Loading...

Loading...
کتب
۱۰۰ احادیث
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني ابو سلمة بن عبد الرحمن، وسعيد بن المسيب، ان ابا هريرة، قال اتى رجل من اسلم رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو في المسجد فناداه فقال يا رسول الله ان الاخر قد زنى يعني نفسه فاعرض عنه فتنحى لشق وجهه الذي اعرض قبله فقال يا رسول الله ان الاخر قد زنى فاعرض عنه فتنحى لشق وجهه الذي اعرض قبله فقال له ذلك فاعرض عنه فتنحى له الرابعة، فلما شهد على نفسه اربع شهادات دعاه فقال " هل بك جنون ". قال لا. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اذهبوا به فارجموه ". وكان قد احصن. وعن الزهري، قال اخبرني من، سمع جابر بن عبد الله الانصاري، قال كنت فيمن رجمه فرجمناه بالمصلى بالمدينة، فلما اذلقته الحجارة جمز حتى ادركناه بالحرة، فرجمناه حتى مات
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني ابو سلمة بن عبد الرحمن، وسعيد بن المسيب، ان ابا هريرة، قال اتى رجل من اسلم رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو في المسجد فناداه فقال يا رسول الله ان الاخر قد زنى يعني نفسه فاعرض عنه فتنحى لشق وجهه الذي اعرض قبله فقال يا رسول الله ان الاخر قد زنى فاعرض عنه فتنحى لشق وجهه الذي اعرض قبله فقال له ذلك فاعرض عنه فتنحى له الرابعة، فلما شهد على نفسه اربع شهادات دعاه فقال " هل بك جنون ". قال لا. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اذهبوا به فارجموه ". وكان قد احصن. وعن الزهري، قال اخبرني من، سمع جابر بن عبد الله الانصاري، قال كنت فيمن رجمه فرجمناه بالمصلى بالمدينة، فلما اذلقته الحجارة جمز حتى ادركناه بالحرة، فرجمناه حتى مات
ہم سے ازہر بن جمیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! مجھے ان کے اخلاق اور دین کی وجہ سے ان سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ البتہ میں اسلام میں کفر کو پسند نہیں کرتی۔ ( کیونکہ ان کے ساتھ رہ کر ان کے حقوق زوجیت کو نہیں ادا کر سکتی ) ۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ کیا تم ان کا باغ ( جو انہوں نے مہر میں دیا تھا ) واپس کر سکتی ہو؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ثابت رضی اللہ عنہ سے ) فرمایا کہ باغ قبول کر لو اور انہیں طلاق دے دو۔
حدثنا ازهر بن جميل، حدثنا عبد الوهاب الثقفي، حدثنا خالد، عن عكرمة، عن ابن عباس،. ان امراة، ثابت بن قيس اتت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله ثابت بن قيس ما اعتب عليه في خلق ولا دين، ولكني اكره الكفر في الاسلام. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اتردين عليه حديقته ". قالت نعم. قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اقبل الحديقة وطلقها تطليقة ". قال ابو عبد الله لا يتابع فيه عن ابن عباس
ہم سے اسحاق واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد طحان نے بیان کیا، ان سے خالد حذاء نے، ان سے عکرمہ نے کہ عبداللہ بن ابی (منافق) کی بہن جمیلہ رضی اللہ عنہا (جو ابی کی بیٹی تھی) نے یہ بیان کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا تھا کہ کیا تم ان ( ثابت رضی اللہ عنہ ) کا باغ واپس کر دو گی؟ انہوں نے عرض کیا ہاں کر دوں گی۔ چنانچہ انہوں نے باغ واپس کر دیا اور انہوں نے ان کے شوہر کو حکم دیا کہ انہیں طلاق دے دیں۔ اور ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا کہ ان سے خالد نے، ان سے عکرمہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور ( اس روایت میں بیان کیا کہ ) ان کے شوہر ( ثابت رضی اللہ عنہ ) نے انہیں طلاق دے دی۔
حدثنا اسحاق الواسطي، حدثنا خالد، عن خالد الحذاء، عن عكرمة، ان اخت عبد الله بن ابى، بهذا، وقال " تردين حديقته ". قالت نعم. فردتها وامره يطلقها. وقال ابراهيم بن طهمان عن خالد عن عكرمة عن النبي صلى الله عليه وسلم وطلقها
