Loading...

Loading...
کتب
۱۰۰ احادیث
ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا، کہا ہم کو اسماعیل نے خبر دی، انہیں ایوب نے، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کا حکم پوچھا جس نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی ہو تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عجلان کے میاں بیوی کے درمیان ایسی صورت میں جدائی کرا دی تھی اور فرمایا تھا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے۔ تو کیا تم میں سے ایک ( جو واقعی گناہ میں مبتلا ہو ) رجوع کرے گا لیکن ان دونوں نے انکار کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں جدائی کر دی۔ اور بیان کیا کہ مجھ سے عمرو بن دینار نے فرمایا کہ حدیث کے بعض اجزاء میرا خیال ہے کہ میں نے ابھی تم سے بیان نہیں کئے ہیں۔ فرمایا کہ ان صاحب نے ( جنہوں نے لعان کیا تھا ) کہا کہ میرے مال کا کیا ہو گا ( جو میں نے مہر میں دیا تھا ) بیان کیا کہ اس پر ان سے کہا گیا کہ وہ مال ( جو عورت کو مہر میں دیا تھا ) اب تمہارا نہیں رہا۔ اگر تم سچے ہو ( اس تہمت لگانے میں تب بھی کیونکہ ) تم اس عورت کے پاس تنہائی میں جا چکے ہو اور اگر تم جھوٹے ہو تب تو تم کو اور بھی مہر نہ ملنا چاہیئے۔
حدثني عمرو بن زرارة، اخبرنا اسماعيل، عن ايوب، عن سعيد بن جبير، قال قلت لابن عمر رجل قذف امراته فقال فرق النبي صلى الله عليه وسلم بين اخوى بني العجلان، وقال " الله يعلم ان احدكما كاذب، فهل منكما تايب ". فابيا. وقال " الله يعلم ان احدكما كاذب، فهل منكما تايب ". فابيا. فقال " الله يعلم ان احدكما كاذب، فهل منكما تايب " فابيا ففرق بينهما. قال ايوب فقال لي عمرو بن دينار ان في الحديث شييا لا اراك تحدثه قال قال الرجل مالي قال قيل لا مال لك، ان كنت صادقا فقد دخلت بها، وان كنت كاذبا فهو ابعد منك
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ عمرو نے کہا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے لعان کرنے والوں کا حکم پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ ان کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تمہارا حساب تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ تم میں سے ایک جھوٹا ہے۔ اب تمہیں تمہاری بیوی پر کوئی اختیار نہیں۔ ان صحابی نے عرض کیا کہ میرا مال واپس کرا دیجئیے ( جو مہر میں دیا گیا تھا ) ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب وہ تمہارا مال نہیں ہے۔ اگر تم اس کے معاملہ میں سچے ہو تو تمہارا یہ مال اس کے بدلہ میں ختم ہو چکا کہ تم نے اس کی شرمگاہ کو حلال کیا تھا اور اگر تم نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی تھی پھر تو وہ تم سے بعید تر ہے۔ سفیان نے بیان کیا کہ یہ حدیث میں نے عمرو سے یاد کی اور ایوب نے بیان کیا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا، کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے متعلق پوچھا جس نے اپنی بیوی سے لعان کیا ہو تو آپ نے اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کیا۔ سفیان نے اس اشارہ کو اپنی دو شہادت اور بیچ کی انگلیوں کو جدا کر کے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنی عجلان کے میاں بیوی کے درمیان جدائی کرائی تھی اور فرمایا تھا کہ اللہ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے، تو کیا وہ رجوع کر لے گا؟ آپ نے تین مرتبہ یہ فرمایا۔ علی بن عبداللہ مدینی نے کہا کہ سفیان بن عیینہ نے مجھ سے کہا، میں نے یہ حدیث جیسے عمرو بن دینار اور ایوب سے سن کر یاد رکھی تھی ویسی ہی تجھ سے بیان کر دی۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال عمرو سمعت سعيد بن جبير، قال سالت ابن عمر عن المتلاعنين،، فقال قال النبي صلى الله عليه وسلم للمتلاعنين " حسابكما على الله احدكما كاذب، لا سبيل لك عليها ". قال مالي قال " لا مال لك، ان كنت صدقت عليها، فهو بما استحللت من فرجها، وان كنت كذبت عليها، فذاك ابعد لك ". قال سفيان حفظته من عمرو. وقال ايوب سمعت سعيد بن جبير قال قلت لابن عمر رجل لاعن امراته فقال باصبعيه وفرق سفيان بين اصبعيه السبابة والوسطى فرق النبي صلى الله عليه وسلم بين اخوى بني العجلان، وقال " الله يعلم ان احدكما كاذب فهل منكما تايب ". ثلاث مرات. قال سفيان حفظته من عمرو وايوب كما اخبرتك
