب اور یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے ہشام نے کہ جب رات کا کھانا رکھا جا چکے۔
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا اقيمت الصلاة وحضر العشاء فابدءوا بالعشاء ". قال وهيب ويحيى بن سعيد عن هشام " اذا وضع العشاء
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں پردہ کے حکم کے بارے میں زیادہ جانتا ہوں۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بھی مجھ سے اس کے بارے میں پوچھا کرتے تھے۔ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی کا موقع تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح مدینہ منورہ میں کیا تھا۔ دن چڑھنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی کھانے کی دعوت کی تھی۔ آپ بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے ساتھ بعض اور صحابہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ اس وقت تک دوسرے لوگ ( کھانے سے فارغ ہو کر ) جا چکے تھے۔ آخر آپ بھی کھڑے ہو گئے اور چلتے رہے۔ میں بھی آپ کے ساتھ چلتا رہا۔ آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے پر پہنچے پھر آپ نے خیال کیا کہ وہ لوگ ( بھی جو کھانے کے بعد گھر بیٹھے رہ گئے تھے ) جا چکے ہوں گے ( اس لیے آپ واپس تشریف لائے ) میں بھی آپ کے ساتھ واپس آیا لیکن وہ لوگ اب بھی اسی جگہ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ پھر واپس آ گئے۔ میں بھی آپ کے ساتھ دوبارہ واپس آیا۔ آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ پر پہنچے پھر آپ وہاں سے واپس ہوئے۔ میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔ اب وہ لوگ جا چکے تھے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور میرے درمیان پردہ لٹکایا اور پردہ کی آیت نازل ہوئی۔
حدثني عبد الله بن محمد، حدثنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثني ابي، عن صالح، عن ابن شهاب، ان انسا، قال انا اعلم الناس، بالحجاب كان ابى بن كعب يسالني عنه، اصبح رسول الله صلى الله عليه وسلم عروسا بزينب ابنة جحش وكان تزوجها بالمدينة، فدعا الناس للطعام بعد ارتفاع النهار، فجلس رسول الله صلى الله عليه وسلم وجلس معه رجال بعد ما قام القوم، حتى قام رسول الله صلى الله عليه وسلم فمشى ومشيت معه، حتى بلغ باب حجرة عايشة، ثم ظن انهم خرجوا فرجعت معه، فاذا هم جلوس مكانهم، فرجع ورجعت معه الثانية، حتى بلغ باب حجرة عايشة فرجع ورجعت معه، فاذا هم قاموا، فضرب بيني وبينه سترا، وانزل الحجاب