اور ابن ابی تمیمہ سے روایت ہے، ان سے عکرمہ نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے، انہوں نے بیان کیا کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے ثابت کے دین اور ان کے اخلاق کی وجہ سے کوئی شکایت نہیں ہے لیکن میں ان کے ساتھ گزارہ نہیں کر سکتی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ پھر کیا تم ان کا باغ واپس کر سکتی ہو؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔
وعن ابن ابي تميمة، عن عكرمة، عن ابن عباس، انه قال جاءت امراة ثابت بن قيس الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله اني لا اعتب على ثابت في دين ولا خلق، ولكني لا اطيقه. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فتردين عليه حديقته ". قالت نعم
ہم سے محمد بن عبداللہ بن مبارک مخری نے کہا، کہا ہم سے قراد ابونوح نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کی بیوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ثابت کے دین اور ان کے اخلاق سے مجھے کوئی شکایت نہیں لیکن مجھے خطرہ ہے ( کہ میں ثابت رضی اللہ عنہ کی ناشکری میں نہ پھنس جاؤں ) ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ان سے دریافت فرمایا کہ کیا تم ان کا باغ ( جو انہوں نے مہر میں دیا تھا ) واپس کر سکتی ہو؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔ چنانچہ انہوں نے وہ باغ واپس کر دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ثابت رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے سے جدا کر دیا۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن المبارك المخرمي، حدثنا قراد ابو نوح، حدثنا جرير بن حازم، عن ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، رضى الله عنهما قال جاءت امراة ثابت بن قيس بن شماس الى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت يا رسول الله ما انقم على ثابت في دين ولا خلق، الا اني اخاف الكفر. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فتردين عليه حديقته ". فقالت نعم. فردت عليه، وامره ففارقها
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ان سے حماد بن یزید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے ان سے عکرمہ نے یہی قصہ ( مرسلاً ) نقل کیا اور اس میں خاتون کا نام جمیلہ آیا ہے۔
حدثنا سليمان، حدثنا حماد، عن ايوب، عن عكرمة، ان جميلة، فذكر الحديث
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ بنی مغیرہ نے اس کی اجازت مانگی ہے کہ علی رضی اللہ عنہ سے وہ اپنی بیٹی کا نکاح کر لیں لیکن میں انہیں اس کی اجازت نہیں دوں گا۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا الليث، عن ابن ابي مليكة، عن المسور بن مخرمة، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " ان بني المغيرة استاذنوا في ان ينكح علي ابنتهم، فلا اذن
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے، ان سے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا سے دین کے تین مسئلے معلوم ہو گئے۔ اول یہ کہ انہیں آزاد کیا گیا اور پھر ان کے شوہر کے بارے میں اختیار دیا گیا ( کہ چاہیں ان کے نکاح میں رہیں ورنہ الگ ہو جائیں ) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( انہیں کے بارے میں ) فرمایا کہ ولاء اسی سے قائم ہوتی ہے جو آزاد کرے اور ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لائے تو ایک ہانڈی میں گوشت پکایا جا رہا تھا، پھر کھانے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے روٹی اور گھر کا سالن پیش کیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تو دیکھا کہ ہانڈی میں گوشت بھی پک رہا ہے؟ عرض کیا گیا کہ جی ہاں لیکن وہ گوشت بریرہ کو صدقہ میں ملا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ نہیں کھاتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ان کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے بریرہ کی طرف سے تحفہ ہے۔
حدثنا اسماعيل بن عبد الله، قال حدثني مالك، عن ربيعة بن ابي عبد الرحمن، عن القاسم بن محمد، عن عايشة رضى الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت كان في بريرة ثلاث سنن، احدى السنن انها اعتقت، فخيرت في زوجها. وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الولاء لمن اعتق ". ودخل رسول الله صلى الله عليه وسلم والبرمة تفور بلحم، فقرب اليه خبز وادم من ادم البيت فقال " الم ار البرمة فيها لحم ". قالوا بلى، ولكن ذلك لحم تصدق به على بريرة، وانت لا تاكل الصدقة. قال " عليها صدقة، ولنا هدية
