Loading...

Loading...
کتب
۱۰۰ احادیث
وقال لي اسماعيل حدثني مالك، عن نافع، عن ابن عمر، اذا مضت اربعة اشهر يوقف حتى يطلق، ولا يقع عليه الطلاق حتى يطلق. ويذكر ذلك عن عثمان وعلي وابي الدرداء وعايشة واثنى عشر رجلا من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے کہا، ان سے سفیان بن عیینہ نے، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے منبعث کے مولیٰ یزید نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کھوئی ہوئی بکری کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے پکڑ لو، کیونکہ یا وہ تمہاری ہو گی ( اگر ایک سال تک اعلان کے بعد اس کا مالک نہ ملا ) ۔ تمہارے کسی بھائی کی ہو گی یا پھر بھیڑیے کی ہو گی ( اگر انہی جنگلوں میں پھرتی رہی ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کھوئے ہوئے اونٹ کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ غصہ ہو گئے اور غصہ کی وجہ سے آپ کے دونوں رخسار سرخ ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں اس سے کیا غرض! اس کے پاس ( مضبوط ) کھر ہیں ( جس کی وجہ سے چلنے میں اسے کوئی دشواری نہیں ہو گی ) اس کے پاس مشکیزہ ہے جس سے وہ پانی پیتا رہے گا اور درخت کے پتے کھاتا رہے گا، یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پالے گا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہٰ کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی رسی کا ( جس سے وہ بندھا ہو ) اور اس کے ظرف کا ( جس میں وہ رکھا ہو ) اعلان کرو اور اس کا ایک سال تک اعلان کرو، پھر اگر کوئی ایسا شخص آ جائے جو اسے پہچانتا ہو ( اور اس کا مالک ہو تو اسے دے دو ) ورنہ اسے اپنے مال کے ساتھ ملا لو۔ سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ پھر میں ربیعہ بن عبدالرحمٰن سے ملا اور مجھے ان سے اس کے سوا اور کوئی چیز محفوظ نہیں ہے۔ میں نے ان سے پوچھا تھا کہ گم شدہ چیزوں کے بارے میں منبعث کے مولیٰ یزید کی حدیث کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا وہ زید بن خالد سے منقول ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہاں ( سفیان نے بیان کیا کہ ہاں ) یحییٰ نے بیان کیا کہ ربیعہ نے منبعث کے مولیٰ یزید سے بیان کیا، ان سے زید بن خالد نے۔ سفیان نے بیان کیا کہ پھر میں نے ربیعہ سے ملاقات کی اور ان سے اس کے متعلق پوچھا۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن يحيى بن سعيد، عن يزيد، مولى المنبعث ان النبي صلى الله عليه وسلم سيل عن ضالة الغنم فقال " خذها، فانما هي لك او لاخيك او للذيب ". وسيل عن ضالة الابل، فغضب واحمرت وجنتاه، وقال " ما لك ولها، معها الحذاء والسقاء، تشرب الماء، وتاكل الشجر، حتى يلقاها ربها ". وسيل عن اللقطة فقال " اعرف وكاءها وعفاصها، وعرفها سنة، فان جاء من يعرفها، والا فاخلطها بمالك ". قال سفيان فلقيت ربيعة بن ابي عبد الرحمن قال سفيان ولم احفظ عنه شييا غير هذا فقلت ارايت حديث يزيد مولى المنبعث في امر الضالة، هو عن زيد بن خالد قال نعم. قال يحيى ويقول ربيعة عن يزيد مولى المنبعث عن زيد بن خالد. قال سفيان فلقيت ربيعة فقلت له
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعامر عبدالملک بن عمرو نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا، ان سے خالد حذاء نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف اپنے اونٹ پر سوار ہو کر کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی رکن کے پاس آتے تو اس کی طرف اشارہ کر کے تکبیر کہتے اور زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یاجوج ماجوج کے دیوار میں اتنا سوراخ ہو گیا ہے اور آپ نے اپنی انگلیوں سے نوے کا عدد بنایا۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا ابو عامر عبد الملك بن عمرو، حدثنا ابراهيم، عن خالد، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال طاف رسول الله صلى الله عليه وسلم على بعيره، وكان كلما اتى على الركن اشار اليه، وكبر. وقالت زينب قال النبي صلى الله عليه وسلم " فتح من ردم ياجوج وماجوج مثل هذه ". وعقد تسعين