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے اور ان سے نافع نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرد اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی کرا دی تھی جنہوں نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی تھی اور دونوں سے قسم لی تھی۔
حدثني ابراهيم بن المنذر، حدثنا انس بن عياض، عن عبيد الله، عن نافع، ان ابن عمر رضى الله عنهما اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم فرق بين رجل وامراة قذفها، واحلفهما
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، کہا مجھے نافع نے خبر دی اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ قبیلہ انصار کے ایک صاحب اور ان کی بیوی کے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرایا تھا اور دونوں کے درمیان جدائی کرا دی تھی۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، اخبرني نافع، عن ابن عمر، قال لاعن النبي صلى الله عليه وسلم بين رجل وامراة من الانصار، وفرق بينهما
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہ ہم سے مالک نے، کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاحب اور ان کی بیوی کے درمیان لعان کرایا تھا۔ پھر ان صاحب نے اپنی بیوی کے لڑکے کا انکار کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے درمیان جدائی کرا دی اور لڑکا عورت کو دے دیا۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا مالك، قال حدثني نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم لاعن بين رجل وامراته، فانتفى من ولدها ففرق بينهما، والحق الولد بالمراة
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے، کہا کہ مجھے عبدالرحمٰن بن قاسم نے خبر دی، انہیں قاسم بن محمد نے اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے، انہوں نے بیان کیا کہ لعان کرنے والوں کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ہوا تو عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ نے اس پر ایک بات کہی ( کہ اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو پاؤں تو وہیں قتل کر ڈالوں ) پھر واپس آئے تو ان کی قوم کے ایک صاحب ان کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک غیر مرد کو پایا ہے۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس معاملہ میں میرا یہ ابتلاء میری اس بات کی وجہ سے ہوا ہے ( جس کے کہنے کی جرات میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کی تھی ) پھر وہ ان صاحب کو ساتھ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس صورت سے مطلع کیا جس میں انہوں نے اپنی بیوی کو پایا تھا۔ یہ صاحب زرد رنگ، کم گوشت والے اور سیدھے بالوں والے تھے اور وہ جسے انہوں نے اپنی بیوی کے پاس پایا تھا گندمی رنگ، گھٹے جسم کا زرد، بھرے گوشت والا تھا اس کے بال بہت زیادہ گھونگھریالے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ! معاملہ صاف کر دے چنانچہ ان کی بیوی نے جو بچہ جنا وہ اسی شخص سے مشابہ تھا جس کے متعلق شوہر نے کہا تھا کہ انہوں نے اپنی بیوی کے پاس اسے پایا تھا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے درمیان لعان کرایا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شاگرد نے مجلس میں پوچھا، کیا یہ وہی عورت ہے جس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میں کسی کو بلا شہادت سنگسار کرتا تو اسے کرتا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نہیں۔ یہ دوسری عورت تھی جو اسلام کے زمانہ میں اعلانیہ بدکاری کیا کرتی تھی۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني سليمان بن بلال، عن يحيى بن سعيد، قال اخبرني عبد الرحمن بن القاسم، عن القاسم بن محمد، عن ابن عباس، انه قال ذكر المتلاعنان عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال عاصم بن عدي في ذلك قولا، ثم انصرف فاتاه رجل من قومه، فذكر له انه وجد مع امراته رجلا، فقال عاصم ما ابتليت بهذا الامر الا لقولي. فذهب به الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبره بالذي وجد عليه امراته، وكان ذلك الرجل مصفرا قليل اللحم سبط الشعر، وكان الذي وجد عند اهله ادم خدلا كثير اللحم جعدا قططا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللهم بين ". فوضعت شبيها بالرجل الذي ذكر زوجها انه وجد عندها، فلاعن رسول الله صلى الله عليه وسلم بينهما، فقال رجل لابن عباس في المجلس هي التي قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو رجمت احدا بغير بينة لرجمت هذه ". فقال ابن عباس لا تلك امراة كانت تظهر السوء في الاسلام