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ اور ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ میں نے انہیں غلام دیکھا تھا۔ آپ کی مراد بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر ( مغیث ) سے تھی۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، وهمام، عن قتادة، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال رايته عبدا يعني زوج بريرة
ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ یہ مغیث بنی فلاں کے غلام تھے۔ آپ کا اشارہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر کی طرف تھا۔ گویا اس وقت بھی میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ مدینہ کی گلیوں میں وہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے پیچھے روتے پھر رہے ہیں۔
حدثنا عبد الاعلى بن حماد، حدثنا وهيب، حدثنا ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال ذاك مغيث عبد بني فلان يعني زوج بريرة كاني انظر اليه يتبعها في سكك المدينة، يبكي عليها
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے عبدالوہاب نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر ایک حبشی غلام تھے۔ ان کا مغیث نام تھا، وہ بنی فلاں کے غلام تھے۔ جیسے وہ منظر اب بھی میری آنکھوں میں ہے کہ وہ مدینہ کی گلیوں میں بریرہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے پیچھے پھر رہے ہیں۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا عبد الوهاب، عن ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال كان زوج بريرة عبدا اسود يقال له مغيث، عبدا لبني فلان، كاني انظر اليه يطوف وراءها في سكك المدينة
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالوہاب ثقفی نے خبر دی، کہا ہم سے خالد حذاء نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر غلام تھے اور ان کا نام مغیث تھا۔ گویا میں اس وقت اس کو دیکھ رہا ہوں جب وہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے پیچھے روتے ہوئے پھر رہے تھے اور آنسوؤں سے ان کی ڈاڑھی تر ہو رہی تھی۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: عباس! کیا تمہیں مغیث کی بریرہ سے محبت اور بریرہ کی مغیث سے نفرت پر حیرت نہیں ہوئی؟ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ کاش! تم اس کے بارے میں اپنا فیصلہ بدل دیتیں۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ مجھے اس کا حکم فرما رہے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں صرف سفارش کر رہا ہوں۔ انہوں نے اس پر کہا کہ مجھے مغیث کے پاس رہنے کی خواہش نہیں ہے۔
حدثنا محمد، اخبرنا عبد الوهاب، حدثنا خالد، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان زوج، بريرة كان عبدا يقال له مغيث كاني انظر اليه يطوف خلفها يبكي، ودموعه تسيل على لحيته، فقال النبي صلى الله عليه وسلم لعباس " يا عباس الا تعجب من حب مغيث بريرة، ومن بغض بريرة مغيثا ". فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لو راجعته ". قالت يا رسول الله تامرني قال " انما انا اشفع ". قالت لا حاجة لي فيه
ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں حکم نے، انہیں ابراہیم نخعی سے اور وہ اسود سے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خریدنے کا ارادہ کیا لیکن ان کے مالکوں نے کہا کہ وہ اسی شرط پر انہیں بیچ سکتے ہیں کہ بریرہ کا ترکہ ہم لیں اور ان کے ساتھ ولاء ( آزادی کے بعد ) انہیں سے قائم ہو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ انہیں خرید کر آزاد کر دو۔ ترکہ تو اسی کو ملے گا جو لونڈی غلام کو آزاد کرے اور ولاء بھی اسی کے ساتھ قائم ہو سکتی ہے جو آزاد کرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گوشت لایا گیا پھر کہا کہ یہ گوشت بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ کیا گیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ان کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ان کا تحفہ ہے۔ ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا اور اس روایت میں یہ اضافہ کیا کہ پھر ( آزادی کے بعد ) انہیں ان کے شوہر کے متعلق اختیار دیا گیا ( کہ چاہیں ان کے پاس رہیں اور اگر چاہیں ان سے اپنا نکاح توڑ لیں ) ۔