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن علقمہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ میں ایک گھڑی ایسی آتی ہے جو مسلمان بھی اس وقت کھڑا نماز پڑھے اور اللہ سے کوئی خیر مانگے تو اللہ اسے ضرور دے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس ساعت کی وضاحت کرتے ہوئے ) اپنے دست مبارک سے اشارہ کیا اور اپنی انگلیوں کو درمیانی انگلی اور چھوٹی انگلی کے بیچ میں رکھا جس سے ہم نے سمجھا کہ آپ اس ساعت کو بہت مختصر ہونے کو بتا رہے ہیں۔
حدثنا مسدد، حدثنا بشر بن المفضل، حدثنا سلمة بن علقمة، عن محمد بن سيرين، عن ابي هريرة، قال قال ابو القاسم صلى الله عليه وسلم " في الجمعة ساعة لا يوافقها مسلم قايم يصلي، فسال الله خيرا، الا اعطاه ". وقال بيده، ووضع انملته على بطن الوسطى والخنصر. قلنا يزهدها
اور اویسی نے بیان کیا، ان سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے شعبہ بن حجاج نے، ان سے ہشام بن یزید نے، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک یہودی نے ایک لڑکی پر ظلم کیا، اس کے چاندی کے زیورات جو وہ پہنے ہوئے تھی چھین لیے اور اس کا سر کچل دیا۔ لڑکی کے گھر والے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے تو اس کی زندگی کی بس آخری گھڑی باقی تھی اور وہ بول نہیں سکتی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تمہیں کس نے مارا ہے؟ فلاں نے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعہ سے غیر متعلق آدمی کا نام لیا۔ اس لیے اس نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا کہ نہیں۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسرے شخص کا نام لیا اور وہ بھی اس واقعہ سے غیر متعلق تھا تو لڑکی نے سر کے اشارہ سے کہا کہ نہیں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ فلاں نے تمہیں مارا ہے؟ تو اس لڑکی نے سر کے اشارہ سے ہاں کہا۔
وقال الاويسي حدثنا ابراهيم بن سعد، عن شعبة بن الحجاج، عن هشام بن زيد، عن انس بن مالك، قال عدا يهودي في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم على جارية، فاخذ اوضاحا كانت عليها ورضخ راسها، فاتى بها اهلها رسول الله صلى الله عليه وسلم وهى في اخر رمق، وقد اصمتت، فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم " من قتلك فلان ". لغير الذي قتلها، فاشارت براسها ان لا، قال فقال لرجل اخر غير الذي قتلها، فاشارت ان لا، فقال " ففلان ". لقاتلها فاشارت ان نعم، فامر به رسول الله صلى الله عليه وسلم فرضخ راسه بين حجرين
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ فتنہ ادھر سے اٹھے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق کی طرف اشارہ کیا۔
حدثنا قبيصة، حدثنا سفيان، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " الفتنة من ها هنا ". واشار الى المشرق
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق شیبانی نے اور ان سے عبداللہ بن ابی اوفی نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ جب سورج ڈوب گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی ( بلال رضی اللہ عنہ ) سے فرمایا کہ اتر کر میرے لیے ستو گھول ( کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے تھے ) انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر اندھیرا ہونے دیں تو بہتر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اتر کر ستو گھول۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ اور اندھیرا ہو لینے دیں تو بہتر ہے، ابھی دن باقی ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اترو اور ستو گھول لو۔ آخر تیسری مرتبہ کہنے پر انہوں نے اتر کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ستو گھولا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا، پھر آپ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ جب تم دیکھو کہ رات ادھر سے آ رہی ہے تو روزہ دار کو افطار کر لینا چاہیئے۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا جرير بن عبد الحميد، عن ابي اسحاق الشيباني، عن عبد الله بن ابي اوفى، قال كنا في سفر مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما غربت الشمس قال لرجل " انزل فاجدح لي ". قال يا رسول الله لو امسيت. ثم قال " انزل فاجدح ". قال يا رسول الله لو امسيت ان عليك نهارا. ثم قال " انزل فاجدح ". فنزل فجدح له في الثالثة، فشرب رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم اوما بيده الى المشرق فقال " اذا رايتم الليل قد اقبل من ها هنا فقد افطر الصايم