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوسری سند اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ) ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رفاعہ قرظی رضی اللہ عنہ نے ایک خاتون سے نکاح کیا، پھر انہیں طلاق دے دی، اس کے بعد ایک دوسرے صاحب نے ان خاتون سے نکاح کر لیا، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اپنے دوسرے شوہر کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ تو ان کے پاس آتے ہی نہیں اور یہ کہ ان کے پاس کپڑے کے پلو جیسا ہے ( انہوں نے پہلے شوہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کی خواہش ظاہر کی لیکن ) ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، جب تک تم اس ( دوسرے شوہر ) کا مزا نہ چکھ لو اور یہ تمہارا مزا نہ چکھ لیں۔
حدثنا عمرو بن علي، حدثنا يحيى، حدثنا هشام، قال حدثني ابي، عن عايشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم. حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا عبدة، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها ان رفاعة، القرظي تزوج امراة، ثم طلقها فتزوجت اخر فاتت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت له انه لا ياتيها، وانه ليس معه الا مثل هدبة فقال " لا حتى تذوقي عسيلته، ويذوق عسيلتك
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے جعفر بن ربیعہ نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز نے، کہا کہ مجھے خبر دی ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے کہ زینب ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنی والدہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ ایک خاتون جو اسلام لائی تھیں اور جن کا نام سبیعہ تھا، اپنے شوہر کے ساتھ رہتی تھیں، شوہر کا جب انتقال ہوا تو وہ حاملہ تھیں۔ ابوسنان بن بعکک رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس نکاح کا پیغام بھیجا لیکن انہوں نے نکاح کرنے سے انکار کیا۔ ابوالسنابل نے کہا کہ اللہ کی قسم! جب تک عدت کی دو مدتوں میں سے لمبی نہ گزار لوں گی، تمہارے لیے اس سے ( جس سے نکاح وہ کرنا چاہتی تھیں ) نکاح کرنا صحیح نہیں ہو گا۔ پھر وہ ( وضع حمل کے بعد ) تقریباً دس دن تک رکی رہیں۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب نکاح کر لو۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن جعفر بن ربيعة، عن عبد الرحمن بن هرمز الاعرج، قال اخبرني ابو سلمة بن عبد الرحمن، ان زينب ابنة ابي سلمة، اخبرته عن امها ام سلمة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم ان امراة من اسلم يقال لها سبيعة كانت تحت زوجها، توفي عنها وهى حبلى، فخطبها ابو السنابل بن بعكك، فابت ان تنكحه، فقال والله ما يصلح ان تنكحيه حتى تعتدي اخر الاجلين. فمكثت قريبا من عشر ليال ثم جاءت النبي صلى الله عليه وسلم فقال " انكحي
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، ان سے لیث نے، ان سے یزید نے کہ ابن شہاب نے انہیں لکھا کہ عبیداللہ بن عبداللہ نے اپنے والد (عبداللہ بن عتبہ بن مسعود) سے انہیں خبر دی کہ انہوں نے ابن الارقم کو لکھا کہ سبیعہ اسلمیہ سے پوچھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق کیا فتویٰ دیا تھا تو انہوں نے فرمایا کہ جب میرے یہاں بچہ پیدا ہو گیا تو نبی کریم نے مجھے فتویٰ دیا کہ اب میں نکاح کر لوں۔
حدثنا يحيى بن بكير، عن الليث، عن يزيد، ان ابن شهاب، كتب اليه ان عبيد الله بن عبد الله، اخبره عن ابيه، انه كتب الى ابن الارقم ان يسال، سبيعة الاسلمية كيف افتاها النبي صلى الله عليه وسلم فقالت افتاني اذا وضعت ان انكح
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے مسور بن مخرمہ نے کہ سبیعہ اسلمیہ اپنے شوہر کی وفات کے بعد چند دنوں تک حالت نفاس میں رہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر انہوں نے نکاح کی اجازت مانگی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی اور انہوں نے نکاح کیا۔