حدثنا عبد الله بن رجاء، اخبرنا شعبة، عن الحكم، عن ابراهيم، عن الاسود، ان عايشة، ارادت ان تشتري، بريرة، فابى مواليها الا ان يشترطوا الولاء، فذكرت للنبي صلى الله عليه وسلم فقال " اشتريها واعتقيها، فانما الولاء لمن اعتق ". واتي النبي صلى الله عليه وسلم بلحم فقيل ان هذا ما تصدق على بريرة، فقال " هو لها صدقة، ولنا هدية ". حدثنا ادم حدثنا شعبة وزاد فخيرت من زوجها
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے نافع نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اگر یہودی یا انصاری عورتوں سے نکاح کے متعلق سوال کیا جاتا تو وہ کہتے کہ اللہ تعالیٰ نے مشرک عورتوں سے نکاح مومنوں کے لیے حرام قرار دیا ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ اس سے بڑھ کر اور کیا شرک ہو گا کہ ایک عورت یہ کہے کہ اس کے رب عیسیٰ علیہ السلام ہیں حالانکہ وہ اللہ کے مقبول بندوں میں سے ایک مقبول بندے ہیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ليث، عن نافع، ان ابن عمر، كان اذا سيل عن نكاح النصرانية، واليهودية، قال ان الله حرم المشركات على المومنين، ولا اعلم من الاشراك شييا اكبر من ان تقول المراة ربها عيسى، وهو عبد من عباد الله
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے کہ عطاء راسانی نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنین کے لیے مشرکین دو طرح کے تھے۔ ایک تو مشرکین لڑائی کرنے والوں سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے جنگ کرتے تھے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرتے تھے۔ دوسرے عہد و پیمان کرنے والے مشرکین کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے جنگ نہیں کرتے تھے اور نہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرتے تھے اور جب اہل کتاب حرب کی کوئی عورت ( اسلام قبول کرنے کے بعد ) ہجرت کر کے ( مدینہ منورہ ) آتی تو انہیں اس وقت تک پیغام نکاح نہ دیا جاتا یہاں تک کہ انہیں حیض آتا اور پھر وہ اس سے پاک ہوتیں، پھر جب وہ پاک ہو جاتیں تو ان سے نکاح جائز ہو جاتا، پھر اگر ان کے شوہر بھی، ان کے کسی دوسرے شخص سے نکاح کر لینے سے پہلے ہجرت کر کے آ جاتے تو یہ انہیں کو ملتیں اور اگر مشرکین میں سے کوئی غلام یا لونڈی مسلمان ہو کر ہجرت کرتی تو وہ آزاد سمجھے جاتے اور ان کے وہی حقوق ہوتے جو تمام مہاجرین کے تھے۔ پھر عطاء نے معاہد مشرکین کے سلسلے میں مجاہد کی حدیث کی طرح سے صورت حال بیان کی کہ اگر معاہد مشرکین کی کوئی غلام یا لونڈی ہجرت کر کے آ جاتی تو انہیں ان کے مالک مشرکین کو واپس نہیں کیا جاتا تھا۔ البتہ جو ان کی قیمت ہوتی وہ واپس کر دی جاتی تھی۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا هشام، عن ابن جريج، وقال، عطاء عن ابن عباس، كان المشركون على منزلتين من النبي صلى الله عليه وسلم والمومنين، كانوا مشركي اهل حرب يقاتلهم ويقاتلونه، ومشركي اهل عهد لا يقاتلهم ولا يقاتلونه، وكان اذا هاجرت امراة من اهل الحرب لم تخطب حتى تحيض وتطهر، فاذا طهرت حل لها النكاح، فان هاجر زوجها قبل ان تنكح ردت اليه، وان هاجر عبد منهم او امة فهما حران ولهما ما للمهاجرين. ثم ذكر من اهل العهد مثل حديث مجاهد وان هاجر عبد او امة للمشركين اهل العهد لم يردوا، وردت اثمانهم
اور عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ قریبہ بنت ابی امیہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے ( مشرکین سے نکاح کی مخالفت کی آیت کے بعد ) انہیں طلاق دے دی تو معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے ان سے نکاح کر لیا اور ام الحکم بنت ابی سفیان عیاض بن غنم فہری کے نکاح میں تھیں، اس وقت اس نے انہیں طلاق دے دی ( اور وہ مدینہ ہجرت کر کے آ گئیں ) اور عبداللہ بن عثمان ثقفی نے ان سے نکاح کیا۔