ہم سے عبداللہ بن سلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے سلیمان تیمی نے، ان سے ابوعثمان نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کسی کو ( سحری کھانے سے ) بلال کی پکار نہ روکے یا آپ نے فرمایا کہ ”ان کی اذان“ کیونکہ وہ پکارتے ہیں، یا فرمایا، اذان دیتے ہیں تاکہ اس وقت نماز پڑھنے والا رک جائے۔ اس کا اعلان سے یہ مقصود نہیں ہوتا کہ صبح صادق ہو گئی۔ اس وقت یزید بن زریع نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کئے ( صبح کاذب کی صورت بتانے کے لیے ) پھر ایک ہاتھ کو دوسرے پر پھیلایا ( صبح صادق کی صورت کے اظہار کے لیے ) ۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا يزيد بن زريع، عن سليمان التيمي، عن ابي عثمان، عن عبد الله بن مسعود رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا يمنعن احدا منكم نداء بلال او قال اذانه من سحوره، فانما ينادي او قال يوذن ليرجع قايمكم ". وليس ان يقول كانه يعني الصبح او الفجر، واظهر يزيد يديه ثم مد احداهما من الاخرى
اور لیث نے بیان کیا کہ ان سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ہرمز نے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بخیل اور سخی کی مثال دو آدمیوں جیسی ہے جن پر لوہے کی دو زرہیں سینے سے گردن تک ہیں۔ سخی جب بھی کوئی چیز خرچ کرتا ہے تو زرہ اس کے چمڑے پر ڈھیلی ہو جاتی ہے اور اس کے پاؤں کی انگلیوں تک پہنچ جاتی ہے ( اور پھیل کر اتنی بڑھ جاتی ہے کہ ) اس کے نشان قدم کو مٹاتی چلتی ہے لیکن بخیل جب بھی خرچ کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ کا ہر حلقہ اپنی اپنی جگہ چمٹ جاتا ہے، وہ اسے ڈھیلا کرنا چاہتا ہے لیکن وہ ڈھیلا نہیں ہوتا۔ اس وقت آپ نے اپنی انگلی سے اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا۔
وقال الليث حدثني جعفر بن ربيعة، عن عبد الرحمن بن هرمز، سمعت ابا هريرة، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " مثل البخيل والمنفق كمثل رجلين عليهما جبتان من حديد، من لدن ثدييهما الى تراقيهما، فاما المنفق فلا ينفق شييا الا مادت على جلده حتى تجن بنانه وتعفو اثره، واما البخيل فلا يريد ينفق الا لزمت كل حلقة موضعها، فهو يوسعها فلا تتسع ". ويشير باصبعه الى حلقه
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے اور انہوں نے انس بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا، بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں بتاؤں کہ قبیلہ انصار کا سب سے بہتر گھرانہ کون سا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا کہ ضرور بتائیے یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنو نجار کا۔ اس کے بعد ان کا مرتبہ ہے جو ان سے قریب ہیں یعنی بنو عبدالاشہل کا، ان کے بعد وہ ہیں جو ان سے قریب ہیں، بنی الحارث بن خزرج کا۔ اس کے بعد وہ ہیں جو ان سے قریب ہیں، بنو ساعدہ کا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور اپنی مٹھی بند کی، پھر اسے اس طرح کھولا جیسے کوئی اپنے ہاتھ کی چیز کو پھینکتا ہے پھر فرمایا کہ انصار کے ہر گھرانہ میں خیر ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ليث، عن يحيى بن سعيد الانصاري، انه سمع انس بن مالك، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا اخبركم بخير دور الانصار ". قالوا بلى يا رسول الله. قال " بنو النجار، ثم الذين يلونهم بنو عبد الاشهل، ثم الذين يلونهم بنو الحارث بن الخزرج، ثم الذين يلونهم بنو ساعدة ". ثم قال بيده، فقبض اصابعه، ثم بسطهن كالرامي بيده ثم قال " وفي كل دور الانصار خير