حدثنا يحيى بن قزعة، حدثنا مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن المسور بن مخرمة، ان سبيعة الاسلمية، نفست بعد وفاة زوجها، بليال فجاءت النبي صلى الله عليه وسلم فاستاذنته ان تنكح، فاذن لها، فنكحت
حدثنا اسماعيل، حدثنا مالك، عن يحيى بن سعيد، عن القاسم بن محمد، انه سمعه يذكر، ان يحيى بن سعيد بن العاص، طلق بنت عبد الرحمن بن الحكم، فانتقلها عبد الرحمن، فارسلت عايشة ام المومنين الى مروان وهو امير المدينة اتق الله وارددها الى بيتها. قال مروان في حديث سليمان ان عبد الرحمن بن الحكم غلبني. وقال القاسم بن محمد اوما بلغك شان فاطمة بنت قيس قالت لا يضرك ان لا تذكر حديث فاطمة. فقال مروان بن الحكم ان كان بك شر فحسبك ما بين هذين من الشر
حدثنا اسماعيل، حدثنا مالك، عن يحيى بن سعيد، عن القاسم بن محمد، انه سمعه يذكر، ان يحيى بن سعيد بن العاص، طلق بنت عبد الرحمن بن الحكم، فانتقلها عبد الرحمن، فارسلت عايشة ام المومنين الى مروان وهو امير المدينة اتق الله وارددها الى بيتها. قال مروان في حديث سليمان ان عبد الرحمن بن الحكم غلبني. وقال القاسم بن محمد اوما بلغك شان فاطمة بنت قيس قالت لا يضرك ان لا تذكر حديث فاطمة. فقال مروان بن الحكم ان كان بك شر فحسبك ما بين هذين من الشر
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، انها قالت ما لفاطمة الا تتقي الله، يعني في قولها لا سكنى ولا نفقة
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة، انها قالت ما لفاطمة الا تتقي الله، يعني في قولها لا سكنى ولا نفقة
حدثنا عمرو بن عباس، حدثنا ابن مهدي، حدثنا سفيان، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، قال عروة بن الزبير لعايشة الم ترين الى فلانة بنت الحكم طلقها زوجها البتة فخرجت. فقالت بيس ما صنعت. قال الم تسمعي في قول فاطمة قالت اما انه ليس لها خير في ذكر هذا الحديث. وزاد ابن ابي الزناد عن هشام، عن ابيه، عابت عايشة اشد العيب وقالت ان فاطمة كانت في مكان وحش فخيف على ناحيتها، فلذلك ارخص لها النبي صلى الله عليه وسلم
حدثنا عمرو بن عباس، حدثنا ابن مهدي، حدثنا سفيان، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، قال عروة بن الزبير لعايشة الم ترين الى فلانة بنت الحكم طلقها زوجها البتة فخرجت. فقالت بيس ما صنعت. قال الم تسمعي في قول فاطمة قالت اما انه ليس لها خير في ذكر هذا الحديث. وزاد ابن ابي الزناد عن هشام، عن ابيه، عابت عايشة اشد العيب وقالت ان فاطمة كانت في مكان وحش فخيف على ناحيتها، فلذلك ارخص لها النبي صلى الله عليه وسلم
وحدثني حبان، اخبرنا عبد الله، اخبرنا ابن جريج، عن ابن شهاب، عن عروة، ان عايشة، انكرت ذلك على فاطمة
وحدثني حبان، اخبرنا عبد الله، اخبرنا ابن جريج، عن ابن شهاب، عن عروة، ان عايشة، انكرت ذلك على فاطمة
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے، ان سے حکم بن عتبہ نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے اسود بن یزید نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حجۃ الوداع میں ) کوچ کا ارادہ کیا تو دیکھا کہ صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے خیمہ کے دروازے پر غمگین کھڑی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ «عقرى» یا ( فرمایا راوی کو شک تھا ) «حلقى» معلوم ہوتا ہے کہ تم ہمیں روک دو گی، کیا تم نے قربانی کے دن طواف کر لیا ہے؟ انہوں نے عرض کی کہ جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر چلو۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن الحكم، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة رضى الله عنها قالت لما اراد رسول الله صلى الله عليه وسلم ان ينفر اذا صفية على باب خبايها كييبة، فقال لها " عقرى او حلقى انك لحابستنا اكنت افضت يوم النحر ". قالت نعم. قال " فانفري اذا
مجھ سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی، ان سے یونس بن عبید نے بیان کیا، ان سے امام حسن بصری نے بیان کیا کہ معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے اپنی بہن جمیلہ کا نکاح کیا، پھر ( ان کے شوہر نے ) انہیں ایک طلاق دی۔
حدثني محمد، اخبرنا عبد الوهاب، حدثنا يونس، عن الحسن، قال زوج معقل اخته فطلقها تطليقة