وقال عطاء عن ابن عباس، كانت قريبة بنت ابي امية عند عمر بن الخطاب فطلقها، فتزوجها معاوية بن ابي سفيان، وكانت ام الحكم ابنة ابي سفيان تحت عياض بن غنم الفهري فطلقها، فتزوجها عبد الله بن عثمان الثقفي
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے اور ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس نے بیان کیا کہ ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مومن عورتیں جب ہجرت کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتی تھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں آزماتے تھے بوجہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے «يا أيها الذين آمنوا إذا جاءكم المؤمنات مهاجرات فامتحنوهن» کہ ”اے وہ لوگو! جو ایمان لے آئے ہو، جب مومن عورتیں تمہارے پاس ہجرت کر کے آئیں تو انہیں آزماؤ“۔ آخر آیت تک۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر ان ( ہجرت کرنے والی ) مومن عورتوں میں سے جو اس شرط کا اقرار کر لیتی ( جس کا ذکر اسی سورۃ الممتحنہ میں ہے کہ ”اللہ کا کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ گی“ ) تو وہ آزمائش میں پوری سمجھی جاتی تھی۔ چنانچہ جب وہ اس کا اپنی زبان سے اقرار کر لیتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرماتے کہ اب جاؤ میں نے تم سے عہد لے لیا ہے۔ ہرگز نہیں! واللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے ( بیعت لیتے وقت ) کسی عورت کا ہاتھ کبھی نہیں چھوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے صرف زبان سے ( بیعت لیتے تھے ) ۔ واللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے صرف انہیں چیزوں کا عہد لیا جن کا اللہ نے آپ کو حکم دیا تھا۔ بیعت لینے کے بعد آپ ان سے فرماتے کہ میں نے تم سے عہد لے لیا ہے۔ یہ آپ صرف زبان سے کہتے کہ میں نے تم سے بیعت لے لی۔
حدثنا ابن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب،. وقال ابراهيم بن المنذر حدثني ابن وهب، حدثني يونس، قال ابن شهاب اخبرني عروة بن الزبير، ان عايشة رضى الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت كانت المومنات اذا هاجرن الى النبي صلى الله عليه وسلم يمتحنهن بقول الله تعالى {يا ايها الذين امنوا اذا جاءكم المومنات مهاجرات فامتحنوهن} الى اخر الاية قالت عايشة فمن اقر بهذا الشرط من المومنات فقد اقر بالمحنة، فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اقررن بذلك من قولهن قال لهن رسول الله صلى الله عليه وسلم " انطلقن فقد بايعتكن "، لا والله ما مست يد رسول الله صلى الله عليه وسلم يد امراة قط، غير انه بايعهن بالكلام، والله ما اخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم على النساء الا بما امره الله يقول لهن اذا اخذ عليهن " قد بايعتكن ". كلاما
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، ان سے ان کے بھائی عبدالحمید نے، ان سے سلیمان بن بلال نے، ان سے حمید طویل نے کہ انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے ایلاء کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں موچ آ گئی تھی۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بالا خانہ میں انتیس دن تک قیام فرمایا، پھر آپ وہاں سے اترے۔ لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! آپ نے ایک مہینہ کا ایلاء کیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔
حدثنا اسماعيل بن ابي اويس، عن اخيه، عن سليمان، عن حميد الطويل، انه سمع انس بن مالك، يقول الى رسول الله صلى الله عليه وسلم من نسايه، وكانت انفكت رجله فاقام في مشربة له تسعا وعشرين، ثم نزل فقالوا يا رسول الله اليت شهرا. فقال " الشهر تسع وعشرون
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن نافع، ان ابن عمر، رضى الله عنهما كان يقول في الايلاء الذي سمى الله لا يحل لاحد بعد الاجل الا ان يمسك بالمعروف، او يعزم بالطلاق، كما امر الله عز وجل