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ ابوحازم نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری بعثت قیامت سے اتنی قریب ہے جیسے اس کی اس سے ( یعنی شہادت کی انگلی بیچ کی انگلی سے ) یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( راوی کو شک تھا ) کہ جیسے یہ دونوں انگلیاں ہیں اور آپ نے شہادت کی اور بیچ کی انگلیوں کو ملا کر بتایا۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال ابو حازم سمعته من، سهل بن سعد الساعدي صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بعثت انا والساعة كهذه من هذه او كهاتين ". وقرن بين السبابة والوسطى
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جبلہ بن سحیم نے بیان کیا، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہینہ اتنے، اتنے اور اتنے دنوں کا ہوتا ہے۔ آپ کی مراد تیس دن سے تھی۔ پھر فرمایا اور اتنے، اتنے اور اتنے دنوں کا بھی ہوتا ہے۔ آپ کا اشارہ انتیس دنوں کی طرف تھا۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیس کی طرف اشارہ کیا اور دوسری مرتبہ انتیس کی طرف۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا جبلة بن سحيم، سمعت ابن عمر، يقول قال النبي صلى الله عليه وسلم " الشهر هكذا وهكذا وهكذا ". يعني ثلاثين، ثم قال " وهكذا وهكذا وهكذا ". يعني تسعا وعشرين يقول، مرة ثلاثين ومرة تسعا وعشرين
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، ان سے قیس نے اور ان سے ابومسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے یمن کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ برکتیں ادھر ہیں۔ دو مرتبہ ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ) ہاں اور سختی اور قساوت قلب ان کی کرخت آواز والوں میں ہے جہاں سے شیطان کی دونوں سینگیں طلوع ہوتی ہیں یعنی ربیعہ اور مضر میں۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا يحيى بن سعيد، عن اسماعيل، عن قيس، عن ابي مسعود، قال واشار النبي صلى الله عليه وسلم بيده نحو اليمن " الايمان ها هنا مرتين الا وان القسوة وغلظ القلوب في الفدادين حيث يطلع قرنا الشيطان ربيعة ومضر
ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبدالعزیز بن ابی حازم نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور ان سے سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے اور آپ نے شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی سے اشارہ کیا اور ان دونوں انگلیوں کے درمیان تھوڑی سی جگہ کھلی رکھی۔
حدثنا عمرو بن زرارة، اخبرنا عبد العزيز بن ابي حازم، عن ابيه، عن سهل، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انا وكافل اليتيم في الجنة هكذا ". واشار بالسبابة والوسطى، وفرج بينهما شييا
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے یہاں تو کالا کلوٹا بچہ پیدا ہوا ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے پاس کچھ اونٹ بھی ہیں؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ان کے رنگ کیسے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ سرخ رنگ کے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ان میں کوئی سیاہی مائل سفید اونٹ بھی ہے؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ پھر یہ کہاں سے آ گیا؟ انہوں نے کہا کہ اپنی نسل کے کسی بہت پہلے کے اونٹ پر یہ پڑا ہو گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی طرح تمہارا یہ لڑکا بھی اپنی نسل کے کسی دور کے رشتہ دار پر پڑا ہو گا۔
حدثنا يحيى بن قزعة، حدثنا مالك، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة، ان رجلا، اتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله ولد لي غلام اسود. فقال " هل لك من ابل ". قال نعم. قال " ما الوانها ". قال حمر. قال " هل فيها من اورق ". قال نعم. قال " فانى ذلك ". قال لعله نزعه عرق. قال " فلعل ابنك هذا نزعه
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ نے کہ قبیلہ انصار کے ایک صحابی نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں میاں بیوی سے قسم کھلوائی اور پھر دونوں میں جدائی کرا دی۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا جويرية، عن نافع، عن عبد الله رضى الله عنه ان رجلا من الانصار قذف امراته فاحلفهما النبي صلى الله عليه وسلم ثم فرق بينهما
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے ہشام بن حسان نے، کہا کہ ہم سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ہلال بن امیہ نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی، پھر وہ آئے اور گواہی دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے، تو کیا تم میں سے کوئی ( جو واقعی گناہ کا مرتکب ہوا ہو ) رجوع کرے گا؟ اس کے بعد ان کی بیوی کھڑی ہوئیں اور انہوں نے گواہی دی اپنے بَری ہونے کی۔
حدثني محمد بن بشار، حدثنا ابن ابي عدي، عن هشام بن حسان، حدثنا عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما ان هلال بن امية، قذف امراته، فجاء فشهد والنبي صلى الله عليه وسلم يقول " ان الله يعلم ان احدكما كاذب، فهل منكما تايب ". ثم قامت فشهدت
ہم سے اسماعیل بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے اور انہیں سہل بن سعد ساعدی نے خبر دی کہ عویمر عجلانی، عاصم بن عدی انصاری کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ عاصم آپ کا کیا خیال ہے کہ ایک شخص اگر اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھے تو کیا اسے قتل کر دے گا لیکن پھر آپ لوگ اسے بھی قتل کر دیں گے۔ آخر اسے کیا کرنا چاہیئے؟ عاصم! میرے لیے یہ مسئلہ پوچھ دو۔ چنانچہ عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا۔ نبی کریم نے اس طرح کے سوالات کو ناپسند فرمایا اور اظہار ناگواری کیا۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے اس سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنا اس کا بہت اثر لیا۔ پھر جب گھر واپس آئے تو عویمر ان کے پاس آئے اور پوچھا۔ عاصم! آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا جواب دیا۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا، عویمر! تم نے میرے ساتھ اچھا معاملہ نہیں کیا، جو مسئلہ تم نے پوچھا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ناپسند فرمایا۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! جب تک میں یہ مسئلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم نہ کر لوں، باز نہیں آؤں گا۔ چنانچہ عویمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت صحابہ کے درمیان میں موجود تھے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کا اس شخص کے متعلق کیا ارشاد ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھے، کیا اسے قتل کر دے؟ لیکن پھر آپ لوگ اسے ( قصاص ) میں قتل کر دیں گے، تو پھر اسے کیا کرنا چاہیئے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے اور تمہاری بیوی کے بارے میں ابھی وحی نازل ہوئی ہے۔ جاؤ اور اپنی بیوی کو لے کر آؤ۔ سہل نے بیان کیا کہ پھر ان دونوں نے لعان کیا۔ میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت موجود تھا۔ جب لعان سے فارغ ہوئے تو عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! اگر اب بھی میں اسے ( اپنی بیوی کو ) اپنے ساتھ رکھتا ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں جھوٹا ہوں۔ چنانچہ انہوں نے انہیں تین طلاقیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی دے دیں۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ پھر لعان کرنے والوں کے لیے سنت طریقہ مقرر ہو گیا۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن ابن شهاب، ان سهل بن سعد الساعدي، اخبره ان عويمرا العجلاني جاء الى عاصم بن عدي الانصاري فقال له يا عاصم ارايت رجلا وجد مع امراته رجلا، ايقتله فتقتلونه، ام كيف يفعل سل لي يا عاصم عن ذلك. فسال عاصم رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك فكره رسول الله صلى الله عليه وسلم المسايل وعابها، حتى كبر على عاصم ما سمع من رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما رجع عاصم الى اهله جاءه عويمر فقال يا عاصم ماذا قال لك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال عاصم لعويمر لم تاتني بخير، قد كره رسول الله صلى الله عليه وسلم المسالة التي سالته عنها. فقال عويمر والله لا انتهي حتى اساله عنها. فاقبل عويمر حتى جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم وسط الناس فقال يا رسول الله ارايت رجلا وجد مع امراته رجلا، ايقتله فتقتلونه ام كيف يفعل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قد انزل فيك وفي صاحبتك فاذهب فات بها ". قال سهل فتلاعنا وانا مع الناس عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما فرغا من تلاعنهما قال عويمر كذبت عليها يا رسول الله ان امسكتها. فطلقها ثلاثا قبل ان يامره رسول الله صلى الله عليه وسلم. قال ابن شهاب فكانت سنة المتلاعنين
ہم سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق بن ہمام نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے ابن شہاب نے لعان کے بارے میں اور یہ کہ شریعت کی طرف سے اس کا سنت طریقہ کیا ہے، خبر دی بنی ساعدہ کے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے بیان کیا کہ قبیلہ انصار کے ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اس شخص کے متعلق آپ کا کیا ارشاد ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھے، کیا وہ اسے قتل کر دے یا اسے کیا کرنا چاہیئے؟ انہیں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی وہ آیت نازل کی جس میں لعان کرنے والوں کے لیے تفصیلات بیان ہوئی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری بیوی کے بارے میں فیصلہ کر دیا ہے۔ بیان کیا کہ پھر دونوں نے مسجد میں لعان کیا، میں اس وقت وہاں موجود تھا۔ جب دونوں لعان سے فارغ ہوئے تو انصاری صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر اب بھی میں اسے اپنے نکاح میں رکھوں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ میں نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی تھی۔ چنانچہ لعان سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی انہیں تین طلاقیں دے دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ہی انہیں جدا کر دیا۔ ( سہل نے یا ابن شہاب نے ) کہا کہ ہر لعان کرنے والے میاں بیوی کے درمیان یہی جدائی کا سنت طریقہ مقرر ہوا۔ ابن جریج نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ ان کے بعد شریعت کی طرف سے طریقہ یہ متعین ہوا کہ دو لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کرا دی جایا کرے۔ اور وہ عورت حاملہ تھی۔ اور ان کا بیٹا اپنی ماں کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۔ بیان کیا کہ پھر ایسی عورت کے میراث کے بارے میں بھی یہ طریقہ شریعت کی طرف سے مقرر ہو گیا کہ بچہ اس کا وارث ہو گا اور وہ بچہ کی وارث ہو گی۔ اس کے مطابق جو اللہ تعالیٰ نے وراثت کے سلسلہ میں فرض کیا ہے۔ ابن جریج نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے، اسی حدیث میں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر ( لعان کرنے والی خاتون ) اس نے سرخ اور پستہ قد بچہ جنا جیسے وحرہ تو میں سمجھوں گا کہ عورت ہی سچی ہے اور اس کے شوہر نے اس پر جھوٹی تہمت لگائی ہے لیکن اگر کالا، بڑی آنکھوں والا اور بڑے سرینوں والا بچہ جنا تو میں سمجھوں گا کہ شوہر نے اس کے متعلق سچ کہا تھا۔ ( عورت جھوٹی ہے ) جب بچہ پیدا ہو تو وہ بری شکل کا تھا ( یعنی اس مرد کی صورت پر جس سے وہ بدنام ہوئی تھی ) ۔
حدثنا يحيى، اخبرنا عبد الرزاق، اخبرنا ابن جريج، قال اخبرني ابن شهاب، عن الملاعنة، وعن السنة، فيها عن حديث، سهل بن سعد اخي بني ساعدة ان رجلا، من الانصار جاء الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله ارايت رجلا وجد مع امراته رجلا، ايقتله ام كيف يفعل فانزل الله في شانه ما ذكر في القران من امر المتلاعنين، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " قد قضى الله فيك وفي امراتك ". قال فتلاعنا في المسجد وانا شاهد، فلما فرغا قال كذبت عليها يا رسول الله ان امسكتها. فطلقها ثلاثا قبل ان يامره رسول الله صلى الله عليه وسلم حين فرغا من التلاعن، ففارقها عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ذاك تفريق بين كل متلاعنين ". قال ابن جريج قال ابن شهاب فكانت السنة بعدهما ان يفرق بين المتلاعنين، وكانت حاملا، وكان ابنها يدعى لامه، قال ثم جرت السنة في ميراثها انها ترثه ويرث منها ما فرض الله له. قال ابن جريج عن ابن شهاب عن سهل بن سعد الساعدي في هذا الحديث ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان جاءت به احمر قصيرا كانه وحرة، فلا اراها الا قد صدقت وكذب عليها، وان جاءت به اسود اعين ذا اليتين، فلا اراه الا قد صدق عليها ". فجاءت به على المكروه من ذلك
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں لعان کا ذکر ہوا اور عاصم رضی اللہ عنہ نے اس سلسلہ میں کوئی بات کہی ( کہ میں اگر اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھ لوں تو وہیں قتل کر دوں ) اور چلے گئے، پھر ان کی قوم کے ایک صحابی ( عویمر رضی اللہ عنہ ) ان کے پاس آئے یہ شکایت لے کر کہ انہوں نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک غیر مرد کو پایا ہے۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے آج یہ ابتلاء میری اسی بات کی وجہ سے ہوا ہے ( جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کہی تھی ) پھر وہ انہیں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ واقعہ بتایا جس میں ملوث اس صحابی نے اپنی کو پایا تھا۔ یہ صاحب زرد رنگ، کم گوشت والے ( پتلے دبلے ) اور سیدھے بال والے تھے اور جس کے متعلق انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اسے انہوں نے اپنی بیوی کے ساتھ ( تنہائی میں ) پایا، وہ گھٹے ہوئے جسم کا، گندمی اور بھرے گوشت والا تھا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی کہ اے اللہ! اس معاملہ کو صاف کر دے۔ چنانچہ اس عورت نے بچہ اسی مرد کی شکل کا جنا جس کے متعلق شوہر نے دعویٰ کیا تھا کہ اسے انہوں نے اپنی بیوی کے ساتھ پایا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میاں بیوی کے درمیان لعان کرایا۔ ایک شاگرد نے مجلس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کیا یہی وہ عورت ہے جس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میں کسی کو بلا شہادت کے سنگسار کر سکتا تو اس عورت کو سنگسار کرتا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نہیں ( یہ جملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ) اس عورت کے متعلق فرمایا تھا جس کی بدکاری اسلام کے زمانہ میں کھل گئی تھی۔ ابوصالح اور عبداللہ بن یوسف نے اس حدیث میں بجائے «خدلا.» کے کسرہ کے ساتھ دال «خدلا.» روایت کیا ہے لیکن معنی وہی ہے۔
حدثنا سعيد بن عفير، قال حدثني الليث، عن يحيى بن سعيد، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن القاسم بن محمد، عن ابن عباس، انه ذكر التلاعن عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال عاصم بن عدي في ذلك قولا، ثم انصرف، فاتاه رجل من قومه يشكو اليه انه وجد مع امراته رجلا، فقال عاصم ما ابتليت بهذا الا لقولي، فذهب به الى النبي صلى الله عليه وسلم فاخبره بالذي وجد عليه امراته وكان ذلك الرجل مصفرا قليل اللحم سبط الشعر، وكان الذي ادعى عليه انه وجده عند اهله خدلا ادم كثير اللحم فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اللهم بين ". فجاءت شبيها بالرجل الذي ذكر زوجها انه وجده، فلاعن النبي صلى الله عليه وسلم بينهما. قال رجل لابن عباس في المجلس هي التي قال النبي صلى الله عليه وسلم " لو رجمت احدا بغير بينة رجمت هذه ". فقال لا تلك امراة كانت تظهر في الاسلام السوء قال ابو صالح وعبد الله بن يوسف خدلا